It was narrated that 'Amr bin Dinar said: I heard Ibn 'Umar say: 'We used to sell grain before it was ripe and before it was evident that it was free of disease and blight (by means of Al-Mukhabarah). We did not see anything wrong with that, until Rafi' bin Khadij said that the Messenger of Allah had forbidden Al-Mukhabarah.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم لوگ مخابرہ کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
Amr bin Dinar said: I bear witness that I heard Ibn 'Umar asking about Al-Khibr (the agreement to Al-Mukhabarah) and he said: 'We did not see anything wrong with that, until Ibn Khadij told us earlier that he heard the Messenger of Allah forbidding Al-Khibr.' Hammad bin Zaid was in accord with the two of them.
ابن جریج کہتے ہیں کہ
میں نے عمرو بن دینار کو کہتے سنا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا اور وہ مخابرہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ ہمیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ( خلافت یزید کے ) پہلے سال ۱؎ میں خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخابرہ سے منع فرماتے سنا ہے۔ ان دونوں ( سفیان و ابن جریج ) کی موافقت حماد نے کی ہے۔
It was narrated that 'Amr bin Dinar said: I heard Ibn 'Umar say: 'We did not see anything wrong with Al-Khibr until last year, when Rafi' said that the Prophet of Allah forbade it.'
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب پہلا سال ہوا تو رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔ «عارم» محمد بن فضل نے یحییٰ بن عربی کی مخالفت کی ہے۔ اور اسے بسند «عن حماد عن عمرو عن جابر» روایت کیا ہے۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Prophet forbade leasing land.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ محمد بن مسلم طائفی نے حماد کی متابعت کی ہے۔
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah forbade Al-Mukhabarah, Al-Muhaqalah and Al-Muzabanah.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ سفیان بن عیینہ نے دونوں حدیثوں کو جمع کر کے ہے اور«عن ابن عمر و جابر» کہا ہے۔
It was narrated from Ibn 'Umar and Jabir that the Messenger of Allah forbade selling fruits until it was clear that they were free of blemish, and (he forbade from) Al-Mukhabarah; leasing land in return for one-third or one-quarter (of the yield).
عبداللہ بن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کا پختہ ہو جانا واضح ہو جائے۔ نیز آپ نے مخابرہ یعنی زمین کو تہائی یا چوتھائی ( پیداوار ) کے بدلے کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اسے ابوالنجاشی عطاء بن صہیب نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں ان سے روایت میں ان کے تلامذہ نے اختلاف کیا ہے۔
Rafi' bin Khadij narrated that the Messenger of Allah said to Rafi': Do you rent out your arable land? I said: Yes, O Messenger of Allah. We rent it out in return for one-quarter, and in return for (a number of) Wasqs of barley. The Messenger of Allah said: Do not do that. Cultivate it (yourselves), or lend it, or keep it.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنے کھیتوں کو اجرت پر دیتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم انہیں چوتھائی اور کچھ وسق جو پر بٹائی دیتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، ان میں کھیتی کرو یا عاریتاً کسی کو دے دو، یا اپنے پاس رکھو ۔ اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر کی مخالفت کی ہے اور «عن رافع عن ظہیر بن رافع» کہا ہے۔
It was narrated that Rafi' said: Zuhair bin Rafi' came to us and said: 'The Messenger of Allah forbade me to do something that was convenient for us.' I said: 'What was that?' He said: 'The command of the Messenger of Allah is true. He asked me: What do you do with your land? I said: We rent it out in return for one-quarter (of the yield) and a number of Wasqs of dates or barley. He said: Do not do that. Cultivate it, give it to someone else to cultivate, or keep it.'
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمارے پاس ( ہمارے چچا ) ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے آ کر کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چیز سے روکا ہے جو ہمارے لیے مفید و مناسب تھی۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور وہ سچا ( برحق ) ہے، آپ نے مجھ سے پوچھا: تم اپنے کھیتوں کا کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی پیداوار اور کچھ وسق کھجور یا جو کے بدلے کرائے پر اٹھا دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو، یا تو ان میں خود کھیتی کرو یا پھر دوسروں کو کرنے کے لیے دے دو، یا انہیں یوں ہی روکے رکھو ۔ بکیر بن عبداللہ بن اشج نے اسے اسید بن رافع سے روایت کیا ہے، اور اسے رافع کے بھائی سے روایت کیا ہے۔
It was narrated from Usaid bin Rafi' bin Khadij that the brother of Rafi' said to his people: Today the Messenger of Allah has forbidden something which was convenient for you, but following his command is an act of obedience (to Allah) and is good. He forbade Al-Haql.
اسید بن رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ
رافع کے بھائی نے اپنے قبیلے سے کہا: آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیز سے منع فرمایا ہے، جو تمہارے لیے سود مند تھی اور آپ کا حکم ماننا واجب، آپ نے بیع محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Hurmuz said: I heard Usaid bin Rafi' bin Khadij Al-Ansari say that they did not allow Al-Muhaqalah, which is land that is cultivated in return for some of its produce.
عبدالرحمٰن بن ہرمز کہتے ہیں کہ
میں نے اسید بن رافع بن خدیج انصاری کو بیان کرتے سنا کہ انہیں ( یعنی صحابہ کو ) بیع محاقلہ سے روک دیا گیا ہے، بیع محاقلہ یہ ہے کہ زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے بدلے کھیتی کرنے کے لیے دے دیا جائے۔ اسے عیسیٰ بن سہل بن رافع نے بھی روایت کیا ہے۔
Eisa bin Sahl bin Rafi' bin Khadij narrated: I was an orphan in the care of my grandfather Rafi' bin Khadij. I reached puberty and became a man, and I performed Hajj with him. My brother 'Imran bin Sahl bin Rafi' bin Khadij came and said: 'O my father, we have leased our land to so and so (a woman) for two hundred Dirhams.' He said: 'O my son, leave that (do not do it), for Allah will give you other provision. The Messenger of Allah forbade leasing land.'
