Back to Sahih Muslim

The Book of Destiny

كتاب الْقَدَرِ

Chapter 47

Hadith 6743
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَقَالَ لَهُ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَيْءٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: There was argument between Adam and Moses, and Adam came the better of Moses. Moses said to him: You are the same Adam who misled people, and caused them to get out of Paradise. Adam said: You are the same (Moses) whom Allah endowed the knowledge of everything and selected him amongst the people as His Messenger. He said: Yes. Adam then again said: Even then you blame me for an affair which had been ordained for me before I was created.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس کی سند سے بیان کیا جو ان سے پڑھی گئی, ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے ایک دوسرے کو دلائل دیے اور آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل دے ہرا دیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا : آپ وہی آدم ہیں جنہوں نے ( خود غلطی کر کے اپنی اولاد کے ) لوگوں کو غلطیاں کرنے کا راستہ دکھایا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا؟ تو آدم علیہ السلام نے فرمایا : تمہی ہو جسے اللہ نے ہر چیز کا علم دیا اور جسے لوگوں میں سے اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ( تو آدم علیہ السلام نے ) فرمایا : تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو مجھے پیدا کیے جانے سے بھی پہلے میرے مقدر کر دی گئی تھی؟ "

Hadith 6744
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ هُرْمُزَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى قَالَ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ ثُمَّ أَهْبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا فَبِكَمْ وَجَدْتَ اللَّهَ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسَى بِأَرْبَعِينَ عَامًا قَالَ آدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: There was an argument between Adam and Moses (ﷺ) in the presence of their Lord. Adam came the better of Moses. Moses said: Are you that Adam whom Allah created with His Hand and breathed into him His sprit, and commanded angels to fall in prostration before him and He made you live in Paradise with comfort and ease. Then you caused the people to get down to the earth because of your lapse. Adam said: Are you that Moses whom Allah selected for His Messenger ship and for His conversation with him and conferred upon you the tablets, in which everything was clearly explained and granted you the audience in order to have confidential talk with you. What is your opinion, how long Torah would had been written before I was created? Moses said: Forty years before. Adam said: Did you not see these words: Adam committed an error and he was enticed to (do so). He (Moses) said: Yes. Whereupon, he (Adam) said: Do you then blame me for an act which Allah had ordained for me forty years before He created me? Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: This is how Adam came the better of Moses.

Urdu

ہم سے اسحاق بن موسیٰ بن عبداللہ بن موسیٰ بن عبداللہ بن یزید الانصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا, حارث بن ابی ذباب نے یزید بن ہرمز اور عبدالرحمٰن اعرج سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے کو دلیلیں دیں اور حضرت آدم علیہ السلام دلیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ، حضرت موسیٰ نے کہا : آپ وہ آدم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ، اور آپ میں اپنی روح کو پھونکا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا ، پھر آپ نے اپنی غلطی سے لوگوں کو جنت سے نکلوا کر زمین میں اتروا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم وہ موسیٰ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے سے فضیلت بخشی اور تمہیں ( تورات کی ) وہ تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کی وضاحت ہے اور تمہیں سرگوشی کے لیے جانے والا بنا کر اپنا قرب عطا فرمایا ۔ ( تم یہ بتاؤ ) تمہارے علم کے مطابق اللہ نے میری پیدائش سے کتنی مدت پہلے تورات کو ( اس صورت میں ) لکھا ( جس طرح وہ تم پر نازل ہوئی؟ ) موسیٰ علیہ السلام نے کہا : چالیس سال سے ( قبل ۔ ) حضرت آدم علیہ السلام نے کہا : کیا تم نے اس میں یہ ( لکھا ہوا ) پایا : " آدم نے اپنے پروردگار ( کے حکم ) سے سرتابی کی اور راہ سے ہٹ گیا " ؟ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : ہاں ، تو انہوں نے کہا : کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو کہ میں نے وہ کام کیا جو اللہ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے مجھ پر لکھ دیا تھا کہ میں وہ کام کروں گا؟ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس طرح آدم علیہ السلام نے دلیل سے موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا ۔ "

Hadith 6745
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ لَهُ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There was an argument between Adam and Moses. Moses said: Are you that Adam whose lapse caused you to get out of Paradise? Adam said to him: Are you that Moses whom Allah selected for His Messengership, for His conversation and you blame me for an affair which had been ordained for me before I was created? This is how Adam came the better of Moses.

