The Book Of the Merit Of The Holy Quran
کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ
Chapter 7
Amir bin Wathila reported:
Nafi' bin 'Abdul-Harith met 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ at 'Usfan and 'Umar had employed him as collector in Mecca. He (Hadrat 'Umar) said to him (Nafi'): Whom have you appointed as collector over the people of the valley? He said: Ibn Abza. He said: Who is Ibn Abza? He said: He is one of our freed slaves. He (Hadrat 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) said: So you have appointed a freed slave over them. He said: He is well versed In the Book of Allah. the Exalted and Great, and he is well versed In the commandments and injunctions (of the Shari'ah). 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: So the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: By this Book, Allah would exalt some peoples and degrade others.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، یعقوب بن, ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب ( زہری ) سے اور انھوں نے عامر بن واثلہ سے روایت کی کہ
نافع بن عبدالحارث ( مدینہ اور مکہ کے راستے پر ایک منزل ) عسفان آکر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے ، ( وہ استقبال کے لئے آئے ) اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں مکہ کا عامل بنایا کرتے تھے ، انھوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اہل وادی ، یعنی مکہ کے لوگوں پر ( بطور نائب ) کسے مقرر کیا؟نافع نے جواب دیا : ابن ابزیٰ کو ۔ انھوں نے پوچھا ابن ابزیٰ کون ہے؟کہنے لگے : ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : تم نے ان پر ایک آزاد کردہ غلام کو اپنا جانشن بنا ڈالا؟تو ( نافع نے ) جواب دیا : و ہ اللہ عزوجل کی کتاب کو پڑھنے والا ہے اور فرائض کا عالم ہے ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( ہاں واقعی ) تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب ( قرآن ) کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اونچا کردیتا ہے اور بہتوں کو اس کے ذریعے سے نیچا گراتا ہے ۔ "
Amr bin Wathila Al Laith narrated that Nafi bin Abdul Harith Al Khuzai met Umar bin Al Khattab رضی اللہ تعالیٰ عنہ in Usfan.." a hadith similar to that of Ibrahim bin Sad from Az-Zuhri (no. 1897).
اور مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن الدارمی اور ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو الایمان نے بیان کیا, شعیب نے زہری سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عامر بن واثلہ لیثی نے حدیث بیان کی کہ نافع بن عبدالحارث خزاعی نے عسفان ( کے مقام ) پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) زہری سے ابراہیم بن سعد کی روایت کی طرح بیان کیا ۔
Umar bin Khattab رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
I heard Hisham bin Hakim bin Hizam reciting Surah al-Furqan in a style different from that in which I used to recite it, and in which Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had taught me to recite it. I was about to dispute with him (on this style) but I delayed till he had finished that (the recitation). Then I caught hold of his cloak and brought him to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Messenger of Allah, I heard this man reciting Surah al-Furqan in a style different from the one in which you taught me to recite. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) told (me) to leave him alone and asked him to recite. He then recited in the style in which I beard him recite it. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then said: Thus was it sent down. He then told me to recite and I recited it, and he said: Thus was it sent down. The Qur'an was sent down in seven dialects. So recite what seems easy therefrom.
مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے عبدالرحمان بن عبدالقاری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان اس سے مختلف ( صورت میں ) پڑھتے سنا جس طرح میں پڑھتا تھا ۔ ، حالانکہ مجھے ( خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی تھی ، قریب تھا کہ میں اس سے جھگڑا کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا لیکن میں نے اس کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہوگیا ، پھر میں نے اسے گلے کی چادر سے اسے باندھا اور کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے اس کو اس طرح سورہ فرقان پڑھتے ہوئےسنا ہے جو اس سے مختلف ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ سورت پڑھائی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اسے چھوڑ دو ( اور اسے مخاطت ہوکر فرمایا : ) پڑھو ۔ " تو اس نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے ۔ " پھر مجھ سے کہا : " تم پڑھو ۔ " میں نے پڑھا تو ( اس پر بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ سورت اسی طرح اتری تھی ۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ۔ پس ان میں سے جو تمھارے لئے آسان ہواسی کے مطابق پڑھو ۔ "
This hadith has been transmitted thus by 'Umar bin Khattab رضی اللہ تعالیٰ عنہ (with a slight change of words):
I heard Hisham bin Hakim reciting Surah al-Furqan during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). The rest is the same but with this addition: I was about to catch hold of him in prayer, but I exercised patience till he pronounced salutation.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مسود بن مخرمہ اور عبدالرحمان بن عبدالقاری نے بتایا کہ ان دونوں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہشام بن حکیم کو سورہ فرقان پڑھتے سنا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند حدیث سنائی اور یہ اضافہ کیا کہ قریب تھا کہ میں اس پر نماز پر ہی پل پڑوں ، میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا یہاں تک کہ اس نے سلام پھیرا ۔
A report Similar to that of Yunus (no. 1900) was narrated from Az-Zuhri with the same chain.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے زہری سے یونس کی روایت کی طرح اسی کی سند کے ساتھ روایت کی ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Gabriel taught me to recite in one style. I replied to him and kept asking him to give more (styles), till he reached seven modes (of recitation). Ibn Shibab said: It has reached me that these seven styles are essentially one, not differing about what is permitted and what is forbidden.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جبرئیل علیہ السلام نے مجھے ایک حرف پر ( قرآن ) پڑھایا ، میں نے ان سے مراجعت کی ، پھر میں زیادہ کا تقاضا کرتا رہا اور وہ میرے لئے حروف میں اضافہ کرتے گئے یہاں تک کہ سات حرفوں تک پہنچ گئے ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے خبر پہنچی کہ پڑھنے کی یہ سات صورتیں ( سات حروف ) ایسے معاملے میں ہوتیں جو ( حقیقتاً اور معناً ) ایک ہی رہتا ، ( ان کی وجہ سے ) حلال وحرام کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہ ہوتا ۔
This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا ہمیں معمر نے اس سلسلہ کی سند سے خبر دی۔
Ubayy bin Ka'b رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
I was in the mosque when a man entered and prayed and recited (the Qur'in) in a style to which I objected. Then another man entered (the mosque) and recited in a style different from that of his companion. When we had finished the prayer, we all went to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said to him: This man recited in a style to which I objected, and the other entered and recited in a style different from that of his companion. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) asked them to recite and so they recited, and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) expressed approval of their affairs (their modes of recitation). and there occurred In my mind a sort of denial which did not occur even during the Days of Ignorance. When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw how I was affected (by a wrong idea), he struck my chest, whereupon I broke into sweating and felt as though I were looking at Allah with fear. He (the Holy Prophet) said to me: Ubayy. a message was sent to me to recite the Qur'an in one dialect, and I replied: Make (things) easy for my people. It was conveyed to me for the second time that it should be recited in two dialects. I again replied to him: Make affairs easy for my people. It was again conveyed to me for the third time to recite in seven dialects And (I was further told): You have got a seeking for every reply that I sent you, which you should seek from Me. I said: O Allah! forgive my people, forgive my people, and I have deferred the third one for the day on which the entire creation will turn to me, including even Ibrahim (peace be upon him) (for intercession).
