It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: The Messenger of Allah addressed us and said: 'Whoever has land, let him cultivate it or give it to someone else to cultivate, and let him not rent it out.'
جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا اور کہا: جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا کسی سے اس میں ( بلا کرایہ لیے ) کھیتی کرائے اور اسے کرائیے پر نہ دے ۔
It was narrated from Jabir who attributed it to the Prophet: That he forbade leasing out land.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا۔ زمین کو کرائے پر نہ دینے کے سلسلہ میں ( روایت کرنے میں ) عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے مطر کی موافقت کی ہے۔
It was narrated from Jabir that the Prophet forbade Al-Mukhabarah, Al-Muzabanah and Al-Muhaqalah, and selling fruit until it is fit to eat (ripe enough), except in the case of Al-'Araya.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مخابرہ اور مزابنہ، محاقلہ سے اور ان پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے جو ابھی کھانے کے قابل نہ ہوئے ہوں، سوائے بیع عرایا کے ۱؎۔ یونس بن عبید نے اس کی متابعت کی ہے۔
It was narrated from Jabir that the Prophet forbade Al-Muhaqalah, Al-Muzabanah, Al-Mukhabarah and exceptions when selling, unless they were well-defined.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ و مزابنہ اور مخابرہ نامی بیع سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔ ( آگے آنے والی ) ہمام بن یحییٰ کی روایت میں گویا یہ دلیل ہے کہ عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے ان کی یہ حدیث نہیں سنی ہے ۲؎ جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جس کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے۔
Jabir narrated that the Messenger of Allah said: Whoever has land, let him cultivate it or give it to his brother to cultivate, and not lease it to his brother.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی سے اس میں ( بلا کرایہ لیے ) کھیتی کرائے لیکن اسے اپنے بھائی کو کرائیے پر نہ دے ۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah: The Prophet forbade Al-Haql and it is Al-Muzabanah.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «حقل» ( تہائی، چوتھائی پر بیع ) ، اور یہی مزابنہ ہے، سے منع فرمایا۔ ہشام نے معاویہ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے «عن یحییٰ عن ابی سلمہ عن جابر» کی سند سے روایت کیا ہے۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Prophet forbade Al-Muzabanah and Al-Mukhadarah. He (one of the narrators) said: Al-Mukhadarah means selling fruit before it ripens and Al-Mukhabarah means selling grapes in return for a certain number of Sa's.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور مخاضرہ سے منع فرمایا ہے۔ اور کہا مخاضرہ: پھل کو پکنے سے پہلے بیچنا اور مخابرہ ( درخت کی ) انگور کو خشک انگور کے اتنے اتنے صاع کے بدلے بیچنا ہے۔ اس میں عمرو بن ابی سلمہ نے یحییٰ کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے اپنے باپ ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ نے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ محمد بن عمرو نے عمر بن ابی سلمہ اور یحییٰ دونوں کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: The Messenger of Allah forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسود بن علاء نے ان سب کی مخالفت کی ہے، اور حدیثوں روایت کی ہے: عن ابی سلمۃ عن رافع بن خدیج ۔
It was narrated from Rafi' bin Khadij that the Messenger of Allah forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ و مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسے قاسم بن محمد نے بھی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
It was narrated from 'Uthman bin Murrah who said: I asked Al-Qasim about Al-Muzara'ah, so he narrated from Rafi' bin Khadij that the Messenger of Allah forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ
میں نے قاسم سے بٹائی پر کھیت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی نے دوسری مرتبہ ( روایت کرتے ہوئے ) کہا۔
Rafi' bin Khadij said that the Messenger of Allah forbade leasing land.
عثمان بن مرہ کہتے ہیں کہ
میں نے قاسم سے زمین کرائے پر دینے کے سلسلے میں پوچھا تو وہ بولے: رافع بن خدیج نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ اس حدیث کی روایت میں سعید بن مسیب پر اختلاف واقع ہوا ہے۔
It was narrated that Abu Ja'far Al-Khatmi - whose name was 'Umair bin Yazid - said: My paternal uncle sent me with a slave of his, to Sa'eed bin Al-Musayyab to ask him about Al-Muzara'ah. He said: 'Ibn 'Umar did not see anything wrong with it, until he heard the Hadith from Rafi' bin Khadij. Then he met him, and Rafi' said: The Prophet came to Banu Harithah and saw some crops. He said: 'How good are the crops of Zubair.' They said: 'It is not Zubair's.' He said: 'Is the land not Zubair's?' They said: 'No (it is not his), rather he is leasing it.' The Messenger of Allah said: 'Take your crops and give him what he spent.' So we took our crops, and gave him what he had spent.
ابوجعفر خطمی جن کا نام عمیر بن یزید ہے، کہتے ہیں کہ
میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک بچے کو سعید بن مسیب کے پاس بٹائی پر زمین دینے کے بارے میں مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پہنچی تو وہ ان سے ملے۔ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی حارثہ کے پاس آئے تو ایک کھیتی کو دیکھ کر فرمایا: ظہیر کی کھیتی کس قدر اچھی ہے! لوگوں نے عرض کیا: یہ ( کھیتی ) ظہیر کی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ ظہیر کی زمین نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن انہوں نے اسے بٹائی پر اٹھا رکھا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کھیتی لے لو اور اس پر آنے والی خرچ اسے دے دو ، تو ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور ان کا خرچہ انہیں لوٹا دیا۔ اسے طارق بن عبدالرحمٰن نے بھی سعید بن مسیب سے روایت کیا اور اس میں طارق سے روایت کرنے میں اختلاف ہوا ہے۔
It was narrated that Rafi' bin Khadij said: The Messenger of Allah forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah, and said: 'Only three may cultivate: A man who has land which he cultivates; a man who was given some land and cultivates what he was given; and a man who takes land on lease for gold or silver.'
