The Book of Zuhd and Softening of Hearts
كتاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ
Chapter 54
Jundub رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who wants to publicise (his deeds), Allah will publicise (his humility), and he who makes a hypocritical display (of his deeds), Allah will make a display of him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, وکیع نے سفیان سے اور انھوں نے سلمہ بن کُہیل روایت کی , انھوں نے کہا : میں نے حضرت جندب علقی رضی اللہ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص ( لوگوں کو ) سناتاہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں ( سب کو ) سنوائےگا اور جو ( اپناعمل ) لوگوں کو دکھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں لوگوں کو دکھائےگا ۔ "
Sufyan reported this hadith with the same chain of transmitters and he made this addition: I did not hear anyone saying besides him that it was Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who had said so.
اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, ملائی نے کہا , ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث کی ، اور مزید کہا : اور میں ( سلمہ بن کُہیل ) نے ( اس حدیث میں ) ان کے سواکسی کو ( صراحت سے ) یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
Salama bin Kuhail reported:
I heard from Jundub رضی اللہ عنہ , but I did not hear him say this: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying this.
سعید بن عمر واشعشی نے کہا : ہمیں سفیان نے ولید بن حرب ۔ سعیدنے کہا : میراخیال ہے انھوں ( سفیان ) نے کہا : ( ولید ) ابن حارث بن ابی موسیٰ ۔ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے سلمہ بن کُہیل سے سنا انھوں نے کہا
میں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے ، وہ کہتے ہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ( آگے ) جس طرح ( سفیان ) چوری کی حدیث ( 7478 ) میں ہے ۔
Abu Sufyan narrated:
"The truthful and trustworthy one, Al-walid bin Harb, narrated it with this chain (a hadith similar to no. 7479).
اور یہی حدیث ہمیں ابن ابی عمر نے بیان کی کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی کہا
ہمیں سچے امانتدار شخص ولید بن حرب نے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
He heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The servant speaks words for which he is sent down to the Hell-Fire farther than the distance between the east and the west.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, بکر بن مضر نے ابن باد سے انھوں نے محمد بن ابرا ہیم سے انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " ( بعض اوقات ) بندہ کوئی کلمہ کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے دوزخ میں اس سے بھی زیادہ دور اتر جاتا ہےجتنی دوری مشرق اور مغرب کے درمیان ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The servant speaks words that he does not understand its repercussions but he sinks down in Hell-Fire farther than the distance between the east and the west.
اور ہم سے محمد بن ابی عمر المکی نے بیان کیا, عبد العزیز دراوردی نے یزید بن رضی اللہ عنہ سے انھو ں نے محمد بن ابرا ہیم سے انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بندہ کوئی ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے کہ اس کو واضح طور پر پتہ نہیں ہو تا کہ اس میں کیا ہے ، اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اس سے زیادہ دور جاگرتا ہے جتنی دوری مشرق اور مغرب کے درمیان ہے ۔
Shaqiq reported that it was said to Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ :
Why don't you visit 'Uthman رضی اللہ عنہ and talk to him? Thereupon he said: Do you think that I have not talked to him but that I have made you hear? By Allah. I have talked to him (about things) concerning me and him and I did not like to divulge those things about which I had to take the initiative and I do not say to my ruler: You are the best among people, after I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: A man will be brought on the Day of Resurrection and thrown in Hell-Fire and his intestines will pour forth in Hell and he will go round along with them, as an ass goes round the mill stone. The denizens of Hell would gather round him and say: O, so and so, what has happened to you? Were you not enjoining us to do what was reputable and forbid us to do what was disreputable? He will say: Of course, it is so; I used to enjoin (upon people) to do what was reputable but did not practise that myself. I had been forbidding people to do what was disreputable, but practised it myself.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم اور ابو کریب نے بیان کیا، اور قول ابو کریب کا ہے۔ ہمیں یحییٰ اور اسحاق نے بیان کیا، اور دوسروں نے کہا: ابو معاویہ نے کہا , ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسامہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا : کہ
ان سے کہاگیا : تم کیوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر بات نہیں کرتے ؟ ( کہ وہ لوگوں کی مخالفت کا ازالہ کریں ) تو انھوں نے کہا : کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تمھیں نہیں سنواتا تو میں ان سے بات نہیں کرتا؟اللہ کی قسم!میں نے ان سے بات کی جو میرے اور ان کے درمیان تھی اس کے بغیرکہ میں کسی ایسی بات کا آغاز کروں جس میں سب سے پہلے دروازہ کھولنے والا میں بنوں ۔ میں کسی سے جو مجھ پر امیر ہویہ نہیں کہتا کہ وہ سب انسانوں میں سے بہتر ہے ۔ اس بات کے بعد جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ، آپ فرما رہے تھے ۔ " قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور آگ میں پھینک دیا جا ئے گا ، اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل پڑیں گی ۔ وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد لگاتا ہے ۔ اہل جہنم اس کے پاس جمع ہو جا ئیں گے اور اس سے کہیں گے فلاں!تمھاراے ساتھ کیاہوا؟کیا تو نیکیوں کی تلقین اور برائیوں سے منع نہیں کیا کرتا تھا؟ وہ کہے گا ایسا ہی تھا ، میں نیکیوں کا حکم دیتا تھا خود ( نیکی کے کام ) نہیں کرتا تھا اور برائیوں سے روکتا تھا اور خود ان کا ارتکاب کرتاتھا ۔ "
Abu Wa'il reported:
I was in the company of Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ that a person said: What prevents you to visit Uthman رضی اللہ عنہ and talk to him for what he does? The rest of the hadith is the same.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا, جریر نے اعمش سے اور انھوں نے ابو وائل سے روایت کی کہا
ہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک آدمی نے کہا : آپ کو کیا چیز اس سے مانع ہے کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جائیں اور جووہ کررہے ہیں اس کے بارے میں ان سے بات کریں؟اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: All the people of my Ummah would get pardon for their sins except those who publicise them. And (it means) that a servant should do a deed during the night and tell the people in the morning that he has done so and so, whereas Allah has concealed it. And he does a deed during the day and when it is night he tells the people, whereas Allah has concealed it. Zuhair has used the word hijar for publicising.
