It was narrated that Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:..." a similar report (as no 1970).
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا,ابن عون نے محمد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے ما نند ہے ۔
This hadith has been narrated by Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ by another chain of transmitters.
مجھ سے حمید بن مسعدہ الباہلی نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن مفضل نے بیان کیا, سلمہ بن علقمہ نے محمد سے اورانھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ہے
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There is a time on Friday at which no Muslim would ask Allah for what is good but He would give it to him. And further said: This is a very short time.
اور ہم سے عبدالرحمٰن بن سلام الجمعی نے بیان کیا، ہم سے الربیع یعنی ابن مسلم نے بیان کیا, محمد بن زیاد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فر ما یا " جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعا لیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت نہیں کرتا مگر اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے " فر ما یا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
Hammam bin Munabbih reported this hadith from Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ who reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) but he did not say: That time is short.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ نے حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی لیکن انھوں نے ( وهي ساعة خفيفة ) ( وہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ) نہیں کہا ۔
Abu Burda bin Abu Musa al-Ash'ari رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
'Abdullah bin Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ said to me: Did you hear anything from your father narrating something from the messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about the time on Friday? I said: Yes, I heard him say from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (these words): It is between the time when the Imam sits down and the end of the prayer.
مجھ سے ابو الطاہر اور علی بن خشرم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے مخرمہ بن بکیر سے بیان کیا، ہم سے ہارون بن سعید العیلی نے اور ہم سے احمد بن عیسٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ہم سے مخرمہ نے بیان کیا۔ ، اپنے والد کے اختیار پر، کے اختیار پر, ابو بردہ بن ابی مو سیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہا
مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا تم نے اپنے والد کو جمعے کی گھڑی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ہے ؟کہ کہا : میں نے کہا : جی ہاں میں نے انھیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے : " یہ امام کے بیٹھنے سے لے کر نماز مکمل ہو نے تک ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam was created, on it he was made to enter Paradise, on it he was expelled from it.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا, ابن شہاب نے کہا : مجھے عبد الرحمٰن اعرج نے خبر دی انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بہترین دن جس پر سورج طلوع ہو تا ہے جمعے کا دن ہے اسی دن آدم ؑپیدا کیے گئے اور اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن اس سے نکا لے گئے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The best day on which the sun has risen is Friday; on it Adam was created. on it he was made to enter Paradise, on it he was expelled from it. And the last hour will take place on no day other than Friday.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے المغیرہ یعنی الحزمی نے بیان کیا، ان کی سند سے ابو زناد نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رو یت کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے جمعے کا ہے اسی دن آدم ؑکو پیدا کیا گیا تھا اور اسی دن انھیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی میں انھیں اس سے نکا لا گیا ( خلا فت ارضی سونپی گئی ) اور قیامت بھی جمعے کے دن ہی بر پاہو گی ۔ " صالح مومنوں کے لیے یہ انعام عظیم حا صل کرنے کا دن ہو گا ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: We who are the last shall be the first on the Day of Resurrection, except that every Ummah was given the Book before us and we were given it after them. It was this day which Allah prescribed for us and guided us to it and the people came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that.
عمر و ناقد نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابو زناد سے حدیث سنا ئی انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حجرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم سب سے آخری ہیں اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہو ں گے یہ اس کے باوجود ہے کہ ہر امت کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ( ہماری کتاب ) ان کے بعد دی گئی پھر یہ دن جسے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دیا تھا اللہ تعا لیٰ نے اس کے لیے ہماری رہنما ئی فر ما ئی لو گ اس معاملے میں ہمارے بعد ہیں یہود کل ( جمعے سے اگلا دن یعنی ہفتہ منا ئیں گے ) اور نصاریٰ پرسوں ( ہفتےسے اگلا دن اتوار کا منا ئیں گے ۔ )
It was narrated that Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: We are the last and would be the first on the Day of Resurrection.
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے ابو زناد سے حدیث سنا ئی انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی نیز ( سفیان نے عبد اللہ ) بن طاوس سے انھوں نے اپنے والد ( طاوس بن کیسان ) سے انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم سب کے بعد آنے والے ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے پہلے ہو ں گے ۔ ۔ ۔ " اسی ( مذکورہ با لا حدیث ) کے مانند ہے
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: We are the last (but) we would be the first on the Day of Resurrection, and we would be the first to enter Paradise, but that they were given the Book before us and we were given after them. They disagreed and Allah guided us aright on whatever they disagreed regarding the truth. And it was this day of theirs about which they disagreed, but Allah guided us to it, and that is Friday for us; the next day is for the Jews and the day following for the Christians.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے اعمش کی سند سے بیان کیا, ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم آخری ہیں ( پھر بھی ) قیامت کے دن پہلے ہو ں گے اور ہم ہی پہلے جنت میں داخل ہوں گے البتہ انھیں ( انکی ) کتاب ہم سب سے پہلے دی گئی اور ہمیں ( ہماری کتاب ) ان کے بعد دی گئی انھوں نے ( آپس میں ) اختلا ف کیا اور اللہ تعا لیٰ نے ہماری اس حق کی طرف رہنما ئی فر ما ئی جس میں انھوں نے اختلا ف کیا تھا یہ ( جمعہ ) ان کا وہی دن تھا جس کے بارے میں انھوں نے اختلا ف کیا اللہ تعا لیٰ نے ہمیں اس کی طرف رہنما ئی کردی ۔ ۔ ۔ راوی نے کہا : جمعے کا دن مرادہے ۔ ۔ آج کا دن ہمارا ہے اور کل کا دن یہودیوں کا ہے اس سے اگلا دن عیسائیوں کا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Muhammad, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), as saying: We who are the last would be the first on the Day of Resurrection but they (other Ummahs) were given the Book before us and we were given after them, and this was the day that was prescribed for them but they disagreed on it. And Allah guided us to it. and they came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that.
