Narrated Qatadah:
We asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ : Which cloth was dearer to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ? or Which cloth did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم like best to wear ? He replied: The striped cloaks (hibrah).
ہم سے ہدبہ بن خالد ازدی نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، قتادہ کہتے ہیں
ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس زیادہ محبوب یا زیادہ پسند تھا؟ تو انہوں نے کہا: دھاری دار یمنی چادر ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Wear your white garments, for they are among your best garments, and shroud your dead in them. Among the best types of collyrium you use is antimony (ithmid) for it clears the vision and makes the hair sprout.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے سعید بن جبیر کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور ( پلکوں کے ) بال اگاتا ہے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم paid visit to us, and saw a dishevelled man whose hair was disordered. He said: Could this man not find something to make his hair lie down? He saw another man wearing dirty clothes and said: Could this man not find something to wash his garments with.
ہم سے نفیلی نے بیان کیا، ہم سے مسکین نے، الاوزاعی کی سند سے بیان کیا اور ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے وکیع کی سند سے، الاوزاعی کی سند سے، اسی طرح حسن بن عطیہ کی سند سے اور محمد بن المنکدر کی سند سے بیان کیا,جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کر لے؟ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا: کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟ ۔
Abu al-Ahwas quoted his father saying:
I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم wearing a poor garment and he said (to me): Have you any property? He replied: Yes. He asked: What kind is it? He said: Allah has given me camels. Sheep, horses and slaves. He then said: When Allah gives you property, let the mark of Allah's favour and honour to you be seen.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے ابو الاحواص نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم مالدار ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ تو انہوں نے کہا: اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام ( ہر طرح کے مال سے ) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے ۔
Narrated Zayd bin Aslam:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما used to dye his beard with yellow colour so much so that his clothes were filled (dyed) with yellowness. He was asked: Why do you dye with yellow colour? He replied: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم dyeing with yellow colour, and nothing was dearer to him than it. He would dye all his clothes with it, even his turban.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن محمد نے بیان کیا, زید بن اسلم سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد ( زعفرانی ) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔
Narrated Abu Rimthah رضی اللہ عنہ :
I went with my father to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and saw two green garments over him.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، ہم سے ابن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے عیاض نے بیان کیا, ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ پر دو سبز رنگ کی چادریں دیکھا۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father's authority, said that his grandfather said:
We came down with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم from a turning of a valley. He turned his attention to me and I was wearing a garment dyed with a reddish yellow dye. He asked: What is this garment over you? I recognized what he disliked. I then came to my family who were burning their oven. I threw it (the garment) in it and came to him the next day. He asked: Abdullah, what have you done with the garment? I informed him about it. He said: Why did you not give it to one of your family to wear, for there is no harm in it for women.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن غاز نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم نے کیسی اوڑھ رکھی ہے؟ میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو ناپسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عبداللہ! وہ چادر کیا ہوئی؟ تو میں نے آپ کو بتایا ( کہ میں نے اسے تنور میں ڈال دیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔
Hisham bin al-Ghaz said:
The word mudarrajah mentioned in the previous tradition means a colour which is neither crimson nor pink.
ہم سے عمرو بن عثمان الحمصی نے بیان کیا، ہم سے ولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہشام بن غاز کہتے ہیں کہ
وہ مضرجہ ( چادر ) ہوتی ہے جو درمیانی رنگ کی ہو نہ بہت زیادہ لال ہو اور نہ بالکل گلابی۔
Narrated Abdullah bin Amr bin al-As رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saw me. The version of Abu Ali al-Lula has: I think I wore a garment dyed with a reddish yellow colour. He asked: What is this? So I went and burnt it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: What have you done with your garment? I replied: I burnt it. He said: Why did you not give it to one of your women to wear? Abu Dawud said: Thawr transmitted it from Khalid and said: Pink (muwarrad) while Tawus said: Reddish yellow colour (mu'asfar) .
ہم سے محمد بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان سے شربیل بن مسلم نے شفعاء کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے ( ناگواری کے انداز میں ) فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟ تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورد ( گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا ) اور طاؤس نے«معصفر» ( کسم میں رنگا ہوا کپڑا ) روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما :
A man wearing two red garments passed the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and gave him a greeting, but he did not respond to his greeting.
ہم سے محمد بن حزابہ نے بیان کیا، ہم سے اسحاق نے بیان کیا، ہم سے ابن منصور نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ابو یحییٰ کی سند سے، مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔
Narrated Rafi ibn Khadij رضی اللہ عنہ :
We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on a journey, and we had on our saddles and camels garments consisting of red warp of wool. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Do I not see that red colour has dominated you. We then got up quickly on account of this saying of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and some of our camels ran away. We then took the garments and withdrew them.
