Safiyyah, daughter of Shaybah, said:
Aishah رضی اللہ عنہا mentioned the women of Ansar, praised them and said good words about them. She then said: When Surat an-Nur came down, they took the curtains, tore them and made head covers (veils) of them.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن مہاجر نے، وہ صفیہ بنت شیبہ کی سند سے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کا ذکر اچھے انداز میں کیا اور کہا کہ جب سورۃ النور نازل ہوئی تو وہ پردوں یا تہ بندوں کی طرف بڑھیں اور انہیں پھاڑ کر اوڑھنی اور دوپٹہ بنا لیا۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
When the verse That they should cast their outer garments over their persons was revealed, the women of Ansar came out as if they had crows over their heads by wearing outer garments.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن ثور نے، معمر کی سند سے، ابن خثیم سے، صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے ,ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب آیت کریمہ «يدنين عليهن من جلابيبهن» وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں ( سورۃ الاحزاب: ۵۹ ) نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں نکلتیں تو سیاہ چادروں کی وجہ سے ایسا لگتا گویا ان کے سروں پر کوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
May Allah have mercy on the early immigrant women. When the verse That they should draw their veils over their bosoms was revealed, they tore their thick outer garments and made veils from them.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا, ہم سے سلیمان بن داؤد مہری، ابن سرح، اور احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، ہمیں ابن وہب نے خبر دی: مجھے قرہ بن عبدالرحمٰن المعفیری نے ابن شہاب کی سند سے، عروہ بن زبیر کی روایت سے,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اللہ تعالیٰ ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) نازل فرمائی تو انہوں نے اپنے پردوں کو پھاڑ کر اپنی اوڑھنیاں اور دوپٹے بنا ڈالے۔ ابن صالح نے «أكنف» کے بجائے «أكثف» کہا ہے۔
Ibn al-Sarh said:
I saw (this tradition) in the writing of my maternal uncle from Aqil, from Ibn Shihab through a different chain of narrators and to the same effect.
ابن سرح کہتے ہیں
میں نے اپنے ماموں کی کتاب میں «عقيل عن ابن شهاب» کے طریق سے اسی مفہوم کی روایت دیکھی ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
Asma رضی اللہ عنہا , daughter of Abu Bakr, entered upon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wearing thin clothes. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم turned his attention from her. He said: O Asma, when a woman reaches the age of menstruation, it does not suit her that she displays her parts of body except this and this, and he pointed to her face and hands. Abu Dawud said: This is a mursal tradition (i.e. the narrator who transmitted it from Aishah رضی اللہ عنہا is missing) Khalid bin Duraik did not see Aishah رضی اللہ عنہا .
ہم سے یعقوب بن کعب الانتقی اور معمل بن الفضل حرانی نے بیان کیا: ہم سے الولید نے سعید بن بشیر سے بیان کیا، انہوں نے قتادہ کی سند سے، وہ خالد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: یعقوب بن دریک نے کہا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: اسماء! جب عورت بالغ ہو جائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے خالد بن دریک نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہا :
Umm Salamah رضی اللہ عنہا asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم permission for getting herself cupped. He commanded Abu Tibah to cup her. The transmitter said: I think he was her foster-brother or a boy not yet of age.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور ابن موہب نے بیان کیا , ہم سے لیث نے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا , جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم brought Fatimah a slave which he donated to her. Fatimah رضی اللہ عنہا wore a garment which, when she covered her head, did not reach her feet, and when she covered her feet by it, that garment did not reach her head. When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم saw her struggle, he said: There is no harm to you: Here is only your father and slave.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابوجمیع سالم بن دینار نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ رضی اللہ عنہا جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
A mukhannath (eunuch) used to enter upon the wives of Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. They (the people) counted him among those who were free of physical needs. One day the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered upon us when he was with one of his wives, and was describing the qualities of a woman, saying: When she comes forward, she comes forward with four (folds in her stomach), and when she goes backward, she goes backward with eight (folds in her stomach). The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do I not see that this (man) knows what here lies. Then they (the wives) observed veil from him.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن ثور نے بیان کیا، انہوں نے معمر کی سند سے، وہ الزہری کی سند سے اور ہشام بن عروہ نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث ( ہجڑا ) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Aishah through a different chain of narrators to the same effect.