عیسیٰ بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ
میں یتیم تھا اور اپنے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پا رہا تھا، میں جوان ہوا اور میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل بن رافع بن خدیج آئے اور کہا: اے ابا جان ( دادا جان ) ! ہم نے اپنی زمین فلاں عورت کو دو سو درہم پر کرائے پردے دی ہے۔ انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسے چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے علاوہ روزی دے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر دینے سے روک دیا ہے۔
It was narrated that 'Urwah bin Az-Zubair said: Zaid bin Thabit said: 'May Allah forgive Rafi' bin Khadij. By Allah, I have more knowledge of the Hadith than him. We were two men who fought and the Messenger of Allah said: If this is how it is between you, then do not lease land. And he only heard the words: Do not lease land.'
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی مغفرت فرمائے۔ اللہ کی قسم! میں یہ حدیث ان سے زیادہ جانتا ہوں، دو آدمی جھگڑ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا یہ حال ہے تو تم کھیتوں کو کرائے پر مت دیا کرو ، تو رافع نے آپ کا صرف یہ قول سن لیا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ۔
Ibn 'Awn said: Muhammad used to say: 'In my view land is like the wealth put into a Mudarabah (limited partnership) contract. Whatever is valid with regard to the wealth put into a Mudarabah partnership, is valid with regard to land, and whatever is not valid with regard to the wealth put into a Mudarabah partnership, then it is not valid with regard to land.' He said: He did not see anything wrong with giving all of his land to the plowman on the basis that he would work with it himself, or with his children, and helpers, and oxen, and, that he would not spend anything on it; all expenses were to be paid by the owner of the land.
ابن عون کہتے ہیں کہ
محمد ( محمد بن سیرین ) کہا کرتے تھے: میرے نزدیک زمین مضاربت کے مال کی طرح ہے، تو جو کچھ مضاربت کے مال میں درست ہے، وہ زمین میں بھی درست ہے، اور جو مضاربت کے مال میں درست نہیں، وہ زمین میں بھی درست نہیں، وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ وہ اپنی زمین کاشتکار کے حوالے کر دیں اس شرط پر کہ وہ ( کاشتکار ) خود اپنے آپ، اس کے لڑکے، اس کے دوسرے معاونین اور گائے بیل اس میں کام کریں گے اور وہ اس میں کچھ بھی خرچ نہیں کرے گا بلکہ تمام مصارف زمین کے مالک کی طرف سے ہوں گے ۱؎۔
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet gave the datepalms of Khaibar and their land to the Jews of Khaibar, on condition that they would take care of them at their expense, and the Messenger of Allah would have half of whatever they produced.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اس میں اپنے خرچ پر کام کریں گے اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا۔
It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet gave the datepalms of Khaibar and their land to the Jews of Khaibar on condition that they would take care of them at their expense, and the Messenger of Allah would have half of their fruits.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود خیبر کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اپنے خرچ پر اس میں کام کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کے پھل کا آدھا ہو گا۔
It was narrated from Nafi' that 'Abdullah bin 'Umar used to say: Arable land used to be leased out at the time of the Messenger of Allah on condition that the owner of the land would have whatever grew on the banks of the streams and a share of straw, I do not know how much it was.
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھیت بٹائی پر دیے جاتے تھے اس شرط پر کہ زمین کے مالک کے لیے وہ پیداوار ہو گی جو نالیوں اور نہروں کی کیاریوں پر ہو اور کچھ گھاس جس کی مقدار مجھے معلوم نہیں۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Al-Aswad said: Two of my paternal uncles used to cultivate (land) in return for one-third or one-quarter of the crop, and my father was their partner. 'Alqamah and Al-Aswad knew about that and did not change anything.
عبدالرحمٰن بن اسود کہتے ہیں کہ
میرے دو چچا تہائی اور چوتھائی پر کھیتی کرتے تھے اور میرے والد ان کے شریک ہوتے تھے۔ علقمہ اور اسود کو یہ بات معلوم تھی مگر وہ کچھ نہ کہتے تھے۔
Sa'eed bin Jubair said: Ibn 'Abbas said: 'The best thing you can do is for one of you to rent his land out in return for gold and silver.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ
جو کچھ تم کرتے ہو اس میں سب سے بہتر یہ ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین سونے، چاندی کے بدلے کرائے پردے۔
It was narrated from Ibrahim and Sa'eed bin Jubair that they did not see anything wrong with renting uncultivated land.
ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ
وہ دونوں خالی زمین کو کرائے پر اٹھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
It was narrated that Muhammad said: I do not know that Shuraih ever ruled on Mudarabah disputes except in two ways. He would say to the Mudarib (the one who contributed his labor to the partnership): 'You must provide proof that a calamity befell you so that you may be excused.' Or he would say to the one who invested his money in the partnership: 'You must provide proof that your trustee betrayed his trust, otherwise his oath sworn by Allah that he did not betray you is sufficient.'
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ
مجھے معلوم ہے کہ شریح مضارب ۱؎ کے سلسلے میں صرف دو طرح کے فیصلے دیتے تھے، کبھی مضارب سے کہتے کہ تم اس مصیبت پر گواہ لے کر آؤ جس کی وجہ سے تم معذور قرار دیئے جاؤ، اور کبھی صاحب مال سے کہتے: تم اس بات کا گواہ لے کر آؤ کہ تمہارے امین ( مضارب ) نے خیانت کی ہے۔ ورنہ اس سے اللہ کی قسم لی جائے گی کہ اس نے خیانت نہیں کی ہے۔