Narrated Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade combing the hair except every second day.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے حسن کی سند سے, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پابندی سے ) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ ناغہ کے ساتھ ہو ( تو جائز ہے ) ۔
Abdullah bin Buraydah said:
A man from the companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم traveled to Fudalah bin Ubayd رضی اللہ عنہ when he was in Egypt. He came to him and said: I have not come to you to visit you. But you and I heard a tradition from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I hope you may have some knowledge of it. He asked: What is it? He replied: So and so. He said: Why do I see you disheveled when you are the ruler of this land? He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has forbidden us to indulge much in luxury. He said: Why do I see you unshod? He replied: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to command us to go barefoot at times.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے الجریری نے بیان کیا, عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ
ایک صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس مصر گئے، جب وہاں پہنچے تو عرض کیا: میں یہاں آپ سے ملاقات کے لیے نہیں آیا ہوں، ہم نے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے متعلق آپ کو کچھ ( مزید ) علم ہو، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ فرمایا: وہ اس اس طرح ہے، پھر انہوں نے فضالہ سے کہا: کیا بات ہے میں آپ کو پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس سر زمین کے حاکم ہیں؟ تو ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیادہ عیش عشرت سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے پوچھا: آپ کے پیر میں جوتیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟ تو وہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کا بھی حکم دیتے تھے۔
Narrated Abu Umamah Ilyas bin Thalabah:
The Companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم mentioned this word before him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Listen, listen! Wearing old clothes is a part of faith, wearing old clothes is a part of faith. Abu Dawud said: He is Abu Umamah bin Thalabat al-Ansari
ہم سے نفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی امامہ سے، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے ایک روز آپ کے پاس دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے، بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے اس سے مراد ترک زینت و آرائش اور خستہ حالی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری ہیں۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had sikkah with which he perfumed himself.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، ہم سے ابو احمد نے بیان کیا، ان سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے، ان سے عبداللہ بن مختار نے، موسیٰ بن انس کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشبو کی ایک ڈبیہ تھی جس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who has hair should honour it.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابن ابی الزناد نے بیان کیا، ان سے سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے ۔
Narrated Karimah, daughter of Hammam, told:
A woman came to Aishah (رضی اللہ عنہا) and asked her about dyeing with henna. She replied: There is no harm, but I do not like it. My beloved, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, disliked its odour. Abu Dawud said: She meant the colour of hair of the head.
ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، علی بن مبارک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ
ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
When Hind, daughter of Utbah رضی اللہ عنہا , said: Prophet of Allah, accept my allegiance, he replied; I shall not accept your allegiance till you make a difference to the palms of your hands; for they look like the paws of a beast of prey.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا , مجھ سے غیبت بنت عمرو المجاشیہ نے بیان کیا , مجھ سے میری خالہ ام الحسن نے اپنی دادی سے بیان کیا ,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
A woman made a sign from behind a curtain to indicate that she had a letter for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم closed his hand, saying: I do not know this is a man's or a woman's hand. She said: No, a woman. He said: If you were a woman, you would make a difference to your nails, meaning with henna.
ہم سے محمد بن محمد صوری نے بیان کیا، ہم سے خالد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہم سے مطیع بن میمون نے بیان کیا، وہ صفیہ بنت اسماء کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی یعنی مہندی سے۔
Narrated Humaid bin Abdul-Rahman:
He heard Muawiyah bin Abi Sufyan رضی اللہ عنہما say during the Hajj when he was on the pulpit and took a lock of hair which was in the hand of the guard, saying: O people of Madina, where are your scholars ? I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbidding such a think as this and said: The children of Isra'il perished when their women practised it.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, حمید بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے جس سال حج کیا میں نے آپ کو منبر پر کہتے سنا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا جو ایک پہرے دار کے ہاتھ میں تھا لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جیسی چیزوں سے منع کرتے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بنی اسرائیل ہلاک ہو گئے جس وقت ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا ۔
Abdullah رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم cursed the woman who adds some false hair and the woman who asks for it, the woman who tattoos and the woman who asks for it.
