It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: When a man dies all his good deeds come to an end except three: Ongoing charity (Sadaqah Jariyah), beneficial knowledge and a righteous son who prays for him.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے سوائے تین عمل کے ( جن سے اسے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچتا ہے ) ایک صدقہ جاریہ، ۱؎ دوسرا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ۲؎، تیسرا نیک اور صالح بیٹا جو اس کے لیے دعا کرتا رہے“۔
It was narrated from Abu Hurairah that a man said to the Prophet: My father died and left behind wealth, but he did not leave a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf?
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ( اللہ کے رسول! ) میرے والد وصیت کئے بغیر انتقال کر گئے اور مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کی طرف سے کفارہ ( اور ان کے لیے موجب نجات ) ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔
It was narrated that Ash-Sharid bin Suwaid Ath-Thaqafi said: I came to the Messenger of Allah and said: 'My mother left a will saying that a slave should be freed on her behalf. I have a Nubian slave girl; will it suffice if I free her on her behalf?' He said: 'Bring her here.' The Prophet said to her: 'Who is your Lord?' She said: 'Allah.' He said: 'Who am I?' She said: 'The Messenger of Allah.' He said: 'Set her free , for she is a believer.'
شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے عرض کیا: میری ماں نے وصیت کی ہے کہ ان کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دیا جائے اور میرے پاس حبشی نسل کی ایک لونڈی ہے، اگر میں اسے ان کی طرف سے آزاد کر دوں تو کیا وہ کافی ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے ساتھ لے کر آؤ“ چنانچہ میں اسے ساتھ لیے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہو گیا، آپ نے اس سے پوچھا: ”تمہارا رب ( معبود ) کون ہے؟“ اس نے کہا: اللہ، آپ نے ( پھر ) اس سے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مسلمان عورت ہے“۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that Sa'd asked the Prophet: My mother died and did not leave a will; shall I give charity on her behalf? He said: Yes.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میری ماں مر چکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں کر دو“۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that a man said: O Messenger of Allah, my mother died; will it benefit her if I give in charity on her behalf? He said: Yes. He said: I have a garden and I ask you to bear witness that I am giving it in charity on her behalf.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، تو اس نے کہا: پھر تو میرے پاس کھجور کا ایک باغ ہے، آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی ماں کی طرف سے اسے صدقہ میں دے دیا۔
It was narrated from Sa'd bin 'Ubadah that he came to the Prophet and said: My mother has died and she had a vow to fulfill. Will it suffice if I free a slave on her behalf? He said: Free a slave on behalf of your mother.
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری ماں مر چکی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے، اگر میں ان کی طرف سے ( ایک غلام ) آزاد کر دوں تو کیا یہ ان کی طرف سے پوری ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا: ” ( ہاں ) اپنی ماں کی طرف سے غلام آزاد کر دو“۔
It was narrated from Sa'd bin 'Ubadah that he consulted the Prophet about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: Fulfill it on her behalf.
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کر گئی تھیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نذر کو تم ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
It was narrated from Sa'd bin 'Ubadah that he consulted the Prophet about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: Fulfill it on her behalf.
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جوان کی ماں کے ذمہ تھی اور نذر پوری کرنے سے پہلے ہی ان کی موت ہو گئی تھی؟ آپ نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Sa'd consulted the Messenger of Allah about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: 'Fulfill it on her behalf.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، تو آپ نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو“۔
It was narrated that Al-Harith bin Miskin said, it being read to him while I was listening: From Sufyan, from Az-Zuhri, from 'Ubaidullah bin 'Abdullah, from Ibn 'Abbas, that Sa'd bin 'Ubadah consulted the Prophet about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: 'Fulfill it on her behalf.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور جسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ مر گئیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”اسے تم ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
Muhammad bin 'Abdullah bin Yazid said: Sufyan narrated to us from Az-Zuhri, from 'Ubaidullah bin 'Abdullah, from Ibn 'Abbas, that Sa'd said: 'My mother died and there was an (outstanding) vow that she had to fulfill. I asked the Prophet and he told me to fulfill it on her behalf.'
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میری ماں مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Sa'd bin 'Ubadah Al-Ansari consulted the Messenger of Allah about an (outstanding) vow that his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah said: 'Fulfill it on her behalf.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: Sa'd bin 'Ubadah came to the Prophet and said: My mother has died and she had a vow to fulfill but she did not do so. He said: Fulfill it on her behalf.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں انتقال کر گئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کر سکی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو“۔
It was narrated that Sa'd bin 'Ubadah said: I said: 'O Messenger of Allah, my mother has died; shall I give in charity on her behalf?' He said: 'Yes.' I said: 'What kind of charity is best?' He said: 'Providing drinking water.'
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( پیاسوں کو ) پانی پلانا“ ۱؎۔
It was narrated that Sa'd bin 'Ubadah said: I said: 'O Messenger of Allah, what kind of charity is best?' He said: 'Providing drinking water.'
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کہا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ ۱؎۔
It was narrated from Sa'd bin 'Ubadah that his mother died. He said: O Messenger of Allah, my mother has died; can I give charity on her behalf? He said: Yes. He said: What kind of charity is best? He said: Providing drinking water. And that is the drinking-fountain of Sa'd in Al-Madinah.
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ان کی ماں مر گئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ تو یہ ہے مدینہ میں سعد رضی اللہ عنہ کی پانی کی سبیل۔
It was narrated that Abu Dharr said: The Messenger of Allah said to me: 'O Abu Dharr, I think that you are weak, and I like for you what I like for myself. Do not accept a position of Amir over two people, and do not agree to be the guardian of an orphan's property.'
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں ( لہٰذا تم ) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا“ ۱؎۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that a man came to the Prophet and said: I am poor and I do not have anything, and I have an orphan (under my care). He said: Eat from the property of your orphan without being extravagant, wasteful or keeping it as capital for yourself.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں محتاج و فقیر ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور میری سرپرستی میں ایک یتیم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یتیم کے مال سے کھا لیا کرو ( لیکن دیکھو ) فضول خرچی اور اسراف مت کرنا اور نہ ہی یتیم کا مال لے لے کر اپنا مال بڑھانا“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: When these Verses were revealed - 'And come not near to the orphan's property, except to improve it,' and 'Verily, those who unjustly eat up the property of orphans' - the people avoided the property and food of the orphans. That caused hardship to the Muslims and they complained about that to the Prophet. Then Allah revealed: 'And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers. And Allah knows him who means mischief (e.g. to swallow their property) from him who means good (e.g. to save their property). And if Allah had wished, He could have put you into difficulties.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ”یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو ( یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ) “ ( الأنعام: ۱۵۲ ) اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ”اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں ( وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں“ ( النساء: ۱۰ ) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے ( اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے ) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق ( دشوار ) ہو گئی، چنانچہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير» سے «لأعنتكم» ”اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۰ ) تک نازل فرمائی ۳؎۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said -concerning the Verse: Verily, those who unjustly eat up the property of orphans -A man would have an orphan in his care, and he would keep his food, drink and vessels separate. This caused hardship to the Muslims, so Allah, the Mighty and Sublime, revealed: And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers (in religion), so it is permissible for you to mix with them.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما
آیت کریمہ: «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کر دیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «وإن تخالطوهم فإخوانكم» ”اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں“ ( البقرہ: ۲۲۰ ) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا۔