Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded to clip the moustaches and grow the beard long.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے مالک کی سند سے، ابوبکر بن نافع سے، اپنے والد سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے خوب کترنے، اور داڑھیوں کے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم fixed forty days to shave the pubes, paring the nails, clipping the moustaches, and plucking the hair under the armpit. Abu Dawud said: Jafar bin Sulaiman transmitted it from Abu Imran on the authority of Anas. In this version he did not mention the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Forty days were fixed for us. This is a more correct version.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے صدقہ الدقیقی نے بیان کیا، ہم سے ابو عمران الجونی نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیر ناف کے بال مونڈنے، ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کی چالیس دن میں ایک بار کی تحدید فرما دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جعفر بن سلیمان نے ابوعمران سے اور انہوں نے انس سے روایت کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں «وقَّتَ لنا» کے بجائے «وُقِّتَ لنا» بصیغہ مجہول ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
We used to grow beard long except during the Hajj or Umrah. Abu Dawud said: Istihdad means to shave the pubes.
ہم سے ابن نفیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسے عبد الملک بن ابی سلیمان سے پڑھا، اور عبد الملک نے اسے ابو الزبیر سے پڑھا اور ابو الزبیر نے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «استحداد» کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں۔
Amr bin Shuaib, on his father's authority, told that his grandfather reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not pluck out grey hair. If any believer grows a grey hair in Islam, he will have light on the Day of Resurrection. (This is Sufyan's version). Yahya's version says: Allah will record on his behalf a good deed for it, and will blot out a sin for it.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان المعنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے ابن عجلان سے، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو ( سفیان کی روایت میں ہے ) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا ( اور یحییٰ کی روایت میں ہے ) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Jews and Christians do not dye (their beards), so act differently from them.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ زہری سے، ابوسلمہ اور سلیمان بن یسار سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ اپنی داڑھیاں نہیں رنگتے ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ، یعنی انہیں خضاب سے رنگا کرو۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
Abu Quhafah was brought on the day of the conquest of Makkah with head and beard while like hyssop. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Change this something, but avoid black.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح اور احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
فتح مکہ کے دن ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ ( نامی سفید رنگ کے پودے ) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The best things with which grey hair are changed are henna and katam.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے سعید الجریری نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، وہ ابو الاسود الدیلمی کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھی چیز جس سے اس بڑھاپے ( بال کی سفیدی ) کو بدلا جائے حناء ( مہندی ) اور کتم ( وسمہ ) ہے ۔
Narrated Abu Rimthah رضی اللہ عنہ :
I went with my father to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He had locks hanging down as far as the lobes of the ears stained with henna, and he was wearing two green garments.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، یعنی ابن عیاض نے، کہا: ہم سے عیاض نے بیان کیا, ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو دیکھا کہ آپ کے سر کے بال کان کی لو تک ہیں، ان میں مہندی لگی ہوئی ہے، اور آپ کے جسم مبارک پر سبز رنگ کی دو چادریں ہیں۔
Narrated Abu Rimthah رضی اللہ عنہ :
My father said to him (the Prophet): Show me what is on your back, for I am a physician. He (the Prophet) said: You are only a soother. Its physician is He Who has credit it.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابجر کو عیاض بن لقیت سے سنا, اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ
میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا: طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے ( مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے ) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ۔
Narrated Abu Rimthah رضی اللہ عنہ :
I and my father came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said to a man or to my father: Who is this? He replied: He is my son. He said: Do not commit a crime on him. He had stained his beard with henna.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ عیاض بن لقیط سے, ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا: یہ کون ہے؟ وہ بولے: میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہو گی، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۔
Thabit said that Anas was asked:
The hair-dye of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He replied: He did not dye his hair, but Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہما dyed their hair.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے بیان کیا,انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خضاب لگایا ہی نہیں، ہاں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے لگایا ہے۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to wear tanned leather sandals and dye his beard yellow with wars and saffron, and Ibn Umar رضی اللہ عنہما used to do that too.
ہم سے عبدالرحیم بن مطرف ابو سفیان نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی روواد نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
When a man who had dyed himself with henna passed by the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, he said: How fine this is! When another man who had dyed himself with henna and katam passed by, he said: This is better than that. Then another man who had dyed himself with yellow dye, passed by, he said: This is better than all that.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے حمید بن وہب نے بیان کیا، وہ ابن طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اور کتم کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ اس سے بھی اچھا ہے اتنے میں ایک تیسرا شخص زرد خضاب لگا کے گزرا تو آپ نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا ہے ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: At the end of time there will be people who will use this black dye like the crops of doves who will not experience the fragrance of Paradise.
ہم سے ابو توبہ نے بیان کیا، ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے عبدالکریم الجزری کی سند سے، وہ سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر زمانے میں کچھ لوگ کبوتر کے سینے کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے وہ جنت کی بو تک نہ پائیں گے ۔
Narrated Thawban:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went on a journey, the last member of his family he saw was Fatimah رضی اللہ عنہا , and the first he visited on his return was Fatimah رضی اللہ عنہا. Once when he returned from an expedition she had hung up a hair-cloth, or a curtain, at her door, and adorned al-Hasan and al-Husayn with silver bracelets. So when he arrived, he did not enter. Thinking that he had been prevented from entering by what he had seen, she tore down the curtain, unfastened the bracelets from the boys and cut them off. They went weeping to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and when he had taken them from them, he said: Take this to so and so's family. Thawban. In Madina, these are my family, and I did not like them to enjoy their good things in the present life. Buy Fatimah a necklace or asb, Thawban, and two ivory bracelets.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے محمد بن حجادہ نے، حمید الشامی کی سند سے، سلیمان منبہیٰ کی سند سے, ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےکہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنے گھر والوں میں سب سے اخیر میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرتے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے تشریف لائے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں کو چاندی کے دو کنگن پہنا رکھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو گھر میں داخل نہیں ہوئے تو وہ سمجھ گئیں کہ آپ کے اندر آنے سے یہی چیز مانع رہی ہے جو آپ نے دیکھا ہے، تو انہوں نے دروازے سے پردہ اتار دیا، پھر دونوں صاحبزادوں کے کنگن کو اتار لیا، اور کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا، تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے ہوئے آئے، آپ نے ان سے کٹے ہوئے ٹکڑے لے کر فرمایا: ثوبان! اسے مدینہ میں فلاں گھر والوں کو جا کر دے آؤ پھر فرمایا: یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں مجھے یہ ناپسند ہے کہ یہ اپنے مزے دنیا ہی میں لوٹ لیں، اے ثوبان! فاطمہ کے لیے مونگوں والا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید کر لے آؤ ۔