Dawud bin Amir bin Saad bin Abi Waqqas said, his father Amir bin Saad :
He was with Ibn Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہما when Khabbab رضی اللہ عنہ, the owner of the closet (maqsurah), came and said: Abdullah bin Umar dont you hear what Abu Hurairah رضی اللہ عنہ says ? He heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If anyone goes out of his house, accompanies bier and prays over it. . . . He then mentioned the rest of the tradition as narrated by Sufyan. Thereupon Ibn Umar رضی اللہ عنہما sent someone to Aishah (asking her about it). She replied: Abu Hurairah رضی اللہ عنہ spoke the truth.
ہم سے ہارون بن عبداللہ اور عبدالرحمٰن بن حصین ہراوی نے بیان کیا، کہا ہم سے المقری نے بیان کیا، ہم سے حیوہ نے بیان کیا، ان سے ابو صخر نے جو حمید بن زیاد ہیں، مجھ سے یزید بن عبداللہ بن قسیط نے بیان کیا,اس نے اسے بتایا کہ داؤد بن عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد کی سند سے ان سے کہا
وہ عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک صاحب مقصورہ خباب رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے اور کہنے لگے: عبداللہ بن عمر! کیا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں آپ اسے نہیں سن رہے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے۔ آگے راوی نے وہی مفہوم ذکر کیا ہے جو سفیان کی حدیث کا ہے ( یہ سنا تو ) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے صحیح کہا ہے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: If any Muslim dies and forty men associate nothing with Allah stand over his bier. Allah will accept them as intercessors for him.
ہم سے ولید بن شجاع السکونی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں ابوصخر نے خبر دی، وہ شریک بن عبداللہ بن ابی نمیر نے کریب کی سند سے ,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان ایسا نہیں جو مر جائے اور اس کی نماز جنازہ ایسے چالیس لوگ پڑھیں جو اللہ کے ساتھ کسی طرح کا بھی شرک نہ کرتے ہوں اور ان کی سفارش اس کے حق میں قبول نہ ہو ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (said) said: A bier should not be followed by a loud voice (of wailing) or fire. Abu Dawud said: Harun (one of the narrators) added: And it should not be preceded (with those) either.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا, ہم سے ابن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے حرب یعنی ابن شداد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے باب بن عمیر نے بیان کیا، مجھ سے اہل مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ چیختے چلاتے ( روتے پیٹتے ) نہ لے جایا جائے، نہ اس کے پیچھے آگ لے جائی جائے ۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس کے آگے آگے نہ چلا جائے۔
Narrated Amir bin Rabiah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When you see a funeral, stand up for it till it leaves you behind or it is placed (on the ground).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، زہری کی سند سے، سلیم نے اپنے والد سے, عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے,انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازے کو دیکھو تو ( اس کے احترام میں ) کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے گزر جائے یا ( زمین پر ) رکھ دیا جائے ۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When you follow a funeral, do not sit until the bier is placed (on the ground). Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-Thawri (i.e. Sufyan) from Suhail, from his father on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ . This version has: until it (the bier) is placed on the ground. It has also been narrated by Abu Mu'wiyah from Suhail. This has: Until it is placed in the grave. Abu Dawud said: Sufyan's version is more guarded than that of Abu Muawiyah.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سہیل بن ابی صالح نے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازے کے پیچھے چلو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے نہ بیٹھو ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے اس حدیث کو سہیل سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے: یہاں تک کہ جنازہ زمین پر رکھ دیا جائے اور اسے ابومعاویہ نے سہیل سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ جب تک جنازہ قبر میں نہ رکھ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری ابومعاویہ سے زیادہ حافظہ والے ہیں۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
We were with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم when a funeral passed hi and he stood up for it. When we went to carry it, we found that it was a funeral of a Jew. We, therefore said: Messenger of Allah, this is the funeral of a Jew. He said: Death is fearful event, so when you see a funeral, stand up.
ہم سے مو مل بن الفضل حرانی نے بیان کیا، ہم سے الولید نے بیان کیا، ہم سے ابو عمرو نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہوں نے عبید اللہ بن مقسم کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اچانک ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر جب ہم اسے اٹھانے کے لیے بڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کسی یہودی کا جنازہ ہے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ڈرنے کی چیز ہے، لہٰذا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ۔
Narrated Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم stood up for a funeral (to show respect) and thereafter he sat down.
