Abu Bakr رضی اللہ عنہ said:
Umar رضی اللہ عنہ came in when the Ethiopians were playing in the masjid. Umar رضی اللہ عنہ rebuked them, but the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let them be there, O Umar, for they are Banu Arfidah.'
ہم سے اسحاق بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا: ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا، کہا: مجھ سے زہری نے سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) داخل ہوئے، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑو ( کھیلنے دو ) یہ بنو ارفدہ ہی تو ہیں ۔
It was narrated from 'Urwah that he narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that
Abu Bakr As-Siddiq رضی اللہ عنہ: Entered upon her and there were two girls with her beating the duff and singing, and the Messenger of Allah (ﷺ) was covered with his garment. He uncovered his face and said: Let them be there, O Abu Bakr, for these are the days of 'Eid. Those were the days of Mina and the Messenger of Allah (ﷺ) was in Al-Madinah on that day.
ہم سے احمد بن حفص بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے، مالک بن انس سے، زہری سے، عروہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے ان سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے ( گھر میں ) داخل ہوئے، ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، اور گانا گا رہی تھیں۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ اپنے کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے، تو آپ نے اپنا چہرہ کھولا، اور فرمایا: ابوبکر! انہیں چھوڑو کھیلنے دو، یہ عید کے دن ہیں، اور منیٰ کے دن تھے ۲؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مدینہ میں تھے۔