Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم liked to begin with the right side as far as possible in all conditions: in his purification, and combing. The narrator Muslim added: in using tooth-stick, and he did not mention in all his conditions . Abu Dawud said: Shubah transmitted it from Muadh, but did not mention his tooth-stick.
ہم سے حفص بن عمر اور مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا: ہم سے شعبہ نے، اشعث بن سلیم سے، اپنے والد سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت بھر اپنے تمام کاموں میں، وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں داہنے سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔ مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «وسواكه» بھی ہے یعنی مسواک کرنے میں اور انہوں نے «في شأنه كله» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معاذ نے شعبہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے مسواک کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When you put on (a garment) and when you perform ablution, you should begin with your right side.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے اعمش نے بیان کیا، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم mentioned bedding and said: There should be bedding for a man, bedding for his wife, and third for a guest, but a fourth for the devil.
ہم سے یزید بن خالد ہمدانی الرملی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے ابو ہانی کی سند سے اور ابو عبدالرحمٰن حبلی کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستروں اور بچھونوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ایک بستر تو آدمی کو چاہیئے، ایک اس کی بیوی کو چاہیئے اور ایک مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوتا ہے ۔
Narrated Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ :
When I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in his house, I saw him sitting reclining on a pillow. The narrator Ibn al-Jarrah added: on his left side . Abu Dawud said: Ishaq bin Mansur transmitted it from Isra'il, also mentioning the words on his left side .
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا, ہم سے عبداللہ بن جراح نے وکیع کی سند سے، بنی اسرائیل سے، سماک کی سند سے بیان کیا، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا تو آپ کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ ابن الجراح نے «على يساره» کا اضافہ کیا ہے یعنی آپ اپنے بائیں پہلو پر ٹیک لگائے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسحاق بن منصور نے اسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں بھی «على يساره» کا لفظ ہے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
He (once) saw some fellow travelers of the Yemen. They had their saddles (on camels) of leather. He said: If anyone likes to see the fellow travellers most resembling to the Companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, he should see them.
ہم سے ہناد بن سری نے وکیع کی سند سے، اسحاق بن سعید بن عمرو القرشی سے، اپنے والد کی سند سے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے اہل یمن کے سفر کے چند ساتھیوں کو دیکھا ان کے بچھونے چمڑوں کے تھے، تو انہوں نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے رفقاء کو دیکھنا پسند ہو تو وہ انہیں دیکھ لے۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Have you made cushions ? I said: How can we afford cushions ? He said: Soon you will have cushions.
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابن المنکدر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے توشک اور گدے بنا لیے؟ میں نے عرض کیا: ہمیں گدے کہاں میسر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس گدے ہوں گے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The pillow of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on which he slept at night (according to the version on Ibn Mani') was of leather stuffed with palm fibres (according to the agreed version).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور احمد بن منیع نے بیان کیا: ہم سے ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ، جس پر آپ رات کو سوتے تھے، ایسے چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The bedding of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم consisted of leather stuffed with palm fibre.
ہم سے ابو توبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، یعنی ابن حیان نے، ہشام کی سند سے، اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
Her bedding was in front of the place of prayer of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے خالد الحدہ نے بیان کیا، وہ ابوقلابہ سے، وہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے , ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ان کا بسترا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ کے سامنے رہتا تھا۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Fatimah رضی اللہ عنہا and found a curtain hanging at her door, so he did not enter. Whenever he entered (the house), he would visit her first. Then Ali رضی اللہ عنہ came and found that Fatimah رضی اللہ عنہا was grieved. He asked: What is the matter with you? She replied: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to me but did not enter (the house). Ali رضی اللہ عنہ then came to him and said: Messenger of Allah, Fatimah رضی اللہ عنہا felt it keenly that you came to visit her but did not go in. He replied: What have I to do with this world? What have I to do with prints and figures (on the curtain)? He (Ali رضی اللہ عنہ) then went to Fatimah رضی اللہ عنہا and informed her of what the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had said. She said: Ask the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم what he me to do about it. He (the Prophet) said: Tell her that she must send it to so-and-so.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے فضیل بن غزوان نے نافع کی سند سے بیان کیا ,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکتے دیکھا تو آپ اندر داخل نہیں ہوئے بہت کم ایسا ہو تاکہ آپ اندر جائیں اور پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نہ ملیں، اتنے میں علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غمگین دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تھے لیکن اندر نہیں آئے، علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اندر نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا سروکار، مجھے نقش و نگار سے کیا واسطہ؟ یہ سن کر وہ واپس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور آپ نے جو فرمایا تھا انہیں بتایا، اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ اس پردے کے متعلق آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس سے کہو: اسے وہ بنی فلاں کو بھیج دے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted through a different chain of narrators by Ibn Fudail on his father's authority. This version has:
The curtain was embellished.
ہم سے واصل بن عبد الاعلی اسدی نے بیان کیا, فضیل سے یہی حدیث مروی ہے,اس میں ہے کہ
وہ ایک منقش پردہ تھا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم never left in his house anything containing the figure of a cross without destroying it.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے عمران بن حطان نے بیان کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کسی ایسی چیز کو جس میں صلیب کی تصویر بنی ہوتی بغیر کاٹے یا توڑے نہیں چھوڑتے تھے۔
Narrated Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The angels do not enter a house which contains a picture, a dog, or a man who is impure by sexual defilement.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے علی بن مدرک سے، انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے، انہوں نے عبداللہ بن نجی سے اپنے والد سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا، یا جنبی ( ناپاک شخص ) ہو ۔
Narrated Abu Talha al-Ansari رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: The angels do not enter a house which contains a dog or a picture. Zaid bin Khalid al-Juhani said to Saeed bin Yasar al-Ansari, the transmitter of this tradition: Go with me to Aishah رضی اللہ عنہا , Mother of Faithful, so that we ask about it. So we went and said to her: Mother of Faithful, Abu Talhah has transmitted to us a tradition so-and-so. Have you heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم mentioning that ? She replied: No but I tell what I saw him doing. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went on an expedition and I was waiting for his return. I got a carpet which I hung as a screen on a stick over the door. When he came I received him and said: Peace be upon you, Messenger of Allah, His mercy and His blessings. Praise to be Allah Who gave you dominance and respect. Then he looked at the house and saw the carpet; and he did not respond to me at all. I found (signs of) disapproval in his face. He then came to the carpet and tore it down. He then said: Allah has not commanded us to clothe stones and clay out of the sustenance He has given us. She said: I then cut it to pieces and made two pillows out of it and stuffed them with palm fibre, and he did not disapprove of it to me.
ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد نے سہیل کی سند سے، یعنی ابن ابی صالح نے، سعید بن یسار الانصاری کی سند سے، وہ زید بن خالد جہنی کی سند سے, ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمہ ہو ۔ زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چنانچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ میں تم سے بیان کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، میں آپ کی واپسی کی منتظر تھی، میں نے ایک پردہ لیا جو میرے پاس تھا اور اسے دروازے کی پڑی لکڑی پر لٹکا دیا، پھر جب آئے تو میں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا: سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو عزت بخشی اور اپنے فضل و کرم سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی، تو آپ کی نگاہ پردے پر گئی تو آپ نے میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، میں نے آپ کے چہرہ پر ناگواری دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کے پاس آئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: اللہ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم اس کی عطا کی ہوئی چیزوں میں سے پتھر اور اینٹ کو کپڑے پہنائیں پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اور ان میں کھجور کی چھال کا بھراؤ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کام پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Suhail through a different chain of narrators like the previous one. This version has:
I said: Mother, he has told me that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم has said: He also said the words; Saeed bin yasir client of Banu al-Najjar.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا, اس سند سے بھی سہیل سے اسی طرح مروی ہے
اس میں «فقلنا يا أم المؤمنين إن أبا طلحة حدثنا عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کے بجائے «فقلت يا أمه إن هذا حدثني أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال» ہے نیز اس میں «سعيد بن يسار الأنصاري» کے بجائے «سعيد بن يسار مولى بني النجار» ہے۔
Narrated Abu Talhah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The angels do not enter the house which contains a picture. Busr (bin Saeed), the transmitter of this tradition, said: Zaid (bin Khalid al-Juhani) then fell it and we paid him a sick visit. There was a curtain with a picture hanging at his door. I then said to Ubaid Allah al-Khawlani', the step-son of Maimunah, wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: Did Zaid not tell us about pictures on the first day ? Ubaid Allah said: Did you not hear him when he said: Except a figure on a garment.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے، بکیر کی سند سے، وہ بسر بن سعید کی سند سے, زید بن خالد رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے ہیں جس میں تصویر ہو ۔ بسر جو حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا ہے جس میں تصویر ہے تو میں نے ام المؤمنین میمونہ کے ربیب ( پروردہ ) عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کی ممانعت کے سلسلہ میں اس سے پہلے حدیث نہیں سنائی تھی ( پھر یہ کیا ہوا؟ ) تو عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے ان سے نہیں سنا تھا انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا سوائے اس نقش و نگار کے جو کپڑے پر ہو ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ordered Umar ibn al-Khattab who was in al-Batha' at the time of the conquest (of Makkah) to visit the Kabah and obliterate all images in it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم did not enter it until all the images were obliterated.
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا کہ ان سے اسماعیل بن عبد الکریم نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابراہیم نے، یعنی ابن عقیل نے، اپنے والد کی سند سے، وہب بن منبہ کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت جب آپ بطحاء میں تھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور جتنی تصویریں ہوں سب کو مٹا ڈالیں، آپ اس وقت تک کعبہ کے اندر تشریف نہیں لے گئے جب تک سبھی تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Maimunah, wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم reported him as saying: Gabriel صلی اللہ علیہ وسلم promised to visit me last night, but he did not visit me. Then it occurred to him that there was a pup under his bed. So he ordered and it was turned out. He then got water in his hand and sprinkled it on its place. When Gabriel صلی اللہ علیہ وسلم met him, he said: We do not enter a house which contains a dog or a picture. When the morning came, the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ordered to kill dogs. He ordered to kill the dog which guarded a small orchard, and left the dog which guarded the big orchard.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس نے خبر دی، وہ ابن شہاب کی سند سے، وہ ابن سباق سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر آپ نے وہاں چھڑکاؤ کیا تو جبرائیل آپ سے ملے اور کہنے لگے: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو پھر صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے رہے تھے صرف آپ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ رہے تھے ( کیونکہ بغیر کتوں کے ان کی دیکھ ریکھ دشوار ہوتی ہے ) ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Gabriel صلی اللہ علیہ وسلم came to me and said: I came to you last night and was prevented from entering simply because there were images at the door, for there was a decorated curtain with images on it in the house, and there was a dog in the house. So order the head of the image which is in the house to be cut off so that it resembles the form of a tree; order the curtain to be cut up and made into two cushions spread out on which people may tread; and order the dog to be turned out. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then did so. The dog belonged to al-Hasan or al-Husayn and was under their couch. So he ordered it to be turned out. Abu Dawud said: Al-Nadd means a thing on which clothes are placed like a couch.
ہم سے ابوصالح محبوب بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابواسحاق الفزاری نے بیان کیا، ان سے یونس بن ابی اسحاق نے مجاہد کی سند سے، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں ( دروازے پر ) ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہو جائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنا لیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اسی دوران حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا کتا ان کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نضد» چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