اور ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے میرے بھائی ہمام بن منبیح سے بیان کیا, وہب بن منبہ کے بھا ئی ہمام بن منبہ نے کہا : یہ حدیث ہے حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ہم آخری ہیں ( مگر ) قیامت کے دن سبقت لے جا نے والے ہو ں گے اس کے باوجود کہ ان کے بعد دی گئی اور یہ ( جمعہ ) ان کا وہی دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا اور وہ اس کے بارے میں اختلاف میں پڑگئے پھر اللہ تعا لیٰ نے اس کے بارے میں ہماری رہنمائی فر ما ئی اس لیے وہ لو گ اس ( عبادت کے دن کے ) معاملے میں ہم سے پیچھے ہیں یہود ( اپنا دن ) کل منا ئیں گے اور عیسا ئی پر سوں ۔
It is narrated by Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ and Hudhaifah رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: It was Friday from which Allah diverted those who were before us. For the Jews (the day set aside for prayer) was Sabt (Saturday), and for the Christians it was Sunday. And Allah turned towards us and guided us to Friday (as the day of prayer) for us. In fact, He (Allah) made Friday, Saturday and Sunday (as days of prayer). In this order would they (Jews and Christians) come after us on the Day of Resurrection. We are the last of (the Ummahs) among the people in this world and the first among the created to be judged on the Day of Resurrection. In one narration it is: to be judged among them .
ابو کریب اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے کہا : ہم سے ابن فضیل نے ابومالک اشجعی ( سعد بن طارق ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو حازم سے اورانھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز انھوں ( ابو مالک ) نے ربعی بن حراش سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں ( صحابیوں ) نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے انھیں جمعہ کی راہ سے ہٹادیا ، اس لئے یہود کے لئے ہفتے کا دن ہوگیا اور نصاریٰ کے لئے اتوار کا دن ۔ پھراللہ تعالیٰ نے ہمیں ( اس دنیا میں لایا ) اور جمعے کے دن کی طرف ہماری راہنمائی فرمادی ۔ اس نے جمعہ پھر ہفتہ پھر اتوار رکھا ( جس طرح وہ عبادت کے دنوں میں ہم سے پیچھے ہیں ) اسی طرح قیامت کے دن بھی ہم سے پیچھے ہوں گے ۔ اہل دنیا میں سے ہم سب کے بعد ہیں اور قیامت کےدن سب سے پہلے ہوں گے ۔ جن کا فیصلہ ( باقی ) مخلوقات سے پہلے کردیا جائے گا ۔ "" واصل کی روایت میں ( المقضي لهم کی جگہ ) المقضي بينهم ( جن کے درمیان فیصلہ ) ہے ۔
Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: We were guided aright to Friday (as a day of prayer and meditation), but Allah diverted those who were before us from it. The rest of the hadith is the same.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابن ابی زائدہ نے ( ابومالک ) سعد بن طارق سے خبر دی ، انھوں نے کہا : ربعی بن حراش نے مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہماری راہنمائی جمعے کی طرف کی گئی اور جو لوگ ہم سے پہلے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے ا س سےدوسری راہ پر لگادیا ۔ ۔ ۔ " آگے ابن فضیل کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When it is Friday, the angels stand at every door of the mosque and record the people in the order of their arrival, and when the Imam sits (on the pulpit for delivering the sermon) they fold up their sheets (manuscripts of the Qur'an) and listen to the mention (of Allah). And he who comes early is like one who offers a she-camel as a sacrifice, the next like one who offers a cow, the next a ram, the next a hen, the next an egg.
