Back to Sahih Muslim

The Book Of the Merit Of The Holy Quran

کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ

Chapter 7

Hadith 1917
Sahih
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ قَالَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ثُمَّ قَالَ أَتَحْفَظُ كَمَا كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
English

Ibrahim reported:

'Alqama came to Syria and entered the mosque and prayed there and then went to a (place where people were sitting in a) circle and he sat therein. Then a person came there and I perceived that the people were annoyed and perturbed (on this arrival). and he sat on my side and then said: Do you remember how 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ used to recite (the Qur'an)? And then the rest of the hadith was narrated.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا, مغیرہ نے ابرا ہیم سے روا یت کی ، انھوں نے کہا

علقم ہشام آئے اور ایک مسجد میں داخل ہو ئے اس میں نماز پڑھی ، پھر لو گو ں کے ایک حلقے میں جا کر بیٹھ گئے اتنے میں ایک صاحب آئے تو مجھے ان کے ( ارد گرد ) لو گوں کے اکٹھا ہو نے اور ( انکی وجہ سے ) ایک خاص ہیئت اختیار کر لینے کا پتہ چل گیا ( اس سے معلوم ہو تا تھا کہ وہ خاص شخصیت ہیں ) ( علقمہ نے کہا : وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے ۔ پھر فر ما یا : عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) جس طرح پڑھا کرتے تھے کیا تمھیں وہ یاد ہے؟ اس کے بعد اسی ( پہلی حدیث کی ) طرح بیان کیا ۔

Hadith 1918
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ مِنْ أَيِّهِمْ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى قَالَ فَقَرَأْتُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى قَالَ فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا.
English

Alqama reported:

I met Abu Darda' رضی اللہ تعالیٰ عنہ , and he said to me: To which country do you belong? I said: I am one of the people of Iraq. He again said: To which city? I replied: City of Kufa. He again said: Do you recite according to the recitation of 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ تعالیٰ عنہ ? I said: Yes. He said: Recite this verse (By the night when it covers) So I recited it: (By the night when it covers, and the day when it shines, and the creating of the male and the female). He laughed and said: I have heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reciting like this.

Urdu

ہم سے علی بن حجر السعدی نے بیان کیا, اسماعیل بن ابرا ہیم ( ابن علیہ ) نے داودبن ابی ہند سے انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے علقمہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا

میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا انھوں نے مجھ سے پو چھا : تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا : اہل عراق سے انھوں نے پو چھا : ان کے کو ن سے لو گو ں میں سے؟ میں نے کہا : اہل کو فہ سے انھوں نے پوچھا : کیاتم ( قرآن مجید ) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے مطا بق پڑھتے ہو؟میں نے کہا : جی ہاں انھوں نے کہا : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ پڑھو ۔ میں نے پڑھا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿﴾ وَالنَّهَارِ‌إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿﴾ وَ الذَّكَرَ‌وَالْأُنثَىٰ کہا : وہ ہنس پڑے پھر فر ما یا : میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ۔

Hadith 1919
Sahih
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
English

It was narrated that 'lqamah said:

I came to Ash-Sham and I met Abu Ad-Dard'..." and he Quoted a Hadith similar to that of Ibn 'Ulayyah (no. 1918).

Urdu

اور ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے بیان کیا, عبد الاعلیٰ نے کہا : ہم سے داودنے عامر ( شعبی ) سے اور انھوں نے علقمہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا

میں شام آیا اور حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا ۔ ۔ ۔ ۔ آگے ابن علیہ ( اسماعیل بن ابرا ہیم ) کی ( مذکورہ با لا ) حدیث کی طرح بیا ن کیا ۔

Hadith 1920
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
English

Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ is reported to have said::

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) prohibited to observe prayer after the 'Asr prayer till the sun is set, and after the dawn till the sun rises.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک کو محمد بن یحییٰ بن حبان کی سند سے، انہوں نے العرج کی سند سے پڑھا, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ۔ اور صبح کے بعد سورج طلوع ہو نے تک نماز سے منع فر ما یا ۔

Hadith 1921
Sahih
و حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ.
English

Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:

I heard it from so many Companions of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and one among them is 'Umar bin Khattab رضی اللہ تعالیٰ عنہ , and he is most dear to me among them that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) prohibited observing of prayer after the dawn prayer till the sun rose and after the 'Asr till the sun set.

