The Book of Zuhd and Softening of Hearts
كتاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ
Chapter 54
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The rat (is the result of) metamorphosis (of a group of Bani Isra'il) and the proof of this is that when the milk of goat is placed before it, it drinks it, and when the milk of the camel is placed before it, it would not taste it at all. Ka'b said: Did you hear it from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )? Thereupon he said: Has Torah been revealed to me?
مجھ سے ابو کریب محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا, ہشام نے محمد ( بن سیرین ) سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
چوہیا مسخ شدہ ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جائے تو یہ پی لیتی ہے اور اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو یہ اس کو منہ تک نہیں لگاتی ۔ " تو کعب ( احبار ) نے ان سے کہا : آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو کیا مجھ پرتورات نازل ہوئی تھی؟
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The believer does not allow to be stung twice from one (and the same) hole.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا, عقیل نے زہری سے ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے یونس سے خبر دی ہے۔ ہم سے زہیر بن حرب اور محمد بن حاتم نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا۔ میرے بھتیجے نے ہمیں بیان کیا, ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچاسے ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
Suhaib رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Strange are the ways of a believer for there is good in every affair of his and this is not the case with anyone else except in the case of a believer for if he has an occasion to feel delight, he thanks (God), thus there is a good for him in it, and if he gets into trouble and shows resignation (and endures it patiently), there is a good for him in it.
ہم سے حداب بن خالد ازدی اور شیبان بن فروخ نے سلیمان بن مغیرہ کی سند سے بیان کیا۔ لفظ شعبان کا ہے, ہم سے سلیمان نے بیان کیا۔ ہم سے ثابت نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے بیان کیا, حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کا معاملہ عجیب ہے ۔ اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں ۔ اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے ۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو ( اللہ کی رضا کے لیے ) صبر کر تا ہے ، یہ ( ابھی ) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔ "
Abdul-Rahman bin Abu Bakra reported on the authority of his father:
A person praised another person in the presence of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon he said: Woe be to thee, you have broken the neck of your friend, you have broken the neck of your friend-he said this twice. If one of you has to praise his friend at all, he should say: I think (him to be) so and Allah knows it well and I do not know the secret of the heart and Allah knows the destined end, and I cannot testify his purity against Allah but (he appears) to be so and so.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, یزید بن زریع نے خالد حذاء سے ، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی تعریف کی ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پر افسوس ہے!تم نے اپنے ساتھ کی گردن کاٹ دی ، اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی ۔ " کئی بار کہا : ( پھر فرمایا : ) تم میں سے کسی شخص نے لامحالہ اپنے ساتھی کی تعریف کرنی ہوتو اس طرح کہے : میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں ، اصلیت کو جاننے والا اللہ ہے ۔ اورمیں اللہ ( کے علم ) کے مقابلے میں کسی کی خوبی بیان نہیں کررہا ، میں اسے ( ایسا ) سمجھتا ہوں ۔ اگر وہ واقعی اس خوبی کو جانتا ہے ( تو کہے! ) ۔ وہ اس طرح ( کی خوبی رکھتا ) ہے ۔ "
Abdul-Rahman bin Abu Bakra reported on the authority of his father:
A person was mentioned in the presence of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and a person said: Allah's Messenger ﷺ, no person is more excellent than he after Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Woe be to thee, you have broken the neck of your friend, and he said this twice. Then Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If anyone has to praise his brother at all, he should say: I think him to be so and so, and even on this he should say: I do not consider anyone purer than Allah (considers).
مجھ سے محمد بن عمرو بن عباد بن جبلہ بن ابی راواد نے بیان کیا ,محمد بن جعفر غندر نے کہا , ہمیں شعبہ نے خالد حذاء سے ، حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے ، انھوں نے ا پنے والد سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر ہوا تو ایک شخص کہنے لگا؛اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فلاں فلاں بات میں اس ( آدمی ) سے افضل نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " تم پر افسوس!تم نے اپنے ساتھی کی گر دن کاٹ دی ۔ " آپ بار بار یہ کہتے رہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم میں سے کسی نے لا محالہ اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہوتو اس طرح کہے : میں سمجھتا ہوں فلاں ( اس طرح ہے ) اگر وہ واقعی اس کو ایسا سمجھتا ہو ( پھر کہے ) اور میں اللہ ( کے علم ) کے مقابلے میں کسی کی خوبی بیان نہیں کرتا ( جس سے یہ ثابت ہوکہ میں نعوذباللہ ، اللہ کے علم کو جھٹلارہا ہوں ۔ )
A Hadith like that of Yazid bin Zurai was narrated from Shubah with this chain of narrators, but it does not say in their Hadith:
"There is no man after the Messenger of Allah ﷺ who is better than the Messenger of Allah ﷺ.
مجھے عمرو الناقد نے بتایا, ہاشم بن قاسم اور شبابہ بن سوار دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ یزید بن زریع کی حدیث کے مانند بیان کیا ، ان دونوں کی روایتوں میں یہ نہیں کہ
ا س شخص نے کہا " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص اس ( آدمی ) سے افضل نہیں ۔ "
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw a person lauding another person or praising him too much. Thereupon he said: You killed him, or you sliced the back of a person.
مجھ سے ابو جعفر محمد بن الصباح نے بیان کیا: ہم سے اسماعیل بن زکریا نے برید بن عبداللہ کی سند سے اور ابو بردہ کی سند سے بیان کیا, حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا ، وہ کسی آدمی کی تعریف کررہا تھا ، تعریف میں اسے بہت بڑھا چڑھا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں نے اس کو ہلاک کرڈالا یا ( فرمایا : ) تم لوگوں نے اس آدمی کی کمرتوڑ دی ۔ "
Abu Ma'mar reported:
A person lauded a ruler amongst the rulers and Miqdad رضی اللہ عنہ began to throw dust upon him and he said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded us that we should throw dust upon the faces of those who shower too much praise.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن المثنیٰ دونوں نے ابن مہدی کی سند سے بیان کیا ہے اور قول ابن المثنی کا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرحمٰن نے سفیان کی سند سے بیان کیا، حبیب کی سند سے، مجاہد کی سند سے, ابو معمر سے روایت ہے کہ
ایک شخص کھڑاہوا امراء میں سے کسی امیر کی تعریف کرنے لگا توحضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس شخص پر مٹی ڈالنے لگے ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیاتھا کہ ہم مدح سراؤں کے منہ میں مٹی ڈالیں ۔
Hammam bin al-Harith reported:
A person began to praise 'Uthman and Miqdad رضی اللہ عنہ sat upon his knee; and he was a bulky person and began to throw pebbles upon his (flatterer's) face. Thereupon 'Uthman رضی اللہ عنہ said: What is the matter with you? And he said: Verily, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When you see those who shower (undue) praise (upon others), throw dust upon their faces.
شعبہ نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم ( بن یزید نخعی ) سے ، انھوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی کہ ایک شخص حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقدار رضی اللہ عنہ نے اس کا رخ کیا ، اپنے گھٹنوں پر بیٹھے ، وہ بھاری بھرکم ( جسم کے مالک ) تھے اور اس آدمی کے چہرے پر کنکریاں پھینکنے لگے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ کیا کررہے ہیں؟انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " جب تم مدح سراؤں کو دیکھو تو ان کے چہروں میں مٹی ڈالو ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Miqdad رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا, سفیان ثوری نے منصور اور اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ہمام سے ، انھوں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: It was shown in a vision that I was rinsing my mouth with miswak and two persons began to contend with one another for getting that miswak. One was older than the other. I gave the miswak to the younger one amongst them, but it was said to me: (Let it be given) to the older one. So I gave it to the older one.
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا , ہم سے میرے والد نے بیان کیا , صخر یعنی ابن جویریہ نے بیان کیا , نافع سے روایت ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کررہا ہوں ، دو آدمیوں نے مجھے اپنی اپنی جانب کھینچا ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے مسواک چھوٹے کو پکڑا دی تو مجھ سے کہا گیا : بڑے کو دیں ، چنانچہ میں نے وہ بڑے کے حوالے کردی ۔ "
It was reported that Abu Huraira رضی اللہ عنہ used to say:
Listen to me, inmate of the apartment; listen to me, inmate of the apartment, while 'A'isha (رضی اللہ عنہا) had been busy in observing prayer. As she finished prayer, she said to Urwa: Did you hear his words? And this is how Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to utter (so distinctly) that if one intended to count (the words uttered) he would be able to do so.
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا, ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ احادیث بیان کررہے تھے اور آواز لگارہے تھے
اے حجرے کے مالک!سنیے ، اے حجرے کے مالک!سنیے ، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ( اندر ) نماز پڑھ رہی تھیں ۔ انھوں نے جب نماز مکمل کی تو عروہ سے کہا : تم نے ابھی اسے اور اس کی کہی ہوئی بات نہیں سنی؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک وقت میں ) ایک بات ( حدیث ) ارشاد فرماتے تھے ، اگر کوئی گننے والا اسے گنتا تو گن سکتا تھا ۔
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do not take down anything from me, and he who took down anything from me except the Qur'an, he should efface that and narrate from me, for there is no harm in it and he who attributed any falsehood to me-and Hammam said: I think he also said: deliberately -he should in fact find his abode in the Hell-Fire
ہداب بن خالد ازدی نے کہا , ہمیں ہمام نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھ سے ( سنی ہوئی باتیں ) مت لکھو ، جس نے قرآن مجید ( کے ساتھ اس کے علاوہ میری کوئی بات ( حدیث ) لکھی وہ اس کو مٹا دے ، البتہ میری حدیث ( یاد رکھ کرآگے ) بیان کرو ، اس میں کوئی حرج نہیں ، اور جس نے مجھ پر ۔ ہمام نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( زید بن اسلم ) نے کہا : جان بوجھ کر جھوٹ باندھاوہ ا پنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔ "
Suhaib رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) thus said: There lived a king before you and he had a (court) magician. As he (the magician) grew old, he said to the king: I have grown old, send some young boy to me so that I should teach him magic. He (the king) sent to him a young man so that he should train him (in magic). And on his way (to the magician) he (the young man) found a monk sitting there. He (the young man) listened to his (the monk's) talk and was impressed by it. It became his habit that on his way to the magician he met the monk and set there and he came to the magician (late). He (the magician) beat him because of delay. He made a complaint of that to the monk and he said to him: When you feel afraid of the magician, say: Members of my family had detained me. And when you feel afraid of your family you should say: The magician had detained me. It so happened that there came a huge beast (of prey) and it blocked the way of the people, and he (the young boy) said: I will come to know today whether the magician is superior or the monk is superior. He picked up a stone and said: O Allah, if the affair of the monk is dearer to Thee than the affair of the magician, cause death to this animal so that the people should be able to move about freely. He threw that stone towards it and killed it and the people began to move about (on the path freely). He (the young man) then came to that monk and Informed him and the monk said: Sonny, today you are superior to me. Your affair has come to a stage where I find that you would be soon put to a trial, and in case you are put to a trial don't give my clue. That young man began to treat the blind and those suffering from leprosy and he in fact began to cure people from (all kinds) of illness. When a companion of the king who had gone blind heard about him, he came to him with numerous gifts and said: If you cure me all these things collected together here would be yours. Be said: I myself do not cure anyone. It is Allah Who cures and if you affirm faith in Allah, I shall also supplicate Allah to cure you. He affirmed his faith in Allah and Allah cured him and he came to the king and sat by his side as he used to sit before. The king said to him: Who restored your eyesight? He said: My Lord. Thereupon he said: It means that your Lord is One besides me. He said: My Lord and your Lord is Allah, so he (the king) took hold of him and tormented him till he gave a clue of that boy. The young man was thus summoned and the king said to him: O boy, it has been conveyed to me that you have become so much proficient in your magic that you cure the blind and those suffering from leprosy and you do such and such things. Thereupon he said: I do not cure anyone; it is Allah Who cures, and he (the king) took hold of him and began to torment him. So he gave a clue of the monk. The monk was thus summoned and it was said to him: You should turn back from your religion. He, however, refused to do so. He (ordered) for a saw to be brought (and when it was done) he (the king) placed it in the middle of his head and tore it into parts till a part fell down. Then the courtier of the king was brought and it was said to him: Turn back from your religion. Arid he refused to do so, and the saw was placed in the midst of his head and it was torn till a part fell down. Then that young boy was brought and it was said to him: Turn back from your religion. He refused to do so and he was handed over to a group of his courtiers. And he 'said to them: Take him to such and such mountain; make him climb up that mountain and when you reach its top (ask him to renounce his faith) but if he refuses to do so, then throw him (down the mountain). So they took him and made him climb up the mountain and he said: O Allah, save me from them (in any way) Thou likest and the mountain began to quake and they all fell down and that person came walking to the king. The king said to him: What has happened to your companions? He said: Allah has saved me from them. He again handed him to some of his courtiers and said: Take him and carry him in a small boat and when you reach the middle of the ocean (ask him to renounce) his religion, but if he does not renounce his religion throw him (into the water). So they took him and he said: O Allah, save me from them and what they want to do. It was quite soon that the boat turned over and they were drowned and he came walking to the king, and the king said to him: What has happened to your companions? He said: Allah has saved me from them, and he said to the king: You cannot kill me until you do what I ask you to do. And he said: What is that? He said: You should gather people in a plain and hang me by the trunk (of a tree). Then take hold of an arrow from the quiver and say: In the name of Allah, the Lord of the young boy; then shoot an arrow and if you do that then you would be able to kill me. So he (the king) called the people in an open plain and tied him (the boy) to the trunk of a tree, then he took hold of an arrow from his quiver and then placed the arrow in the bow and then said: In the name of Allah, the Lord of the young boy; he then shot an arrow and it bit his temple. He (the boy) placed his hands upon the temple where the arrow had bit him and he died and the people said: We affirm our faith in the Lord of this young man, we affirm our faith in the Lord of this young man, we affirm our faith in the Lord of this young man. The courtiers came to the king and it was said to him: Do you see that Allah has actually done what you aimed at averting. They (the people) have affirmed their faith in the Lord. He (the king) commanded ditches to be dug at important points in the path. When these ditches were dug, and the fire was lit in them it was said (to the people): He who would not turn back from his (boy's) religion would be thrown in the fire or it would be said to them to jump in that. (The people courted death but did not renounce religion) till a woman came with her child and she felt hesitant in jumping into the fire and the child said to her: O mother, endure (this ordeal) for it is the Truth.
ہم سے حداب بن خالد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ہم سے ثابت نے بیان کیا، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے, سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا ۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو بادشاہ سے بولا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، میرے پاس کوئی لڑکا بھیج کہ میں اس کو جادو سکھلاؤں ۔ بادشاہ نے اس کے پاس ایک لڑکا بھیجا ، وہ اس کو جادو سکھلاتا تھا ۔ اس لڑکے کی آمدورفت کی راہ میں ایک راہب تھا ( عیسائی درویش یعنی پادری تارک الدنیا ) ، وہ لڑکا اس کے پاس بیٹھا اور اس کا کلام سنا تو اسے اس کی باتیں اچھی لگیں ۔ اب جادوگر کے پاس جاتا تو راہب کی طرف سے ہو کر نکلتا اور اس کے پاس بیٹھتا ، پھر جب جادوگر کے پاس جاتا تو جادوگر اس کو ( دیر سے آنے کی وجہ سے ) مارتا ۔ آخر لڑکے نے جادوگر کے مارنے کا راہب سے گلہ کیا تو راہب نے کہا کہ جب تو جادوگر سے ڈرے ، تو یہ کہہ دیا کر کہ میرے گھر والوں نے مجھ کو روک رکھا تھا اور جب تو اپنے گھر والوں سے ڈرے ، تو کہہ دیا کر کہ جادوگر نے مجھے روک رکھا تھا ۔ اسی حالت میں وہ لڑکا رہا کہ اچانک ایک بڑے درندے پر گزرا کہ جس نے لوگوں کو آمدورفت سے روک رکھا تھا ۔ لڑکے نے کہا کہ آج میں معلوم کرتا ہوں کہ جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے ۔ اس نے ایک پتھر لیا اور کہا کہ الٰہی اگر راہب کا طریقہ تجھے جادوگر کے طریقے سے زیادہ پسند ہو ، تو اس جانور کو قتل کر تاکہ لوگ گزر جائیں ۔ پھر اس کو پتھر سے مارا تو وہ جانور مر گیا اور لوگ گزرنے لگے ۔ پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اس سے یہ حال کہا تو وہ بولا کہ بیٹا تو مجھ سے بڑھ گیا ہے ، یقیناً تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو عنقریب آزمایا جائے گا ۔ پھر اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا ۔ اس لڑکے کا یہ حال تھا کہ اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا اور ہر قسم کی بیماری کا علاج کرتا تھا ۔ یہ حال جب بادشاہ کے مصاحب جو کہ اندھا ہو گیا تھا سنا تو اس لڑکے کے پاس بہت سے تحفے لایا اور کہنے لگا کہ یہ سب مال تیرا ہے اگر تو مجھے اچھا کر دے ۔ لڑکے نے کہا کہ میں کسی کو اچھا نہیں کرتا ، اچھا کرنا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے ، اگر تو اللہ پر ایمان لائے تو میں اللہ سے دعا کروں گا تو وہ تجھے اچھا کر دے گا ۔ وہ وزیر اللہ پر ایمان لایا تو اللہ نے اس کو اچھا کر دیا ۔ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور اس کے پاس بیٹھا جیسا کہ بیٹھا کرتا تھا ۔ بادشاہ نے کہا کہ تیری آنکھ کس نے روشن کی؟ وزیر بولا کہ میرے مالک نے ۔ بادشاہ نے کہا کہ میرے سوا تیرا مالک کون ہے؟ وزیر نے کہا کہ میرا اور تیرا مالک اللہ ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پکڑا اور عذاب شروع کیا ، یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا نام لے لیا ۔ وہ لڑکا بلایا گیا ۔ بادشاہ نے اس سے کہا کہ اے بیٹا تو جادو میں اس درجہ پر پہنچا کہ اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہے اور بڑے بڑے کام کرتا ہے؟ وہ بولا کہ میں تو کسی کو اچھا نہیں کرتا بلکہ اللہ اچھا کرتا ہے ۔ بادشاہ نے اس کو پکڑا اور مارتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے راہب کا نام بتلایا ۔ راہب پکڑ لیا گیا ۔ اس سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جا ۔ اس کے نہ ماننے پر بادشاہ نے ایک آرہ منگوایا اور راہب کی مانگ پر رکھ کر اس کو چیر ڈالا ، یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو کر گر پڑا ۔ پھر وہ وزیر بلایا گیا ، اس سے کہا گیا کہ تو اپنے دین سے پھر جا ، اس نے بھی نہ مانا اس کی مانگ پر بھی آرہ رکھا گیا اور چیر ڈالا یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو کر گر پڑا ۔ پھر وہ لڑکا بلایا گیا ، اس سے کہا کہ اپنے دین سے پلٹ جا ، اس نے بھی نہ انکار کیا ۔ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو فلاں پہاڑ پر لے جا کر چوٹی پر چڑھاؤ ، جب تم چوٹی پر پہنچو تو اس لڑکے سے پوچھو ، اگر وہ اپنے دین سے پھر جائے تو خیر ، نہیں تو اس کو دھکیل دو ۔ وہ اس کو لے گئے اور پہاڑ پر چڑھایا ۔ لڑکے نے دعا کی کہ الٰہی جس طرح تو چاہے مجھے ان کے شر سے بچا ۔ پہاڑ ہلا اور وہ لوگ گر پڑے ۔ وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا آیا ۔ بادشاہ نے پوچھا کہ تیرے ساتھی کہاں گئے؟ اس نے کہا کہ اللہ نے مجھے ان کے شر سے بچا لیا ۔ پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو ایک کشتی میں دریا کے اندر لے جاؤ ، اگر اپنے دین سے پھر جائے تو خیر ، ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دینا ۔ وہ لوگ اس کو لے گئے ۔ لڑکے نے کہا کہ الٰہی! تو مجھے جس طرح چاہے ان کے شر سے بچا لے ۔ وہ کشتی اوندھی ہو گئی اور لڑکے کے سوا سب ساتھی ڈوب گئے اور لڑکا زندہ بچ کر بادشاہ کے پاس آ گیا ۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے ساتھی کہاں گئے؟ وہ بولا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے شر سے بچا لیا ۔ پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ تو مجھے اس وقت تک نہ مار سکے گا ، جب تک کہ جو طریقہ میں بتلاؤں وہ نہ کرے ۔ بادشاہ نے کہا کہ وہ کیا؟ اس نے کہا کہ تو سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر کے مجھے ایک لکڑی پر سولی دے ، پھر میرے ترکش سے ایک تیر لے کر کمان کے اندر رکھ ، پھر کہہ کہ اس اللہ کے نام سے مارتا ہوں جو اس لڑکے کا مالک ہے ۔ پھر تیر مار ۔ اگر تو ایسا کرے گا تو مجھے قتل کرے گا ۔ بادشاہ نے سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا ، اس لڑکے کو درخت کے تنے پر لٹکایا ، پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور تیر کو کمان کے اندر رکھ کر یہ کہتے ہوئے مارا کہ اللہ کے نام سے مارتا ہوں جو اس لڑکے کا مالک ہے ۔ وہ تیر لڑکے کی کنپٹی پر لگا ۔ اس نے اپنا ہاتھ تیر کے مقام پر رکھا اور مر گیا ۔ لوگوں نے یہ حال دیکھ کر کہا کہ ہم تو اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے ، ہم اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے ، ہم اس لڑکے کے مالک پر ایمان لائے ۔ کسی نے بادشاہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! جس سے تو ڈرتا تھا وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے ۔ بادشاہ نے راستوں کے نالوں پر خندقیں کھودنے کا حکم دیا ۔ پھر خندقیں کھودی گئیں اور ان میں خوب آگ بھڑکائی گئی اور کہا کہ جو شخص اس دین سے ( یعنی لڑکے کے دین سے ) نہ پھرے ، اسے ان خندقوں میں دھکیل دو ، یا اس سے کہا جائے کہ ان خندقوں میں گرے ۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا ، یہاں تک کہ ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا ، اس عورت نےآگ میں گرنے سے تردد کیا تو بچے نے کہا کہ اے ماں! صبر کر تو سچے دین پر ہے.
Ubadah bin Walid bin Samit reported:
I and my father set out in search of knowledge to a tribe of the Ansar before their death (i.e. before the Companions of the Prophet left the world) and I was the first to meet Abu Yasar رضی اللہ عنہ, a Companion of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and there was a young man with him who carried the record of letters with him and there was a mantle prepared by the tribe of Ma'afiri upon him. And his servant too had a Ma'afiri mantle over him. My father said to him: My uncle, I see the signs of anger or that of agony on your face. He said: Yes, such and such person, the son of so and so, of the tribe of Harami owed me a debt. I went to his family, extended salutations and said: Where is he? They said: He is not here. Then came out to me his son who was at the threshold of his youth. I said to him: Where is your father? He said: No sooner did he hear your sound than he hid himself behind my mother's bedstead. I said to him: Walk out to me, for I know where you are. He came out. I said to him: What prompted you to hide yourself from me? He said: By God, whatever I would say to you would not be a lie. By Allah, I fear that I should tell a lie to you and in case of making promise with you I should break it, as you are the Companion of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). The fact is that I was hard up in regard to money. I said: Do you adjure by Allah? He said: I adjure by Allah. I said: Do you adjure by Allah? He said: I adjure by Allah. I said: Do you adjure by Allah? He said: I adjure by Allah. Then he brought his promissory note and he wrote off (the debt) with his hand and said: Make payment when you find yourself solvent enough to pay me back; if you are not, then there is no liability upon you. These two eyes of mine saw, and he (Abu'I-Yasar) placed his fingers upon his eyes and these two ears of mine heard and my heart retained, and he pointed towards his heart that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who gives time to one who is financially hard up (in the payment of debt) or writes off his debt, Allah will provide him His shadow.
ہارون بن معروف اور محمد بن عباد نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ دونوں سے ملتے جلتے ہیں جبکہ سیاق ہارون کا ہے ۔ دونوں نے کہا : ہمیں حاتم بن اسماعیل نے یعقوب بن مجاہد ابو حزرہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا
میں اور میرے والد طلب علم کے لیے انصار کے اس قبیلے کی ہلاکت سے پہلے اس میں گئے ، سب سے پہلے شخصد جن سے ہماری ملاقات ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو یسر رضی اللہ عنہ تھے ، ان کےساتھ ان کایک غلام بھی تھا جس کے پاس صحائف ( دستاویزات ) کا ایک مجموعہ تھا ، حضرت ابو یسر رضی اللہ عنہ کے بدن پر ایک دھاری دار چادر اور معافر کا بنا ہوا ایک کپرا تھا ۔ اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک دھاری دار چادر اور ایک معافری کپڑا تھا ۔ میرے والد نے ان سے کہا : چچا!میں غصے کی بنا پر آپ کے چہرے پر رنگ کی تبدیلی دیکھ رہا ہوں ، انھوں نے کہا : ہاں ، فلاں بن فلاں ، جس کاتعلق بنو حرام سے ہے ، سلام کیا اور میں نے پوچھا : کیا وہ ہے؟گھر والوں نے کہا : نہیں ہے پھر اچانک اس کا ایک کمر عمر لڑکا میرے سامنے گھر سے نکلا ، میں نے اس سے پوچھا : تیر ا باپ کہاں ہے؟اس نے کہا : انھوں نے آپ کی آواز سنی تو وہ میری والدہ کے چھپر کھٹ میں گھس گئے ہیں ۔ میں نےکہا : نکل کرمیری طرف آجاؤ ، مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم کہاں ہو ۔ وہ باہر نکل آیا میں نے پوچھا : اس بات کا باعث کیابنا کہ تم مجھ سے چھپ گئے؟اس نے کہا : اللہ کی قسم!میں آپ کو بتاتا ہوں اور میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا ، اللہ کی قسم!میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں میں آپ سے بات کروں اور جھوٹ بولوں اور میں آپ سے وعدہ کروں اور آپ کے ساتھ اس کی خلاف ورزی کروں ، جبکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں تنگ دست تھا ، انھوں نے کہا کہ میں نے کہا : اللہ کی قسم!اس نے کہا : اللہ کی قسم!میں نے ( دوبارہ ) کہا : اللہ کی قسم!اس نے کہا : اللہ کی قسم!میں نے ( پھر ) کہا : اللہ کی قسم!اس نے کہا : اللہ کی قسم!کہا : پھر انھوں نے اپنا صحیفہ ( جس پر قرض کی تحریر لکھی ہوئی تھی ) نکالا اور اپنے ہاتھ سے اس کومٹا دیا ( پھر مقروض سے ) کہا : اگر تمھیں ادائیگی کے لیے مال مل جائے تو میرا قرض لوٹا دینا اور نہیں تو تم بری الذمہ ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری ان دونوں آنکھوں کی بصارت نے ( دیکھا ) اور ( یہ کہتے ہوئے ) انھوں نے اپنی دو انگلیاں اپنی دو آنکھوں پر رکھیں ، اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے یاد رکھا ۔ اور انھوں نے اپنے دل والی جگہ پر اشارہ کیا ۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہےتھے : " جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض ختم کردیا اللہ تعالیٰ اپنے سائے سے اس پر سایہ کرے گا ۔ "
Ubaidah bin Walid bin 'Ubaidah bin As Samit reported:
I said to him: My uncle, if you get the cloak of your servant and you give him your two clothes, or take his two clothes of Ma'afir and give him your cloak, then there would be one dress for you and one for him. He wiped my head and said: O Allah, bless the son of my brother. O, son of my brother, these two very eyes of mine saw and these two ears of mine listened to and this heart of mine retained this, and he pointed towards the heart that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Feed them (the servants) and clothe them (the servants) what you wear, and if I give him the goods of the world, it is easy for me than this that he should take my virtues on the Day of Resurrection.
( عبادہ بن ولید نے ) کہا
میں نے ان سے کہا : چچاجان!اگر آپ اپنے غلام کی دھاری دار چادر لے لیتے اور اسے اپنا معافری کپڑا دے دیتے یا اس سے اس کا معافری کپڑا لے لیتے اور اسے اپنی دھاری دار چادر دے دیتے تو آپ کے جسم پر ایک جوڑا ہوتا اور اس کے جسم پر بھی ایک جوڑا ہوتا ۔ انھوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا : اے اللہ! اس کو برکت عطا فرما ۔ بھتیجے!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری آنکھوں کی بصارت ( نے دیکھا ) اور میرے دو کانوں نے سنا اور ۔ دل کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا میرے دل نے اسے یاد رکھا ، جبکہ آپ فرمارہے تھے ۔ " ان ( غلاموں ) کو اسی میں سے کھلاؤ جو تم کھاتے ہواور اسی میں سے پہناؤ جو تم پہنتے ہو ۔ " اگرمیں نے اسے دنیا کی نعمتوں میں سے ( اس کا حصہ ) دے دیاہے تو یہ میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ وہ قیامت کے روز میری نیکیاں لے جاتا ۔
We went on till we came to Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ in the mosque and he was busy in observing prayer in one cloth which he had joined at its opposite ends. I made my way through the people till I sat between him and the Qibla and I said: May Allah have mercy upon you. Do you observe prayer with one cloth on your body whereas your mantle is lying at your side? He pointed me with his hand towards my breast just like this and he separated his fingers and bent them in the shape of a bow. And (he said): I thought that a fool like you should come to me so that he should see me as I do and he should then also do like it. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to us in this very mosque and he had in his hand the twig of the palm-tree and he saw mucus towards the Qibla of the mosque and he erased it with the help of the twig. He then came to us and said: Who amongst you likes that Allah should turn His face away from him? We were afraid. He then again said: Who amongst you likes that Allah should turn His face away from him? We were afraid. He again said: Who amongst you likes that Allah should turn His face away from him? We said: Allah's Messenger, none of us likes it. And he said: If one amongst you stands for prayer, Allah, the Exalted and Glorious, is before him he should not spit in front of him, or on his right side, but should spit on his left side beneath his left foot and if he is impelled to do so all of a sudden (in spite of himself) he should then spit in his cloth and fold it in some part of it. (and he further said: ) Bring some sweet-smelling thing. A young man who belonged to our tribe stood up, went and brought scent in his palm. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) took that and applied it to the end of that twig and then touched the place where there had been mucus. Jabir said: This is why you should apply scent to your mosques.
پھر ہم ( آگے ) روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی مسجد میں حاضر ہوئے وہ ایک کپڑے میں اسے دونوں پلوؤں کو مخالف سمتوں میں کندھوں کے اوپر سے گزار کر باندھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا گیا یہاں تک کہ ان کے اور قبلے کے درمیان جاکر بیٹھ گیا ۔ ( جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ) میں نے ان سے کہا : آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کی چادر آپ کے پہلو میں پڑی ہوئی ہے؟ انھوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے میرے سینے میں مارا انھوں ( عبادہ ) نے اپنی انگلیاں الگ کیں اور انھیں کمان کی طرح موڑا ( اور کہنے لگے ) میں ( یہی ) چاہتا تھا کہ تم جیسا کوئی نا سمجھ میرے پاس آئے اور دیکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں ، پھر وہ ( بھی ) اس طرح کر لیا کرے ۔ ( پھر کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے آپ کے دست مبارک میں ابن طاب ( کی کھجور ) کی ایک شاخ تھی آپ نے مسجد کے قبلے کی طرف ( والی دیوارپر ) جماہوا بلغم لگا دیکھا ۔ آپ نے کھجور کی شاخ سے اس کو کھرچ کر صاف کیا پھر ہماری طرف رخ کر کے فرمایا : ’’تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے ( اس کی طرف نظر تک نہ کرے؟کہا : تو ہم سب ڈر گئے ۔ آپ نے پھر فرمایا : ’’تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے ؟ "" کہا : ہم پر خوف طاری ہوگیا آپ نے پھر سے فرمایا : "" تم میں سے کسے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے؟ "" ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سے کسی کو بھی ( یہ بات پسند ) نہیں آپ نے فرمایا : "" تم میں سے کوئی شخص جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے لہٰذا اسے سامنے کی طرف ہر گز تھوکنا نہیں چاہیے ۔ نہ دائیں طرف ہی تھوکنا چاہیے اپنی بائیں طرف بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے ۔ اگر جلدی نکلنے والی ہو تو اپنے کپڑے کے ساتھ اس طرح ( صاف ) کرے ۔ "" پھرآپ نے کپڑے کے ایک حصے کی دوسرےحصے پر تہ لگائی پھر فرمایا : "" مجھے خوشبو لاکردو ۔ "" قبیلےکا ایک نوجوان اٹھ کر اپنے گھر والوں کی طرف بھاگا اور اپنی ہتھیلی میں خوشبو لے گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ( خوشبو ) لی اسے چھڑی کے سرے پرلگایا اور جس جگہ سوکھا بلغم لگا ہواتھا اس پرمل دی ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہاں سے تم نے اپنی مسجدوں میں خوشبو لگانی شروع کی ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
We set out along with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on an expedition of Batn Buwat. He (the Holy Prophet) was in search of al-Majdi bin 'Amr al-Juhani. (We had so meagre equipment) that five. six or seven of us had one camel to ride and so we mounted it turn by turn. Once there wan. the turn of an Ansari to ride upon the camel. He made it kneel down to ride over it (and after having. mounted it), he tried to raise it up but it hesitated. So he said. May there be curse of Allah upon you! Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Who is there to curse his camel? He said: Allah's Messenger, it' is I. Thereupon he said: Get down from the camel and let us not have in our company the cursed one. Don't curse your own selves, nor your children. nor your belongings. There is the possibility that your curse may synchronies with the time when Allah is about to confer upon you what you demand and thus your prayer may be readily responded.
( جابر رضی اللہ عنہ نے کہا )
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بواط کی جنگ میں تھے ۔ آپ ( قبیلہ جحینہ کے سردار ) مجدی بن عمروجہنی کو ڈھونڈ رہے تھے پانی ڈھونے والے ایک اونٹ پر ہم پانچ چھ اور سات آدمی باری باری بیٹھتےتھے ۔ انصار میں سے ایک آدمی کی اپنے اونٹ پر ( بیٹھنے کی ) باری آئی تو اس نے اونٹ کو بٹھایا اور اس پرسوار ہوگیا ۔ پھر اس کو اٹھا یا تو اس ( اونٹ ) نے اس ( کے حکم ) پر اٹھنے میں کسی حد تک دیر کی تو اس نے کہا : کھڑا ہو ، تم پر اللہ لعنت کرے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا کون ہے؟اس نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں ۔ آپ نے فرمایا : " اس سے اتر جاؤ جس پر لعنت کی گئی ہو وہ ہمارے ساتھ نہ چلے اپنے آپ کو بددعا نہ دو نہ اپنی اولاد کو بددعا دو نہ اپنے مال مویشی کو بددعا دو اللہ کی طرف سے ( مقرر کردہ قبولیت کی ) گھڑی کی موافقت نہ کرو جس میں ( جو ) کچھ مانگا جاتا ہے وہ تمھیں عطا کردیا جاتا ہے ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
We set out on an expedition along with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) until it was evening, and we had been near a. water reservoir of Arabia. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Who would be the person who would go ahead and set right the reservoir and drink water himself and serve us with it? Jabir said: I stood up and said: Allah's Messenger, it is I who am ready to do that. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Who is the person to accompany Jabir? And then Jabbar bin Sakhr رضی اللہ عنہ stood up. So we went to that well and poured in that tank a bucket or two of water and plastered it with clay and then began to fill it (with water) until it was filled to the brim. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was the first who appeared before us, and he said: Do you (both) permit me to drink water out of it? We said: Yea, Allah's Messenger. He led his camel to drink water and it drank. He then pulled its rein and it stretched its legs and began to urinate. He then took it aside and made it kneel down at another place and then came to the tank and performed ablution. I then got up and performed ablution like the ablution of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and Jabbar b. Sakhr went in order to relieve himself and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got up to observe prayer and there was a mantle over me. I tried to invert its ends but it was too short (to cover my body easily). It had its borders. I then inverted it (the mantle) and drew its opposite ends and then tied them at my neck. I then came and stood upon the left side of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He caught hold of me and made me go round behind him, until he made me stand on his right side. Then Jabbar bin Sakhr رضی اللہ عنہ came. He performed ablution and then came and stood on the left side of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Then Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) caught hold of our hands together, pushed us back and made us stand behind him. Then Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) began to look upon me with darting looks, but I did not perceive that. After that I became aware of it and he pointed with the gesture of his hand that I should wrap my loin-cloth. When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had finished the prayer, he said: Jabir! I said: Allah's Messenger, at thy beck and call. He said: When the cloth around you is inadequate, then tie the opposite ends but when it is small, tie it over the lower body.
( جابر رضی اللہ عنہ نے کہا )
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب کسی حد تک شام ہوگئی اور ہم عرب کے پانیوں میں سے کسی پانی کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کون شخص ہے جو ہم سے پہلے جاکر حوض ( کےکنارے کو مضبوط کرنے کے لیے اس ) کی لپائی کرے گا اور خود بھی پانی پیے گا اور ہمیں بھی پلائے گا؟ " حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں کھڑا ہو گیا اور عرض کی ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ہے وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کون شخص جابر کے ساتھ جائے گا ۔ ؟تو حضرت جبار بن صخر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے ہم کنویں کے پاس گئے اور ہم نے ( کنویں سے نکال کر ) وضو کیا پھر میں کھڑا ہوارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کرنے کی جگہ سے ( پانی لے کر ) وضو کیا ۔ جباربن صخر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لیے چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور میرے جسم پر ایک چادرتھی ۔ میں ( ایک طرف ) گیا کہ اس ( چادر ) کے دونوں کناروں کومخالف سمتوں میں ( کندھوں پر ) ڈالوں تو وہ مجھے پوری نہ آئی ۔ اس کی جھاگریں تھیں میں نے اس ( چادر ) کو الٹ کر اس کے کنارے بدلے پھر اس پر اپنی گردن سے زور ڈالا ( گردن جھکا کر اسے اس کے نیچے دبایا ) پھر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا ۔ آپ نے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے گھمایا یہاں تک کہ مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا پھر جبار صخر رضی اللہ عنہ آئے انھوں نے وضو کیا اور آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ہمیں دھکیل کر اپنے پیچھے کھڑا کردیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تسلسل سے میری طرف دیکھ رہے تھے اور مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا پھر مجھے سمجھ آئی تو آپ نے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا : " آپ کا مقصد تھا کہ اپنی کمر باندھ لو ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز سے ) فارغ ہوئے تو فرمایا : " اے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! " میں نے عرض کی حاضر ہوں اللہ کے رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب کپڑا کھلا ہو تو اس کے کناروں کو مخالفت سمتوں میں میں لےجاؤ اور اگر تنگ ہو تو اس کو کمرکے اوپر باندھ لو ۔ "