Tribute, Spoils, and Rulership (Kitab Al-Kharaj, Wal-Fai' Wal-Imarah)
كتاب الخراج والإمارة والفىء
Chapter 20
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Each of you is a shepherd and each of you is responsible for his flock. The Amir (ruler) who is over the people is a shepherd and is responsible for has flock; a man is a shepherd in charge of the inhabitants of his household and he is responsible for his flock ; a woman is a shepherdess in charge of her husband's house and children and she is responsible for them; and a man's slave is a shepherd in charge of his master's property and he is responsible for it. So each of you is a shepherd and each of you is responsible for his flock.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور عبداللہ بن دینار کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور ( قیامت کے دن ) اس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی لہٰذا امیر جو لوگوں کا حاکم ہو وہ ان کا نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق بازپرس ہو گی اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے اولاد کی نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا غلام اپنے آقا و مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، تو ( سمجھ لو ) تم میں سے ہر ایک راعی ( نگہبان ) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی ۔
Narrated Abdur-Rahman bin Samurah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Abdul al-Rahman bin Samurah, do not ask for the position of commander, for if you are given it after asking you will be left to discharge it yourself, but if you are given it without asking you will be helped to discharge it.
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہمیں یونس اور منصور نے حسن کی سند سے خبر دی , عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت و اقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دئیے جاؤ گے اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہو گی ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
I went along with two men to see the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. One of them recited tashahhud and said: We have come to you so that you may employ us for your work. The other also said the same thing. He (the Prophet) replied: The most faithless of you in our eyes is the one who asked for it (responsible post). Abu Musa رضی اللہ عنہ then apologized to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: I did not know why they came to you. He did not employ them for anything until he died.
ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، اپنے بھائی کی سند سے، بشر بن قرہ کلبی سے، وہ ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے,ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں دو آدمیوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ( اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی ) گواہی دی پھر کہا کہ ہم آپ کے پاس اس غرض سے آئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنی حکومت کے کام میں مدد لیجئے دوسرے نے بھی اپنے ساتھی ہی جیسی بات کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو حکومت طلب کرے ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت پیش کی، اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں آدمی اس غرض سے آئے ہیں پھر انہوں نے ان سے زندگی بھر کسی کام میں مدد نہیں لی۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم appointed Ubn Umm Makthum رضی اللہ عنہ as a governor of Madina (in his absence) twice.
ہم سے محمد بن عبداللہ المخرمی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ہم سے عمران القطان نے، قتادہ کی سند سے بیان کیا، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں دو مرتبہ ( جب جہاد کو جانے لگے ) اپنا قائم مقام ( خلیفہ ) بنایا ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When Allah has a good purpose for a ruler, He appoints for him a sincere minister who reminds him if he forgets and helps him if he remembers; but when Allah has a different purpose from that for him. He appoints for him an evil minister who does not remind him if he forgets and does not help him if he remembers.
ہم سے موسیٰ بن عامر المری نے بیان کیا، ہم سے الولید نے بیان کیا، ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جب کسی حاکم کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے سچا وزیر عنایت فرماتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے، اور اگر اسے یاد رہتا ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جب اللہ کسی حاکم کی بھلائی نہیں چاہتا ہے تو اس کو برا وزیر دے دیتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ یاد نہیں دلاتا، اور اگر یاد رکھتا ہے تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔
Narrated Al-Miqdam Ibn Madikarib رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم struck him on his shoulders and then said: You will attain success, Qudaym, if you die without having been a ruler, a secretary, or a chief.
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ سلیمان بن سلیم نے، ان سے یحییٰ بن جبیر نے، وہ صالح بن یحییٰ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سےمقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر مارا پھر ان سے فرمایا: قدیم! ( مقدام کی تصغیر ہے ) اگر تم امیر، منشی اور عریف ہوئے بغیر مر گئے تو تم نے نجات پا لی .