ہم سے محمد بن داؤد بن سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے,اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے,اسی مفہوم کی ( حدیث ) مروی ہے۔
The tradition mentioned about has also been transmitted by Aishah رضی اللہ عنہا through a different chain of narrators. This version has:
He (the Prophet) exiled him and he lived in a desert (outside Madina). He would come every Friday asking for food.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس نے خبر دی، وہ ابن شہاب کی سند سے، وہ عروہ سے, اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے, اور اس میں اتنا اضافہ ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکال دیا، اور وہ بیداء میں رہنے لگا، ہر جمعہ کو وہ کھانا مانگنے آیا کرتا تھا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Auzai through a different chain of narrators. This version adds:
He was told: 'O Messenger of Allah, in that case he will of starvation. So he allowed him to visit (the city) twice a week so that he might ask for food and go back.
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر نے بیان کیا, اوزاعی سے اس واقعہ کے سلسلہ میں مروی ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تب تو وہ بھوک سے مر جائے گا تو آپ نے اسے ہفتہ میں دو بار آنے کی اجازت دے دی، وہ آتا اور کھانا مانگ کر لے جاتا۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The verse: And say to the believing women that they should lower gaze was partly abrogated by the verse: Such elderly women as are past the prospect of marriage.
ہم سے احمد بن محمد المروازی نے بیان کیا، ہم سے علی بن حصین بن واقد نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو ( سورۃ النور: ۶۰ ) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin: I was with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم while Maymunah was with him. Then Ibn Umm Maktum came. This happened when we were ordered to observe veil (purdah). The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Observe veil from him. We asked: Messenger of Allah! is he not blind? He can neither see us nor recognise us. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Are both of you blind? Do you not see him? Abu Dawud said: This was peculiar to the wives of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Do you not see that Fatimah رضی اللہ عنہا daughter of Qays passed her waiting period with Ibn Umm Maktum. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to Fatimah رضی اللہ عنہا daughter of Qays: Pass your waiting period with Ibn Umm Maktum, for he is a blind man. You can put off your clothes with him.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے یونس کی سند سے، وہ زہری کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ام سلمہ کے آزاد کردہ غلام نبھان نے بیان کیا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his father's authority, said that his grandfather reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you marries his male-slave to his slave-woman, he should not look at her private parts.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المیمون نے بیان کیا، ہم سے ولید نے بیان کیا، انہوں نے اوزاعی کی سند سے، عمرو بن شعیب سے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کر دے تو پھر اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his father's authority, said that his grandfather reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you marries his female servant to his slave or to his employee, he should not look at her private part below the navel and above the knees. Abu Dawud said: The correct name is Sawwad bin Dawud al-Muzani al-Sairafi (and not Dawud bin Sawwad as mentioned in the chain). The narrator Waki misunderstood it.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، مجھ سے داؤد بن سوار مزنی نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے اپنے والد سے,اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to visit her when she was veiled, and said: use one fold and not two. Abu Dawud said: Use one fold and not two means: Do not fold it like the turban of a man. Do not double it up manifolds.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، وہ حبیب بن ابی ثابت سے، وہ ابو احمد کے آزاد کردہ غلام وہب سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لية لا ليتين» کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔
Narrated Dihyah bin Khalifah al-Kalbi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was brought some pieces of fine Egyptian linen and he gave me one and said: Divide it into two; cut one of the pieces into a shirt and give the other to your wife for veil. Then when he turned away, he said: And order your wife to wear a garment below it and not show her figure. Abu Dawud said: Yahya bin Ayyub transmitted it and said: Abbas bin Ubaid Allah bin Abbas
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح اور احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہیں ابن لحیہ نے موسیٰ بن جبیر سے، ان سے عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے خالد بن یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کر لے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو ۔
Safiyyah, daughter of Abu Ubayd, said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم mentioned lower garment, Umm Salamah, wife of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, asked him: And a woman, Messenger of Allah? He replied: She may hang down a span. Umm Salamah said: Still it (foot) will be uncovered. He said: Then a forearm's length, nor exceeding it.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، ابو بکر بن نافع سے، اپنے والد سے, صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت ( کتنا دامن لٹکائے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائے ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Umm Salamah رضی اللہ عنہا from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. Abu Dawud said:
Ibn Ishaq and Ayyub bin Musa transmitted it from Nafi from Safiyyah.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عیسیٰ نے عبید اللہ سے، نافع کی سند سے، سلیمان بن یسار سے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث نے بیان کیا۔ ابوداؤد نے کہا
ابن اسحاق اور ایوب بن موسی نے نافع کی سند سے اور صفیہ کی سند سے روایت کی ہے۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave licence to others of the believers (i.e. the wives of the Prophet) to hang down their lower garment a span. Then they asked him to increase it, and he increased one span for them. They would send (the garment) to us and we would measure it one forearm's length for them.
ہم سے مدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہیں سفیان کی سند سے، مجھے زید العمی نے خبر دی، وہ ابو الصدیق ناجی کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین ( رضی اللہ عنہن ) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