It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to go out to the prayer place on the day of Al-Fitr and the day of Al-Adha and lead the people in prayer. When he sat during the second rak'ah and said the taslim, he stood up and turned to face the people while the people were sitting. If he needed to mention something concerning the dispatch of an army he would tell the people, otherwise he would enjoin the people to give charity. He said: Give charity three times, and among those who gave the most charity were the women.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالعزیز نے داؤد کی سند سے، عیاض بن عبداللہ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف نکلتے تو لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر جب دوسری رکعت میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے، تو کھڑے ہوتے اور اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، پھر اگر آپ کو کوئی ضرورت ہوتی جیسے کہیں فوج بھیجنا ہو تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ لوگوں کو صدقہ دینے کا حکم دیتے، تین بار کہتے: صدقہ کرو ، تو صدقہ دینے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھیں۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If you say to your companion: 'Be quiet and listen' when the imam is delivering the Khutbah, you have engaged in idle speech.
ہم سے محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں سن رہا تھا تو ان سے پڑھ کر بیان کیا اور ابن القاسم کی سند سے ان کا قول ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے مالک نے ابن شہاب کی سند سے اور ابن المسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو حرکت کی ۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہم said:
In his Khutbah the Messenger of Allah (ﷺ) used to praise Allah as He deserves to be praised, then he would say: 'Whomsoever Allah (SWT) guides, none can lead him astray, and whomsoever Allah sends astray, none can guide. The truest of word is the Book of Allah and best of guidance is the guidance of Muhammad. The worst of things are those that are newly invented; every newly-invented thing is an innovation and every innovation is going astray, and every going astray is in the Fire.' Then he said: 'The Hour and I have been sent like these two.' Whenever he mentioned the Hour, his cheeks would turn red, and he would raise his voice and become angry, as if he were warning of an approaching army and saying: 'An army is coming to attack you in the morning, or in the evening!' (Then he said): 'Whoever leaves behind wealth, it is for his family, and whoever leaves behind a debt or dependents, then these are my responsibility, and I am the most entitled to take care of the believers.'
ہم سے عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابن المبارک نے سفیان کی سند سے، جعفر بن محمد سے اپنے والد سے,جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جو اس کی شایان شان ہوتی، پھر آپ فرماتے: جسے اللہ راہ دکھائے تو کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے تو اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ، پھر آپ فرماتے: میں اور قیامت دونوں اس قدر نزدیک ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہیں ، اور جب آپ قیامت کا ذکر کرتے تو آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو جاتے، اور آواز بلند ہو جاتی، اور آپ کا غصہ بڑھ جاتا جیسے آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں، اور کہہ رہے ہوں: ( ہوشیار رہو! دشمن ) تم پر صبح میں حملہ کرنے والا ہے، یا شام میں، پھر آپ فرماتے: جو ( مرنے کے بعد ) مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے، اور جو قرض چھوڑے یا بال بچے چھوڑ کر مرے تو وہ میری طرف یا میرے ذمہ ہیں، اور میں مومنوں کا ولی ہوں ۔
It was narrated from Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to go out on the day of 'Eid and pray two rak'ahs, then he would deliver the Khutbah and enjoin giving charity, and the ones who gave most charity were the women. If he had any exigency or he needed to send an army he would speak of that, if not, he would go back.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے داؤد بن قیس نے بیان کیا، کہا: مجھ سے عیاض نے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر خطبہ دیتے تو صدقہ کرنے کا حکم دیتے، تو صدقہ کرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھی، پھر اگر آپ کو کوئی حاجت ہوتی یا کوئی لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو ذکر کرتے ورنہ لوٹ آتے۔
It was narrated from Al-Hasan that :
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم gave a Khutbah in Al-Basrah and said: Pay the zakah of your fasting. The people started looking at one another. He said: Whoever there is here from the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do not know that the Messenger of Allah (ﷺ) enjoined sadaqat al-fitr on the young and the old, the free and the slave, the male and the female; half a sa' of wheat or a sa' of dried dates or barley.'
