Prayer (Kitab Al-Salat): Detailed Rules of Law about the Prayer during Journey
كتاب صلاة السفر
Chapter 4
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The prayer was prescribed as consisting of two rak'ahs both when one was resident and when travelling. The prayer while travelling was left according to the original prescription and the prayer of one who was resident was enhanced.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، صالح بن کیسان کی سند سے، عروہ بن زبیر کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز ( حسب معمول ) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۔
Narrated Yala bin Umayyah رضی اللہ عنہ :
I remarked to Umar al-Khattab رضی اللہ عنہ : Have you seen the shortening of the prayer by the people today while Allah has said: If you fear that those who are infidels may afflict you , whereas those days are gone now? He replied: I have wondered about the same matter for which you wondered. So I mentioned this to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: It is an act of charity which Allah has done to you, so accept his charity.
ہم سے احمد بن حنبل اور مسدد نے بیان کیا: ہم سے یحییٰ نے ابن جریج کی سند سے بیان کی اور خشیش یعنی ابن اصرم نے ہم سے بیان کیا: ہم سے عبد الرزاق نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عبد اللہ بن ابی عمار نے عبداللہ بن بابیہ کی روایت سے بیان کیا, یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بتائیے کہ ( سفر میں ) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے: اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دیں گے ، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو ۔
The above mentioned tradition has also been narrated through a different chain of transmitters by Abdullah bin Abi Ammar who narrated it in like manner. Abu Dawud said: This has been transmitted by Abu Asim and Hammad bin Masadah as transmitted by Ibn Bakr.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق اور محمد بن بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔
Narrated Yahya bin Yazid al-Hannani:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ about the shortening of the prayer (while travelling). He said: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went out on a journey of three miles or three farsakh (the narrator Shubah doubted), he used to pray two rak'ahs.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا, یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ ( یہ شک شعبہ کو ہوا ہے ) کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
I prayed along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم four rak'ahs at the noon prayer at Madina and two rak'ahs at the afternoon prayer in Dhu al-Hulaifah.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن المنکدر اور ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت ۔
Narrated Uqbah Ibn Amir رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Allah is pleased with a shepherd of goats who calls to prayer at the peak of a mountain, and offers prayer, Allah, the Exalted, says: Look at this servant of Mine; he calls to prayer and offers it and he fears Me. So I forgive him and admit him to paradise.
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے بیان کیا کہ ان سے ابو عشانہ المعافری نے بیان کیا، عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتا اور نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو، یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا ۔
Narrated Mishaj bin Musa:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ : Narrate to us what you heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say. He said: When we travelled along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, we would say: Did the sun pass the meridian or not? But he (the Prophet) would offer the noon prayer and then proceed.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا, مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو، انہوں نے کہا: جب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے: سورج ڈھل گیا یا نہیں تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم halted at a certain place (while on a journey), he would not leave that place till he offered the noon prayer. A man said to him: Even if in the middle of the day? He replied: Even if in the middle of the day.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، مجھ سے حمزہ عائذی نے بیان کیا، بنی ضبہ کے ایک آدمی نے کہا: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: گرچہ نصف النہار ہوتا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ نصف النہار ہوتا۔
Narrated Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ :
They (the Companions) proceeded on the expedition of Tabuk along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He combined the noon and afternoon prayers and the sunset and night prayers. One day he delayed the prayer and came out (of his dwelling) and combined the noon and the afternoon prayers. He then went it and then came out and combined the sunset and the night prayers.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، ابو الزبیر مکی کی سند سے، ابو الطفیل عامر بن واثلہ کی سند سے بیان کیا, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ
وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مؤخر کی پھر نکلے اور ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھی پھر اندر ( قیام گاہ میں ) چلے گئے، پھر نکلے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
Narrated Ibn Nafi:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما was informed about the death of Safiyyah (the wife of the Prophet) when he was at Makkah. He proceeded till the sun set and the stars shined. He said: When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was in a hurry about something while on a journey, he would combine both these prayers. He proceed till twilight had disappeared. He then combined both of them (the prayers).
ہم سے سلیمان بن داؤد العتکی نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا، نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفیہ کی موت کی خبر دی گئی اس وقت مکہ میں تھے تو آپ چلے ( اور چلتے رہے ) یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور ستارے نظر آنے لگے، تو عرض کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جب کسی کام کی عجلت ہوتی تو آپ یہ دونوں ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ادا کرتے، پھر وہ شفق غائب ہونے تک چلتے رہے ٹھہر کر دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا۔
Narrated Muadh Ibn Jabal رضی اللہ عنہ :
On the expedition to Tabuk if the sun had passed the meridian before the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم moved off, he combined the noon and the afternoon prayers; but if he moved off before the sun had passed the meridian, he delayed the noon prayer till he halted for the afternoon prayer. He acted similarly for the sunset prayer; if the sun set before he moved off, he combined the sunset and the night prayers, but if he moved off before sunset, he delayed the sunset prayer till he halted for the night prayer and then combined them. Abu Dawud said: Hisham bin Urwah narrated this tradition from Husain bin Abdullah, from Kuraib on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم like the tradition narrated by Mufaddal and al-Laith.
