Oaths and Vows (Kitab Al-Aiman Wa Al-Nudhur)
كتاب الأيمان والنذور
Chapter 22
Narrated Muawiyah bin al-Hakam al-Sulami:
I said: Messenger of Allah, I have a slave girl whom I slapped. This grieved the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I said to him: Should I not emancipate her? He said: Bring her to me. He said: Then I brought her. He asked: Where is Allah ? She replied: In the heaven. He said: Who am I ? She replied: You are the Messenger of Allah. He said: Emancipate her, she is a believer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حجاج الصواف نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ہلال بن ابی میمونہ سے، عطاء بن یسار کی سند سے, معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تھپڑ کو عظیم جانا، تو میں نے عرض کیا: میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ میں اسے لے کر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان کے اوپر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے ۔
Narrated Ash-Sharid:
She's mother left a will to emancipate a believing slave on her behalf. So he came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah, my mother left a will that I should emancipate a believing slave for her, and I have a black Nubian slave-girl. He mentioned a tradition about the test of the girl. Abu Dawud said: Khalid bin Abdullah narrated this tradition direct from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He did not mention the name of al-Sharid.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو نے ابو سلمہ کی سند سے, شرید سے روایت ہے کہ
ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں، اور میرے پاس نوبہ ( حبش کے پاس ایک ریاست ہے ) کی ایک کالی لونڈی ہے۔ ۔ ۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A man brought the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم a black slave girl. He said: Messenger of Allah, emancipation of believing slave is due to me. He asked her: Where is Allah ? She pointed to the heaven with her finger. He then asked her: Who am I ? She pointed to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and to the heaven, that is to say: You are the Messenger of Allah. He then said: Set her free, she is a believer.
ہم سے ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے مسعودی نے عون بن عبداللہ سے اور عبداللہ بن عتبہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( لونڈی ) سے پوچھا: اﷲ کہاں ہے؟ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( یعنی آسمان کے اوپر ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی ( یہ کہا ) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لونڈی لے کر آنے والے شخص سے ) کہا: اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے ۔
Narrated Ikrimah:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: I swear by Allah, I shall fight against the Quraysh; I swear by Allah, I shall fight against the Quraysh; I swear by Allah, I shall fight against the Quraysh. He then said: If Allah wills. Abu Dawud said: A number of persons have narrated this tradition from Sharik, from Simak, from Ikrimah, from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما who reported from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: But he did not fight against them.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے شریک نے سماک کی سند سے بیان کیا،عکرمہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا پھر کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا ۔
Narrated Ikrimah:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: I swear by Allah, I shall fight against the Quraish. The then said: If Allah wills. He again said: I swear by Allah, I shall fight against the Quraish if Allah wills. He again said: I swear by Allah, I shall fight against the Quraish. He then kept silence. Then he said: If Allah wills. Abu Dawud said: Al-Walid bin Muslim said on the authority of Sharik: He then said: But he did not fight against them.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابن بشر نے بیان کیا، مسعر کی سند سے، سماک کی سند سے, عکرمہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ، پھر فرمایا: ان شاءاللہ پھر فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ان شاءاللہ پھر فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا پھر آپ خاموش رہے پھر فرمایا: ان شاءاللہ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے شریک سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: پھر آپ نے ان سے جہاد نہیں کیا ۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to make a vow. He said: It has not effect against fate, it is only from the miserly that it is means by which something is extracted. Musaddad said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: A vow does not avert anything (i. e. has no effect against fate).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر بن عبد الحمید نے بیان کیا, ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو عونہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، عبداللہ بن مرہ سے، عثمان ہمدانی نے کہا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نذر سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ نذر تقدیر کے فیصلے کو کچھ بھی نہیں ٹالتی سوائے اس کے کہ اس سے بخیل ( کی جیب ) سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ مسدد کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A vow does not provide for the son of Adam anything which I did not decree for him, but a vow draws it. A Divine decree is one which I have destined, it is extracted from a miser. He is given what he was not given before.
ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے حارث بن مسکین کے پاس پڑھا گیا اور میں اس کا گواہ تھا, ابن وہب نے آپ کو اطلاع دی, انہوں نے کہا: مجھے مالک نے ابو الزناد سے اور عبدالرحمٰن بن ہرمز کی سند سے خبر دی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو لیکن نذر اسے اس تقدیر سے ملاتی ہے جسے میں نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، یہ بخیل سے وہ چیز نکال لیتی ہے جسے وہ اس نذر سے پہلے نہیں نکالتا ہے ( یعنی اپنی بخالت کے سبب صدقہ خیرات نہیں کرتا ہے مگر نذر کی وجہ سے کر ڈالتا ہے ) ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone vows to obey Allah, let him obey Him, but if anyone vows to disobey Him, let him not disobey Him.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، طلحہ بن عبد الملک الایلی کی سند سے، القاسم کی سند سے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اللہ کی اطاعت کرے اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: No vow must be taken to do an act of disobedience, and the atonement for it is the same as for an oath.
ہم سے اسماعیل بن ابراہیم ابو معمر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، یونس کی سند سے، زہری کی سند سے، ابو سلمہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے ( یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے ) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said:
I heard Ahmad bin Shabbuyah say: Ibn al-Mubarak said about this tradition that Abu Salamah رضی اللہ عنہ had transmitted it. This indicates that al-Zuhri did not hear it from Abu Salamah رضی اللہ عنہ . Ahmad bin Muhammad said: This is verified by what Ayyub bin Sulaiman narrated to us. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: I have corrupted this tradition for us. He was asked: Do you think that it is correct that this tradition has been corrupted? Has any person other than Ibn Abi Uwais transmitted it ? He replied: Ayyub was similar to him in respect of reliability, and Ayyub transmitted it.
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا, ہم سے ابن وہب نے یونس کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے اسی معنی اور سلسلہ روایت کے ساتھ بیان کیا, اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے, ابوداؤد کہتے ہیں
میں نے احمد بن شبویہ کو کہتے سنا: ابن مبارک نے کہا ہے ( یعنی اس حدیث کے بارے میں ) کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ زہری نے اسے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔ احمد بن محمد کہتے ہیں: اس کی تصدیق وہ روایت کر رہی ہے جسے ہم سے ایوب یعنی ابن سلیمان نے بیان کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اس حدیث کو ہم پر فاسد کر دیا ہے ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کے نزدیک اس حدیث کا فاسد ہونا صحیح ہے؟ اور کیا ابن اویس کے علاوہ کسی اور نے بھی اسے روایت کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایوب یعنی ایوب بن سلیمان بن بلال ان سے قوی و بہتر راوی ہیں اور اسے ایوب نے روایت کیا ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: No vow must be taken to do an act of disobedience, and the atonement for it is the same as for an oath. Ahmad bin Muhammad al-Marwazi said: The correct chain of this tradition is: Ali bin al-Mubarak, from Yahya bin Abi Kathir, from Muhammad bin al-Zubair, from his father, on the authority of Imran bin Husain رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم Abu Dawud said: By this he (al-Marwazi) means that the narrator Sulaiman bin Arqam had some misunderstanding about this tradition. Al-Zuhri narrated it from him and then transmitted it (omitting his name) from Abu Salamah رضی اللہ عنہ on the authority of Aishah رضی اللہ عنہا . Abu Dawud said: Baqiyyah has transmitted it from al-Auzai from Yahya, from Muhammad bin al-Zubair with a similar chain of Ibn al-Mubarak.
