Umar رضی اللہ عنہ said:
The prohibition of wine came down when (the Quranic verse ) came down. It was made from five thing namely, grapes, dates, honey, wheat, barley. Wine is what infects (khamara) the mind. There are three things I wished that the prophet صلی اللہ علیہ وسلم would not leave us until he explained them fully to our satisfaction: (share of) grandfather, one who leaves no descendants or ascendants as hairs, and the details of usury.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابو حیان نے بیان کیا، مجھ سے الشعبی نے بیان کیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے, عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت شراب پانچ چیزوں: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے بنتی تھی، اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، اور تین باتیں ایسی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا نہ ہوں جب تک کہ آپ انہیں ہم سے اچھی طرح بیان نہ کر دیں: ایک دادا کا حصہ، دوسرے کلالہ کا معاملہ اور تیسرے سود کے کچھ مسائل۔
Narrated Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ :
When the prohibition of wine (was yet to be) declared, Umar رضی اللہ عنہ said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. So the following verse of Surat al-Baqarah revealed; They ask thee concerning wine and gambling. Say: In them is great sin. . . . Umar رضی اللہ عنہ was then called and it was recited to him. He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. Then the following verse of Surat an-Nisa' was revealed: O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged. . . . Thereafter the herald of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would call when the (congregational) prayer was performed: Beware, one who is drunk should not come to prayer. Umar رضی اللہ عنہ was again called and it was recited to him). He said: O Allah, give us a satisfactory explanation about wine. This verse was revealed: Will ye not then abstain? Umar رضی اللہ عنہ said: We abstained.
ہم سے عباد بن موسی الختلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن جعفر نے، انہوں نے اسرائیل کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، عمرو کی سند سے, عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں ہمیں واضح حکم فرما جس سے تشفی ہو جائے تو سورۃ البقرہ کی یہ آیت اتری: «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير» یعنی لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے ان میں بڑے گناہ ہیں ( سورة البقرہ: ۲۱۹ ) ۔ راوی کہتے ہیں: تو عمر رضی اللہ عنہ بلائے گئے اور یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو انہوں نے پھر دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے شراب کے سلسلے میں صاف اور واضح حکم نازل فرما جس سے تشفی ہو سکے، تو سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» یعنی اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ ( سورة النساء: ۴۳ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہہ دی جاتی تو آواز لگاتا: خبردار کوئی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ آئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں پڑھ کر سنائی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دعا کی: اے اللہ! شراب کے سلسلے میں کوئی واضح اور صاف حکم نازل فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی:«فهل أنتم منتهون» یعنی کیا اب باز آ جاؤ گے ( سورة المائدہ: ۹۱ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم باز آ گئے ۔
Narrated Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ :
A man of the Ansar called him and Abdur Rahman bin Awf رضی اللہ عنہ and supplied them wine before it was prohibited. Ali رضی اللہ عنہ then led them in the evening prayer, and he recited; Say: O ye who reject faith. He was confused in it. Then the following verse came down: O ye who believe! approach not prayers with a mind befogged until you can understand all that ye say.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، ہم سے عطاء بن السائب نے ابوعبدالرحمٰن السلمی کی سند سے بیان کیا, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ایک انصاری نے بلایا اور انہیں شراب پلائی اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی پھر علی رضی اللہ عنہ نے مغرب پڑھائی اور سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تلاوت کی اور اس میں کچھ گڈ مڈ کر دیا تو آیت: «لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» نشے کی حالت میں نماز کے قریب تک مت جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو جو تم پڑھو نازل ہوئی۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Quranic verse: ”O ye who believe, approach not prayer with minds befogged until you can understand all they say, ” and the verse: “They ask thee concerning wine and gambling. Say: In them is great sin and some profit for men, ” were repeated by the verse in Surat al-Ma’idah: ”O ye who believe, intoxicants and gambling, (dedication) stones.