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہمیں حمید نے خبر دی ,حسن بصری سے روایت ہے کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بصرہ میں خطبہ دیا تو کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو، تو ( یہ سن کر ) لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، تو انہوں نے کہا: یہاں مدینہ والے کون کون ہیں، تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، اور انہیں سکھاؤ کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو، چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام، مرد، عورت سب پر فرض کیا ہے۔
It was narrated that Al-Bara' رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us on the day of An-Nahr after the prayer, then he said: 'Whoever prays and offers the sacrifice as we do, his ritual is complete, and whoever offers the sacrifice before the prayer, that is just ordinary meat.' Abu Burdah bin Niyar رضی اللہ عنہ said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), by Allah, we offered the sacrifice before I came out to the prayer, because I knew that today is the day of eating and drinking, so I hastened to do it and I ate of it and fed it to my family and neighbors.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'That is just a sheep for meat.' He said: 'I have a jadha'ah that is better than two meaty sheep, will that be sufficient (as a sacrifice) for me?' He said: 'Yes, but it will not be sufficient for anyone after you.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو الاحوص نے منصور کی سند سے اور شعبی کی سند سے بیان کیا, براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا، پھر فرمایا: جس نے ہماری ( طرح ) نماز پڑھی، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، تو وہ گوشت کی بکری ہے تو ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کر دی، چنانچہ میں نے ( خود ) کھایا، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گوشت کی بکری ہوئی ( اب قربانی کے طور پر دوسری کرو ) تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو گوشت کی دو بکریوں سے ( بھی ) اچھا ہے، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا ۔
It was narrated that Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:
I used to pray with the Prophet (ﷺ) and his prayer was moderate in length and his Khutbah was moderate in length.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو الاحوص نے سماک کی سند سے بیان کیا, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا، تو آپ کی نماز درمیانی ہوتی تھی، اور آپ کا خطبہ ( بھی ) درمیانہ ( اوسط درجہ کا ) ہوتا تھا۔
It was narrated that Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) delivering the Khutbah standing up, then he sat down for a while and did not speak, then he stood up and delivered another Khutbah. Whoever tells you that the Prophet (ﷺ) delivered a Khutbah sitting do not believe him.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو عوانہ نے سماک کی سند سے بیان کیا, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے اس میں بولتے نہیں، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے، تو جو شخص تمہیں یہ خبر دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ دیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ۔
It was narrated that Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet (ﷺ) used to deliver the Khutbah standing, then he would sit down, then he would stand up and recite some verses and remember Allah (SWT). And his Khutbah was moderate in length, and his prayer was moderate in length.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے سماک کی سند سے بیان کیا, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور بعض آیتیں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اور آپ کا خطبہ اور آپ کی نماز متوسط ( درمیانی ) ہوا کرتی تھی۔
It was narrated from Ibn Buraidah رضی اللہ عنہ that: His father said:
While the Messenger of Allah (ﷺ) was on the minbar, Al-Hasan and Al-Husain رضی اللہ عنہم came, wearing red shirts, walking and stumbling. He came down and picked them up, then said: 'Allah has spoken the truth: Your wealth and your children are only a trial.' I saw these two walking and stumbling in their shirts, and I could not be patient until I went down and picked them up.'
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو تمیلہ نے حسین بن واقد کی سند سے، ابن بریدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سرخ قمیص پہنے گرتے پڑتے آتے دکھائی دیے، آپ منبر سے اتر پڑے، اور ان دونوں کو اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں منبر سے اتر گیا، اور میں نے ان کو اٹھا لیا۔
Abdur-Rahman bin 'Abbas said:
I heard 'Abbas رضی اللہ عنہم when a man said to him: 'Did you go out (to the Eid prayer) with the Messenger of Allah?' He said: 'Yes, and were it not for my kinship (position) with him I would not have done so' -meaning due to him being so young- He (the Prophet (ﷺ)) went to the mark near the house of Kathir bin As-Salt and prayed, then delivered a Khutbah. Then he went to the women. He exhorted them and reminded them and told them to give charity. So a woman would bring her hand near her neck and take off her necklace and put it in the garment of Bilal رضی اللہ عنہ.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا:عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا: کیا آپ عیدین کے لیے جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، اور اگر میری آپ سے قرابت نہ ہوتی تو میں آپ کے ساتھ نہ ہوتا یعنی اپنی کم سنی کی وجہ سے، آپ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے، تو آپ نے ( وہاں ) نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے، اور انہیں بھی آپ نے نصیحت کی اور ( آخرت کی ) یاد دلائی، اور صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنا ہاتھ اپنے گلے کی طرف بڑھانے ( اور اپنا زیور اتار اتار کر ) بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم that:
The Prophet (ﷺ) went out on the day of 'Eid and prayed two rak'ahs, and he did not pray before or after them.