ہم سے احمد بن حنبل اور مسدد نے بیان کیا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، عبید اللہ سے، انہوں نے کہا: مجھ سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اس عورت پر جو دوسری عورت کے بال میں بال کو جوڑے، اور اس عورت پر اپنے بالوں میں اور بال جڑوائے، اور اس عورت پر دوسری عورت کا بدن گودے، اور نیل بھرے، اور اس عورت پر جو اپنا بدن گودوائے ۔
Abdullah (bin Mas'ud رضی اللہ عنہ) said:
Allah has cursed the woman who tattoo and the women who have themselves tattooed, the women who add false hair (according to the version of Muhammad bin Isa) and the women who pluck hairs from their faces (according to the version on Uthman). The agreed version then goes: The women who spaces between their teeth for beauty, changing what Allah has created. When a woman of Banu Asad called Umm Ya'qub, who read the Quran (according to the version of Uthman) heard it, she came to him (according to the agreed version) and said: I have heard that you have cursed the women who tattoo, those have themselves tattooed, those who add false hair (according to the version of Muhammad), those pluck hairs from their faces, and those who make spaces between their teeth (according to the agreed version), for changing what Allah has created (according to the version of Uthman). He said: Why should I not curse those whom the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had cursed and those who were mentioned in Allah's Book ? She said: I have read it from cover to cover and have not found in it. He said: I swear by Allah, if you read it, you would have found it. He then read: What the Messenger has brought you accept, and what he has forbidden refrain from it. She said: I find some of these thing in you wife. He said: Enter (the house) and see. She said: I then entered (the house) and came out. He asked: What did you see ? She said: I did not see (anything). He said: Had it been so, she would have not have been with us. This is according to the version of Uthman.
ہم سے محمد بن عیسیٰ اور عثمان بن ابی شیبہ المعنی نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اللہ نے جسم میں گودنے لگانے والیوں اور گودنے لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے، ( محمد کی روایت میں ہے ) اور بال جوڑنے والیوں پر، ( اور عثمان کی روایت میں ہے ) اور اپنے بال اکھیڑنے والیوں پر، جو زیب و زینت کے واسطہ منہ کے روئیں اکھیڑتی ہیں، اور خوبصورتی کے لیے اپنے دانتوں میں کشادگی کرانے والیوں، اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والیوں پر۔ تو یہ خبر قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت ( ام یعقوب نامی ) کو پہنچی جو قرآن پڑھا کرتی تھی، تو وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بال جوڑنے والیوں اور بال اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والیوں پر خوبصورتی کے لیے جو اللہ کی بنائی ہوئی شکل تبدیل کر دیتی ہیں پر لعنت کی ہے؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہو اور وہ اللہ کی کتاب کی رو سے بھی ملعون ہوں؟ تو اس عورت نے کہا: میں تو پورا قرآن پڑھ چکی ہوں لیکن یہ مسئلہ مجھے اس میں کہیں نہیں ملا؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو یہ مسئلہ ضرور پاتی پھر آپ نے آیت کریمہ «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» اور تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ ( الحشر: ۷ ) پڑھی تو وہ بولی: میں نے تو اس میں سے بعض چیزیں آپ کی بیوی کو بھی کرتے دیکھا ہے، آپ نے کہا: اچھا اندر جاؤ اور دیکھو تو وہ اندر گئیں پھر باہر آئیں تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو اس عورت نے کہا: مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتی تو پھر میرے ساتھ نہ رہتی۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The woman who supplies fake hair and the one who asks for it, the woman who pulls out hair for other people and the woman who depilates herself, the woman who tattoos and the one who has it done when there is no disease to justify it have been cursed. Abu Dawud said: Wasilah means the woman who adds false hair to the hair of women. Mustawsilah means the one who asks for adding the hair to her hair. namisah means a woman who plucks hair from the brow until she makes it thin; mutanammisah means the woman who depilates herself; washimah is a woman who tattoos in the face with antimony or ink; mustawshimah is a woman with whom it is done.
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، اسامہ کی سند سے، ابان بن صالح کی سند سے، مجاہد بن جبر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی، اور جڑوانے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور«متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال ( تل ) بنائے، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے۔
Saeed bin Jubair said:
There is no harm in fastening the hair with silk or woollen threads. Abu Dawud said: It appears that he held the view that what is prohibited is the adding of the hair of women. Abu Dawud said: Ahmad (b. hanbal) used to say: There is no harm in tying the hair with silk or woollen threads.
ہم سے محمد بن جعفر بن زیاد نے بیان کیا , ہم سے شارق نے سلیم کی سند سے بیان کیا ,سعید بن جبیر کہتے ہیں
بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد کہتے تھے: چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone is presented some perfume, he should not return it, for it is a thing of good fragrance and light to bear.
