Back to Sahih Muslim

The Book of Destiny

كتاب الْقَدَرِ

Chapter 47

Hadith 6763
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ح و حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْقِلٍ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ.
English

A similar hadith (as no. 6762) was narrated from Az-Zuhri with the chain of narrators of Yunus and Ibn Abi Dhi'b, except that in the Hadith of of Shu'aib nd Mu'qil it says: "He was asked about the offspring of the idolaters."

Urdu

ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا, معمر ، شعیب اور معقل بن عبیداللہ نے زہری سے یونس اور ابن ابی ذئب کی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر شعیب اور معقل کی حدیث میں ( مشرکین کی اولاد کی بجائے ) " مشرکین کے چھوٹے بچوں " کے الفاظ ہیں ۔

Hadith 6764
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the children of the polytheists who die young. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It is Allah Who knows what they would be doing.

Urdu

ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے ابو الزناد سے بیان کیا, اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا ، ان میں سے جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جائیں ( تو ان کا انجام کیا ہو گا؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔ "

Hadith 6765
Sahih
و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ.
English

Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was asked about the children of the polytheists, whereupon he said: It is Allah alone Who knows what they would be doing according to their creation.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عونہ نے بیان کیا، ابو بشر کی سند سے, سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے جب ان کو پیدا کیا تو وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔ "

Hadith 6766
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَسْقَلَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْغُلَامَ الَّذِي قَتَلَهُ الْخَضِرُ طُبِعَ كَافِرًا وَلَوْ عَاشَ لَأَرْهَقَ أَبَوَيْهِ طُغْيَانًا وَكُفْرًا.
English

Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The young man whom Khadir killed was a non-believer by his very nature and had he survived he would have involved his parents in defiance and unbelief.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے اپنے والد سے، رقبہ بن مسقلہ نے ابواسحاق کی سند سے, سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس لڑکے کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ طبعا کافر بنایا گیا تھا ، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا ۔ "

Hadith 6767
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ تُوُفِّيَ صَبِيٌّ فَقُلْتُ طُوبَى لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ لَا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلًا وَلِهَذِهِ أَهْلًا.
English

A'isha رضی اللہ عنہا the mother of the believers, reported:

A child died and I said: There is happiness for this child who is a bird from amongst the birds of Paradise. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Don't you know that Allah created the Paradise and He created the Hell and He created the dwellers for this (Paradise) and the denizens for this (Hell)?

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے جریر نے علاء بن المسیب کی سند سے بیان کیا, فضیل بن عمرو نے عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ

ایک بچہ فوت ہوا تو میں نے کہا : اس کے لیے خوش خبری ہو ، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لیے بھی اس میں جانے والے بنائے اور اُس کے لیے بھی اس میں رہنے والے بنائے؟ "

Hadith 6768
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ صَبِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ السُّوءَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ قَالَ أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ.
English

A'isha رضی اللہ عنہا the mother of the believers, said:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) was called to lead the funeral prayer of a child of the Ansar. I said: Allah's Messenger, there is happiness for this child who is a bird from the birds of Paradise for it committed no sin nor has he reached the age when one can commit sin. He said: 'A'isha رضی اللہ عنہا per adventure, it may be otherwise, because God created for Paradise those who are fit for it while they were yet in their father's loins and created for Hell those who are to go to Hell. He created them for Hell while they were yet in their father's loins.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, وکیع نے طلحہ بن یحییٰ سے ، انہوں نے اپنی پھوپھی عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے ایک بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول! اس کے لیے خوش خبری ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ، اس نے کوئی گناہ کیا ، نہ گناہ کرنے کی عمر پائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یا اس کے علاوہ کچھ اور؟ عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا فرمائے ، انہیں اس وقت جنت کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور دوزخ کے لیے بھی رہنے والے بنائے ، انہیں اس وقت دوزخ کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے ۔ "

Hadith 6769
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ح و حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بِإِسْنَادِ وَكِيعٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
English

A similar Hadith (as no. 6768) was narrated from Talha bin Yahya with this chain of Waki'.