Urdu

ہم سے داؤد بن رشید اور اسماعیل بن سالم نے بیان کیا، داؤد نے کہا: ہم سے ہشیم نے بیان کیا, منصور نے قتادہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ہمیں ابو عالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے کہا

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے زیادہ ساتھیوں سے سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ہے ۔

Hadith 1922
Sahih
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سَعِيدٍ وَهِشَامٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ.
English

It was narrated from Qatadah with this chain (a similar hadith as no. 1921) expect that in the Hadith of Saeed and Hisham it says:

"After Subh until the sun has risen brightly."

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے شعبہ ح کی سند سے بیان کیا، اور مجھ سے ابو غسان المسماعی نے بیان کیا، ہم سے عبد العلا نے بیان کیا، ان سے سعید ایچ۔ ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے واسطے سے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہ روا یت بیان کی ، البتہ سعید اور ہشام کی حدیث میں

( نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک کے بجا ئے ) " صبح کے بعد سورج چمکنے تک " کے الفاظ ہیں ۔

Hadith 1923
Sahih
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
English

Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: No prayer is valid after the 'Asr prayer till the sun sets and no prayer is valid after the dawn prayer till the sun rises.

Urdu

اور مجھ سے ہرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا, عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی کہ انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے ۔ "

Hadith 1924
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا.
English

Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Let not any one of you intend to observe prayer at the time of the rising of the sun or of the setting sun.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پڑھا, نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ( جان بوجھ کر ) طلوع شمس اور غروب شمس کے وقت کا قصد کرکے ان اوقات میں نماز نہ پڑھے ۔ "

Hadith 1925
Sahih
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ.
English

Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not intend to observe prayer at the time of the rising of the sun nor at its setting, for it rises between the horns of Satan.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابی اور محمد بن بشر نے بیان کیا، سب نے کہا ہشام کے والد عروہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنی نماز کے لئے جان بوجھ کر نہ سورج کے طلوع ہونے کا قصد کرو اور نہ اس کے غروب ہونے کا کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے ساتھ طلوع ہوتا ہے ۔ "

Hadith 1926
Sahih
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ بِشْرٍ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ.
English

Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When the rim of the sun starts appearing defer prayer till it completely appears, and when the rim of the sun disappears defer prayer till it completely disappears.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے ابی اور ابن بشر نے بیان کیا، ان سب نے کہا، ہم سے ہشام نے اپنے والد سے روایت کی, حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب سورج کا کنارہ نمودار ہوجائے تو نماز موخر کردو حتیٰ کہ وہ ( سورج ) نکل آئے ( بلند ہوجائے ) اور جب سورج کا کنارہ غروب ہوجائے تو نماز موخر کردو حتیٰ کہ وہ ( سورج ) پوری طرح غائب ہوجائے ۔ "

Hadith 1927
Sahih
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ.
English

Abu Basra Ghifari رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) led us in the 'Asr prayer at (the place known as) Mukhammas, and then said: This prayer was presented to those gone before you, but they lost it, and he who guards it has two rewards in store for him. And no prayer is valid after till the onlooker appears (by onlooker is meant the evening star).

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے خیر بن نعیم حضرمی سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سے ، انھوں نے ابو تمیم جیشانی سے اور انھوں نے ابو بصرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غفاری سے روایت کی ، انھوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخمص نامی جگہ میں عصر کی نماز پڑھائی اور فرمایا " یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کو دی گئی ( ان پر فرض کی گئی ) تو انھوں نے اسے ضائع کردیا ، اس لئے جو بھی اس کی حفاظت کرے گا اسے اس کا دوگنا اجر ملے گا اور ا س کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ ( اس کا ) شاہد طلوع ہوجائے ۔ " شاہد ( سے مراد ) ستارہ ہے ۔

Hadith 1928
Sahih
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ.
English

It was narrated that Abu Basrah Al Ghifari said:

The Messenger of Allah led us in praying 'Asr" similar report (as no. 1927).

