Back to Sahih Muslim

The Book Concerning the use of Correct Words

كتاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا

Chapter 41

Hadith 5862
Sahih
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ».
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam abuses Dahr (the time), whereas I am Dahr since in My hand are the day and the night.

Urdu

مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح اور حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن کی سند سے, ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہو ئے سنا : " اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے ۔ ۔ ابن آدم دہر ( وقت ، زمانے ) کو برا کہتا ہے جبکہ ( رب ) دہر میں ہی ہوں ۔ رات اور دن ( جنھیں انسان وقت کہتا ہے ) میرے ہاتھ میں ہیں ۔ "

Hadith 5863
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، قَالَ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ».
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam displeases Me by abusing Dahr (time), whereas I am Dahr--I alternate the night and the day.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے بیان کیا اور یہ قول ابن ابی عمر نے بیان کیا، انہوں نے ہمیں خبر دی اور ابن ابی عمر نے کہا, سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے ۔ ابن آدم مجھے ایذادیتا ہے ( نارا ض کرتا ہے ) وہ زمانے کو برا کہتا ہے جبکہ میں ہی ( رب ) دہرہوں ، را ت اور دن کو پلٹتا ہوں ۔ "

Hadith 5864
Sahih
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَقُولُ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam causes Me pain as he says: Woe be upon the Time. None of you should say this: Woe be upon the Time, as I am the Time (because) I alternate the day and the night, and when I wish I can finish them up.

Urdu

ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمرنے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، : کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ عزوجل نے ارشاد فر ما یا : ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے وہ کہتا ہے ۔ " ہائے زمانے ( وقت ) کی نامرادی ! " تم میں سے کو ئی " ہائے زمانے کی نامرادی! " ( جیسا جملہ ) نہ کہے ، کیونکہ دہر ( کا مالک ) میں ہوں ۔ رات اور دن کو پلٹتا ہوں اور میں جب چا ہوں گا ان کی بساط لپیٹ دو گا ۔ "

Hadith 5865
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَإِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ».
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: None of you should say: Woe be upon the Time, for verily Allah is the Time.

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے المغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ابو الزناد سے, اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے کہ " ہائے زمانے کی نامرادی! " کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانے ( کا مالک ) ہے ۔

Hadith 5866
Sahih
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ».
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Do not abuse Time, for it is Allah Who is the Time.

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے جریر نے ہشام کی سند سے بیان کیا, ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زمانے کو برا مت کہو کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانہ ( کا مالک ) ہے ۔ "

Hadith 5867
Sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسُبُّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ».
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: None of you should abuse Time for it is Allah Who is the Time, and none of you should call 'Inab (grape) as al-karm, for karm is a Muslim person.

Urdu

ہم سے حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, ایوب نے ابن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا نہ کہے ، کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانے ( کا مالک ) ہے اور تم میں سے کو ئی شخص عنب ( انگور اور اس کی بیل ) کو کرم نہ کہے ، کیونکہ کرم ( اصل ) میں مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔ "

Hadith 5868
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُولُوا كَرْمٌ فَإِنَّ الْكَرْمَ، قَلْبُ الْمُؤْمِنِ».
English

Abu Huraira reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Do not use the word karm (for wine) for worthy of respect is the heart of a believer.

Urdu

ہم سے عمروا لناقد اور ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے بیان کیا، سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ

آپ نے فر ما یا : " ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہو ، کیونکہ ( حقیقت میں ) کرم مو من کا دل ہو تا ہے ۔ "

Hadith 5869
Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ».
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Do not name grape as karm, for worthy of respect is a Muslim.

Urdu

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا, ہشا م نے ابن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی

آپ نے فر مایا : " ( ا انگور اور اس کی بیل ) کو کرم نہ کہو ، کیونکہ کرم ( اصل میں ) مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔ "

Hadith 5870
Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ الْكَرْمُ، فَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ».
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: None of you should use the word al-harin (for grape) for the heart of a believer is karm (worthy of respect).

Urdu

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ورقہ نے بیان کیا، ابو الزناد سے, اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہے کیونکہ کرم تو مو من کا دل ہے ۔ "

Hadith 5871
Sahih
وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ، لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ، إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ».
English

It was narrated that Hammam bin Munabbih said:

That is what Abu Hurairah رضی اللہ عنہ narrated to us from the Messenger of Allah ﷺ, and he mention a number of Ahadith, including the following: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'None of you should call grapes al-karm for 'Inab, for karm (worthy of respect) is a Muslim person.

Urdu

ہم سے ابن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ نے کہا

یہ احا دیث ہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ئیں ۔ انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ان میں یہ بھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی شخص انگور اور اس کی بیل کو کرم نہ کہے ، کیونکہ کرم تو مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔ "

Hadith 5872
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ، وَلَكِنْ قُولُوا الْحَبْلَةُ يَعْنِي الْعِنَبَ.
English

Alqama bin Wa'il reported, from his father:

Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) having said: Do not say al-karm (for the word vine) but say al-habala (that is grape).

Urdu

ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا, عیسیٰ بن یو نس نے شعبہ سے ، انھوں نے سماک بن حرب سے ، انھوں نے علقمہ بن وائل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ

آپ نے فر ما یا : " ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہا کرو ۔ لیکن حبلہ کہہ لو ۔ " آپ کی مراد انگور سے تھی ۔

Hadith 5873
Sahih
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُولُوا الْكَرْمُ وَلَكِنْ قُولُوا الْعِنَبُ وَالْحَبْلَةُ».
English

This hadith has been reported by Alqama bin Wa'il narrated from his father that the prophet ﷺ said:

"Do not say Karm, rather say 'Inab and Hablah.