ہم سے احمد بن محمد مروازی نے بیان کیا، ہم سے ایوب بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ابن ابی عتیق اور موسیٰ بن عقبہ کی سند سے، ان سے ابن سلیمان بن شعیب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا,یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ کی روایت سے کہا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے ( یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے ) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں: اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اور عمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Uqbah Ibn Amir رضی اللہ عنہ:
He consulted the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about his sister who took a vow to perform hajj barefooted and bareheaded. So he said: Command her to cover her head and to ride, and to fast three days.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید القطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی، انہیں عبید اللہ بن زہر نے خبر دی، انہیں ابوسعید نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پیر اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ اپنا سر ڈھانپ لے اور سواری پر سوار ہو اور ( بطور کفارہ ) تین دن کے روزے رکھے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Saeed al-Ru'aini with the same chain as narrated by Yahya (bin Saeed) and to the same effect.
ہم سے مخلد بن خالد نے بیان کیا, عبدالرزاق کہتے ہیں: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
A man came to Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah, my sister has taken a vow to perform hajj on foot. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah gets no good from the affliction your sister imposed on herself, so let her perform hajj riding and make atonement for her oath.
ہم سے حجاج بن ابی یعقوب نے بیان کیا، ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے جو طلحہ کے خاندان کے موکل تھے، کریب کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کے لیے جانے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا ( یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب نہ دے گا ) اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہو کر حج کرے اور قسم کا کفارہ دیدے ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The sister of Uqbah bin Amir رضی اللہ عنہ took vow to walk on foot to the Kabah. Thereupon the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ordered her to ride and slaughter a sacrificial animal.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے، قتادہ کی سند سے، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل بیت اللہ جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سواری سے جانے اور ہدی ذبح کرنے کا حکم دیا ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was informed that the sister of Uqbah bin Amir رضی اللہ عنہ had taken a vow to perform Hajj on foot, he said: Allah is not in need of her vow. So ask her to ride. Abu Dawud said: Saib bin 'Arubah has transmitted a similar tradition. Khalid has also transmitted a similar tradition on the authority of Ikrimah رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، قتادہ نے عکرمہ کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خبر ملی کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بے نیاز ہے، اسے کہو: سوار ہو جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اور خالد نے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Ikrimah:
The tradition about the sister of Uqbah bin Amir رضی اللہ عنہ as narrated by Hisham, but he made no mention of the sacrificial animal. In his version he said: Ask your sister to ride. Abu Dawud said: Khalid narrated it from Ikrimah to the same effect as narrated by Hisham.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، وہ سعید کی سند سے، انہوں نے قتادہ کی سند سے, عکرمہ سے روایت ہے کہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن، آگے وہی باتیں ہیں جو ہشام کی حدیث میں ہے لیکن اس میں ہدی کا ذکر نہیں ہے نیز اس میں ہے: «مر أختك فلتركب» اپنی بہن کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد نے عکرمہ سے ہشام کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
Narrated Uqbah bin Amir al-Juhani رضی اللہ عنہ :
My sister took a vow to walk on foot to the House of Allah (i. e. Kabah). She asked me to consult the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about her. So I consulted the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Let her walk and ride.
ہم سے مخلد بن خالد نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی ایوب نے خبر دی، انہیں یزید بن ابی حبیب نے خبر دی، ان سے ابو الخیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ کر آؤں ( کہ میں کیا کروں ) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: چاہیئے کہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
While the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was preaching a man was standing in the sun. He asked about him. They said: He is Abu Isra'il who has taken a vow to stand and not to sit, or go into shade, or speak, but to fast. Thereupon he said: Command him to speak, to go into the shade, sit and complete his fast.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا، اور روزہ رکھے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saw a man that he was supported between his sons. He asked about him, and (the people) said: He has taken a vow to walk (on foot). Thereupon he said: Allah has no need that this man should punish himself, and he ordered him to ride. Abu Dawud said: Amr bin Abi Amir has also narrated a similar tradition from al-Araj on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، حمید الطویل نے ثابت البنانی کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان ( سہارا لے کر ) چلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا: اس نے ( خانہ کعبہ ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے آپ نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ابی عمرو نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