Urdu

ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے سلیمان بن معبد نے بیان کیا، ان سے حسین بن عن مجھ سے حفص اور اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ان دونوں نے سفیان الثوری کی سند سے، طلحہ بن یحییٰ کی سند سے وکیع کی سند سے۔ جیسا کہ اس کی حدیث ہے۔

Hadith 6770
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ قَالَ وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ قَالَ مِسْعَرٌ وَأُرَاهُ قَالَ وَالْخَنَازِيرُ مِنْ مَسْخٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسْخٍ نَسْلًا وَلَا عَقِبًا وَقَدْ كَانَتْ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ.
English

Abdullah رضی اللہ عنہ reported:

Umm Habiba رضی اللہ عنہا , the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said: O Allah, enable me to derive benefit from my husband, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and from my father Abu Sufyan رضی اللہ عنہ and from my brother Mu'awiya رضی اللہ عنہ . Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: You have asked from Allah about durations of life already set, and the length of days already allotted and the sustenances the share of which has been fixed. Allah would not do anything earlier before its due time, or He would not delay anything beyond its due time. And if you were to ask Allah to provide you refuge from the torment of the HellFire, or from the torment of the grave, it would have good in store for you and better for you also. He (the narrator) further said: Mention was made before him about monkeys, and Mis'ar (one of the narrators) said: I think that (the narrator) also (made a mention) of the swine, which had suffered metamorphosis. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Verily, Allah did not cause the race of those which suffered metamorphosis to grow or they were not survived by young ones. Monkeys and swine had been in existence even before (the metamorphosis of the human beings).

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، اور انہوں نے کہا: وکیع نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے ، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے ، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی : اے اللہ! مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ( کی زندگیوں ) سے مستفید فرما! ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے عمروں کی ایسی مدتوں کا ، جو مقرر کر دی گئی ہیں اور ان دنوں کا جو گنے جا چکے ہیں اور ایسے رزقوں کا جو بانٹے جا چکے ہیں ، سوال کیا ہے ۔ اگر تم اللہ سے یہ مانگتی کہ تمہیں آگ میں دیے جانے والے یا قبر میں دیے جانے والے عذاب سے پناہ عطا فرما دے تو یہ زیادہ اچھا اور زیادہ افضل ہوتا ۔ "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : آپ کے سامنے بندروں کے بارے میں بات چیت ہوئی ، مسعر نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا : خنزیروں کا بھی ( ذکر کیا گیا کہ وہ ) مسخ ہو کر بنے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مسخ ہونے والوں کی نہ نسل بنائی ہے نہ اولاد ، بندر اور خنزیر اس ( مسخ ہونے کے واقعے ) سے پہلے بھی ہوتے تھے ( جو موجودہ ہیں وہ انہی کی نسلیں ہیں ۔ )

Hadith 6771
Sahih
حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ ابْنِ بِشْرٍ وَوَكِيعٍ جَمِيعًا مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ.
English

It was narrated from both Ibn Bishr and Waki':

From punishment in the fire and from punishment in the grave.

Urdu

ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابن بشر نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، مگر ابن بشر اور وکیع دونوں سے ان کی ( روایت کردہ ) حدیث میں یہ الفاظ منقول ہیں

جہنم کے عذاب اور عذاب قبر کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے (اور ان کے درمیان کوئی تعامل نہیں ہے)۔

Hadith 6772
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَاللَّفْظُ لِحَجَّاجٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَآثَارٍ مَوْطُوءَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يُعَجِّلُ شَيْئًا مِنْهَا قَبْلَ حِلِّهِ وَلَا يُؤَخِّرُ مِنْهَا شَيْئًا بَعْدَ حِلِّهِ وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ لَكَانَ خَيْرًا لَكِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ.
English

Ibn Mas'dd رضی اللہ عنہ reported:

Umm Habiba رضی اللہ عنہا said: O Allah, enable me to derive benefit from my husband, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and from my father Abu Sufyan, and from my brother Mu'awiya. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to her: Verily, you have asked Allah about the durations of life already set, and the steps which you would take, and the sustenances the share of which is fixed. Nothing would take place earlier than its due time, and nothing would be deferred beyond that when it is due. So, if you were to ask Allah about your safety from the torment of Hell-Fire and from the torment of the grave, it would have been better for you. A person said: Allah's Messenger, what about those apes and swine which suffered metamorphosis? Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily, Allah, the Exalted and Glorious, did not destroy a people or did not torment a people, and let their race grow. Apes and swine had been even before that (when the deniers of truth were tormented and suffered metamorphosis).

