Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was shrouded in a garment of Yemeni stuff, it was then removed from him.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، ہم سے الزہری نے بیان کیا، القاسم بن محمد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یمنی دھاری دار چادر میں لپیٹے گئے، پھر وہ چادر نکال لی گئی ( اور سفید چادر رکھی گئی ) ۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you dies, and he possesses something, he should be shrouded in the garment of the Yemeni stuff.
ہم سے حسن بن صباح البزاز نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عبد الکریم نے بیان کیا، مجھ سے ابراہیم بن عقیل بن معقل نے بیان کیا، وہ اپنے والد کی سند سے، وہب کی سند سے، یعنی ابن منبہ نے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور ورثاء صاحب حیثیت ( مالدار ) ہوں تو وہ اسے یمنی کپڑے ( یعنی اچھے کپڑے میں ) دفنائیں ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was shrouded in three garments of white Yemeni stuff, among which was neither a shirt nor a turban.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ہشام کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید یمنی کپڑوں میں دفنائے گئے، ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ ۔
A similar tradition has been transmitted by Aishah رضی اللہ عنہا through a different chain of narrators. This version adds: of cotton. The narrator said:
Aishah رضی اللہ عنہا was told that the people said that he was shrouded in two garments and one cloak. She replied: A cloak was brought but they returned it and did not shroud him in it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے حفص نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے ہم مثل مروی ہے البتہ اتنا زیادہ ہے کہ
وہ کپڑے روئی کے تھے۔ پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات ذکر کی گئی کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں دو سفید کپڑے اور دھاری دار یمنی چادر تھی، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا تھا، اس میں آپ کو کفنایا نہیں تھا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was shrouded in three garments made in Najran: two garments and one shirt in which he died. Abu Dawud said: The narrator Uthman said: In three garments: two red garments and a shirt in which he died.
ہم سے احمد بن حنبل اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا: ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، یزید کی سند سے، یعنی ابن ابی زیاد نے مقسم کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے بنے ہوئے تین کپڑوں میں کفن دئیے گئے، دو کپڑے ( چادر اور تہہ بند ) اور ایک وہ قمیص جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: تین کپڑوں میں کفن دیے گئے، سرخ جوڑا ( یعنی چادر و تہہ بند ) اور ایک وہ قمیص تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا تھا۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ :
Do not be extravagant in shrouding, for I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Do not be extravagant in shrouding, for it will be quickly decayed.
ہم سے محمد بن عبید المحاربی نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن ہاشم ابو مالک الجنبی نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے عامر کی سند سے،علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کفن میں میرے لیے قیمتی کپڑا استعمال نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: کفن میں غلو نہ کرو کیونکہ جلد ہی وہ اس سے چھین لیا جائے گا ۔
Narrated Khabbab رضی اللہ عنہ :
Musab bin Umair رضی اللہ عنہ was killed on the day of Uhud. He had only a striped cloak. When we covered his head with it, his feet appeared, and when we covered his feet, his head appeared. Thereupon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Cover his head with it, and cover his feet with some grass.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور ابو وائل کی سند سے, خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جنگ احد میں قتل ہو گئے تو انہیں کفن دینے کے لیے ایک کملی کے سوا اور کچھ میسر نہ آیا، اور وہ کملی بھی ایسی چھوٹی تھی کہ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے تھے، اور اگر ان کے دونوں پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کملی سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر کچھ اذخر ( گھاس ) ڈال دو ۔
Narrated Ubadah Ibn as-Samit رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The best shroud is a lower garment and one which covers the whole body, and the best sacrifice is a horned ram.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے ہشام بن سعد نے بیان کیا، ان سے حاتم بن ابی نصر نے، عبادہ بن نصیٰ سے اپنے والد سے, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے فرمایا: بہترین کفن جوڑا ( تہبند اور چادر ) ہے، اور بہترین قربانی سینگ دار دنبہ ہے ۔
Narrated Layla daughter of Qa'if ath-Thaqafiyyah رضی اللہ عنہا :
I was one of those who washed Umm Kulthum رضی اللہ عنہا , daughter of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, when she died. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم first gave us lower garment, then shirt, then head-wear, then cloak (which covers the whole body), and then she was shrouded in another garment. She said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was sitting at the door, and he had shroud with him. He gave us the garments one by one.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابن اسحاق نے بیان کیا، مجھ سے نوح بن حکیم ثقفی نے بیان کیا اور وہ قرآن کے قاری تھے, بنی عروہ بن مسعود کے ایک فرد سے روایت ہے (جنہیں داود کہا جاتا تھا، اور جن کی پرورش ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے کی تھی) کہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے انتقال پر غسل دیا تھا، کفن کے کپڑوں میں سے سب سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار دیا، پھر کرتہ دیا، پھر اوڑھنی دی، پھر چادر دی، پھر ایک اور کپڑا دیا، جسے اوپر لپیٹ دیا گیا ۔ لیلیٰ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کفن کے کپڑے لیے ہوئے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہمیں ان میں سے ایک ایک کپڑا دے رہے تھے۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The best of your perfumes is musk.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے مستمیر بن الریان نے بیان کیا، ابو نضرہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے ( لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے ) ۔
Narrated Al-Husayn Ibn Wahwah رضی اللہ عنہ :
Talhah bin al-Bara رضی اللہ عنہ fell ill and the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to pay him a sick-visit. He said: I think Talhah has died; so tell me (about his death), and make haste, for it is not advisable that the corpse of a Muslim should remain withheld among his family.