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب اور ابن حاتم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, حمید بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے دلائل کا تبادلہ کیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ آدم ہیں جن کی خطا نے انہیں جنت سے باہر نکالا؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے کہا : کیا تم موسیٰ ہو جسے اللہ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی سے دوسروں پر فضیلت دی ، پھر تم مجھے اس معاملے میں ملامت کر رہے ہو جو میری پیدائش سے پہلے میرے لیے مقدر کر دیا گیا تھا؟ اس طرح آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل سے خاموش کر دیا ۔ "

Hadith 6746
Sahih
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ ْ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrated a hadith like this through another chain of transmitters. This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.

Urdu

مجھ سے عمرو ناقد نے بیان کیا، ہم سے ایوب بن النجار الیمیمی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا, ابوسلمہ اور ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان ( گزشتہ راویوں ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔

Hadith 6747
Sahih
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِم.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported a hadith like this through another chain of transmitters.

Urdu

ہم سے محمد بن منہال الدار نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن حسن نے بیان کیا, محمد بن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔

Hadith 6748
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ.
English

Abdullah bin 'Amr bin al-'As رضی اللہ عنہ reported:

I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Allah ordained the measures (of quality) of the creation fifty thousand years before He created the heavens and the earth, as His Throne was upon water.

Urdu

مجھ سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن عبداللہ بن سرح نے بیان کیا, ابن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوہانی خولانی نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے خبر دی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیریں تحریر فرما دیں تھی ۔ فرمایا : اور اس کا عرش پانی پر تھا ۔ "

Hadith 6749
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هَانِئٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hani with the same chain of transmitters, but there is no mention of His Throne was upon water.

Urdu

ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے المقری نے بیان کیا۔حیوہ اور نافع بن یزید نے ابوہانی سے اسی سند کے ساتھ اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی مگر ان دونوں نے یہ نہیں کہا :حیوہ اور نافع بن یزید نے ابوہانی سے اسی سند کے ساتھ اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی مگر ان دونوں نے یہ نہیں کہا : " اور اس کا عرش پانی پر تھا ۔ "

Hadith 6750
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ كِلَاهُمَا عَنْ الْمُقْرِئِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ.
English

Abdullah bin Amr bin al-'As رضی اللہ عنہ reported:

He heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ) as saying: Verily, the hearts of all the sons of Adam are between the two fingers out of the fingers of the Compassionate Lord as one heart. He turns that to any (direction) He likes. Then Allahs Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O Allah, the Turner of the hearts, turn our hearts to Thine obedience.

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب اور ابن نمیر دونوں نے المقری کی سند سے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن یزید المقری نے بیان کیا, حیوہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے ابوہانی نے بتایا ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن حبلی سے سنا ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ، کہا

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " بنی آدم کے سارے دل ایک دل کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں ، وہ جس طرح چاہتا ہے اسے ( ان سب کو ) گھماتا ہے ۔ " اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : " اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے ۔ "

Hadith 6751
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ أَوْ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ.
English

Tawus reported:

I found some Companions of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Everything is by measure. And he further said: I heard Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ as saying: There is a measure for everything-even for incapacity and-capability.

Urdu

مجھ سے عبد الاعلی بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے پڑھا، اور ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ زیاد رضی اللہ عنہ سے جو کچھ پڑھا گیا تھا۔ ابن سعد, عمرو بن مسلم نے طاوس سے روایت کی ، انہوں نے کہا

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابہ کو پایا وہ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہر چیز ( اللہ کی مقرر کردہ ) مقدار سے ہے اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر چیز ( اللہ کی مقرر کردہ ) مقدار سے ہے یہاں تک کہ ( کسی کام کو ) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی ، یا کہا : ( کسی کام کو ) کر سکنا اور نہ کر سکنا ( بھی اسی مقدار سے ہے ۔ ) "

Hadith 6752
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

The polytheists of the Quraish came to have an argument with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in regard to Destiny and then this verse was revealed: On the day when they are dragged into the Fire upon their faces, taste the touch of Fire. Surely, We have created everything according to a measure (liv. 48).

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، سفیان کی سند سے، زیاد بن اسماعیل کی سند سے بیان کیا, محمد بن عباد بن جعفر مخزومی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کرنے کے لیے آئے ، اس وقت ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " جس دن وہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے ، ( کہا جائے گا : ) دوزخ کا عذاب چکھو ، بےشک ہم نے ہر چیز کو ( طے شدہ ) مقدار کے مطابق بنایا ہے ۔ "

Hadith 6753
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنْ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ قَالَ عَبْدٌ فِي رِوَايَتِهِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Verily Allah has fixed the very portion of adultery which a man will indulge in, and which he of necessity must commit. The adultery of the eye is the lustful look, and the adultery of the tongue is the licentious speech, the heart desires and yearns, which the parts may or may not put into effect.