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی اور حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، اور یہ قول حجاج کا ہے، اسحاق نے کہا کہ ہمیں حجاج نے خبر دی, عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ثوری نے علقمہ بن مرثد سے خبر دی ، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے ، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ( دعا کرتے ہوئے ) کہا : اے اللہ! مجھے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی ( کی درازی عمر ) سے مستفید فرما! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا ہے جو مقرر کی جا چکیں اور قدموں کے ان نشانوں کا جن پر قدم رکھے جا چکے اور ایسے رزقوں کو جو تقسیم کیے جا چکے ۔ نہ ان میں سے کوئی چیز اپنا وقت آنے سے پہلے آ سکتی ہے اور نہ آنے کے بعد مؤخر ہو سکتی ہے ۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ مانگتی کہ وہ تمہیں جہنم میں دیے جانے والے عذاب اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے بچا لے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا ۔ "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ایک آدمی نے پوچھا : اللہ کے رسول! یہ بندر اور خنزیر کیا انہی میں سے ہیں جو مسخ ہو کر بنے تھے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک نہیں کیا یا ( فرمایا : ) کسی قوم کو عذاب نہیں دیا کہ پھر ان ( لوگوں ) کی نسل بنائے ( ان کے بچے پیدا کر کے انہیں آگے چلائے ۔ ) اور بلاشبہ بندر اور خنزیر پہلے بھی موجود تھے ۔ "" ( آگے انہی کی نسلیں چلی ہیں ۔ )

Hadith 6773
Sahih
حَدَّثَنِيهِ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ قَالَ ابْنُ مَعْبَدٍ وَرَوَى بَعْضُهُمْ قَبْلَ حِلِّهِ أَيْ نُزُولِهِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Sufyan through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.

Urdu

ابوداود سلیمان بن معبد نے کہا : ہمیں حسین بن حفص نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : "" اور قدموں کے ایسے نشان جن تک قدم پہنچ چکے ہیں ۔ "" ابن معبد نے کہا : ان ( اساتذہ ) میں سے بعض نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ) : "" اس کے حل ہونے سے پہلے ۔ "" یعنی اس کے اترنے سے پہلے ( وضاحتی الفاظ کے ساتھ ) روایت کی ۔

Hadith 6774
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: A strong believer is better and is more lovable to Allah than a weak believer, and there is good in everyone, (but) cherish that which gives you benefit (in the Hereafter) and seek help from Allah and do not lose heart, and if anything (in the form of trouble) comes to you, don't say: If I had not done that, it would not have happened so and so, but say: Allah did that what He had ordained to do and your if opens the (gate) for the Satan.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے ربیعہ بن عثمان سے اور محمد بن یحییٰ کی سند سے بیان کیا۔ ابن حبان، العرج کی سند پر, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے ، جبکہ خیر دونوں میں ( موجود ) ہے ۔ جس چیز سے تمہیں ( حقیقی ) نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو ( مایوس ہو کر نہ بیٹھ ) جاؤ ، اگر تمہیں کوئی ( نقصان ) پہنچے تو یہ نہ کہو : کاش! میں ( اس طرح ) کرتا تو ایسا ایسا ہوتا ، بلکہ یہ کہو : ( یہ ) اللہ کی تقدیر ہے ، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، اس لیے کہ ( حشرت کرتے ہوئے ) کاش ( کہنا ) شیطان کے عمل ( کے دروازے ) کو کھول دیتا ہے ۔ "