Urdu

اور مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے ابن اسحاق کی سند سے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے خیر بن نعیم حضرمی سے ، انھوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سبائی سے ۔ ۔ ۔ اور وہ ثقہ تھے ۔ انھوں نے ابو تمیم جیشانی سے اور انھوں نے ابو بصرہ غفار ی سے روایت کی ، انھوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ۔ ۔ ۔ آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے ۔

Hadith 1929
Sahih
و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ.
English

Uqba bin 'Amir رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:

There were three times at which Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade us to pray, or bury our dead: When the sun begins to rise till it is fully up, when the sun is at its height at midday till it passes over the meridian, and when the sun draws near to setting till it sets

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن علی سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا: میں نے سنا, حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ

تین ا وقات ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں : جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہورہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا ( سایہ ) ٹھہر جاتا ہے حتیٰ کہ سورج ( آگے کو ) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لئے جھکتا ہے یہاں تک کہ وہ ( پوری طرح ) غروب ہوجائے ۔

Hadith 1930
Sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ عِكْرِمَةُ وَلَقِيَ شَدَّادٌ أَبَا أُمَامَةَ وَوَاثِلَةَ وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَى الشَّامِ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ كُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَءَاءُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنْتَ قَالَ أَنَا نَبِيٌّ فَقُلْتُ وَمَا نَبِيٌّ قَالَ أَرْسَلَنِي اللَّهُ فَقُلْتُ وَبِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ قَالَ أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَكُ بِهِ شَيْءٌ قُلْتُ لَهُ فَمَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قَالَ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ فَقُلْتُ إِنِّي مُتَّبِعُكَ قَالَ إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا أَلَا تَرَى حَالِي وَحَالَ النَّاسِ وَلَكِنْ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَأْتِنِي قَالَ فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَكُنْتُ فِي أَهْلِي فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَقَالُوا النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي قَالَ نَعَمْ أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَكَّةَ قَالَ فَقُلْتُ بَلَى فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ أَخْبِرْنِي عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ قَالَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوءَ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوءَهُ فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ فَقَالَ عَمْرٌو يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ وَلَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ.
English

Amr bin 'Abasa Sulami رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:

In the state of the Ignorance (before embracing Islam), I used to think that the people were in error and they were not on anything (which may be called the right path) and worshipped the idols. Meanwhile, I heard of a man in Mecca who was giving news (on the basis of his prophetic knowledge); so I sat on my ride and went to him. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) was at that time hiding as his people had made life hard for him. I adopted a friendly attitude (towards the Meccans and thus managed) to enter Mecca and go to him (the Holy Prophet) and I said to him: Who are you? He said: I am a Prophet (of Allah). I again said: Who is a Prophet? He said: (I am a Prophet in the sense that) I have been sent by Allah. I said: What is that which you have been sent with? He said: I have been sent to join ties of relationship (with kindness and affection), to break the Idols, and to proclaim the oneness of Allah (in a manner that) nothing is to be associated with Him. I said: Who is with you in this (in these beliefs and practices)? He said: A free man and a slave. He (the narrator) said: Abu Bakr and Bilal were there with him among those who had embraced Islam by that time. I said: I intend to follow you. He said: During these days you would not be able to do so. Don't you see the (hard) condition under which I and (my) people are living? You better go back to your people and when you hear that I have been granted victory, you come to me. So I went to my family. I was in my home when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to Medina. I was among my people and used to seek news and ask people when he arrived in Medina. Then a group of people belonging to Yathrib (Medina) came. I said (to them): How is that person getting on who has come to Medina? They said: The people are hastening to him, while his people (the polytheists of Mecca) planned to kill him, but they could not do so. I (on hearing it) came to Medina and went to him and said: Messenger of Allah, do you recognise me? He said: Yes, you are the same man who met me at Mecca. I said: It is so. I again said: Prophet of Allah, tell me that which Allah has taught you and which I do not know, tell me about the prayer. He said: Observe the dawn prayer, then stop praying when the sun is rising till it is fully up, for when it rises it comes up between the horns of Satan, and the unbelievers prostrate themselves to it at that time. Then pray, for the prayer is witnessed and attended (by angels) till the shadow becomes about the length of a lance; then cease prayer, for at that time Hell is heated up. Then when the shadow moves forward, pray, for the prayer is witnessed and attended by angels, till you pray the afternoon prayer, then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of devil, and at that time the unbelievers prostrate themselves before it. I said: Apostle of Allah, tell me about ablution also. He said: None of you who uses water for ablution and rinses his mouth, snuffs up water and blows it, but the sins of his face, and his mouth and his nostrils fall out. When he washes his face, as Allah has commanded him, the sins of his face fall out from the end of his beard with water. Then (when) he washes his forearms up to the elbows, the sins of his arms fall out along with water from his finger-tips. And when he wipes his head, the sins of his head fall out from the points of his hair along with water. And (when) he washes his feet up to the ankles, the sins of his feet fall out from his toes along with water. And if he stands to pray and praises Allah, lauds Him and glorifies Him with what becomes Him and shows wholehearted devotion to Allah, his sins would depart leaving him (as innocent) as he was on the day his mother bore him. 'Amr b. 'Abasa narrated this hadith to Abu Umama رضی اللہ تعالیٰ عنہ, a Companion of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and Abu Umama رضی اللہ تعالیٰ عنہ said to him: 'Amr bin 'Abasa, think what you are saying that such (a great reward) is given to a man at one place (only in the act of ablution and prayer). Upon this 'Amr رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Abu Umama رضی اللہ تعالیٰ عنہ, I have grown old and my bones have become weak and I am at the door of death; what impetus is there for me to attribute a lie to Allah and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? Had I heard it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) once, twice, or three times (even seven times), I would have never narrated it, but I have heard it from him on occasions more than these.