مجھ سے زہیر بن حرب، محمد بن حاتم اور عبد بن حمید نے بیان کیا,عبد نے کہا, اس نے مجھ سے بیان کیا، اور باقی دو نے کہا: ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا۔ ہمیں ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: سالم نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
آپ ﷺفرما رہے تھے ۔ " میری تمام امت کو ( گناہوں پر ) معافی ملے گی ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ( اپنے گناہوں کا ) اعلان کرنے والے ہیں ۔ اعلان میں یہ ہے کہ بندہ رات کو ایک کام کرے پھر صبح ہو تو اللہ نے اس کا پردہرکھا ہوا ہو اور وہ خود کہے اے فلاں !میں نے پچھلی رات ایسا ایساکام کیا حالانکہ اس نے رات گزاردی اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالے رکھا اور وہ صبح کرتا ہے تو وہ اپنے رب کا ڈالا ہوا پردہ خود اتاردیتا ہے ۔ " زہیر نے ( اجهاریعنی اعلان کے بجائے ) وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ ( یہ بڑی بے حیائی کی بات ہے ) کہا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Two persons sneezed in the presence of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He (the Messenger of Allah) invoked mercy for one, and did not invoke for the other. The one for whom he had not prayed said: So and so sneezed and you said: May Allah have mercy upon you. I also sneezed but you did not utter these words for me. Thereupon he (the Holy Prophet) said: That person praised Allah, and you did not praise Allah.
مجھ سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا, حفص بن غیاث نے سلیمان تیمی سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی تو آپ نے ایک آدمی کو چھینک کی دعانہ دی ۔ آپ نے جس کو چھینک کی دعانہ دی تھی اس نے کہا : فلاں کو چھینک آئی تو آپ نے اس پر اسے دعادی اور مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے اس پر دعا نہ دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس نے الحمد اللہ کہا تھا اور تم نے الحمداللہ نہیں کیا ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابو خالد احمر نے سلیمان تیمی سے ‘ انہوں نے حضرت انس ؓ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی کے مطابق روایت کی ۔
Abu Burda reported:
I visited Abu Musa رضی اللہ عنہ , as he was in the house of the daughter of Fadl bin 'Abbas رضی اللہ عنہ. I sneezed but he did not respond to it (by saying): Allah may have mercy upon you. Then she sneezed and he (Fadl bin 'Abbas رضی اللہ عنہ) said: May Allah have mercy upon you. I came back to my mother and informed her about it, and when he came to her she said: My son sneezed in your presence and you did not say: Allah may have mercy upon you, and she sneezed and you said for her: May Allah have mercy upon you. Thereupon he said: Your son sneezed but he did not praise Allah and I did not beg mercy of Allah for him and she sneezed and she praised Allah and so I said: May Allah have mercy upon you, as I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When any one of you sneezes he should praise Allah and the other should say: May Allah have mercy upon you, and if he does not praise Allah, no mercy should be begged for him.
مجھ سے زہیر بن حرب اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا , اور لفظ زہیر کا ہے , انہوں نے کہا: ہم سے قاسم بن مالک نے عاصم بن کلیب کی سند سے بیان کیا , ابو بردہ سے روایت ہے کہا
میں ( اپنے والد ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے گھر تھے ۔ مجھے چھینک آئی تو انھوں نے جواب میں دعانہیں دی اور اس ( فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ) کو چھینک آئی تو اس کو انھوں نے جواب میں دعا دی میں اپنی والدہ کے پاس گیا اور انھیں بتا یا جب وہ ( میرے والد ) ان ( میری والدہ ) کے پاس آئے تو انھوں نے کہا : تمھارے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا نہیں دی ۔ اور ان ( فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی بیٹی ) کو چھینک آئی تو تم نے جواب میں دعا دی ۔ انھوں نے کہا : تمھارے بیٹے کو چھینک آئی تو اس نے الحمد اللہ نہیں کہا : اس لیےمیں نے جواب نہیں دیا اس ( خاتون ) کو چھینک آئی تو انھوں نے الحمد اللہ کہا : اس لیے میں نےان کو جواب میں دعا دی ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ فرماتے تھے : " جب تم میں سےکسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد اللہ کہے تو اس کو جواب میں دعا دواور اگر وہ الحمد اللہ نہ کہے تو دعا نہ دو ۔
Iyas bin Salama bin al-Akwa reported His father reported to him:
He heard Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: A person sneezed in his presence and he said to him: May Allah have mercy upon you. And he then sneezed for the second time and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: He is suffering from cold (and no response is necessary).
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا, ایاس بن سلمہ بن اکوع نے مجھے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے ان سے حدیث بیان کی
انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا , آپ کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ نے اسے دعا دی يَرْحَمُكَ اللَّهُ اللہ تم پر رحم فرمائے ۔ " اسے دوسری چھینک آئی تو آپ نے فرمایا " اس شخص کو زکام ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The yawning as from the devil. So when one of you yawns he should try to restrain it as far as it lies in his power.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور علی بن حجر السعدی نے بیان کیا: ہم سے اسماعیل نے، یعنی ابن جعفر نے، اپنے والد کی سند سے، العلا کی سند سے بیان کیا, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جما ئی شیطان کی طرف سے ہے لہٰذاتم میں سے جب کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ جہاں تک اس کو روک سکے روکے ۔
The son of Abu Said al-Khudri رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When one of you yawns, he should keep his mouth shut with the help of his hand, for it is the devil that enters therein.
مجھ سے ابو غسان المسمعی مالک بن عبد الواحد نے بیان کیا , بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سہیل بن ابی صالح نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے بیٹے ( عبدالرحمن ) سے سنا وہ میرے والد کو اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کو روکے کیونکہ ( ایسا نہ کرنے سے ) شیطان اندر داخل ہو تا ہے ۔ "
The son of Abu Said al-Khudri reported on the authority of his father:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When one of you yawns, he should try to restrain it with cue help of his hand since it is the Satan that enters therein.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, عبد العزیز نے سہیل سے انھوں نے عبد الرحمن بن ابی سعید سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کوجمائی آئے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوتا ہے ۔ "
The son of Abu Said al-Khudri رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said. When one of you yawns while engaged in prayer, he should try to restrain so far as it lies in his power, since it is the Satan that enter therein.
مجھ سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا, سفیان نے سہیل بن ابی صالح سے انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی شخص کو نماز میں جمائی آئے تو وہ جتنا اس کے بس میں ہواس کو روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوتا ہے ۔ "
Abu Said al-Khudri رضی اللہ عنہ reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) a hadith like this through another chain of transmitters.
اور ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا, جریر نے سہیل سے ، انھوں نے اپنے والد اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ( آگے ) بشراور عبدالعزیز کی حدیث کے مانند ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Angels were born out of light and the Jinns were born out of the spark of fire and Adam was born as he has been defined (in the Qur'an) for you (i.e. he is fashioned out of clay).
ہم سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا, عبد نے ہمیں بتایا, ابن رافع نے کہا, ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہمیں الزہری کی سند سے، عروہ کی سند سے, حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو آگ کے شعلے سے اورآدم علیہ السلام کو اس ( مادے ) سے پیدا کیا گیا ہے جس کو تمہارے لئے جان کیا گیا ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: A group of Bani Isra'il was lost. I do not know what happened to it, but I think (that it 'underwent a process of metamorphosis) and assumed the shape of rats. Don't you see when the milk of the camel is placed before them, these do not drink and when the milk of goat is placed before them, these do drink. Abu Huraira said: I narrated this very hadith to Ka'b and he said: Did you hear this from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? I (Abu Huraira) said: Yes. He said this again and again, and I said: Have I read Torah? This hadith has been transmitted on the authority of Ishaq with a slight variation of wording.
اسحاق بن ابراہیم ، محمد بن مثنیٰ عنزی اور محمد بن عبداللہ رزی نے ہمیں ثقفی سے حدیث بیان کی ، الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ کہا : ہمیں عبدالوہاب نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں خالد نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بنی اسرائیل کی ایک امت گم ہوگئی تھی ، معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور مجھے اس کے سوا اور کوئی بات نظر نہیں آئی کہ وہ لوگ ( یہی ) چوہے ہیں ۔ ( انھوں نے مسخ ہوکریہ شکل اختیار کرلی ہے ) تم دیکھتے نہیں کہ جب ان کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو ( بنی اسرائیل کی طرح ) وہ اس کو نہیں پیتے ۔ اگر ان کے لئے بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتے ہیں ۔ "" حضرت ابو ہریرۃ نے کہا : میں نے یہ حدیث کعب ( احبار ) کو سنائی تو انھوں نے کہا : کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا؟میں نے کہا : انھوں نے باربار یہی کہا تو میں نے کہا : ( نہیں تو ) کیا میں تورات پڑھتا ہوں ( کہ وہاں سے بیان کروں گا؟ ) اسحاق نے اپنی روایت میں کہا : "" ہم نہیں جانتے ان کا کیابنا؟ ""