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا,عثمان بن عمر نے کہا , ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے علمقہ بن وائل سے سنا ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ

آپ نے فر ما یا : " کرم نہ کہو عنب اور حبلہ ( انگور کی بیل ) کہہ لو ۔ "

Hadith 5874
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي».
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: None of you should say: My bondman and my slave-girl, for all of you are the bondmen of Allah, and all your women are the slave-girls of Allah; but say: My servant, my girl, and my young man and my young girl.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل نے جو ابن جعفر ہیں، انہوں نے العلا کی سند سے بیان کیا,لا ء کے والد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے ، تم سب اللہ کے بندے ہواور تمھا ری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں ۔ البتہ یو ں کہہ سکتا ہے ۔ میرا لڑکا میری لڑکی ، میرا جوان ، خادم ، مری خادمہ ".

Hadith 5875
Sahih
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: فَتَايَ، وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: None of you should say: My bondman, for all of you are the bondmen of Allah, but say: My young man, and the servant should not say: My Lord, but should say: My chief.

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا, جریر اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے کو ئی شخص ( کسی غلام کو ) میرا بندہ نہ کہے ، پس تم سب اللہ کے بندےہو ، البتہ یہ کہہ سکتا ہے ۔ میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے : میرارب ( پالنے والا ) البتہ میرا سید ( آقا کہہ سکتا ہے )۔ ""

Hadith 5876
Sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ مَوْلَايَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَإِنَّ مَوْلَاكُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: فَتَايَ، وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي.
English

This hadith has been reported on the authority of al-A'mash with the same chain of transmitters, and the words are that the servant should not say to his chief: My Lord, and Abu Mu'awiya made an addition: For it is Allah, the Exalted and Glorious, Who is your Lord.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ " غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ " ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ " " کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔

Hadith 5877
Sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُلْ أَحَدُكُمُ اسْقِ رَبَّكَ، أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّئْ رَبَّكَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي، وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي، وَلْيَقُلْ فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي».
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) so many ahadith and one of them is this that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: None of you should say: Supply drink to your lord, feed your lord, help your lord in performing ablution, and none of you should say: My Lord. He should say: My chief, my patron; and none of you should say: My bondman, my slave-girl, but simply say: My boy, my girl, my servant.

Urdu

ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام منبہ نے کہا , یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں ( ایک یہ ) ہے اور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( اپنے غلام یا کنیز سے ) یہ نہ کہے : اپنے رب ( پالنہار ) کو پلا ؤ ، اپنےرب کو کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ ۔ " اور فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولیٰ کہے ۔ اور تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے ۔ میرا بند ہ میری بندی ، البتہ یو ں کہے ، میرا خادم ، جوان میری خادمہ ، میرا لڑکا ۔ "

Hadith 5878
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي» هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ وقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ «لَكِنْ».
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) having said: None of you should say: My soul has become evil, but he should say: My soul has become remorseless. This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr with a slight variation of wording.

Urdu

ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا , ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب محمد بن علاء نے کہا , ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی , ان دونوں ( سفیان اور ابو اسامہ ) نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے : " میراجی ( نفس ، اپنا آپ ) گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے : میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے ۔ " یہ ابو کریب کی حدیث کے الفا ظ ہیں ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اور " لیکن " کا لفظ نہیں کہا ۔

Hadith 5879
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Abia Mu'iwiya with the same chain of transmitters.

Urdu

ابو کریب نے کہا , ہمیں ابو معاویہ نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔

Hadith 5880
Sahih
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلْيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي».
English

Abu Umama bin Sahl bin Hunaif, on the authority of his father reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: None of you should say: My soul has become evil, but he should say: My soul has become remorseless.

Urdu

مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, ابو امامہ بن سہل حنیف نے اپنے والد سے روایت کی کہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے ۔ میراجی گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے ، کہ میراجی بوجھل ہو گیا ہے ۔ ( یا میری طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔ )

Hadith 5881
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٌ مُطْبَقٌ، ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا، وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ، فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ، فَلَمْ يَعْرِفُوهَا، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا» وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ.
English

Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported

Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: There was a woman from Bani Isra'il who was short-statured and she walked in the company of two tall women with wooden sandals in her feet and a ring of gold made of plates with musk filled in them and then looked up, and musk is the best of scents; then she walked between two women and they (the people) did not recognise her, and she made a gesture with her hand like this, and Shu'ba shook his hand in order to give an indication how she shook her hand.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابو اسامہ نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے خُلید بن جعفرنے ابو نضر ہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ

آپ نے فر ما یا : بنی اسرا ئیل میں ایک پستہ قامت عورت دولمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی ۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں ( ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا ) بنوائیں اور سونے کی ایک بند ، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی ، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سےاچھی خوشبو ہے وہ پھر وہ ان دونوں ( لمبی عورتوں ) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے ، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ۔ " اور شعبہ نے ( شاگردوں کو دکھا نے کے لیے ) اپنا ہاتھ جھٹکا ۔