عبداللہ بن نمیر نے کہا : اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمان بن ابی یعلیٰ سے ، انھوں نے اپنے دادا ( عبدالرحمان ) سے اور انھوں نے حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا ، نماز پڑھنے لگا اور اس نے جس طرح قراءت کی اس کو میں نے اس کے سامنے ناقابل مقبول قرار دے دیا ۔ پھر ایک اور آدمی آیا ، پھر ایک اور آدمی آیا ، اس نے ایسی قراءت کی جو اس کے ساتھی ( پہلے آدمی ) کی قراءت سے مختلف تھی ، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں نے عرض کی کہ اس شخص نے ایسی قراءت کی جو میں نے اس کے سامنے رد کردی اور دوسرا آیا تو اس نے اپنے ساتھی سے بھی الگ قراءت کی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا ، ان دونوں نے قراءت کی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے انداز کی تحسین فرمائی تو میرے دل میں آپ کی تکذیب ( جھٹلانے ) کا داعیہ اس زور سے ڈالا گیا جتنا اس وقت بھی نہ تھا جب میں جاہلیت میں تھا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر طاری ہونے والی اس کیفیت کو دیکھا تو میرے سینے میں مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہوگیا ، جیسے میں ڈر کے عالم میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں ، آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے پاس حکم بھیجا گیا کہ میں قرآن ایک حرف ( قراءت کی ایک صورت ) پر پڑھوں ۔ تو میں نے جواباً درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیں ۔ تو میرے پاس دوبارہ جواب بھیجا کہ میں اسے دو حرفوں پر پڑھوں ۔ میں نے پھر عرض کی کہ میری امت کے لئے آسانی فرمائیں ۔ تو میرئے پاس تیسری بار جواب بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھیے ، نیز آپ کے لئے ہر جواب کے بدلے جو میں نے دیا ایک دعا ہے جو آپ مجھ سے مانگیں ۔ میں نے عرض کی : اے میرے اللہ!میری امت کو بخش دے ۔ اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے موخر کرلی ہے جس دن تمام مخلوق حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرف راغب ہوں گے ۔ "
Ubayy bin Ka'b رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
He was sitting in a mosque that a person entered it and he observed prayer, and made recitation, the rest of the hadith is the same.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, محمد بن بشر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ
میں اس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھی ، اس نے اس طرح قراءت کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) عبداللہ بن نمیر کی طرح حدیث بیان کی ۔
Ubayy bin Ka'b رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was near the tank of Banu Ghifar that Gabriel came to him and said: Allah has commanded you to recite to your people the Qur'an in one dialect. Upon this he said: I ask from Allah pardon and forgiveness. My people are not capable of doing it. He then came for the second time and said: Allah has commanded you that you should recite the Qur'an to your people in two dialects. Upon this he (the Holy prophet) again said: I seek pardon and forgiveness from Allah, my people would not be able to do so. He (Gabriel) came for the third time and said: Allah has commanded you to recite the Qur'an to your people in three dialects. Upon this he said: I ask pardon and forgiveness from Allah. My people would not be able to do it. He then came to him for the fourth time and said: Allah has commanded you to recite the Qur'an to your people in seven dialects, and in whichever dialect they would recite, they would be right.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے غندر نے بیان کیا، اور ہم سے ابن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا,محمد بن جعفر غندر نے شعبہ سے روایت کی ، انھوں نے حکم سے ، انھوں نے مجاہد سے ، انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو غفار کے اضاۃ ( بارانی تالاب ) کے پاس تشریف فرما تھے ۔ کہا : آپ کے پاس جبرئیل ؑ آئے اور کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف ( قراءت کی صورت ) پر قرآن پڑھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو ( درگزر ) اور اس کی مغفرت چاہتاہوں میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ " پھر وہ جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں پرقرآن پڑھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : " میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں ، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ پھر وہ جبرئیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پرقرآن پڑھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : " میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں ، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔ پھر وہ جبرئیل علیہ السلام چوتھی مرتبہ آپ کے پاس آئے ۔ اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پرقرآن پڑھے ۔ وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے ٹھیک پڑھیں گے ۔