ہم سے احمد بن محمد المروازی نے بیان کیا، ہم سے علی بن حسین نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
«يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ( سورة النساء: ۴۳ ) اور «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس» ( سورة البقرہ: ۲۱۹ ) ان دونوں آیتوں کو سورۃ المائدہ کی آیت «إنما الخمر والميسر والأنصاب» ( سورة المائدة: ۹۰ ) نے منسوخ کر دیا ہے۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
I was serving wine to the people in the house of Abu Talhah رضی اللہ عنہ when it was prohibited and that day our wine was made from unripe dates. A man entered upon us and said: The wine has been prohibited, and the herald of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made an announcement. We then said: This is the caller of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
شراب کی حرمت کے وقت میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، ہماری شراب اس روز کھجور ہی سے تیار کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے بھی آواز لگائی تو ہم نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی ہے۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah has cursed wine, its drinker, its server, its seller, its buyer, its presser, the one for whom it is pressed, the one who conveys it, and the one to whom it is conveyed.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع بن الجراح نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن عمر نے، ان سے ابو علقمہ، ان کے موکل اور عبدالرحمٰن بن عبد اللہ الغفیقی نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
Abu Talhah asked the prophet صلی اللہ علیہ وسلم about the orphans who had inherited wine. He replied: Pour it out. He asked: May I not make vinegar of it ? He replied: No.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، سدی کی سند سے، ابو ہبیرہ سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ابوطلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیموں کے سلسلے میں پوچھا جنہوں نے میراث میں شراب پائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بہا دو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۔
Narrated An-Numan bin Bashir رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: from grapes wine is made, from dried dates wine is made, from honey wine is made, from wheat wine is made, from barley wine is made.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ابراہیم بن مہاجر نے شعبی کی سند سے, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب انگور کی بھی ہوتی ہے، کھجور کی بھی، شہد کی بھی ہوتی ہے، گیہوں کی بھی ہوتی ہے، اور جو کی بھی ہوتی ہے ۔
Narrated An-Numan Ibn Bashir رضی اللہ عنہما :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Wine is made from grape-syrup, raisins, dried dates, wheat, barley, millet, and I forbid you from every intoxicant.
ہم سے مالک بن عبد الواحد ابو غسان نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابو حریز کی روایت سے فضیل بن میسرہ کو پڑھا، کہ عامر نے ان سے بیان کیا, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: شراب انگور کے رس، کشمش، کھجور، گیہوں، جو اور مکئی سے بنتی ہے، اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Allah Apostle صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Wine comes from these two trees, the date-palm and the grapes-vine. Abu Dawud said: The name of Abu KAthir al-Ubari is Yazid bin Abdur-Rahman bin Ghufailat al-Sahmi. Some said: Uzainah. What is correct is Ghufailah.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ نے ابو کثیر کی سند سے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۔ابوداؤد سید: پھر اس نے ابو کثیر العبری کا نام لیا جو عبدالرحمن اور غفیلہ السہمی کے درمیان بڑھتا جا رہا ہے۔ پھر سید: اس نے اسے بلایا۔ اور اسے غفیلہ کی صحبت دی۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Apostle of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Every intoxicant is forbidden. He who drinks wine in this world, and dies when he is addiction to it, will not drink it in the next.
ہم سے سلیمان بن داؤد اور محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا, حماد، یعنی ابن زید نے، ایوب کی سند سے، نافع کی سند سے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، اور جو مر گیا اور وہ شراب پیتا تھا اور اس کا عادی تھا تو وہ آخرت میں اسے نہیں پئے گا ( یعنی جنت کی شراب سے محروم رہے گا ) ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Every intoxicant is khamr (wine) and every intoxicant is forbidden. If anyone drinks wine, Allah will not accept prayer from him for forty days, but if he repents, Allah will accept his repentance. If he repeats it a fourth time, it is binding on Allah that He will give him tinat al-khabal to drink. He was asked: What is tinat al-khabal, Messenger of Allah? He replied: Discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell. If anyone serves it to a minor who does not distinguish between the lawful and the unlawful, it is binding on Allah that He will give him to drink the discharge of wounds, flowing from the inhabitants of Hell.