ہم سے محمد بن العلا نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے الولید کی سند سے، یعنی ابن کثیر نے، وہ محمد بن عمرو بن عطا کی سند سے، وہ بنو حارثہ کے ایک شخص کی سند سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمارے کجاؤں ( پالانوں ) پر اور اونٹوں پر ایسے زین پوش دیکھے جس میں سرخ اون کی دھاریاں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہونے لگی ہے ( ابھی تو زین پوش سرخ کئے ہو آہستہ آہستہ اور لباس بھی سرخ پہننے لگو گے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ہم اتنی تیزی سے اٹھے کہ ہمارے کچھ اونٹ بدک کر بھاگے اور ہم نے ان زین پوشوں کو کھینچ کر ان سے اتار دیا۔
Narrated Hurayth bin al-Abajj as-Sulayhi:
A woman of Banu Asad: One day I was with Zaynab رضی اللہ عنہا , the wife of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and we were dyeing her clothes with red ochre. In the meantime the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم peeped us. When he saw the red ochre, he returned. When Zaynab رضی اللہ عنہا saw this, she realized that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم disapproved of what she had done. She then took and washed her clothes and concealed all redness. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then returned and peeped, and when he did not see anything, he entered.
ہم سے ابن عوف طائی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابن عوف طائی نے بیان کیا، کہا: میں نے اصل اسماعیل میں پڑھا، انہوں نے کہا: مجھ سے دمدم نے بیان کیا، یعنی ابن زرع نے، شریح بن عبید بن عبید رضی اللہ عنہ کی سند سے, حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ
بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے: میں ایک دن ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیروے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ناگوار لگا ہے، چنانچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے۔
Narrated Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had hair which reached the lobes of his ears, and I saw him wearing red robe. I did not see anything more beautiful than it.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابو اسحاق کی سند سے, براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔
Narrated Amir رضی اللہ عنہ :
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at Mina giving sermon on a mule and wearing a red garment, while Ali رضی اللہ عنہ was announcing.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے ہلال بن عامررضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک خچر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ پر لال چادر تھی اور علی رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آپ کی آواز دوسروں تک پہنچا رہے تھے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
I made a black cloak for the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and he put it on; but when he sweated in it and noticed the odour of the wool, he threw it away. The narrator said: I think he said: He liked good smell.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، قتادہ کی سند سے، مطرف کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سیاہ چادر رنگی تو آپ نے اس کو پہنا پھر جب اس میں پسینہ لگا اور اون کی بو محسوس کی تو اس کو اتار دیا، آپ کو خوشبو پسند تھی۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
When I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, he was sitting with his hands round his knees wearing the cloak the fringe of which was over his feet.
ہم سے عبیداللہ بن محمد القرشی نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، انہیں یونس بن عبید نے خبر دی، انہیں عبیدہ ابو خداش کی سند سے، انہوں نے ابو تمیمہ الحجیمی کی سند سے, جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered Makkah in the year of the Conquest while he had a black turban over him.
ہم سے ابو الولید طیالسی، مسلم بن ابراہیم اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا: ہم سے حماد نے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ایک کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔
Amr bin Huraith رضی اللہ عنہ quoting his father said:
I saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم on the pulpit and he wore a black turban, and he let both the ends hang between his shoulders.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے مساویر وراق سے، وہ جعفر بن عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے جس کا کنارہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔
Narrated Jafar bin Muhammad bin Ali bin Rukanah, from his father:
Rukanah رضی اللہ عنہ wrestled with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم threw him on the ground. Rukanah رضی اللہ عنہ said: I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: The difference between us and the polytheists is that we wear turbans over caps.
ہم سے قتیبہ بن سعید ثقفی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے ابوالحسن عسقلانی نے بیان کیا، ان سے ابو جعفر بن محمد بن علی بن رکانہ نے اپنے والد کی سند سے
رکانہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو آپ نے رکانہ کو پچھاڑ دیا۔ رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر پگڑی باندھنے کا ہے ۔
Narrated Abdur Rahman bin Awf رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم put a turban on me and let the ends hang in front of him and behind me.
بنو ہاشم کے ایک مؤکل محمد ابن اسماعیل نے ہمیں بتایا, عثمان ابن عثمان الغطفانی نے ہمیں بتایا, سلیمان ابن خربوذ نے ہمیں بتایا, اہل مدینہ کے ایک شیخ کہتے ہیں,میں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عمامہ باندھا تو اس کا شملہ میرے آگے اور پیچھے دونوں جانب لٹکایا۔