Narrated Ghalib al-Qattan, from a man, from his father, from his grandfather:
They lived at one of the springs. When Islam reached them, the master of the spring offered his people one hundred camels if they embraced Islam. So they embraced Islam, and he distributed the camels among them. But it occurred to him that he should take the camels back from them. He sent his son to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said to him: Go to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and tell him: My father extends his greetings to you. He asked his people to give them one hundred camels if they embraced Islam, and they embraced Islam. He divided the camels among them. But it occurred to him then that he should withdraw his camels from them. Is he more entitled to them or we? If he says: Yes or no, then tell him: My father is an old man, and he is the chief of the people living at the water. He has requested you to make me chief after him. He came to him and said: My father has extended his greetings to you. He replied: On you and you father be peace. He said: My father asked his people to give them one hundred camels if they embraced Islam. So they embraced Islam, and their belief in Islam is good. Then it occurred to him that he should take his camels back from them. Is he more entitled to them or are they? He said: If he likes to give them the camels, he may give them; and if he likes to take them back, he is more entitled to them than his people. If they embraced Islam, then for them is their Islam. If they do not embrace Islam, they will be fought against in the cause of Islam. He said: My father is an old man; he is the chief of the people living at the spring. He has asked you to appoint me chief after him. He replied: The office of a chief is necessary, for people must have chiefs, but the chiefs will go to Hell.
ہم سے مصدّد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، غالب قطان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ
کچھ لوگ عرب کے ایک چشمے پر رہتے تھے جب ان کے پاس اسلام پہنچا تو چشمے والے نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ انہیں سو اونٹ دے گا، چنانچہ وہ سب مسلمان ہو گئے تو اس نے اونٹوں کو ان میں تقسیم کر دیا، اس کے بعد اس نے اپنے اونٹوں کو ان سے واپس لے لینا چاہا تو اپنے بیٹے کو بلا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور اس سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ میرے والد نے آپ کو سلام پیش کیا ہے، اور میرے والد نے اپنی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ انہیں سو اونٹ دے گا چنانچہ وہ اسلام لے آئے اور والد نے ان میں اونٹ تقسیم بھی کر دیئے، اب وہ چاہتے ہیں کہ ان سے اپنے اونٹ واپس لے لیں تو کیا وہ واپس لے سکتے ہیں یا نہیں؟ اب اگر آپ ہاں فرمائیں یا نہیں فرمائیں تو فرما دیجئیے میرے والد بہت بوڑھے ہیں، اس چشمے کے وہ عریف ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ مجھے وہاں کا عریف بنا دیں، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا کہ میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر سلام ہو ۔ پھر انہوں نے کہا: میرے والد نے اپنی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلام لے آئیں، تو وہ انہیں سو اونٹ دیں گے چنانچہ وہ سب اسلام لے آئے اور اچھے مسلمان ہو گئے، اب میرے والد چاہتے ہیں کہ ان اونٹوں کو ان سے واپس لے لیں تو کیا میرے والد ان اونٹوں کا حق رکھتے ہیں یا وہی لوگ حقدار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے والد چاہیں کہ ان اونٹوں کو ان لوگوں کو دے دیں تو دے دیں اور اگر چاہیں کہ واپس لے لیں تو وہ ان کے ان سے زیادہ حقدار ہیں اور جو مسلمان ہوئے تو اپنے اسلام کا فائدہ آپ اٹھائیں گے اور اگر مسلمان نہ ہوں گے تو مسلمان نہ ہونے کے سبب قتل کئے جائیں گے ( یعنی اسلام سے پھر جانے کے باعث ) ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، اور اس چشمے کے عریف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے بعد عرافت کا عہدہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرافت تو ضروری ( حق ) ہے، اور لوگوں کو عرفاء کے بغیر چارہ نہیں لیکن ( یہ جان لو ) کہ عرفاء جہنم میں جائیں گے ( کیونکہ ڈر ہے کہ اسے انصاف سے انجام نہیں دیں گے اور لوگوں کی حق تلفی کریں گے ) ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم has a secretary named Sijil.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے نوح بن قیس نے بیان کیا، ان سے یزید بن کعب نے، عمرو بن مالک کی سند سے، انہوں نے ابو الجوزاء کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
سجل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب ( منشی یا محرر ) تھے ۔
Narrated Rafi Ibn Khadij رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: The official who collects sadaqah (zakat) in a just manner is like him who fights in Allah's path till he returns home.