Urdu

اسحٰق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ اسحٰق کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی ، انہوں نے کہا؛ ہمیں معمر نے ابن طاوس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا

میں نے اس سے بڑھ کر ( قرآن کے لفظ ) "" اللمم "" سے مشابہ کوئی اور چیز نہیں دیکھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کے حصے کا زنا لکھ دیا ہے ، وہ لامحالہ اپنا حصہ لے گا ۔ آنکھ کا زنا ( جس کا دیکھنا حرام ہے اس کو ) دیکھنا ہے ۔ زبان کا زنا ( حرام بات ) کہنا ہے ، دل تمنا رکھتا ہے ، خواہش کرتا ہے ، پھر شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے ( اور وہ زنا کا ارتکاب کر لیتاہے ) یا تکذیب کرنی ہے ( اور وہ اس کا ارتکاب نہیں کرتا ۔ ) "" عبد نے اپنی روایت میں کہا : ابن طاوس نے اپنے والد سے روایت کی ( کہا : ) میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، ( اس سند میں سماع کی صراحت ہے ۔ )

Hadith 6754
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنْ الزِّنَا مُدْرِكٌ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying. Allah fixed the very portion of adultery which a man will indulge in. There would be no escape from it. The adultery of the eye is the lustful look and the adultery of the ears is listening to voluptuous (song or talk) and the adultery of the tongue is licentious speech and the adultery of the hand is the lustful grip (embrace) and the adultery of the feet is to walk (to the place) where he intends to commit adultery and the heart yearns and desires which he may or may not put into effect.

Urdu

ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو ہشام المخزومی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ہم سے سہیل بن ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ

آپ نے فرمایا : " ابن آدم کے متعلق زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے ۔ وہ لا محالہ اس کو حاصل کرنے والا ہے ، پس دونوں آنکھیں ، ان کا زنا دیکھنا ہے اور دونوں کان ، ان کا زنا سننا ہے اور زبان ، اس کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ ، اس کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں ، اس کا زنا چل کر جانا ہے اور دل تمنا رکھتا ہے اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ ان تمام باتوں کی تصدیق کرتی ہے ( اسے عملا سچ کر دکھاتی ہے اور حرام کا ارتکاب ہو جاتا ہے ) یا اس کی تکذیب کرتی ہے ( حقیقی زنا سے بچاؤ ہو جاتا ہے ۔ ) "

Hadith 6755
Sahih
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ الْآيَةَ.
English

It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :

He used to say the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no child who is not born in the state of Fitrah, then his parents make him a Jew or a Christian or a Magian, just as animals bring fourth animals with their limbs intact, do you see any deformed one among them?'" Then Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: "Recite, if you wish: Allah's Fitrah with which He has created He has created mankind. No change let there be in Khalqillah.

Urdu

ہم سے حاجب بن ولید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا, زُبیدی نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ وہ کہا کرتے تھے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت ( اللہ پر ایمان اور اچھائی کی محبت ) پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی ، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں ، جیسے ایک جانور ( ماں ) کامل الاعضاء جانور ( بچے ) کو جنم دیتی ہے ، کیا تمہیں ان میں کوئی عضو کٹا ہوا جانور نظر آتا ہے؟ " پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : " یہی اللہ کی ( عطا کردہ ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق فرمائی ، اللہ کی تخلیق میں ردوبدل نہیں ہوتا ۔ "

Hadith 6756
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً وَلَمْ يَذْكُرْ جَمْعَاءَ.
English

It was narrated from Zuhri with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6755) , and he said:

"As animals bring fourth other animals" with their limbs intact."

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا, معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا

" جس طرح ایک ( مادہ ) جانور بچے کو جنم دیتی ہے ۔ " انہوں نے " کامل الاعضاء " ذکر نہیں کیا ۔

Hadith 6757
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ثُمَّ يَقُولُ اقْرَءُوا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: No child is born but upon Fitra. He then said. Recite: The nature made by Allah in which He created man, there is no altering of Allah's nature; that is the right religion.

Urdu

مجھ سے ابو الطاہر اور احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی پیدا ہونے والا بچہ نہیں مگر اس کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے ۔ " پھر ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) کہتے : یہ آیت پڑھ لو : " یہی اللہ کی ( عطا کردہ ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق کی ، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہو گی ، یہی سیدھا مستحکم دین ہے ( جس کی انسانی فطرت امانت دار ہے ۔ ) "

Hadith 6758
Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُشَرِّكَانِهِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: No babe is born but upon Fitra. It is his parents who make him a Jew or a Christian or a Polytheist. A person said: Allah's Messenger, what is your opinion if they were to die before that (before reaching the age of adolescence when they can distinguish between right and wrong)? He said: It is Allah alone Who knows what they would be doing.

