It was narrated that Sa'd bin Abi Waqqas said: The Messenger of Allah visited me when I was sick, and said: 'Have you made a will?' I said: 'Yes.' He said: 'How much?' I said: 'For all my wealth to be given in the cause of Allah.' He said: 'What have you left for your children?' I said: 'They are rich (independent of means).' He said: 'Bequeath one-tenth.' And we kept discussing it until he said: 'Bequeath one-third, and one-third is much or large.'
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میری بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیمار پرسی کرنے آئے۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے وصیت کر دی؟“ میں نے کہا: جی ہاں کر دی، آپ نے فرمایا: ”کتنی؟“ میں نے کہا: اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا ہے۔ آپ نے پوچھا: ”اپنی اولاد کیلئے کیا چھوڑا؟“ میں نے کہا: وہ سب مالدار و بے نیاز ہیں، آپ نے فرمایا: ”دسویں حصے کی وصیت کرو“، پھر برابر آپ یہی کہتے رہے اور میں بھی کہتا رہا ۱؎ آپ نے فرمایا: ”اچھا تہائی کی وصیت کر لو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے“۔
It was narrated from Sa'd that the Prophet visited him when he was sick, and he said: O Messenger of Allah, shall I bequeath all of my wealth? He said: No. He said: Half? He said: No. He said: One-third? He said: One-third, and one-third is much or large.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیماری میں ان کی عیادت کی، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، کہا: آدھے کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، کہا: تہائی کی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی کر دو، اگرچہ ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے“۔
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah came to visit Sa'd (when he was sick). Sa'd said to him: O Messenger of Allah, shall I bequeath two-thirds of my wealth? He said: No. He said: Shall I bequeath half? He said: No. He said: Shall I bequeath one-third? He said: Yes, one-third, and one-third is much or large. If you leave your heirs independent of means that is better than if you leave them poor, holding out their hands.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس آئے، سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصے اللہ کی راہ میں دے دینے کا حکم ( یعنی اجازت ) دے دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: تو پھر ایک تہائی کی وصیت کر دیتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک تہائی ہو سکتا ہے، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے یا بڑا حصہ ہے، ( آپ نے مزید فرمایا ) اگر تم اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر ( اس دنیا سے ) جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں فقیر بنا کر جاؤ کہ وہ ( دوسروں کے سامنے ) ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: If the people were to reduce (their bequests) to one-quarter (of their wealth, that would be better), because the Messenger of Allah said: 'One-third, and one-third is much or large.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
لوگ اگر وصیت کو ایک چوتھائی تک کم کریں ( تو مناسب ہے ) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے“۔
It was narrated from Muhammad bin Sa'd, from his father Sa'd bin Malik, that the Prophet came to him when he was sick and he said: I do not have any children apart from one daughter. Shall I bequeath all my wealth? The Prophet said: No. He said: Shall I bequeath half of it? The Prophet said: No. He said: Shall I bequeath one-third of it? He said: One-third, and one-third is much or large.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بیمار تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) میری کوئی اولاد ( نرینہ ) نہیں ہے، صرف ایک بچی ہے۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دیتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: آدھے کی وصیت کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: تو میں ایک تہائی مال کی وصیت کرتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔
Jabir bin 'Abdullah narrated that his father was martyred on the Day of Uhud, and he left behind six daughters, and some outstanding debts. When the time to pick the dates came, I went to the Messenger of Allah and said: You know that my father was martyred on the Day of Uhud and he left behind a great deal of debt. I would like the creditors to see you. He said: Go and pile up the dates in separate heaps. I did that, then I called him. When they saw him, it was as if they started to put pressure on me at that time. When he saw what they were doing, he went around the biggest heap three times, then he sat on it then said: Call your companions (the creditors). Then he kept on weighing them out for them, until Allah cleared all my father's debts. I am pleased that Allah cleared my father's debts without even a single date being missed.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ
ان کے والد ۱؎ اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور قرض چھوڑ کر جنگ احد میں شہید ہو گئے، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد جنگ احد میں شہید کر دیے گئے ہیں اور وہ بہت زیادہ قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کو ( وہاں موجود ) دیکھیں ( تاکہ مجھ سے وصول کرنے کے سلسلے میں سختی نہ کریں ) آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور ہر ڈھیر الگ الگ کر دو“، تو میں نے ( ایسا ہی ) کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا، جب ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس گھڑی گویا وہ لوگ مجھ پر اور بھی زیادہ غصہ ہو گئے ۲؎ جب آپ نے ان لوگوں کی حرکتیں جو وہ کر رہے تھے دیکھیں تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے اردگرد تین چکر لگائے پھر اسی ڈھیر پر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ“ جب وہ لوگ آ گئے تو آپ انہیں برابر ( ان کے مطالبے کے بقدر ) ناپ ناپ کر دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کرا دی اور میں اس پر راضی و خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کر دی اور ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی۔