ہم سے محمد بن ابراہیم الاسباطی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، عاصم بن عمر بن قتادہ کی سند سے، محمود بن لبید کی سند سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ایمانداری سے زکاۃ کی وصولی وغیرہ کا کام کرنے والا شخص جہاد فی سبیل اللہ کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ لوٹ کر اپنے گھر آئے ۔
Narrated Uqbah Ibn Amir رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: One who wrongfully takes an extra tax (sahib maks) will not enter Paradise.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، وہ عبدالرحمٰن بن شماسہ کی سند سے, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: صاحب مکس ( قدر واجب سے زیادہ زکاۃ وصول کرنے والا ) جنت میں نہ جائے گا ( کیونکہ یہ ظلم ہے ) ۔
Narrated Ibn Ishaq:
Sahib maks means one who (receives) tithes (from) people.
ہم سے محمد بن عبداللہ القطان نے ابن مغراہ کی سند سے بیان کیا, ابن اسحاق کہتے ہیں کہ
صاحب مکس وہ ہے جو لوگوں سے عشر لیتا ہے ( بشرطیکہ وہ ظلم و تعدی سے کام لے رہا ہو ) ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہ :
Umar رضی اللہ عنہ said: I shall not appoint a successor, for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not appoint a successor. If I appoint a successor (I can do so), for Abu Bakr رضی اللہ عنہ had appointed a successor. He Ibn Umar رضی اللہ عنہما) said: I swear by Allah, he did not mention (anyone) but the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and Abu Bakr رضی اللہ عنہ . So I learnt he would not equate anyone with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, for he did not appoint any successor.
ہم سے محمد بن داؤد بن سفیان اور سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے زہری کی سند سے، سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں کسی کو خلیفہ نامزد نہ کروں ( تو کوئی حرج نہیں ) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا اور اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کر دوں ( تو بھی کوئی حرج نہیں ) کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کیا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! انہوں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو میں نے سمجھ لیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی کو درجہ نہیں دے سکتے اور یہ کہ وہ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
We used to take the oath of allegiance to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to hear and obey, and he would tell: In What I am able.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، عبداللہ بن دینار کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تھے اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلقین کرتے تھے کہ ہم یہ بھی کہیں: جہاں تک ہمیں طاقت ہے ( یعنی ہم اپنی پوری طاقت بھر آپ کی سمع و طاعت کرتے رہیں گے ) ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
She told him about the pledge of allegiance taken by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم from the woman. She said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم never touched the hand of woman, but he received the oath of allegiance from her. When he received the oath of allegiance from her, she gave it to him, and he said: Go, I have received your oath of allegiance.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے مالک نے، ابن شہاب کی سند سے، عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے
انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے کس طرح بیعت لیا کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، البتہ عورت سے عہد لیتے جب وہ عہد دے دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: جاؤ میں تم سے بیعت لے چکا ۔
Narrated Abdullah bin Hisham:
who was a Companion, reported that his mother Zainab رضی اللہ عنہا daughter of Humain went to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah, receive the oath of allegiance from him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He is Minor. He then wiped his head.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، مجھ سے ابو عقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا, عبداللہ بن ہشام (انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد پایا تھا) فرماتے ہیں کہ
ان کی والدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اس سے بیعت کر لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کم سن ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
Narrated Buraidah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When we appoint someone to an administrative post and provide him with an allowance, anything he takes beyond that is unfaithful dealing.
ہم سے زید بن اخزام ابو طالب نے بیان کیا، ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، انہوں نے عبد الوارث بن سعید کی سند سے، حسین المعلم کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم جس کو کسی کام کا عامل بنائیں اور ہم اس کی کچھ روزی ( تنخواہ ) مقرر کر دیں پھر وہ اپنے مقررہ حصے سے جو زیادہ لے گا تو وہ ( مال غنیمت میں ) خیانت ہے ۔
Narrated Ibn al-Saeedi رضی اللہ عنہ :
Umar رضی اللہ عنہ appointed me to collect the sadaqah (i.e. zakat). When I became free, he ordered to give me payment for it. I said: I have worked for the sake of Allah. He said: Take what you have been given, for I held an administrative post in the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and he gave me payment for it.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے بکر بن عبداللہ بن اشجع نے، بسر بن سعید کی سند سے, ابن الساعدی (عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ ( وصولی ) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( زکاۃ کی وصولی کا ) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی۔
Narrated Al-Mustawrid Ibn Shaddad رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: He who acts as an employee for us must get a wife; if he has not a servant, he must get one, and if he has not a dwelling, he must get one. He said that Abu Bakr رضی اللہ عنہ reported: I was told that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who takes anything else he is unfaithful or thief.