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ۱؎ اور فرمایا: کھیتی تین طرح کے لوگ کرتے ہیں: ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً ( بلامعاوضہ ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی ( نقد ) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔ اس حدیث کو اسرائیل نے طارق سے روایت کرتے ہوئے دونوں ٹکڑوں کو الگ الگ کر دیا ہے، پہلے ٹکڑے ۲؎ کو مرسلاً ( بطور کلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) روایت کیا اور دوسرے ٹکڑے کو سعید بن مسیب کا قول بتایا ہے۔
It was narrated that Sa'eed said: The Messenger of Allah forbade Al-Muhaqalah. Sa'eed said: And he narrated something similar. And Sufyan Ath-Thawri reported it from Tariq.
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا، پھر راوی ( اسرائیل ) نے دوسری بات کو اسی طرح بیان کیا ( یعنی دوسرا قول ابن المسیب کا ہے ) ، اسے طارق سے سفیان ثوری نے بھی روایت کیا ہے۔
It was narrated that Tariq said: I heard Sa'eed bin Al-Musayyab say: 'Cultivating land is not allowed except in three cases: Land which one owns, land which is given to one, or land which one rents in return for gold and silver.'
طارق کہتے ہیں کہ
میں نے سعید بن مسیب کو کہتے سنا: تین قسم کی زمینوں کے علاوہ میں کھیتی درست نہیں: وہ زمین جو کسی کی اپنی ملکیت ہو، یا وہ اسے عطیہ دی گئی ہو، یا وہ زمین جسے آدمی سونے چاندی کے بدلے کرائے پر لی ہو۔ زہری نے صرف پہلی بات سعید بن سعید سے مرسلاً روایت کی۔
It was narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab that the Messenger of Allah forbade Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ اسے محمد بن عبدالرحمٰن بن لبیبہ نے سعید بن المسیب سے روایت کیا ہے اور «عن سعد بن أبي وقاص» کہا ہے۔
It was narrated that Sa'd bin Abi Waqqas said: At the time of the Messenger of Allah landowners used to lease their arable land in return for whatever grew on the banks of the streams for irrigation. They came to the Messenger of Allah and referred a dispute concerning such matters to him, and the Messenger of Allah forbade them to lease land on such terms, and said: 'Lease it for gold or silver.'
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کھیتوں والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے کھیت کرائیے پر اس اناج کے بدلے دیا کرتے تھے جو کھیتوں کی مینڈھوں پر ہوتا ہے۔ تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس سلسلے میں کسی چیز کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا۔ تو آپ نے انہیں اس کے ( غلہ کے ) بدلے کرائے پر دینے سے منع فرما دیا اور فرمایا: سونے چاندی کے بدلے کرائے پر دو ۔ اس حدیث کو سلیمان بن یسار نے بھی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنے چچاؤں میں کسی چچا کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
It was narrated that Rafi' bin Khadij said: At the time of the Messenger of Allah we used to lease land on the basis of Al-Muhaqalah, so we would lease it in return for one-third or one-quarter of the yield, or a specified amount of food (produce). One day, a man among my paternal uncles came and said 'The Messenger of Allah has forbidden me to do something that was beneficial for us, but obedience to Allah and His Messenger is more beneficial for us. He has forbidden us to lease land on the basis of Al-Muhaqalah and to lease it in return for one-third or one-quarter of the yield, and for a specified amount of food (produce). And he commanded the landowner to cultivate it (himself) or to give it to someone else to cultivate. He did not like leasing it or anything else.'
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، ہم اسے تہائی یا چوتھائی یا غلہ کی متعینہ مقدار کے عوض کرائیے پر دیتے تھے۔ تو ایک دن میرے ایک چچا آئے اور انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاملے سے روک دیا جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے، آپ نے ہمیں زمین میں بٹائی کا معاملہ کر کے انہیں تہائی اور چوتھائی یا متعینہ مقدار کے غلے کے بدلے کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے۔ اور زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ اس میں کھیتی کرے، یا اس میں ( بلا کرایہ لیے ) کھیتی کرائے اور اسے کرائے پر اٹھانا یا اس کے علاوہ جو صورتیں ہوں انہیں ناپسند فرمایا۔ ایوب نے اس حدیث کو یعلیٰ سے نہیں سنا ہے، ( بلکہ بذریعہ کتابت روایت کی ہے جیسا کہ اگلی سند سے ظاہر ہے ) ۔
It was narrated from Ayyub who said: Ya'la bin Al-Hakim wrote to me (saying): 'I heard Sulaiman bin Yasar narrating from Rafi' bin Khadij, who said: We used to lease land on the basis of Al-Muhaqalah, leasing it in return for one-third or one-quarter of the yield, and a specified amount of food (produce). '
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم زمین میں بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے، ہم اسے تہائی اور چوتھائی اور غلہ کی مقررہ مقدار کے بدلے کرائیے پر دیتے تھے۔ سعید نے بھی اسے یعلیٰ بن حکیم سے روایت کیا ہے۔