It was narrated from Ma'dam bin Abi Talhah that 'Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ said:
O people, you eat of two plants which I do not think are anything but bad, this onion and garlic. I have seen the Prophet of Allah (ﷺ), if he noticed their smell coming from a man, ordering that he be taken out to Al-Baqi'. Whoever eats them, let him cook them to death.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا: ہم سے قتادہ نے سلیم بن ابی الجعد سے اور معدن بن ابی طلحہ کی سند سے, عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
لوگو! تم ان دونوں پودوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں خبیث ہی سمجھتا ہوں ۱؎ یعنی اس پیاز اور لہسن سے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان میں سے کسی کی بدبو پاتے تو اسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیتے، تو اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان دونوں کو کھائے تو پکا کر ان کی بو کو مار دے۔
It was narrated that 'Aishah said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to observe I'tikaf, [2] he would pray Fajr then enter the place where he wnated to observe I'tikaf. He wanted to observe I'tikaf during the last ten days of Ramadan, so he commanded that a Khiba' (tent) be pitched for him. Then Hafsah ordered that a Khiba' be pitched for her, and when Zainab رضی اللہ عنہا saw her tent she ordered that a Khiba' be pitched for her too. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw that he said: 'Is it righteousness that you seek?' And he did not observe I'tikaf in Ramadan, and observed I'tikaf for ten days in Shawwal (instead).
ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے عمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر پڑھتے، پھر آپ اس جگہ میں داخل ہو جاتے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے، چنانچہ آپ نے ایک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، تو آپ نے ( خیمہ لگانے کا ) حکم دیا تو آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، پھر جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سال ) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا ( اور اس کے بدلے ) شوال میں دس دنوں کا اعتکاف کیا۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
Sa'd رضی اللہ عنہ was wounded on the day of Al-Khandaq [1] when a man of Quraish shot him in the medial arm vein. The Messenger of Allah (ﷺ) pitched a tent (Khaimah) for him in the Masjid so that he could visit him close at hand.
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ میں تیر مارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
It was narrated from 'Amr bin Sulaim Az-Zuraqi that he heard Abu Qatadah رضی اللہ عنہ say:
While we were sitting in the Masjid. The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us carrying Umamah bint Abi Al-'As bin Ar-Rabi', whose mother was Zainab, the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ). She was a little girl and he was carrying her. The Messenger of Allah (ﷺ) prayed with her on his shoulder, putting her down when he bowed and picking her up again when he stood up, until he completed his prayer.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے سعید بن ابی سعید کی سند سے اور عمرو بن سلیم الزرقی کی سند سے بیان کیا, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامہ بنت ابی العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کو ( گود میں ) اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، ( ان کی ماں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا ہیں ) امامہ ایک ( کمسن ) بچی تھیں، آپ انہیں اٹھائے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے نماز پڑھائی، جب رکوع میں جاتے تو انہیں اتار دیتے، اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں پھر گود میں اٹھا لیتے، ۱؎ یہاں تک کہ اسی طرح کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کی۔
It was narrated from Sa'eed bin Abi Sa'eed that he heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say:
The Messenger of Allah (ﷺ) sent some horsemen toward Najd, and they brought back a man from Banu Hanifah who was called Thumamah bin Uthal, the chief of the people of Al-Yamamah. Then he was tied to one of the pillars of the Masjid.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو قبیلہ نجد کی جانب بھیجا، تو وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو ( گرفتار کر کے ) لائے، جو اہل یمامہ کا سردار تھا، اسے مسجد کے کھمبے سے باندھ دیا گیا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ) performed Tawaf during the Farewell Pilgrimage atop a camel, touching the Rukn [1] with a stick that was bent at the top. [1] The corner of the Ka'bah in which the Black Stone is situated.
ہم سے سلیمان بن داؤد نے ابن وہب کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے اور عبید اللہ بن عبداللہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا، آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:
The Prophet (ﷺ) forbade sitting in circles on Friday before Jumu'ah prayer, and buying and selling in the Masjid.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: مجھ سے یحییٰ بن سعید نے ابن عجلان سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے، اور مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:
The Prophet (ﷺ) forbade reciting poetry in the Masjid.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث بن سعد نے ابن عجلان کی سند سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔
It was narrated that Sa'eed bin Al-Musayyab said:
Umar رضی اللہ عنہ passed by Hassan bin Thabit while he was reciting poetry in the Masjid, and glared at him. He said: 'I recited poetry when there was someone better than you in the Masjid.' Then he turned to Abu Hurairah رضی اللہ عنہ and said: 'Did you not hear the Messenger of Allah (ﷺ) when he said: Answer back on my behalf. O Allah, help him with the Holy Spirit!' He said: 'Yes, by Allah.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے بیان کیا, سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، تو عمران رضی اللہ عنہ کی طرف گھورنے لگے، تو انہوں نے کہا: میں نے ( مسجد میں ) شعر پڑھا ہے، اور اس میں ایسی ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی، پھر وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( مجھ سے ) یہ کہتے نہیں سنا کہ تم میری طرف سے ( کافروں کو ) جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرما! ، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا! ہاں ( سنا ہے ) ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
A man came making announcement of a lost camel in the Masjid, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'May you never find it!'