ہم سے محمد بن رافع النیسابوری نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن عمر الصنعانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے نعمان کو کہتے سنا, طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کر دی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہو جاتا ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جہنمیوں کی پیپ پلائے گا ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If a large amount of anything causes intoxication, a small amount of it is prohibited.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، اسمٰعیل یعنی ابن جعفر نے، ہم سے داؤد بن بکر بن ابی الفورات نے محمد ابن المنکدر کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was asked about bit’. He replied: Every liquor which intoxicates is forbidden. Abu Dawud said: I read out this tradition to Yazid bin Abd Rabbihi al-Jurjisi. Muhammad bin Hard told you this tradition from al-Zabidi from al-Zuhri through his chain of narrators. This version added: Bit' is the nabidh from honey, which the people of the Yemen would drink. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: There is no god but Allah. there was none stronger in memory and like al-Jurjisi among the people of Hims.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، ابو سلمہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کا حکم پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ہر شراب جو نشہ آور ہو حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یزید بن عبدربہ جرجسی پر اس روایت کو یوں پڑھا: آپ سے محمد بن حرب نے بیان کیا انہوں نے زبیدی سے اور زبیدی نے زہری سے یہی حدیث اسی سند سے روایت کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ بتع شہد کی شراب کو کہتے ہیں، اہل یمن اسے پیتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا: «لا إله إلا الله» جرجسی کیا ہی معتبر شخص تھا، اہل حمص میں اس کی نظیر نہیں تھی۔
Narrated Daylam al-Himyari رضی اللہ عنہ :
I asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah! we live in a cold land in which we do heavy work and we make a liquor from wheat to get strength from if for our work and to stand the cold of our country. He asked: Is it intoxicating? I replied: Yes. He said: You must avoid it. I said: The people will not abandon it. He said: If they do not abandon it, fight with them.
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، ہم سے عبدہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد کی سند سے، ان سے ابن اسحاق نے، وہ یزید بن ابی حبیب سے، مرثد بن عبداللہ الیزانی کی سند سے, دیلم حمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ سرد علاقے میں رہتے ہیں اور سخت محنت و مشقت کے کام کرتے ہیں، ہم لوگ اس گیہوں سے شراب بنا کر اس سے اپنے کاموں کے لیے طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے ملک کی سردیوں سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اس سے بچو ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑ سکتے، آپ نے فرمایا: اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو ۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ said:
I asked the prophet صلی اللہ علیہ وسلم about wine made from honey. He said: That is bit. I said: And the one made from barley and millet ? He said: That is mizr. He then said: Tell your people that every intoxicant is prohibited.
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے، عاصم بن کلیب کی سند سے، ابو بردہ کی سند سے, ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی شراب کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ بتع ہے میں نے کہا: جو اور مکئی سے بھی شراب بنائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مزر ہے پھر آپ نے فرمایا: اپنی قوم کو بتا دو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
Narrated Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade wine (khamr), game of chance (maysir), drum (kubah), and wine made from millet (ghubayrah), saying: Every intoxicant is forbidden. Abu Dawud said: Ibn Sallam Abu Ubaid said: Ghubairah was an intoxicant liquor made from millet. This wine was made by the Abyssinians
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، وہ ولید بن عبدہ کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ ( چوسر یا ڈھولک ) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade every intoxicant and everything which produces languidness.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو شہاب عبد ربہ بن نافع نے بیان کیا، ان سے حسن بن عمرو فقیمی نے، ان سے الحکم بن عتیبہ نے اور شہر بن حوشب کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہر «مفتر» ( فتور پیدا کرنے اور سستی لانے والی ) چیز سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Every intoxicant is forbidden; if a faraq of anything causes intoxication, a handful of it is forbidden.
ہم سے مسدد اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا , ہم سے مہدی یعنی ابن میمون نے بیان کیا ، ہم سے ابو عثمان نے بیان کیا , ہم سے موسیٰ ، جو عمرو بن سلم انصاری ہیں ، نے کہا : القاسم کی روایت سے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز فرق بھر نشہ لاتی ہے اس کا ایک چلو بھی حرام ہے ۔
Narrated Malik bin Abu Maryam said:
Abdur Rahman bin Ghanam entered upon us and we discussed tila' and he said: Abu Malik al-Ashari رضی اللہ عنہ told me that he heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Some of my people will assuredly drink wine calling it by another name.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن صالح نے حاتم بن حریث کی سند سے بیان کیا, مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ
عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ۔