It was narrated from Jabir that his father died owing debts. I came to the Prophet and said: '(O Messenger of Allah!) My father has died owing debts, and he has not left anything but what his date-palms produce. What his date-palms produce will not pay off his debts for years. Come with me, O Messenger of Allah, so that the creditors will not be harsh with me.' The Messenger of Allah went to each heap, saying Salams and supplicating for it, then sitting on it. He called the creditors and paid them off, and what was left was as much as what they had taken.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ان کے والد انتقال کر گئے اور ان پر قرض تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد انتقال کر گئے اور ان پر قرض تھا اور کھجوروں کے باغ کی آمدنی کے سوا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور کئی سالوں کی باغ کی آمدنی کے بغیر یہ قرض ادا نہ ہو سکے گا، اللہ کے رسول! میرے ساتھ چلئے تاکہ قرض خواہ لوگ مجھے برا بھلا نہ کہیں، چنانچہ آپ کھجور کی ایک ایک ڈھیر کے اردگرد گھومے اور اس کے آس پاس سلام کیا اس کے لیے دعا فرمائی اور پھر اسی پر بیٹھ گئے اور قرض خواہوں کو بلایا اور انہیں ( ان کا حق ) پورا پورا دیا اور جتنا وہ لے گئے اتنا ہی بچ رہا۔
It was narrated that Jabir said: Abdullah bin 'Amr bin Haram died, leaving behind debts. I asked the Messenger of Allah to intercede with his creditors so that they would waive part of the debt. He asked them to do that but they refused. The Prophet said to me: 'Go and sort your dates into their different kinds: The 'Ajwah on one side, the cluster of Ibn Zaid on another side, and so on. Then send for me.' I did that, then the Messenger of Allah came and sat at the head or in the middle of the heaps. Then he said: 'Measure them out for the people.' So I measured them out for them until I had paid them all off, and my dates were left as if nothing had been taken from them.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
( ان کے والد ) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ انتقال فرما کر گئے اور ( اپنے ذمہ لوگوں کا ) قرض چھوڑ گئے تو میں نے ان کے قرض خواہوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرض میں کچھ کمی کر دینے کی سفارش کرائی تو آپ نے ان سے کم کرانے کی گزارش کی، لیکن وہ نہ مانے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور ہر قسم کی کھجوروں کو الگ الگ کر دو، عجوہ کو علیحدہ رکھو اور عذق بن زید اور دوسری قسموں کو الگ الگ کرے کے رکھو۔ پھر مجھے بلاؤ“، تو میں نے ایسا ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور سب سے اونچی والی ڈھیر پر یا بیچ والی ڈھیر پر بیٹھ گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو ناپ ناپ کر دو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں انہیں ناپ ناپ کر دینے لگا یہاں تک کہ میں نے سبھی کو پورا پورا دے دیا پھر بھی میری کھجوریں بچی رہیں، ایسا لگتا تھا کہ میری کھجوروں میں کچھ بھی کمی نہیں آئی ہے۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: My father owed some dates to a Jew. He was killed on the Day of Uhud and he left behind two gardens. The dates owed to the Jew would take up everything in the two gardens. The Prophet said: 'Can you take half this year and half next year?' But the Jew refused. The Prophet said: 'When the time to pick the dates comes, call me.' So I called him and he came, accompanied by Abu Bakr. The dates were picked and weighed from the lowest part of the palm trees, and the Messenger of Allah was praying for blessing, until we paid off everything that we owed him from the smaller of the two gardens, as calculated by 'Ammar. Then I brought them some fresh dates and water and they ate and drank, then he said: 'This is part of the blessing concerning which you will be questioned.'
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میرے والد کے ذمہ ایک یہودی کی کھجوریں تھیں، اور وہ جنگ احد میں قتل کر دیے گئے اور کھجوروں کے دو باغ چھوڑ گئے، یہودی کی کھجوریں دو باغوں کی کھجوریں ملا کر پوری پڑ رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہودی سے ) فرمایا: ”کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم اس سال اپنے قرض کا آدھا لے لو اور آدھا دیر کر کے ( اگلے سال ) لے لو؟“، یہودی نے ( ایسا کرنے سے ) انکار کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے فرمایا: ) ”کیا تم پھل توڑتے وقت مجھے خبر کر سکتے ہو؟“، تو میں نے آپ کو پھل توڑتے وقت خبر کر دی تو آپ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ( کھجور کے ) نیچے سے نکال کر الگ کرنے اور ناپ ناپ کر دینے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برکت کی دعا فرماتے رہے یہاں تک کہ چھوٹے باغ ہی کے پھلوں سے اس کے پورے قرض کی ادائیگی کر دی، پھر میں ان دونوں حضرات کے پاس ( بطور تواضع ) تازہ کھجوریں اور پانی لے کر آیا، تو ان لوگوں نے کھایا پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے متعلق تم لوگوں سے پوچھ تاچھ ہو گی“۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: My father died owing debts. I offered to his creditors that they could take the fruits in lieu of what he owed them, but they refused as they thought that it would not cover the debt. I went to the Messenger of Allah and told him about that, he said: 'When you pick the dates and have put them in the Mirbad (place for drying dates), call me.' When I had picked the dates and put them in the Mirbad, I went to the Messenger of Allah and he came, accompanied by Abu Bakr and 'Umar. He sat on (the dates) and prayed for blessing. Then he said: 'Call your creditors and pay them off.' I did not leave anyone to whom my father owed anything but I paid him off, and I had thirteen Wasqs left over. I mentioned that to him and he smiled and said: 'Go to Abu Bakr and 'Umar and tell them about that.' So I went to Abu Bakr and 'Umar and told them about that, and they said: 'We knew, when the Messenger of Allah did what he did, that this would happen.'