ہم سے القعنبی نے مالک سے، وہ یحییٰ بن سعید سے، وہ واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ الانصاری سے، انہوں نے نافع بن جبیر بن مطعم سے، انہوں نے مسعود بن الحکم سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جنازوں میں ( دیکھ کر ) کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر اس کے بعد بیٹھے رہنے لگے۔
Narrated Ubadah Ibn as-Samit رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to stand up for a funeral until the corpse was placed in the grave. A learned Jew (once) passed him and said: This is how we do. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sat down and said: Sit down and act differently from them.
ہم سے ہشام بن بہرام المدینی نے بیان کیا، کہا ہم کو حاتم بن اسماعیل نے خبر دی، کہا ہم سے ابو الاسباط حارثی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن سلیمان بن جنادہ بن ابی امیہ نے اپنے والد سے، وہ اپنے دادا کی سند سے, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، اور جب تک جنازہ قبر میں اتار نہ دیا جاتا، بیٹھتے نہ تھے، پھر آپ کے پاس سے ایک یہودی عالم کا گزر ہوا تو اس نے کہا: ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں ( اس کے بعد سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے، اور فرمایا: ( مسلمانو! ) تم ( بھی ) بیٹھے رہو، ان کے خلاف کرو ۔
Narrated Thawban رضی اللہ عنہ :
An animal was brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم while he was going with a funeral. He refused to ride on it. When the funeral was away, the animal was brought to him and he rode on it. He was asked about it. He said: The angels were on their feet. I was not to ride while they were walking. When they went away, I rode.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا ( پیدل ہی گئے ) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا ۔
Narrated Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم offered funeral prayer over Ibn al-Dahdah while we were present. He was then brought a horse, and it was tied until he rode it. It then began to gallop and we were running around it.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے سماک کی سند سے بیان کیا, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھی، اور ہم موجود تھے، پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لیے ) ایک گھوڑا لایا گیا اسے باندھ کر رکھا گیا یہاں تک کہ آپ سوار ہوئے، وہ اکڑ کر ٹاپ رکھنے لگا، اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہو کر تیز چلنے لگے ( تاکہ آپ کا ساتھ نہ چھوٹے ) ۔
Salim reported on the authority of his father:
I saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہما walking before the funeral.
ہم سے القعْنبی نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ زہری سے، وہ سالم نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔
Narrated Al-Mughirah Ibn Shubah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A rider should go behind the bier, and those on foot should walk behind it, in front of it, on its right and on its left keeping near it. Prayer should be offered over an abortion and forgiveness and mercy supplicated for its parents.
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے، یونس سے، زیاد بن جبیر سے، اپنے والد سے, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے، آگے دائیں بائیں کسی بھی جانب جنازے کے قریب ہو کر چل سکتا ہے، اور کچے بچوں کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور ان کے والدین کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Walk quickly with a funeral, for if the dead person was good it is a good condition to which you are sending him on, but it he was otherwise it is an evil of which you are riding yourselves.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ لے جانے میں جلدی کیا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف پہنچانے میں جلدی کرو گے اور اگر نیک نہیں ہے تو تم شر کو جلد اپنی گر دنوں سے اتار پھینکو گے ۔
Uyaynah Ibn Abdur Rahman reported on the authority of his father:
He attended the funeral of Uthman bin Abul As. He said: We were walking slowly. Abu Bakrah رضی اللہ عنہ then joined us and he raised his flog at us and said: You have seen us when we were with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. We were walking quickly.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے عیینہ بن عبدالرحمٰن سے اپنے والد سے بیان کیا کہ
وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے، اتنے میں ہم سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنا کوڑا لہرایا ( ڈرانے کے لیے ) اور کہا: ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم ( جنازے لے کر ) تیز چلا کرتے تھے۔
Uyaynah also reported the aforementioned tradition (No. 3176) through a different chain of transmitters. This version goes:
We attended the funeral of Abdur Rahman Ibn Samurah رضی اللہ عنہ and he said: He (Abu Bakrah رضی اللہ عنہ) made his mule run quickly and pointed with the flog.