ہم سے محمد بن وہب نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن سلمہ نے ابو عبدالرحیم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے زید بن ابی انیسہ نے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی آ کر مسجد میں ایک گمشدہ چیز ڈھونڈنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کرے تو نہ پائے ۔
Sufyan said: I said to 'Amr:
'Did you hear Jabir رضی اللہ عنہ say: A man passed through the Masjid carrying arrows, and the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: 'Hold then by the blades.'? He said: 'Yes.'
ہم سے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن اور محمد بن منصور نے بیان کیا, سفیان ثوری کہتے ہیں کہ
میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں کچھ تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ان کی پیکان پکڑ کر رکھو ، تو عمرو نے کہا: جی ہاں ( سنا ہے ) ۔
It was narrated that Al-Aswad said:
Alqamah and I entered upon 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ and he said to us: 'Have these people prayed?' We said: 'No.' He said: 'Get up and pray.' So we went to stand behind him, and he put one of us on his right and the other on his left, and he prayed with no Adhan and no Iqamah. When he bowed he interlaced his fingers and placed his hands between his knees, and he said: 'I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing that.'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا: ہم سے العمش نے ابراہیم کی سند سے بیان کیا, اسود کہتے ہیں کہ
میں اور علقمہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو آپ نے ہم سے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، تو آپ نے کہا: اٹھو نماز پڑھو، ہم چلے تاکہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوں، تو آپ نے ہم میں سے ایک کو اپنی داہنی طرف، اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف کر لیا، پھر بغیر کسی اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر لیتے، اور دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیتے ، اور ( نماز کے بعد ) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
It was narrated that Sulaiman said:
I heard Ibrahim (narrate) from 'Alqamah and Al-Aswad from 'Abdullah رضی اللہ عنہ , and he narrated something similar.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سلیمان سے، انہوں نے کہا
میں نے ابراہیم کو سنا, اس سند سے علقمہ اور اسود نےعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے۔
It was narrated from 'Abbad bin Tamim, from his paternal uncle, that:
He saw the messenger of Allah (ﷺ) lying on his back in the Masjid, placing one leg on top of the other.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عباد بن تمیم کی سند سے، اپنے چچا سے
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اپنے ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھ کر پیٹھ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
When he was young and single, with no family, at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), he used to sleep in the Masjid of the Prophet (ﷺ).
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، عبید اللہ کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جب وہ نوجوان اور غیر شادی شدہ تھے تو مسجد نبوی میں سوتے تھے۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Spitting in the Masjid is a sin, and its expiation is to bury it.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عوانہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفارہ اسے مٹی ڈال کر دبا دینا ہے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ) saw some sputum on the Qiblah wall. He scrapped it off then he turned to the people and said: When any one of you is praying, let him not spit in front of him, for Allah is in front of him when he prays.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ والی دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے رگڑ دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرہ کی جانب ہرگز نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) saw some spittle in the Qiblah of the Masjid. He scratched it off with a pebble and forbade a man to spit to his front or to his right. He said: Let him spit to his left or beneath his left foot.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے اور حمید بن عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ ( والی دیوار پر ) بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ دیا، اور لوگوں کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے روکا، اور فرمایا: ( جنہیں ضرورت ہو ) وہ اپنے بائیں تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے ۔
It was narrated that Tariq bin 'Abdullah Al-Muharibi رضی اللہ عنہ said:
'When you are praying, do not spit to the front or to your right. Spit behind you or to your left if there is no one there, otherwise do this.' And he spat beneath his foot and rubbed it.'
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے سفیان کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے منصور نے ربیع کی سند سے بیان کیا, طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے اور اپنے داہنے ہرگز نہ تھوکو، بلکہ اپنے پیچھے تھوکو، یا اپنے بائیں تھوکو، بشرطیکہ بائیں طرف کوئی نہ ہو، ورنہ اس طرح کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیر کے نیچے تھوک کر اسے مل دیا۔
It was narrated from Abu Al-'Ala' bin Ash-Shikhir رضی اللہ عنہ that his father said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) spit and then rub it with his left foot.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ نے سعید الجریری کی سند سے، ابو العلا بن الشخیر سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا:شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے کھکھار کر تھوکا، پھر اسے اپنے بائیں پیر سے رگڑ دیا۔