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میرے والد ( غزوہ احد میں ) انتقال کر گئے اور ان کے ذمہ قرض تھا تو میں نے ان کے قرض خواہوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ والد کے ذمہ ان کا جو حق ہے اس کے بدلے ( ہمارے باغ کی ) کھجوریں لے لیں تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا، وہ سمجھتے تھے کہ اتنی کھجوریں ان کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں ہیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کھجوریں توڑ کر کھلیان میں رکھ دو تو مجھے خبر کرو“، چنانچہ جب میں نے کھجوریں توڑ کر انہیں کھلیان میں رکھ دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور آپ کو بتایا ) آپ آئے، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، آپ اس پر بیٹھ گئے اور برکت کی دعا فرمائی پھر فرمایا: ”اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ اور انہیں ان کا حق پورا پورا دیتے جاؤ“ تو میں نے کسی کو بھی جس کا میرے باپ پر قرض تھا نہیں چھوڑا، سب کو اس کا پورا پورا حق دے دیا اور میرے لیے تیرہ وسق کھجوریں بھی بچ رہیں، جب میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ہنسے اور فرمایا: ”ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور انہیں بھی یہ بات بتاؤ“، تو میں نے ان دونوں کو بھی اس بات کی خبر دی، تو ان دونوں نے کہا: جب ہم نے آپ کو وہ کرتے دیکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تو ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔
It was narrated that 'Amr bin Kharijah said: The Messenger of Allah delivered a Khutbah and said: 'Allah has given every person who has rights his due, and there is no bequest to an heir.'
عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے ( تو تم سمجھ لو ) وارث کے لیے وصیت نہیں ہے“ ۱؎۔
It was narrated from Shahr bin Hawshab that Ibn Ghanm mentioned that Ibn Kharijah told him that he saw the Messenger of Allah addressing the people from atop his mount, which was chewing its cud and its saliva was dripping down. The Messenger of Allah said in his Khutbah: Allah has given each person a share of the inheritance, and it is not permissible to give bequests to an heir.
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ نے ذکر کیا کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطبہ میں موجود تھے جو آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر دے رہے تھے، سواری جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب بہہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میراث سے ہر انسان کا حصہ تقسیم فرما دیا ہے تو کسی وارث کے لیے وصیت کرنا درست اور جائز نہیں ہے“۔
It was narrated that 'Amr bin Kharijah said: The Messenger of Allah said: 'Allah, Mighty is His Name, has given every person who has rights his due, and there is no bequest to an heir.'
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے، اور کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: When the following was revealed: 'And warn your tribe (O Muhammad) of near kindred,' the Messenger of Allah called the Quraish and they gathered, and he spoke in general and specific terms, then he said: 'O Banu Ka'b bin Lu'ayy! O Banu Murrah bin Ka'b! O Banu 'Abd Shams! O Banu 'Abd Manaf! O Banu Hisham! O Banu 'Abdul-Muttalib! Save yourselves from the Fire! O Fatimah! Save yourself from the Fire. I cannot avail you anything before Allah, but I will uphold the ties of kinship with you.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا چنانچہ قریش سبھی لوگ اکٹھا ہو گئے، تو آپ نے عام و خاص سبھوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے بنی کعب بن لوئی! اے بنی مرہ بن کعب! اے بنی عبد شمس! اے بنی عبد مناف! اے بنی ہاشم اور اے بنی عبدالمطلب! تم سب اپنے آپ کو آگ سے بچا لو اور اے فاطمہ ( فاطمہ بنت محمد ) تم اپنے آپ کو آگ سے بچا لو کیونکہ میں اللہ کے عذاب کے سامنے تمہارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتا سوائے اس کے کہ ہمارا تم سے رشتہ داری ہے جو میں ( دنیا میں ) اس کی تری سے تر رکھوں گا“ ۱؎۔
It was narrated that Musa bin Talhah said: The Messenger of Allah said: 'O Banu 'Abd Manaf! Buy your souls from your Lord. I cannot avail you anything before Allah. Abu Banu 'Abdul-Muttalib! Buy your souls from your Lord. I cannot avail you anything before Allah. But between me and you there are ties of kinship which I will uphold.'