ہم سے ابو الطاہر، حرملہ اور عمرو بن سواد الامیری نے بیان کیا، اور ہم سے ابو الطاہر نے بیان کیا، اور کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے ابن شہاب نے بیان کیا, ابوعبداللہ اغر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب جمعے کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں جو ( آنے والوں کی ترتیب کے مطابق ( پہلے پھر پہلے کا نام لکھتے ہیں ، اور جب امام ( منبر پر ) بیٹھ جاتا ہے تو وہ ( ناموں والے ) صحیفے لپیٹ دیتے ہیں اورآکرذکر ( خطبہ ) سنتے ہیں ۔ اور گرمی میں ( پہلے ) آنے والے کی مثال اس انسان جیسی ہے جو اونٹ قربان کرتا ہےپھر ( جو آیا ) گویا وہ گائے قربان کردیتا ہے ۔ پھر ( جو آیا ) گویا وہ مینڈھا قربان کردیتاہے ، پھر ( جو آیا ) گویا وہ تقرب کے لئے مرغی پیش کرتاہے پھر ( جو آیا ) گویا وہ تقریب کے لئے انڈا پیش کرتا ہے ۔ "
This hadith has been narrated by Abu Huraira رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور عمرو ناقد نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، وہ زہری کی سند سے، وہ سعید کی سند سے،سعید ( بن مسیب ) نے حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There is an angel on every door of the mosque recording him first who (comes) first (to the mosque for Friday prayer). And he [the Prophet] likened him to one who offers a camel as a sacrifice and then he went on in the descending order till he reached the point at which the minimum (sacrifice) is that of an egg. And when the Imam sits (on the pulpit) the sheets are folded and they (the angels) attend to the mention of Allah.
اور ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے یعقوب نے، یعنی ہم سے ابن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, سہیل کے والد ابو صالح سمان نے حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مسجد کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہوتاہے جو پہلے پھر پہلے آنے والے کا نام لکھتا ہے ۔ آپ نے اونٹ کی قربانی کی مثال دی ، پھر بتدریج کم کرتے گئے یہاں تک کہ ( آخر میں ) انڈے جیسے چھوٹے ( صدقے ) کی مثال دی ۔ پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو ( اندراج کے ) صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور ( فرشتے ) ذکر ونصیحت ( سننے ) کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں ۔ "
Abu-Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who took a bath and then came for Jumu'a prayer and then prayed what was fixed for him, then kept silence till the Imam finished the sermon, and then prayed along with him, his sins between that time and the next Friday would be forgiven, and even of three days more.
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، ان سے یزید نے، یعنی ہم سے ابن زرعی نے بیان کیا، ہم سے ایک روح نے بیان کیا, سہیل نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کہ
آپ نے فرمایا : " جس نے غسل کیا ، پھر جمعے کے لئے حاضر ہوا ، پھر اس کے مقدر میں جتنی ( نفل ) نماز تھی پڑھی ، پھر خاموشی سے ( خطبہ ) سنتا رہا حتیٰ کہ خطیب اپنے خطبے سے فارغ ہوگیا ، پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی ، اس کے اس جمعے سے لے کر ایک اور ( پچھلے یا اگلے ) جمعے تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور مزید تین دنوں کے بھی ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who performed ablution well, then came to Friday prayer, listened (to the sermon), kept silence all (his sins) between that time and the next Friday would be forgiven with three days extra, and he who touched pebbles caused an interruption.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا, اعمش نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے وضو کیا اوراچھی طرح وضو کیا ، پھر جمعے کے لئے آیا ، غور کے ساتھ خاموشی سے خطبہ سنا ، اس کے جمعے سے لے کر جمعے تک گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔ اورتین دن زائد کے بھی ۔ اور جو ( بلاوجہ ) کنکریوں کو ہاتھ لگاتا رہا ( ان سے کھیلتا رہا ) ، اس نے لغو اورفضول کام کیا ۔ "
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
We used to observe (Jumu'a) prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and then we returned and gave rest to our camels used for carrying water. Hassan[ (one of the narrators) said: I asked Ja'far what time that was. He said.. It is the time when the sun passes the meridian.
اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیاحسن بن عیاش نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے اپنے والد ( محمد ) سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، پھر واپس آتے ، پھر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام کا وقت دیتے ، حسن نےکہا : میں نے جعفر سے کہا : یہ ( نماز ) کس وقت ہوتی؟انھوں نے کہا : سورج کے ڈھلنے کے وقت ۔
Ja'far reported on the authority of his father: that he asked Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed Jumu'a prayer. He said: He used to observe prayer, and we then went (back) to our camels and gave them rest. 'Abdullah made this addition in his narration: Till the sun passed the meridian. and the camels used for carrying water (took rest).
قاسم بن زکریا نے کہا : ہمیں خالد بن مخلد نے حدیث بیان کی ، نیز عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے کہا : ہمیں یحییٰ بن حسان نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( خالد اوریحییٰ ) نے کہا : ہمیں سلیمان بن بلال نے جعفر سےحدیث بیا ن کی ، انھوں نےاپنے والد ( محمد ) سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت جمعہ پڑھتے تھے؟انھوں نے کہا : آپ جمعہ پڑھاتے ، پھر ہم اونٹوں کے پاس جاتے ، پھر انہیں آرام کا وقت دیتے ۔ عبداللہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : جس وقت سورج ڈھل جاتا ۔ ( جمال سے مراد ) تواضح ، یعنی پانی لانے والے اونٹ ہیں ۔