Urdu

مجھ سے احمد بن جعفر المعقری نے بیان کیا، ہم سے نضر بن محمد نے بیان کیا، ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا، ہم سے شداد بن عبداللہ نے بیان کیا, ابو عمار شداد بن عبداللہ اور یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو امامہ سے روایت کی ۔ ۔ ۔ عکرمہ نے کہا : شداد ابو امامہ اور واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل چکا ہے ، وہ شام کے سفر میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہااور ان کی فضیلت اور خوبی کی تعریف کی ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا

میں جب اپنے جاہلیت کے دور میں تھا تو ( یہ بات ) سمجھتا تھا کہ لوگ گمراہ ہیں اور جب وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں تو کسی ( سچی ) چیز ( دین ) پر نہیں ، پھر میں نے مکہ کے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ بہت سی باتوں کی خبر دیتا ہے ، میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کے پاس آگیا ، اس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپے ہوئے تھے ، آپ کی قوم ( کے لوگ ) آپ کے خلاف دلیر ، اور جری تھے ۔ میں ایک لطیف تدبیر اختیار کرکے مکہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوااور آپ سے پوچھا آپ کیا ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نبی ہوں ۔ " پھر میں نے پوچھا : " نبی کیا ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اللہ نے بھیجا ہے ۔ " میں نے کہا : آپ کو کیا ( پیغام ) دے کر بھیجا ہے؟آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ مجھے صلہ رحمی ، بتوں کو توڑنے ، اللہ تعالیٰ کو ایک قرار دینے ، اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے ( کاپیغام ) دے کر بھیجا ہے ۔ " میں نے آپ سے پوچھا : آپ کے ساتھ اس ( دین ) پر اور کون ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آزاد اور ایک غلام ۔ " ۔ ۔ ۔ کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت ایمان لانے والوں میں سے ابو بکر اور بلال رضوان اللہ عنھم اجمعین تھے ۔ میں نے کہا : میں بھی آپ کا متبع ہوں ۔ فرمایا : " تم اپنے آج کل کے حالات میں ایسا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے؟لیکن ( ان حالات میں ) تم اپنے گھر کی طرف لوٹ جاؤ اور جب میرے بارے میں سنو کہ میں غالب آگیا ہوں تو میرے پاس آجانا ۔ " کہا : تو میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ گیا ۔ او ( بعد ازاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے میں اپنے گھر ہی میں تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ۔ تو میں بھی خبریں لینے اور لوگوں سے آپ کے حالات پوچھنے میں لگ گیا ۔ حتیٰ کہ میرے پاس اہل یثرب ( مدینہ والوں ) میں سے کچھ لوگ آئے تو میں نے پوچھا : یہ شخص جو مدینہ میں آیا ہے اس نے کیا کچھ کیا ہے؟انھوں نے کہا : لوگ تیزی سے ان ( کے دین ) کی طرف بڑھ رہے ہیں ، آپ کی قوم نے آپ کو قتل کرنا چاہا تھا لیکن وہ ایسا نہ کرسکے ۔ اس پر میں مدینہ آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟آپ نے فرمایا : " ہاں تم وہی ہو ناں جو مجھ سے مکہ میں ملے تھے؟ " کہا : تو میں نے عرض کی : جی ہاں ، اور پھر پوچھا : اے اللہ کے نبی! مجھے وہ ( سب ) بتایئے جو اللہ نے آپ کوسکھایا ہے اور میں اس سے ناواقف ہوں ، مجھے نماز کے بارے میں بتایئے ۔ آپ نے فرمایا : " صبح کی نماز پڑھو اور پھر نمازسے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ وہ جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان ( اپنے سینگوں کو آگے کرکے یوں دیکھاتا ہے جیسے وہ اُس ) کے دو سینگوں کےدرمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس ( سورج ) کو سجدہ کرتے ہیں ، اس کے بعد نماز پڑھو کیونکہ نماز کا مشاہدہ ہوتاہے اور اس میں ( فرشتے ) حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے ساتھ لگ جائے ( سورج بالکل سر پر آجائے ) تو پھر نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کو ایندھن سے بھر کو بھڑکایاجاتا ہے ، پھر جب سایہ آئے جائے ( سورج ڈھل جائے ) تو نمازپڑھو کیونکہ نماز کا مشاہدہ کیاجاتا ہے اور اس میں حاضری دی جاتی ہے حتیٰ کہ تم عصر سے فارغ ہوجاؤ ، پھر نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ( پوری طرح ) غروب ہوجائے کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں میں غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ۔ " کہا : پھر میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تو وضو؟مجھے اس کے بارے میں بھی بتایئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے جوشخص بھی وضو کے لئے پانی اپنے قریب کرتاہے ۔ پھر کلی کرتاہے اور ناک میں پانی کھینچ کر اسے جھاڑتاہے تو اس سے اس کے چہرے ، منہ ، اور ناک کے نتھنوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، پھر جب وہ اللہ کے حکم کےمطابق اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو لازماً اس کے چہرے کےگناہ بھی پانی کے ساتھ اس کی داڑھی کے کناروں سے گر جاتے ہیں ، پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں ( کے اوپر ) تک دھوتا ہے ۔ تو لازماً اس کے ہاتھوں کےگناہ پانی کے ساتھ اس کے پوروں سے گرجاتے ہیں ، پھر وہ سر کا مسح کرتاہے تو اس کے سر کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے زائل ہوجاتے ہیں ، پھر وہ ٹخنوں ( کے اوپر ) تک اپنے دونوں قدم دھوتا ہے ۔ تو اس کے دونوں پاؤں کے گناہ پانی کے ساتھ اس کے پوروں سے گر جاتے ہیں ، پھر اگر وہ کھڑا ہوانماز پڑھی اور اللہ کے شایان شان اس کی حمد وثنا اور بزرگی بیان کی اور اپنا دل اللہ کے لئے ( ہر قسم کے دوسرے خیالات وتصورات سے ) خالی کرلیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکلتا ہے جس طرح اس وقت تھا جس دن اس کی ماں نے اسے ( ہر قسم کے گناہوں سے پاک ) جنا تھا ۔ " حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( ایک اور ) صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنائی تو ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : اے عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !دیکھ لوتم کیا کہہ رہے ہو ۔ ایک ہی جگہ اس آدمی کو اتناکچھ عطا کردیا جاتا ہے! اس پر عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میری عمر بڑھ گئی ہے میری ہڈیاں نرم ہوگئیں ہیں اور میری موت کا وقت بھی قریب آچکا ہے اور مجھے کوئی ضرورت نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولوں ۔ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں ۔ اگر میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ، دو ، تین ۔ ۔ ۔ حتیٰ کہ انھوں نے سات بار شمار کیا ۔ ۔ ۔ بار نہ سنا ہوتا تو میں اس حدیث کو کبھی بیان نہ کرتا بلکہ میں نے تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے بھی زیادہ بارسنا ہے ۔