ہم سے موسیٰ بن مروان الرقی نے بیان کیا، ہم سے المعافی نے بیان کیا، ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا، ان سے حارث بن یزید نے جبیر بن نفیر کی سند سے, مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے آپ کہہ رہے تھے: جو شخص ہمارا عامل ہو وہ ایک بیوی کا خرچ بیت المال سے لے سکتا ہے، اگر اس کے پاس کوئی خدمت گار نہ ہو تو ایک خدمت گار رکھ لے اور اگر رہنے کے لیے گھر نہ ہو تو رہنے کے لیے مکان لے لے ۔ مستورد کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان چیزوں کے سوا اس میں سے لے تو وہ خائن یا چور ہے ۔
Narrated Abu Humaid al-Saeedi رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم appointed a man of Azd called Ibn al-Lutbiyayah (to collect sadaqah). The narrator Ibn al-Sarh said: (He appointed) Ibn al-Utbiyyah to collect the sadaqah. When he returned he said: This is for you and this was given to me as present. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم stood on the pulpit, and after praising and extolling Allah he said: What is the matter with a collector of sadaqah. We send him (to collect sadaqah), and when he return he says: This is for you and this is a present which was given to me. Why did he not sit in his father's or mother's house and see whether it would be given to him or not ? Whoever takes any of it will inevitably bring it on the Day of Resurrection, be it a camel which rumbles, an ox which bellows, or sheep which-bleats. Then raising his arms so that we could see where the hair grow under his armpits, he said: O Allah, have I given full information ? O Allah, have I given full information ?
ہم سے ابن سرح اور ابن ابی خلف نے بیان کیا اور ان کا قول یہ ہے, انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے زہری سے اور عروہ کی سند سے بیان کیا, ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو جسے ابن لتبیہ کہا جاتا تھا زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل مقرر کیا ( ابن سرح کی روایت میں ابن اتبیہ ہے ) جب وہ ( وصول کر کے ) آیا تو کہنے لگا: یہ مال تو تمہارے لیے ہے ( یعنی مسلمانوں کا ) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: عامل کا کیا معاملہ ہے؟ کہ ہم اسے ( وصولی کے لیے ) بھیجیں اور وہ ( زکاۃ کا مال لے کر ) آئے اور پھر یہ کہے: یہ مال تمہارے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے، کیوں نہیں وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے ہدیہ ملتا ہے کہ نہیں ، تم میں سے جو شخص کوئی چیز لے گا وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا، اگر اونٹ ہو گا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر بیل ہو گا تو ڈکار رہا ہو گا، اگر بکری ہو گی تو ممیا رہی ہو گی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر اٹھائے کہ ہم نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ ( یعنی تو گواہ رہ جیسا تو نے فرمایا ہو بہو ویسے ہی میں نے اسے پہنچا دیا ) ۔
Narrated Abu Masud al-Ansari رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم appointed me to collect sadaqah and then said: Go, Abu Masud رضی اللہ عنہ, I should not find you on the Day of Judgment carrying a camel of sadaqah on your back, which rumbles, the one you have taken by unfaithful dealing in sadaqah. He said: If it is so, I will not go. He said: Then I do not force you.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے مطرف کی سند سے اور ابو الجہم کی سند سے, ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عامل بنا کر بھیجا اور فرمایا: ابومسعود! جاؤ ( مگر دیکھو ) ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت میں اپنی پیٹھ پر زکاۃ کا اونٹ جسے تم نے چرایا ہو لادے ہوئے آتا دیکھوں اور وہ بلبلا رہا ہو ، ابومسعود رضی اللہ عنہ بولے: اگر ایسا ہے تو میں نہیں جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں تجھ پر جبر نہیں کرتا ۔