ہم سے حسن بن علی اور ہارون بن عبداللہ المعنی نے بیان کیا کہ ان سے ابوعبدالرحمٰن المقری نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ایوب نے، عبید اللہ بن ابی جعفر کی سند سے، انہوں نے العرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے خوشبو کا ( تحفہ ) پیش کیا جائے تو وہ اسے لوٹائے نہیں کیونکہ وہ خوشبودار ہے اور اٹھانے میں ہلکا ہے ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If a woman uses perfume and passes the people so that they may get its odour, she is so-and-so, meaning severe remarks.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ثابت بن عمیرہ نے خبر دی، مجھ سے غنیم بن قیس نے بیان کیا، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت عطر لگائے پھر وہ لوگوں کے پاس سے اس لیے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے آپ نے ( ایسی عورت کے متعلق ) بڑی سخت بات کہی۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A woman met him and he found the odour of perfume in her. Her clothes were fluttering in the air. He said: O maid-servant of the Almighty, are you coming from the mosque? She replied: Yes. He said: For it did you use perfume? She replied: Yes. He said: I heard my beloved Abul Qasim صلی اللہ علیہ وسلم say: The prayer of a woman who uses perfume for this mosque is not accepted until she returns and takes a bath like that of sexual defilement (perfectly). Abu Dawud said: Al-i'sar means dust.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، عاصم بن عبید اللہ کے واسطہ سے، وہ ابورحم کے آزاد کردہ غلام عبید کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا: جبار کی بندی! تم مسجد سے آئی ہو؟ وہ بولی: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ بولی: ہاں، آپ نے کہا: میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعصار» غبار ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If a woman fumigates herself with perfume, she must not attend the night prayer with us. Ibn Nufayl said: Isha' means night prayer.
ہم سے نفیلی اور سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن محمد ابو علقمہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے خوشبو کی دھونی لے رکھی ہو تو وہ ہمارے ساتھ عشاء کے لیے ( مسجد میں ) نہ آئے ( بلکہ وہ گھر ہی میں پڑھ لے ) ۔ ابن نفیل کی روایت میں «العشاء» کے بجائے «عشاء الآخرة» ہے ( یعنی عشاء کی صلاۃ ) ۔
Narrated Ammar bin Yasir رضی اللہ عنہما :
I came to my family at night (after a journey) with my hands chapped and they perfumed me with saffron. In the morning I went to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and gave him a greeting, but he did not respond to me nor did he welcome me. He said: Go away and wash this off yourself. I then went away and washed it off me. I came to him but there remained a spot of it on me. I give him a greeting, but he did not respond to me nor did he welcome me. He said: Go away and wash it off yourself. I then went away and washed it off me. I then came and gave him a greeting. He responded to me and welcomed me, saying: The angels do not attend the funeral of an unbeliever bringing good to it, nor a man who smears himself with saffron, nor a man who is sexually defiled. He said: He permitted the man who was sexually defiled to perform ablution when he slept, ate or drank.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم کو عطاء خراسانی نے خبر دی، وہ یحییٰ بن یعمر کی سند سے,عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس میں زعفران کا خلوق ( ایک مرکب خوشبو ہے ) لگا دیا، پھر میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ نے نہ میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں نے جا کر اسے دھو دیا، پھر آیا، اور میرے ہاتھ پر خلوق کا اثر ( دھبہ ) باقی رہ گیا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں گیا اور میں نے اسے دھویا، پھر آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور خوش آمدید کہا، اور فرمایا: فرشتے کافر کے جنازہ میں کوئی خیر لے کر نہیں آتے، اور نہ اس شخص کے جو زعفران ملے ہو، نہ جنبی کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ وہ سونے، کھانے، یا پینے کے وقت وضو کر لے۔
The tradition mentioned above (No. 4164) has also been transmitted by Ammar ibn Yasir through a different chain of narrators. This version has: Ammar said: I used khaluq. The first version is more perfect; it mentioned taking a bath . Ibn Jurayj said: I said to Umar (a transmitter): They might be wearing ihram (robe of pilgrim)? He replied: No, they were residents.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے خود اپنے ہاتھوں میں خلوق ملا، پہلی روایت زیادہ کامل ہے اس میں دھونے کا ذکر ہے ۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عمر بن عطاء سے پوچھا: وہ لوگ محرم تھے؟ کہا: نہیں، بلکہ سب مقیم تھے۔
Al-Rabi bin Anas, quoting his two grandfathers, said: We heard Abu Musa say: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah does not accept the prayer of a man who has any khaluq (perfume composed of saffron) on his body. Abu Dawud said: His grandfathers were Zaid and Ziyad.
ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جس کے بدن میں کچھ بھی خلوق ( زعفران سے مرکب خوشبو ) لگی ہو ۔