Hadith 1931
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا.
English

A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:

'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ misconstrued the fact that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had prohibited the observance of prayer at the time of the rising sun and at the time of its setting.

Urdu

ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا وہیب نے کہا : ہم سے عبداللہ بن طاوس نے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد ( طاوس ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہم لاحق ہوا ہے ( کہ وہ ہر صورت عصر کے بعد نماز پڑھنے کو قابل سزا سمجھتے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سورج کے طلوع یا اس کے غروب کے وقت نماز پڑھنے کا قصد کیا جائے ۔

Hadith 1932
Sahih
و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِكَ.
English

A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا said:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not abandon observing two rak'ahs after 'Asr, but she reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not get used to observe prayer at the time of the rising sun and at the time of its setting and (exhorted the Muslims) to pray at their times.

Urdu

ہم سے حسن الحلوانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا معمر نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ طاوس کے بیٹے سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنی کبھی نہیں چھوڑ ی تھی کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز کے لئے تم جان بوجھ کر سورج کے طلوع اور اس کے غروب ہونے کا قصد نہ کرو کہ اس وقت نماز پڑھو ۔ "

Hadith 1933
Sahih
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا قَالَ كُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ.
English

Kuraib, the freed slave of Ibn 'Abbas, reported that 'Abdullah bin 'Abbas, 'Abd al-Rahman bin Azhar, al-Miswar bin Makhrama sent him to 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا , the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌):

Telling him to give her their greetings, and ask her about the two rak'ahs after the afternoon prayer, (for) we have heard that you observe them whereas it has been conveyed to us that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) prohibited their observance. Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: I along with 'Umar bin al-Khattab dissuaded people to do so (to observe two rak'ahs of prayer). Kuraib said: I went to her ('A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) and conveyed to her the message with which I was sent. She said: (Better) ask Umm Salama. So I went to them (those who had sent him to Hadrat 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) and informed them about what she had said. They sent me back to Umm Salama with that with which I was sent to 'A'isha. Umm Salama said: I beard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) prohibiting them, and then afterwards I saw him observing them. And when he observed them (two rak'ahs) he had already observed the 'Asr prayer. Then he (the Holy Prophet) came, while there were with me ladies of Banu Haram, a tribe of the Ansar and he (the Holy Prophet) observed them (the two rak'ahs). I sent a slave-girl to him asking her to stand by his side and say to him that Umm Salama says: Messenger of Allah, I heard you prohibiting these two rak'ahs, whereas I saw you observing them; and if he (the Holy Prophet) points with his hand (to wait), then do wait. The slave-girl did like that. He (the Holy Prophet) pointed out with his hand and she got aside and waited, and when he had finished (the prayer) he said: Daughter of Abu Umayya. you have asked about the two rak'ahs after the 'Asr prayer. Some people of 'Abu al-Qais came to me for embracing Islam and hindered me from observing the two rak'ahs which come after the noon prayer. So those are the two I have been praying.

Urdu

مجھ سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے عمرو نے جو ابن حارث ہیں، انہوں نے بکر کی سند سے، کریب کی سند سے جو ابن عباس کے موکل ہیں، کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، عبدالرحمن بن ازہر ، مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ

ہم سب کی طرف سے انھیں سلام عرض کرنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعت کے بارے میں پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آ پ یہ ( دو رکعتیں ) پڑھتی ہیں ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے روکا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ان سے روکا کرتا تھا ۔ کریب نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام د ے کر مجھے بھیجا تھا میں نے ان تک پہنچایا ۔ انھوں نے جواب دیا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھو ۔ میں نکل کر ان حضرات کے پاس لوٹا اور انھیں ان کے جواب سے آگاہ کیا ۔ ان حضرات نے مجھے وہی پیغام دے کر حضرت اسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف بھیج دیا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجاتھا ، اس پر ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ ان دو رکعتوں سے روکتے تھے ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ، ہاں ، آپ نے جب یہ دو رکعتیں پڑھیں تھیں اس وقت آپ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے ، پھر ( عصر پڑھ کر ) آپ ( میرے گھر میں ) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام کے قبیلے کی کچھ عورتیں موجودتھیں ، آ پ نے یہ دو رکعتیں ادا ( کرنی شروع ) کیں تو میں نے آپ کے پاس خادمہ بھیجی اور ( اس سے ) کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جانب جا کر کھڑی ہوجاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں : میں آپ سے سنتی رہی ہوں کہ آپ ( عصر کے بعد ) ان دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے اور اب میں آپ کو پڑھتے ہوئےدیکھ رہی ہوں؟اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے ہٹ ( کرکھڑی ہو ) جانا ۔ اس لڑکی نے ایسے ہی کیا ، آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا ، وہ آپ سے پیچھے ہٹ ( کر کھڑی ہو ) گئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیراتو فرمایا : " اے ابو امیہ ( حذیفہ بن مغیرہ مخزومی ) کی بیٹی!تم نے عصر کے بعد کی دورکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے ، تو ( معاملہ یہ ہے کہ ) بنو عبدالقیس کے کچھ افراد اپنی قوم کے اسلام ( لانے کی اطلاع ) کے ساتھ میرے پاس آئے ، اور انھوں نے مجھے ظہر کی بعد کی دورکعتوں سے مشغول کردیا ، یہ وہی دو رکعتیں ہیں ۔ "

Hadith 1934
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ إِسْمَعِيلُ تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا.
English

Abu Salama asked:

'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا about the two prostrations (i. e. rak'ahs) which the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made after the 'Asr. She said: He (the Holy Prophet) observed them before the 'Asr prayer, but then he was hindered to do so, or he forgot them and then he observed them after the 'Asr, and then he continued observing them. (It was his habit) that when he (the Holy Prophet) observed prayer, he then continued observing it. Isma'il said: It implies that he always did that.

Urdu

یحییٰ بن ایوب ، قتیبہ ، اور علی بن حجر نے اسماعیل بن جعفر سے حدیث بیان کی ، ابن ایوب نے کہا : ہمیں اسماعیل نے حدیث سنائی ، کہا مجھے محمد بن ابی حرملہ نے خبر دی ، انھوں نےکہا ، مجھے ابو سلمہ نے خبر دی کہ

انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان دو ر کعتوں کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے ۔ انھوں نےکہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں ( ظہر کے بعد ) عصر سے پہلے پڑھتے تھے ، پھر ایک دن ان کے پڑھنے سے مشغول ہوگئے یا انھیں بھول گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عصر کے بعد پڑھیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قائم رکھا کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز ( ایک دفعہ ) پڑھ لیتے تو اسے قائم رکھتے تھے ۔ یحییٰ بن ایوب نے کہا : اسماعیل نے کہا ( اثبتها اسے قائم رکھتے تھے ) سے مراد ہے : آپ اس پر ہمیشہ عمل فرماتے تھے ۔

Hadith 1935
Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ.
English

A'isha reported:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not abandon at all observing two rak'ahs after the 'Asr in my house.

Urdu

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے ہشام بن کی سند سے بیان کیا,عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں ۔

Hadith 1936
Sahih
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَاتَانِ مَا تَرَكَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي قَطُّ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ.
English

A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:

Two are the prayers which the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) always observed in my house-openly or secretly-two rak'ahs before the dawn and two rak'ahs after the 'Asr.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے علی بن مسھر نے بیان کیا، اور ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، اور اس کا لفظ علی بن مسھر نے ہم سے ابواسحاق الشیبانی کی سند سے بیان کیا, عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا

دو نمازیں ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں انھیں رازداری سے اور اعلانیہ کبھی ترک نہیں کیا : دو رکعتیں فجر سے پہلے اور دو رکعتیں عصر کے بعد ۔