ہم سے عبد الرحیم بن مطرف الرواسی ابو سفیان اور احمد بن جنب نے بیان کیا: ہم سے عیسیٰ نے بیان کیا , ابوداؤد نے کہا: وہ ابن یونس ہیں، سعید بن عثمان البلوی کی سند سے، ازرہ کی سند سے۔ عبد الرحیم نے کہا, عروہ بن سعید الانصاری، اپنے والد سے,حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے آئے، اور فرمایا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اب طلحہ مرنے ہی والے ہیں، تو تم لوگ مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز و تکفین میں جلدی کرنا، کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to take a bath on account of sexual defilement, on Friday, for cupping and washing the dead.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، ہم سے زکریا نے بیان کیا، ہم سے مصعب بن شیبہ نے بیان کیا، طلق بن حبیب العنزی کی سند سے, عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: جنابت سے، جمعہ کے دن، پچھنا لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He who washes the dead should take a bath, and he who carries him should perform ablution.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، مجھ سے ابن ابی ذہب نے بیان کیا، ان سے قاسم بن عباس نے، عمرو بن عمیر کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میت کو نہلائے اسے چاہیئے کہ خود بھی نہائے، جو جنازہ کو اٹھائے اسے چاہیئے کہ وضو کر لے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators to the same effect.
Abu Dawud said: This has been abrogated. When Ahmad bin Hanbal was asked about a man taking a bath after his washing the dead, I heard him say: Ablution is sufficient for him. Abu Dawud said: The narrator Abu Salih made a mention of the narrator Ishaq, the client of Zaidah between him and Abu Hurairah رضی اللہ عنہ . He said: The tradition of Musab is weak. It contains many things that are not practised.
ہم سے حامد بن یحییٰ نے سفیان کی سند سے، سہیل بن ابی صالح سے، اپنے والد سے، وہ زیدہ کے آزاد کردہ غلام اسحاق کی سند سے, اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے) اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں
ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، میں نے احمد بن حنبل سے سنا ہے: جب ان سے میت کو غسل دینے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اسے وضو کر لینا کافی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوصالح نے اس حدیث میں اپنے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان زائدہ کے غلام اسحاق کو داخل کر دیا ہے، نیز مصعب کی روایت ضعیف ہے اس میں کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم that he kissed Uthman Ibn Maz'un رضی اللہ عنہ while he was dead, and I saw that tears were flowing (from his eyes).
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، عاصم بن عبید اللہ کی سند سے، وہ القاسم کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے، ان کا انتقال ہو چکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
The people saw fire (light) in the graveyard and they went there. They found that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was in a grave and he was saying: Give me your companion. This was a man who used to raise his voice while mentioning the name of Allah.
ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، ان سے محمد بن مسلمہ نے عمرو بن دینار کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
کچھ لوگوں نے قبرستان میں ( رات میں ) روشنی دیکھی تو وہاں گئے، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: تم اپنے ساتھی کو ( یعنی نعش کو ) مجھے تھماؤ ، تو دیکھا کہ ( مرنے والا ) وہ آدمی تھا جو بلند آواز سے ذکر الٰہی کیا کرتا تھا۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
On the day of Uhud we brought the martyrs to bury them (at another place), but the crier of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came and said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has commanded you to bury the martyrs at the place where they fell. So we took them back.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے اسود بن قیس سے، انہوں نے نوبیح کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
غزوہ احد کے روز ہم نے مقتولین کو کسی اور جگہ لے جا کر دفن کرنے کے لیے اٹھایا ہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آ کر اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے ہیں کہ مقتولین کو ان کی مضاجع شہادت گاہوں میں دفن کرو، تو ہم نے ان کو انہیں کی جگہوں پر لوٹا دیا۔
Narrated Malik bin Hubayrah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If any Muslim dies and three rows of Muslims pray over him, it will assure him (of Paradise). When Malik considered those who accompanied a bier to be a few, he divided them into three rows in accordance with this tradition.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، یابی بن کی سند سے، مرثد الیزنی کی سند سے, مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان مر جائے اور اس کے جنازے میں مسلمان نمازیوں کی تین صفیں ہوں تو اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں: نماز ( جنازہ ) میں جب لوگ تھوڑے ہوتے تو مالک اس حدیث کے پیش نظر ان کی تین صفیں بنا دیتے۔
Narrated Umm Atiyyah رضی اللہ عنہا :
We were forbidden accompany the biers, but it was not stressed upon us.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب سے اور حفصہ رضی اللہ عنہا سے, ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
ہمیں جنازہ کے پیچھے پیچھے جانے سے روکا گیا ہے لیکن ( روکنے میں ) ہم پر سختی نہیں برتی گئی ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
If anyone attends the funeral and prays over (the dead), he will get the reward of one qirat, and if anyone attends the funeral until the completion (of the burial), he will get the reward of two qirats, the smaller of them being equivalent of Uhud, or one of them being equivalent to Uhud.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، سمیہ سے اور ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط ( کا ثواب ) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط ( کا ثواب ) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