ہم سے عبداللہ بن سعید الاشج نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، کہا: ہم کو شعبہ نے عدی کی سند سے اور سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، نہ تو ان سے پہلے کوئی نماز پڑھی، اور نہ ہی ان کے بعد۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us on the day of Al-Adha and went to two black and white rams and slaughtered them.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا: ہم سے حاتم بن وردان نے ایوب کی سند سے اور محمد بن سیرین کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن ہمیں خطبہ دیا، اور ( اس کے بعد ) آپ دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف جھکے اور انہیں ذبح کیا۔
It was narrated from Nafi that 'Abdullah (bin Umar) رضی اللہ عنہم told him that
The Messenger of Allah (ﷺ) used to offer sacrifice in the prayer place.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم نے بیان کیا، وہ شعیب کی سند سے، لیث کی سند سے، کثیر بن فرقد نے نافع کی سند سے، کہ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ ہی میں ذبح یا نحر کرتے تھے۔
It was narrated that An-Nu'man bin Bashir رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite: 'Glorify the Name of your Lord, the Most High' and Has there come to you the narration of The Overwhelming?', on Friday and on 'Eid, and when Friday and 'Eid converged, he would recite them both.
مجھ سے محمد بن قدامہ نے جریر سے اور ابراہیم بن محمد بن المنتشر کی سند سے بیان کیا۔ میں نے کہا: اس کے والد کی طرف سے, اس نے کہا: ہاں، حبیب بن سلیم کی سند سے, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ اور عید دونوں میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے تو بھی آپ انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔
It was narrated that Iyas bin Abi Ramlah said:
I heard Mu'awiyah رضی اللہ عنہ asking Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ: 'Did you attend two 'Eids with the Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: 'Yes; he prayed 'Eid at the beginning of the day then he granted a concession with regard to jumu'ah.'
عمرو بن علی کا بیان، عبدالرحمٰن بن مہدی کا بیان، بنی اسرائیل کا بیان، عثمان بن مغیر کا بیان، سلسلہ نشریات بولو کیا چاہتے ہو, ایاس بن ابی رملہ کہتے ہیں کہ
میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا، انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین میں رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے صبح میں عید کی نماز پڑھی، پھر آپ نے جمعہ نہ پڑھنے کی رخصت دی۔
Wahb bin Kaisan said:
Eid and Jumu'ah fell on the same day during the time of Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہ , so he delayed going out until the sun had risen quite high. Then he went out and delivered a Khutbah, and he made the Khutbah lengthy. Then he came down and prayed, and he did not lead the people in praying jumu'ah that day. Mention of that was made to Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم and he said: 'He has followed the sunnah.'
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد الحمید بن جعفر نے بیان کیا، کہا: وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ
ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے دور میں دونوں عیدیں ایک ہی دن میں جمع ہو گئیں، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نکلنے میں تاخیر کی یہاں تک کہ دن چڑھ آیا، پھر وہ نکلے، اور انہوں نے خطبہ دیا، تو لمبا خطبہ دیا، پھر وہ اترے اور نماز پڑھی۔ اس دن انہوں نے لوگوں کو جمعہ نہیں پڑھایا یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا: انہوں نے سنت پر عمل کیا ہے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon her and there were two girls with her who were beating the duff. Abu Bakr رضی اللہ عنہ scolded them, but the Prophet (ﷺ) said: Leave them, for every people has an 'Eid.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے معمر کی سند سے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، تو ان دونوں کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈانٹا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑو ( بجانے دو ) کیونکہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے ( جس میں لوگ کھیلتے کودتے اور خوشی مناتے ہیں ) ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
The black people came and played in front of the Prophet (ﷺ) on the day of 'Eid. He called me and I watched them from over his shoulder, and I continued to watch them until I was the one who moved away.
ہم سے محمد بن آدم نے عبدہ کی سند سے، ہشام کی سند سے، اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
عید کے دن حبشی لوگ آئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل کود رہے تھے، آپ نے مجھے بلایا، تو میں انہیں آپ کے کندھے کے اوپر سے دیکھ رہی تھی میں برابر دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں ( خود ) ہی لوٹ آئی۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
I remember the Messenger of Allah (ﷺ) covering me with his Rida' while I was watching the Ethiopians playing in the masjid, until I got bored. So you should understand the keenness of young girls to play.
ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا، کہا: ہم سے الولید نے بیان کیا، کہا: ہم سے الاوزاعی نے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے آڑ کئے ہوئے تھے، اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں خود ہی اکتا گئی، تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ایک کم سن لڑکی کھیل کود ( دیکھنے ) کی کتنی حریص ہوتی ہے۔