It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) saw some sputum in the Qiblah of the Masjid, and he became so angry that his face turned red. Then a woman from the Ansar went and scratched off, and put some perfume in its place. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'How good this is.'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عائذ بن حبیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حمید الطویل نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کر دیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کیا ہی اچھا کیا ۔
It was narrated that 'Abdul-Malik bin Sa'eed said: I heard Abu Humaid and Abu Usaid رضی اللہ عنہم say:
'The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you enters the Masjid, let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of your mercy). And when he leaves let him say: Allahumma inni as'aluka min fadlik (O Allah, I ask You of Your bounty).'
ہم سے سلیمان بن عبید اللہ الغیلانی البصری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عامر نے بیان کیا، کہا: ہم سے سلیمان نے ربیعہ کی سند سے، عبدالمالک بن سعید کی سند سے، انہوں نے کہا: ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں پڑھے ۔
It was narrated from Abu Qatadah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you enters the Masjid, let him pray two Rak'ahs before he sits down.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے مالک نے، عامر بن عبداللہ بن زبیر سے، عمرو بن سلیم کی سند سے بیان کیا, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے ۔
Abdullah bin Ka'b رضی اللہ عنہ said:
I heard Ka'b bin Malik telling the story of when he stayed behind from going out on the campaign of Tabuk with the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) came back in the morning, and when he came back from a journey he would go to the Masjid first and pray two Rak'ahs there, then he would sit to (meet with) the people. When he did that, those who had stayed behind came to him and started giving their excuses, swearing by Allah. There were eighty-odd men, and the Messenger of Allah (ﷺ) accepted what they declared and accepted their oaths of allegiance; he prayed for forgiveness for them and left whatever was in their hearts to Allah. Then when I came and greeted him, he smiled as one who is angry, then he said: 'Come here.' So I came and sat in front of him, [1] and he said: 'What kept you behind? Did you not buy a mount?' I said: 'O Messenger of Allah, if I were to sit before anyone other than you of those who hold high positions in this world, I would find a way to avoid his anger. I am an eloquent man but, by Allah, I know that if I were to tell you a lie today to make you pleased with me, Allah would soon make you angry with me, but if I tell you the truth, it will make you angry with me, but I will still have the hope that Allah may forgive me. I have never been in a better position, physically or financially, than the time when I stayed behind and did not join you.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This man has spoken the truth. Go away until Allah decides concerning you.' So I got up and went away. This is an abridged version of narration. [1] It is this which the author cited the narration for. While the absence of the mention of a thing - in this case prayer - is not a proof that it does not exist.
ہم سے سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے یونس کی سند سے بیان کیا, ابن شہاب نے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے بیان کیا, عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کر لیا، اور ان سے بیعت کر لی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: آ جاؤ! چنانچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۱؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتوراور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے ، چنانچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔
It was narrated that Abu Sa'eed bin Al-Mu'alla رضی اللہ عنہ said:
We used to go to the marketplace in the morning at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and we would pass through the Masjid and pray there.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم بن عیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعیب نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، ابن ابی ہلال کی سند سے، کہا: مجھ سے مروان بن عثمان نے بیان کیا، ان سے عبید بن حنین نے بیان کیا، ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بازار جاتے تو مسجد سے گزرتے، تو اس میں نماز پڑھتے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: The angels send Salah upon any one of you so long as he is in the place where he prays, and so long as he does not invalidate his ablution, (saying): 'O Allah, forgive him, O Allah, have mercy on him.'
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما ۔
Sahl As-Sa'idi رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever is in the Masjid waiting for the prayer, he is in a state of prayer.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بکر بن مضر نے عیاش بن عقبہ کی سند سے بیان کیا کہ ان سے یحییٰ بن میمون نے بیان کیا, سہل ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز ہی میں رہتا ہے ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) forbade praying in the camel pens. [1] A'tan: Kneeling places, or, where they kneel to drink water.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے اشعث کی سند سے اور حسن کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے روکا ہے۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The earth has been made for me a place of prostration and a means of purification, so wherever a man of my Ummah is when the time for prayer comes, let him pray.'
ہم سے حسن بن اسماعیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے سیار نے بیان کیا، یزید فقیر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پوری روئے زمین ۱؎ میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، میری امت کا کوئی بھی آدمی جہاں نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
Umm Sulaim رضی اللہ عنہا asked the Messenger of Allah (ﷺ) to come to her and pray in her house so that she could take (the place where he prayed) as a Musalla (prayer place). So he came to her and she went and got a reed mat and sprinkled it with water, and he prayed on it, and they prayed with him.
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید الاموی نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کے پاس تشریف لا کر ان کے گھر میں نماز پڑھ دیں تاکہ وہ اسی کو اپنی نماز گاہ بنا لیں ۱؎، چنانچہ آپ ان کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے چٹائی لی اور اس پر پانی چھڑکا، پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی، اور آپ کے ساتھ گھر والوں نے بھی نماز پڑھی۔
It was narrated from Maimunah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray on a mat.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے شعبہ کی سند سے، سلیمان کی سند سے، یعنی الشیبانی نے، عبداللہ بن شداد کی سند سے بیان کیا,ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔
Abu Hazim bin Dinar narrated that:
Some men came to Sahl bin Sa'd As-Sa'idi رضی اللہ عنہ . They were wondering what kind of wood the Minbar was made of, so they asked him about that. He said: By Allah, I know what it is made of. I saw it the first day it was set up and the first day the Messenger of Allah (ﷺ) sat on it. The Messenger of Allah (ﷺ) sent word to so-and-so - a woman whose name Sahl رضی اللہ عنہ mentioned - telling her: 'Tell your carpenter slave to make me something of wood that I can sit on when I speak to the people.' So she told him, and he made it from tamarisk wood from Al-Ghabah (a place near Al-Madinah). Then he brought it and it was sent to the Messenger of Allah (ﷺ), who commanded that it be set up here. Then I saw the Messenger of Allah (ﷺ) ascend it and praying on it, and saying the Takbir while he was on top of it, then he bowed when he was on top of it, then he came down backward and prostrated at the base of the Minbar, then he went back. When he had finished he turned to face the people and said: 'O people, I only did this so that you can follow me in prayer and learn how I pray.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ابوحازم بن دینار کہتے ہیں کہ
کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ لوگ منبر کی لکڑی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کی تھی؟ ان لوگوں نے سہیل رضی اللہ عنہ اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ یہ منبر کس لکڑی کا تھا، میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا تھا جس دن وہ رکھا گیا، اور جس دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پہل اس پر بیٹھے ( ہوا یوں تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت ( سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لیا تھا ) کو کہلوا بھیجا کہ آپ اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے کہیں کہ وہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو اس طرح بنا دے کہ جب میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کروں تو اس پر بیٹھ سکوں، تو اس عورت نے غلام سے منبر بنانے کے لیے کہہ دیا، چنانچہ غلام نے جنگل کے جھاؤ سے اسے تیار کیا، پھر اسے اس عورت کے پاس لے کر آیا تو اس نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے یہاں رکھا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر چڑھے، اور اس پر نماز پڑھی، آپ نے اللہ اکبر کہا، آپ اسی پر تھے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور آپ اسی پر تھے، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کے پایوں کے پاس سجدہ کیا، پھر آپ نے دوبارہ اسی طرح کیا، تو جب آپ فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کر سکو، اور ( مجھ سے ) میری نماز سیکھ سکو ۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) praying on a donkey, when he was heading toward Khaibar.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک کی سند سے، عمرو بن یحییٰ سے اور سعید بن یسار سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور آپ کا رخ خیبر کی طرف تھا۔