موسیٰ بن طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! اپنی جانوں کو اپنے رب سے ( اپنے اعمال حسنہ کے بدلے ) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، اے عبدالمطلب کی اولاد! اپنی جانوں کو اپنے رب سے ( اپنے نیک اعمال کے بدلے ) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا لینے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتا، البتہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرابت داری ہے، تو میں اس کی تری اسے تروتازہ اور زندہ رکھنے کی کوشش کروں گا“ ۱؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said, when the Verse: 'And warn your tribe (O Muhammad) of near kindred.' was revealed: 'O Quraish! Buy your souls from your Lord; I cannot avail you anything before Allah. O Banu 'Abdul-Muttalib! I cannot avail you anything before Allah. O 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib! I cannot avail you anything before Allah. O Safiyyah, paternal aunt of the Messenger of Allah! I cannot avail you anything before Allah. O Fatimah bint Muhammad! Ask me for whatever you want, I cannot avail you anything before Allah.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آیت: «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”اے قریش کی جماعت! تم! اپنی جانوں کو اللہ سے ( اس کی اطاعت کے بدلے ) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے کچھ بھی نجات نہیں دلا سکتا، اے صفیہ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ) میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے فاطمہ بنت محمد! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہو مانگ لو، لیکن ( یہ جان لو کہ ) میں اللہ کے پاس تمہارے کچھ بھی کام نہ آؤں گا“۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah stood up when the following was revealed to him: 'And warn your tribe (O Muhammad) of near kindred,' and said: 'O Quraish! Buy your souls from your Lord, I cannot avail you anything before Allah. O Banu 'Abd Manaf! I cannot avail you anything before Allah. O 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib! I cannot avail you anything before Allah. O Safiyyah, paternal aunt of the Messenger of Allah! I cannot avail you anything before Allah. O Fatimah! Ask me for whatever you want, I cannot avail you anything before Allah.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے محمد! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو اللہ سے ( اس کی اطاعت کے بدلے ) خرید لو، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا، اے بنی عبد مناف! میں اللہ کے یہاں تمہارے کچھ بھی کام نہ آ سکوں گا، اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کے یہاں میں تمہارے بھی کچھ کام نہ آ سکوں گا، اے صفیہ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ) ، میں اللہ کے یہاں تمہیں بھی کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، اے فاطمہ! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہے مجھ سے مانگو، لیکن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا“۔
It was narrated that 'Aishah said: When this verse- 'And warn your tribe (O Muhammad) of near kindred'- was revealed, the Messenger of Allah said: 'O Fatimah, daughter of Muhammad! O Safiyyah bint 'Abdul-Muttalib! O Banu 'Abdul-Muttalib! I cannot avail you anything before Allah; ask me for whatever you want of my wealth.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
جب آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اور اے بنی عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا، میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو ۱؎“۔
It was narrated from 'Aishah that a man said to the Messenger of Allah: My mother died unexpectedly; if she had been able to speak she would have given charity. Should I give charity on her behalf? The Messenger of Allah said: Yes. So he gave charity on her behalf.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ: میری ماں اچانک مر گئی، وہ اگر بول سکتیں تو صدقہ کرتیں، تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کیا ۱؎۔
It was narrated from Sa'eed bin 'Amr bin Shurahbil bin Sa'eed bin Sa'd bin 'Ubadah, from his father, that his grandfather said: Sa'd bin 'Ubadah went out with the Prophet on one of his campaigns, and death came to his mother in Al-Madinah. It was said to her (as she was dying): 'Make a will.' She said: 'To whom shall I make a will? The wealth belongs to Sa'd.' Then she died before Sa'd came. When Sa'd came, he was told about that and he said: 'O Messenger of Allah, will it benefit her if I give in charity on her behalf?' The Prophet said: 'Yes.' Sa'd said: 'Such and such a garden is given in charity on her behalf' -regarding a garden that he named.
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
وہ ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ مدینہ میں ان کی ماں کے انتقال کا وقت آ پہنچا، ان سے کہا گیا کہ وصیت کر دیں، تو انہوں نے کہا: میں کس چیز میں وصیت کروں؟ جو کچھ مال ہے وہ سعد کا ہے، سعد کے ان کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، جب سعد رضی اللہ عنہ آ گئے تو ان سے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کروں تو کیا انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں باغ ایسے اور ایسے ان کی طرف سے صدقہ ہے، اور باغ کا نام لیا۔