Urdu

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی ولادت پانے والا نہیں مگر وہ فطرت ہی پر پیدا ہوا ہے ، پھر اس کے والدین اسے یہودی ، نصرانی اور مشرک بنا دیتے ہیں ۔ " ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول! اگر وہ اس سے پہلے مر جائے؟ آپ نے فرمایا : " اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ ( بڑے ہو کر ) وہ بچے کیا عمل کرنے والے تھے ۔ "

Hadith 6759
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَهُوَ عَلَى الْمِلَّةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهُ لِسَانُهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعَبِّرَ عَنْهُ لِسَانُهُ.
English

It was narrated from Al-A'mash with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6758). In the Hadith of Ibn Numair it says:

Every new-born babe is born on the millat (of Islam and he) remains on this until his tongue is enabled to express himself. This hadith has been narrated on the authority of Abu Mu'awiya through another chain of transmitters (and the words are): Every child is born but on this Fitra so long as he does not express himself with his tongue.

Urdu

ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں ابن نمیر نے بھی ( یہی ) حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، ( ابومعاویہ اور ابن نمیر کے والد ) دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابن نمیر کی حدیث میں ہے

"" کوئی بچہ پیدا ہونے والا بچہ نہیں مگر وہ ملت پر ہوتا ہے ۔ "" اور ابومعاویہ سے ابوبکر نے جو روایت کی اس میں ہے : "" مگر وہ اس ملت ( ملت اسلامی ) پر ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اس ( کے کفر یا ایمان ) کو بیان کر دیتی ہے ۔ "" اور ابومعاویہ سے ابوکریب کی روایت میں ہے : "" کوئی ولادت پانے والا نومولود نہیں مگر وہ اسی فطرت پر ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اس کے ( ماحول سے اخذ کردہ ) خیالات کی ترجمانی کرتی ہے ۔ ""

Hadith 6760
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُولَدُ يُولَدُ عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تَنْتِجُونَ الْإِبِلَ فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ صَغِيرًا قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ.
English

It was narrated that Hammam bin Munnabbih said:

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported from Allah's Messenger (ﷺ) many a hadith and one amongst them is that he is reported to have said: An infant is born according to his (true) nature. It is his parents Who make him a Jew, a Christian, just as a she-camel gives birth to its young ones. Do you find any deficiency in their limbs? You cut their ears (i.e. after birth). They (the Companions of the Holy Prophet) said: What is your opinion about him who dies in infancy? Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It is Allah alone Who knows best what they would be doing.

Urdu

ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا

یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائیں ، پھر انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو ( بچہ ) پیدا ہوتا ہے ، وہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں جس طرح تم اونٹوں کے بچوں کو جنم دلواتے ہو ۔ کیا تم ان میں سے کسی کو کان کٹا ہوا پاتے ہو؟ یہاں تک کہ تم خود اس کا کان کاٹ دو " لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے دیکھا کہ اگر وہ چھوٹا ہی فوت ہو جائے؟ فرمایا : " اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے وہ ( چھوٹی عمر میں فوت ہونے والے بچے ) کیا عمل کرنے والے تھے ۔ "

Hadith 6761
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَأَبَوَاهُ بَعْدُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ فَإِنْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ فَمُسْلِمٌ كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ فِي حِضْنَيْهِ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: The mother of every person gives him birth according to his true nature. It is subsequently his parents who make him a Jew or a Christian or a Magian. Had his parents been Muslim he would have also remained a Muslim. Every person to whom his mother gives birth (has two aspects of his life) ; when his mother gives birth Satan strikes him but it was not the case with Mary and her son (Jesus Christ).

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، یعنی الدراوردی نے، العلا کے والد عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر جنم دیتی ہے اور اس کے ماں باپ بعد میں اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔ اگر وہ دونوں ( صحیح ) مسلمان ہوں تو وہ مسلمان رہتا ہے اور ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوؤں میں ہاتھ سے مارتا ہے سوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کے ( انہیں اللہ نے اس سے محفوظ رکھا ۔ ) "

Hadith 6762
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) was asked about the children of the polytheists, whereupon he said: It is Allah Who knows best what they would be doing.

Urdu

ہم سے ابو الطاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, ابن ابی ذئب اور یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے عطاء بن یزید سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ ( بڑے ہو کر ) وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔ "