The Book Concerning the use of Correct Words
كتاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا
Chapter 41
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam abuses Dahr (the time), whereas I am Dahr since in My hand are the day and the night.
مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن سرح اور حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن کی سند سے, ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہو ئے سنا : " اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے ۔ ۔ ابن آدم دہر ( وقت ، زمانے ) کو برا کہتا ہے جبکہ ( رب ) دہر میں ہی ہوں ۔ رات اور دن ( جنھیں انسان وقت کہتا ہے ) میرے ہاتھ میں ہیں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam displeases Me by abusing Dahr (time), whereas I am Dahr--I alternate the night and the day.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے بیان کیا اور یہ قول ابن ابی عمر نے بیان کیا، انہوں نے ہمیں خبر دی اور ابن ابی عمر نے کہا, سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے ۔ ابن آدم مجھے ایذادیتا ہے ( نارا ض کرتا ہے ) وہ زمانے کو برا کہتا ہے جبکہ میں ہی ( رب ) دہرہوں ، را ت اور دن کو پلٹتا ہوں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam causes Me pain as he says: Woe be upon the Time. None of you should say this: Woe be upon the Time, as I am the Time (because) I alternate the day and the night, and when I wish I can finish them up.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمرنے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، : کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ عزوجل نے ارشاد فر ما یا : ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے وہ کہتا ہے ۔ " ہائے زمانے ( وقت ) کی نامرادی ! " تم میں سے کو ئی " ہائے زمانے کی نامرادی! " ( جیسا جملہ ) نہ کہے ، کیونکہ دہر ( کا مالک ) میں ہوں ۔ رات اور دن کو پلٹتا ہوں اور میں جب چا ہوں گا ان کی بساط لپیٹ دو گا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None of you should say: Woe be upon the Time, for verily Allah is the Time.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے المغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ابو الزناد سے, اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے کہ " ہائے زمانے کی نامرادی! " کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانے ( کا مالک ) ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not abuse Time, for it is Allah Who is the Time.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے جریر نے ہشام کی سند سے بیان کیا, ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زمانے کو برا مت کہو کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانہ ( کا مالک ) ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None of you should abuse Time for it is Allah Who is the Time, and none of you should call 'Inab (grape) as al-karm, for karm is a Muslim person.
ہم سے حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, ایوب نے ابن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا نہ کہے ، کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانے ( کا مالک ) ہے اور تم میں سے کو ئی شخص عنب ( انگور اور اس کی بیل ) کو کرم نہ کہے ، کیونکہ کرم ( اصل ) میں مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔ "
Abu Huraira reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not use the word karm (for wine) for worthy of respect is the heart of a believer.
ہم سے عمروا لناقد اور ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے بیان کیا، سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ
آپ نے فر ما یا : " ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہو ، کیونکہ ( حقیقت میں ) کرم مو من کا دل ہو تا ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not name grape as karm, for worthy of respect is a Muslim.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا, ہشا م نے ابن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فر مایا : " ( ا انگور اور اس کی بیل ) کو کرم نہ کہو ، کیونکہ کرم ( اصل میں ) مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None of you should use the word al-harin (for grape) for the heart of a believer is karm (worthy of respect).
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ورقہ نے بیان کیا، ابو الزناد سے, اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہے کیونکہ کرم تو مو من کا دل ہے ۔ "
It was narrated that Hammam bin Munabbih said:
That is what Abu Hurairah رضی اللہ عنہ narrated to us from the Messenger of Allah ﷺ, and he mention a number of Ahadith, including the following: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'None of you should call grapes al-karm for 'Inab, for karm (worthy of respect) is a Muslim person.
ہم سے ابن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ نے کہا
یہ احا دیث ہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ئیں ۔ انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ان میں یہ بھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی شخص انگور اور اس کی بیل کو کرم نہ کہے ، کیونکہ کرم تو مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔ "
Alqama bin Wa'il reported, from his father:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having said: Do not say al-karm (for the word vine) but say al-habala (that is grape).
ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا, عیسیٰ بن یو نس نے شعبہ سے ، انھوں نے سماک بن حرب سے ، انھوں نے علقمہ بن وائل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فر ما یا : " ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہا کرو ۔ لیکن حبلہ کہہ لو ۔ " آپ کی مراد انگور سے تھی ۔
This hadith has been reported by Alqama bin Wa'il narrated from his father that the prophet ﷺ said:
"Do not say Karm, rather say 'Inab and Hablah.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا,عثمان بن عمر نے کہا , ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے علمقہ بن وائل سے سنا ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ
آپ نے فر ما یا : " کرم نہ کہو عنب اور حبلہ ( انگور کی بیل ) کہہ لو ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None of you should say: My bondman and my slave-girl, for all of you are the bondmen of Allah, and all your women are the slave-girls of Allah; but say: My servant, my girl, and my young man and my young girl.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل نے جو ابن جعفر ہیں، انہوں نے العلا کی سند سے بیان کیا,لا ء کے والد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے ، تم سب اللہ کے بندے ہواور تمھا ری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں ۔ البتہ یو ں کہہ سکتا ہے ۔ میرا لڑکا میری لڑکی ، میرا جوان ، خادم ، مری خادمہ ".
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None of you should say: My bondman, for all of you are the bondmen of Allah, but say: My young man, and the servant should not say: My Lord, but should say: My chief.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا, جریر اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے کو ئی شخص ( کسی غلام کو ) میرا بندہ نہ کہے ، پس تم سب اللہ کے بندےہو ، البتہ یہ کہہ سکتا ہے ۔ میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے : میرارب ( پالنے والا ) البتہ میرا سید ( آقا کہہ سکتا ہے )۔ ""
This hadith has been reported on the authority of al-A'mash with the same chain of transmitters, and the words are that the servant should not say to his chief: My Lord, and Abu Mu'awiya made an addition: For it is Allah, the Exalted and Glorious, Who is your Lord.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ " غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ " ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ " " کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) so many ahadith and one of them is this that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: None of you should say: Supply drink to your lord, feed your lord, help your lord in performing ablution, and none of you should say: My Lord. He should say: My chief, my patron; and none of you should say: My bondman, my slave-girl, but simply say: My boy, my girl, my servant.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام منبہ نے کہا , یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں ( ایک یہ ) ہے اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( اپنے غلام یا کنیز سے ) یہ نہ کہے : اپنے رب ( پالنہار ) کو پلا ؤ ، اپنےرب کو کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ ۔ " اور فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولیٰ کہے ۔ اور تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے ۔ میرا بند ہ میری بندی ، البتہ یو ں کہے ، میرا خادم ، جوان میری خادمہ ، میرا لڑکا ۔ "
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having said: None of you should say: My soul has become evil, but he should say: My soul has become remorseless. This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr with a slight variation of wording.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا , ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب محمد بن علاء نے کہا , ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی , ان دونوں ( سفیان اور ابو اسامہ ) نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے : " میراجی ( نفس ، اپنا آپ ) گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے : میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے ۔ " یہ ابو کریب کی حدیث کے الفا ظ ہیں ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اور " لیکن " کا لفظ نہیں کہا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abia Mu'iwiya with the same chain of transmitters.
ابو کریب نے کہا , ہمیں ابو معاویہ نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
Abu Umama bin Sahl bin Hunaif, on the authority of his father reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None of you should say: My soul has become evil, but he should say: My soul has become remorseless.
مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, ابو امامہ بن سہل حنیف نے اپنے والد سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے ۔ میراجی گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے ، کہ میراجی بوجھل ہو گیا ہے ۔ ( یا میری طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔ )
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There was a woman from Bani Isra'il who was short-statured and she walked in the company of two tall women with wooden sandals in her feet and a ring of gold made of plates with musk filled in them and then looked up, and musk is the best of scents; then she walked between two women and they (the people) did not recognise her, and she made a gesture with her hand like this, and Shu'ba shook his hand in order to give an indication how she shook her hand.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابو اسامہ نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے خُلید بن جعفرنے ابو نضر ہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فر ما یا : بنی اسرا ئیل میں ایک پستہ قامت عورت دولمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی ۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں ( ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا ) بنوائیں اور سونے کی ایک بند ، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی ، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سےاچھی خوشبو ہے وہ پھر وہ ان دونوں ( لمبی عورتوں ) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے ، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ۔ " اور شعبہ نے ( شاگردوں کو دکھا نے کے لیے ) اپنا ہاتھ جھٹکا ۔