This hadith has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے اسی طرح روایت کی۔
Abu Wa'il reported:
A person named Nabik bin Sinan came to Abdullah (bin Mas'ud رضی اللہ تعالیٰ عنہ) and said: Abu 'Abdul-Rahman, how do you recite this word (alif) or (ya)? Would you read It as: min ma'in ghaira asin or au min ma'in ghaira ghaira yasin. (al-Qur'an, xlvii. 15)? 'Abdullah said: You (seem to) have memorised the whole of the Qur'an except this. He (again) said: I recite all the mufassal surahs in one rak'ah. Upon this 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: (You must have been reciting It) hastily like the recitation of poetry. Verily. there are people who recite the Qur'an, but it does not go down beyond their collar bones. It is (a fact with the Qur'an) that it is beneficial only when it settles in the heart and is rooted deeply in it. The best of (the acts) in prayer are bowing and prostration. I am quite aware of the occasions when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) combined together two surahs in every rak'ah. 'Abdullah then stood up and went out with 'Alqama following in his footstep. He said Ibn Numair had told him that the narration was like that: A person belonging to Banu Bajila came to 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ , and he did not mention (the name of) Nahik bin Sinan.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے وکیع سے ، انھوں نے اعمش سے اور انھوں نے ابو وائل سے روایت کی ، انھوں نے کہا
ا یک آدمی جو نہیک بن سنان کہلاتا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا : ابو عبدالرحمان! آپ اس کلمے کو کیسےپڑھتے ہیں؟آپ اسے الف کے ساتھ مِّن مَّاءٍ غَيْرِآسِنٍ سمجھتے ہیں ۔ یا پھر یاء کے ساتھ ص مِّن مَّاءٍ غَيْرِياسِنٍ ؟تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا : تم نے اس لفظ کے سواتمام قرآن مجید یادکرلیاہے؟اس نے کہا : میں ( تمام ) مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھتاہوں ۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : شعر کی سی تیز رفتاری کےساتھ پڑھتے ہو؟کچھ لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترتا ، لیکن جب وہ دل میں پہنچتا اور اس میں راسخ ہوتاہے تو نفع دیتا ہے ۔ نماز میں افضل رکوع اور سجدے ہیں اور میں ان ایک جیسی سورتوں کو جانتا ہوں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملایا کر تے تھے ، دو دو ( ملا کر ) ایک رکعت میں پڑھتے تھے ، پھر عبداللہ اٹھ کرچلے گئے ، اس پر علقمہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے ، پھر واپس آئے اور کہا : مجھے انھوں نے وہ سورتیں بتادی ہیں ۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں کہا : بنو بجیلہ کا ایک شخص حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) کے پاس آیا ، انھوں نے "" نہیک بن سنان "" نہیں کہا ۔
Abu Wa'il reported:
A person came to 'Abdullah, who was called Nahik bin Sinan, and the rest of the hadith is the same but for this: Alqama came to him ('Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ تعالیٰ عنہ) and we said to him: Ask him about the manners in which he combined (two surahs) in one rak'ah. So he went to him and asked him and then came to us and said: Twenty are the mufassal surahs in the compilation (of the Qur'an) made by 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ .
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا, ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو وائل سے روایت کی ، انھوں نے کہا
حضرت عبداللہ کے پاس ایک آدمی آیا جسے نہیک بن سنان کہا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) وکیع کی روایت کے مانند ہے ، مگر انھوں نے کہا : علقمہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ( گھر کے اندر ) حاضری دینے آئے تو ہم نے ان سے کہا : حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان باہم ملتی جلتی سورتوں کے بارے میں پوچھیں جو ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں پڑھتے تھے ۔ وہ ان کے پاس اندر چلے گئے اور ان سورتوں کے بارے میں ان سے پوچھا ، پھر ہمارے پاس تشریف لائے اوربتایا ، وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کے مصحف ) کی ترتیب کے مطابق مفصل بیس سورتیں ہیں ( جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) دس رکعتوں میں ( پڑھتے تھے ۔ )
This hadith has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters in which ('Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: I know the manners in which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) recited the two surahs in one rak'ah and then twenty surahs in ten rak'ahs.
اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, عیسیٰ بن یونس نے کہا : اعمش نے ہم سے اپنی اسی سند کے ساتھ ان دونوں ( وکیع اور ابو معاویہ ) کی حدیث کی طرح بیان کی ۔ اس میں ہے انھوں ( عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا
میں ان ایک جیسی سورتوں کو جانتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو ملا کر ایک رکعت میں پڑھتے تھے ، بیس سورتیں دس رکعتوں میں ۔
Abu Wa'il reported:
One day we went to 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ تعالیٰ عنہ after we had observed the dawn prayer and we paid salutation at the door. He permitted us to enter, but we stayed for a while at the door, when the slave-girl came out and said: Why don't you come in? So we went in and (we found 'Abdullah bin Mas'ud) sitting and glorifying Allah (i. e. he was busy in dhikr) and he said: What obstructed you from coming in though you had been granted permission for it? We said: There was nothing (behind it) but we entertained the idea that some inmate of the house might be sleeping. He said: Do you presume any idleness on the part of the family of Ibn Umm 'Abd (the mother of Abdullah bin Mas'ud)? He was again busy with the glorification of Allah till he thought that the sun had risen. He said: Girl, see whether (the sun) has arisen. She glanced but it had not risen (by that time). He was again busy with the glorification (of Allah) and he (again) thought that the sun had arisen. She glanced (and confirmed) that, it had risen. Upon this he ('Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: Praise be to Allah Who did not call us to account for our sins today. Mahdi said: I think that he said, He did not destroy us for our sins. One among the people said: I recited all the mufassal surahs during the night. 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: (You must have recited them) like the (recitation) of poetry. I heard (the Holy Prophet) combining (the sarahs) and I remember the combinations which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) made In the recitation (of surahs). These were constituted of eighteen mufassal surahs and two surahs (commencing with) Ha-Mim.
ہم سے شیبان بن فرخ نے بیان کیا, مہدی بن میمون نے کہا : واصل حدب نے ہمیں ابو وائل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
ایک دن ہم صبح کی نماز پڑھنے کے بعدحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے دروازے سے ( انھیں ) سلام عرض کیا ، انھوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی ، ہم کچھ دیر دروازے پر رکے رہے ، اتنے میں ایک بچی نکلی اور کہنے لگی : کیا آپ لوگ اندر نہیں آئیں گے؟ ہم اندر چلے گئے اور وہ بیٹھے تسبیحات پڑھ رہے تھے ، انھوں نے پوچھا : جب آپ لوگوں کو اجازت دے دی گئی تو پھر آنے میں کیارکاوٹ تھی؟ہم نے عرض کی : نہیں ( رکاوٹ نہیں تھی ) ، البتہ ہم نے سوچا ( کہ شاید ) گھر کے بعض افراد سوئے ہوئے ہوں ۔ انھوں نے فرمایا : تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے متعلق غفلت کا گمان کیا؟ پھر دوبارہ تسبحات میں مشغول ہوگئے حتیٰ کہ انھوں نے محسوس کیا کہ سورج نکل آیا ہوگا تو فرمایا : اے بچی!دیکھو تو! کیا سورج نکل آیا ہے؟اس نے دیکھا ، ابھی سورج نہیں نکلا تھا ، وہ پھر تسبیح کی طرف متوجہ ہوگئے حتیٰ کہ پھر جب انھوں نے محسوس کیا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے تو کہا اے لڑکی!دیکھو کیاسورج طلوع ہوگیا ہے اس نے د یکھا تو سورج طلوع ہوچکا تھا ، انھوں نے فرمایا : اللہ کی حمد جس نے ہمیں یہ دن لوٹا دیا ۔ مہدی نے کہا : میرے خیال میں انھوں نے یہ بھی کہا ۔ ۔ ۔ اور ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں ہلاک نہیں کیا ۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے کل رات تمام مفصل سورتوں کی تلاوت کی ، اس پر عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تیزی سے ، جس طرح شعر تیز پڑھے جاتے ہیں؟ہم نے باہم ملا کر پڑھی جانے والی سورتوں کی سماعت کی ہے ۔ اور مجھے وہ دو دو سورتیں یاد ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھےمفصل میں سے اٹھارہ سورتیں اور دوسورتیں حمٰ والی ۔
Shaqiq reported:
A person from Banu Bajila who was called Nabik bin Sinan came to Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ and said: I recite mufassal surahs in one rak'ah. Upon this 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: (You recite) like the recitation of poetry. I know the manner in which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) recited two surahs in one rak'ah.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، ہم سے حسین بن علی الجعفی نے بیان کیا، ان سے زیادہ کی سند سے, منصور نے ( ابووائل ) شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا
بنو بجیلہ میں سے ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتاتھا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں ( تمام ) مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھتا ہوں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تیزی سے جیسے شعر تیزی سے پڑھے جاتے ہیں؟مجھے وہ باہم ملتی جلتی سورتیں معلوم ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں دو دو کرکے پڑھتے تھے ۔
Abu Wa'il reported:
A person came to 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ تعالیٰ عنہ and said: I recited all the mufassal surahs in one rak'ah during the night. 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: You must have recited hastily like the recitation of poetry. 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: I remember well the manner in which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to combine them, and he then mentioned twenty of the mufassal surahs, and (their combinations in) two in every rak'ah.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, عمرو بن مرہ سے روایت ہے ۔ انھوں نے ابو وائل سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ
ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا : میں نے آج رات ( تمام ) مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھی ہیں تو عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : اس تیز رفتاری سے جس طرح شعر پڑھے جاتے ہیں؟ ( پھر ) عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : میں وہ نظائر ( ایک جیسی سورتیں ) پہچا نتا ہوں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے انھوں نے مفصل سورتوں میں سے بیس سورتیں بتا ئیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دوملا کر ایک رکعت میں پڑھتے تھے ۔ ( ان سورتوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سنن ابی داؤد شھر رمضان باب تخریب القرآن 1396 )
Abu Ishaq reported:
I saw a man asking Aswad bin Yazid who taught the Qur'an in the mosque: How do you recite the verse (fahal min muddakir) whether (the word muddakir) Is with (d) or (dh)? He (Aswad) said: It was with (d). I heard Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ تعالیٰ عنہ saying that he had heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) reciting (muddakir) with (d).
ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا, زہیر نے کہا : ہم سے ابو اسحاق نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
میں نے ایک آدمی کو دیکھا اس نے اسود بن یزید ( سبیعی کوفی ) سے جبکہ وہ مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے ۔ سوال کیا : تم اس ( آیت ) کو کیسے پڑھتے ہو ؟دال پڑھتے یا ذال ؟ انھوں نے جواب دیا : دال پڑھتا ہوں ۔ میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ بتا رہے تھے ۔ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ دال کے ساتھ پڑھتے سنا ۔
Ishaq is reported to have said on the authority of Aswad who quoted on the authority of 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to recite these words as (fahal min muddakir).
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے ابو اسحاق سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت کی کہ
آ پ صلی اللہ علیہ وسلم اس کلمے مُّدَّكِرٍ پڑھتے تھے ( یعنی دال کے ساتھ ).
Alqama reported:
We went to Syria and Abu Darda' رضی اللہ تعالیٰ عنہ came to us and said: Is there anyone among you who recites according to the recitation of Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ? I said: Yes, it is I. He again said: How did you hear 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reciting this verse: (wa'l-lail-i-idha yaghsha = when the night covers)? He ('Alqama) said: I heard him reciting it (like this) (wa'l-lail-i-idha yaghsha) wa-dhakar wal untha = when the night covers and the males and the females). Upon this he said: By Allah, I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) reciting in this way, but they (the Muslims of Syria) desire us to recite: (wa ma khalaqa), but I do not yield to their desire.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا, اعمش نے ابرا ہیم سے اور انھوں نے علقمہ ( بن قیس کوفی ) سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم شام آئے تو ہمارے پاس حضرت ابو دارداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لا ئے اور انھوں نے پو چھا : کیا تم میں سے کو ئی ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھتا ہو ؟میں نے عرض کی : جی ہاں میں ( پڑھتا ہوں ) انھوں نے پو چھا : تم نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ آیت وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ کسی طرح پڑھتے سناہے ۔ ( میں نے ) کہا : میں نے انھیںوَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ و الذَّكَرَوَالْأُنثَىٰ پڑھتے سنا ۔ انھوں نے کہا : اور میں نے بھی اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی پڑھتے سنا لیکن یہ لو گ چا ہتے ہیں کہ میں وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَوَالْأُنثَىٰ پڑھوں میں ان کے پیچھے نہیں چلوں گا ۔ ( ابن مسعود اور ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ غالباًقراءت کی اس دوسری صورت سے آگاہ نہ ہو سکے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے سکھا ئی تھی ۔ )