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا اور ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ نے، یعنی ابن یونس نے،اس سند سے بھی عیینہ سے یہی حدیث مروی ہے
یہ واقعہ عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ کا ہے نیز اس میں یہ بھی ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان پر اپنا خچرکو کوڑے سے مارا اور ( جلدی ) چلنے کا اشارہ کیا۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
We asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about walking with the funeral. He replied: Not running (but walking quickly). If he (the dead person) was good, send him to it quickly; if he was otherwise, keep away the people of Hell. The bier should be followed and should not follow. Those who go in front of it are not accompanying it. Abu Dawud said: The narrator Yahya bin Abdullah is weak. He is Yahya al-Jabir Abu Dawud said: This is from Kufah, and Abu Majidah is from Basrah. Abu Dawud said: Abu Majidah is obscure.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، یحیی المجبر کی سند سے, ابوداؤد نے کہا، اور وہ یحییٰ بن عبداللہ التیمی ہیں، ابو ماجدہ کی روایت سے،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم نے اپنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: «خبب» سے کچھ کم، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم کا دور ہو جانا ہی بہتر ہے، جنازہ کی پیروی کی جائے گی ( یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے ) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں۔
Narrated Jabir Ibn Samurah رضی اللہ عنہ:
A man fell ill and a cry was raised (for his death). So his neighbour came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said to him: He has died. He asked: Who told you? He said: I have seen him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He has not died. He then returned. A cry was again raised (for his death). He came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: He has died. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He has not died. He then returned. A cry was again raised over him. His wife said: Go to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and inform him. The man said: O Allah, curse him. He said: The man then went and saw that he had killed himself with an arrowhead. So he went to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and informed him that he had died. He asked: Who told you? He replied: I myself saw that he had killed himself with arrowheads. He asked: Have you seen him? He replied: Yes. He then said: Then I shall not pray over him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، یحیی المجبر کی سند سے۔ ابوداؤد نے کہا، اور وہ یحییٰ بن عبداللہ التیمی ہیں، ابو ماجدہ کی روایت سے، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ایک شخص بیمار ہوا پھر اس کی موت کی خبر پھیلی تو اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ ، وہ بولا: میں اسے دیکھ کر آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہیں مرا ہے ، وہ پھر لوٹ گیا، پھر اس کے مرنے کی خبر پھیلی، پھر وہی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: وہ مر گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نہیں مرا ہے ، تو وہ پھر لوٹ گیا، اس کے بعد پھر اس کے مرنے کی خبر مشہور ہوئی، تو اس کی بیوی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس کے مرنے کی آپ کو خبر دو، اس نے کہا: اللہ کی لعنت ہو اس پر۔ پھر وہ شخص مریض کے پاس گیا تو دیکھا کہ اس نے تیر کے پیکان سے اپنا گلا کاٹ ڈالا ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے آپ کو بتایا کہ وہ مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیسے پتا لگا؟ ، اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے اس نے تیر کی پیکان سے اپنا گلا کاٹ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے خود دیکھا ہے؟ ، اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میں اس کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھوں گا ۔
Narrated Abu Barzah al-Aslami رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not pray over Maiz bin Malik رضی اللہ عنہ , and he did not prohibit to pray over him.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، کہا کہ ابو بشر کے واسطہ سے مجھ سے بصرہ کے لوگوں کی ایک جماعت نے بیان کیا, ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز ( جنازہ ) نہیں پڑھی اور نہ ہی اوروں کو ان کی نماز پڑھنے سے روکا ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
Ibrahim, the son of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, died when he was eighteen months old. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not pray over him.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابن اسحاق نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا اس وقت وہ اٹھارہ مہینے کے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔
Narrated Al-Bahiyy:
When Ibrahim, the son of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم died, he prayed over him at the place where he used to sit. Abu Dawud said: I recited to Saeed bin Ya'qub al-Taliqani saying: Ibn al-Mubarak transmitted to you from Ya'qub bin al-Qa'qa' on the authority of Ata that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prayed over his some Ibrahim when he was seventy days old.
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا, وائل بن داود کہتے ہیں, میں نے بہی سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نشست گاہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے سعید بن یعقوب طالقانی پر پڑھا کہ آپ سے حدیث بیان کی ابن مبارک نے انہوں نے یعقوب بن قعقاع سے اور انہوں نے عطاء سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی نماز جنازہ پڑھی اس وقت وہ ستر دن کے تھے۔