ہم سے یزید بن خالد بن یزید بن عبداللہ بن موحب الرملی الحمدانی نے بیان کیا، ہم سے مفضل بن فضالہ اور لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن سعد کی سند سے، ابو الزبیر کی سند سے، ابو الزبیر کی سند سے,معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
غزوہ تبوک میں سفر سے پہلے سورج ڈھل جانے کی صورت میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے، اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ آپ عصر کے لیے قیام کرتے، اسی طرح آپ مغرب میں کرتے، اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈوب جاتا تو عشاء کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے اور اگر سورج ڈوبنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ عشاء کے لیے قیام کرتے پھر دونوں کو ملا کر پڑھ لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن عروہ نے حصین بن عبداللہ سے حصین نے کریب سے، کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مفضل اور لیث کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم never combined the sunset and night prayers while on a journey except once. Abu Dawud said: This has been narrated by Ayyub from Nafi from Ibn Umar رضی اللہ عنہما as a statement of Ibn Umar رضی اللہ عنہما. Ibn Umar رضی اللہ عنہما was never seen combining these two prayers except on the night he was informed about the death of Safiyyah. The tradition narrated by Makhul from Nafi indicates that he (Nafi) saw Ibn Umar doing so once or twice.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے ابومودود کی سند سے، وہ سلیمان بن ابی یحییٰ سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث «ایوب عن نافع عن ابن عمر» سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا، یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم combined the noon and the afternoon prayers, and combined the sunset and night prayers without any danger or journey. Malik said: I think it so happened during rain. Abu Dawud said: Hammad bin Salamah narrated it like manner from Abu al-Zubair, it has also been narrated by Qurrah bin Khalid from Abu al-Zubair. He said: It is so happened in a journey that we made to Tabuk
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، ابو الزبیر مکی کی سند سے، سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا ۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ایسا بارش میں ہوا ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے مالک ہی کی طرح ابوالزبیر سے روایت کیا ہے، نیز اسے قرہ بن خالد نے بھی ابوالزبیر سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ یہ ایک سفر میں ہوا تھا جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم combined the noon and afternoon prayers, and the sunset and night prayers at Madina without any danger and rain. He was asked: What did he intend by it ? He replied: He intended that his community might not fall into hardship.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے ا عمش نے بیان کیا، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے، وہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا: اس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں ۔
Narrated Abdullah Ibn Waqid:
The muadhdhin of Ibn Umar رضی اللہ عنہما said: prayer (i.e. the time of prayer has come). He said: Go ahead. He then alighted before the disappearance. He then offered the night prayer. He then said: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was in a hurry about something, he would do as I did. Then he travelled and covered a distance of three days' journey on the day. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Ibn Jabir from Nafi with the same chain.
ہم سے محمد بن عبید المحاربی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن فضیل نے اپنے والد سے بیان کیا، نافع اور عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے کہا: نماز ( پڑھ لی جائے ) ( تو ) ابن عمر نے کہا: چلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے، چنانچہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔
This tradition has also been transmitted by Ibrahim bin Musa al-Razi, from 'Isa, on the authority of Ibn Jabir to the same effect. Abu Dawud said:
Abdullah bin al-'Ala narrated on the authority of Nafi saying: When the twilight was about to disappear, he (ﷺ) alighted and combined both (the prayers).
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ نے بیان کیا, اس طریق سے بھی ابن جابر سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے, ابوداؤد کہتے ہیں اور
عبداللہ بن علاء نے نافع سے یہ حدیث روایت کی ہے: اس میں ہے یہاں تک کہ جب جب شام ڈھلنے والی تھی ,تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم led us in prayer at Madina eight of seven rak'ahs, in the noon and afternoon prayers, and the sunset and night prayers. The narrator Sulaiman and Musaddad did not say the words led us . Abu Dawud said: The aforesaid tradition has also been narrated by Salih, the client of Tu'mah on the authority if Ibn Abbas saying: Not during rain.
ہم سے سلیمان بن حرب اور مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا اور ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا کہ ہم کو حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے اور جابر بن زید کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں ہمارے ساتھ ظہر و عصر ملا کر آٹھ رکعتیں اور مغرب و عشاء ملا کر سات رکعتیں پڑھیں۔ سلیمان اور مسدد کی روایت میں «بنا» یعنی ہمارے ساتھ کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صالح مولیٰ توامہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، اس میں «بغير مطر» بغیر بارش کے الفاظ ہیں۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہ :
When the sun set at Makkah, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم combined the two prayers at Sarif.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن محمد الجاری نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، وہ مالک کی سند سے، وہ ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے کہ سورج ڈوب گیا تو آپ نے مقام سرف میں دونوں ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ادا کی۔
Narrated Hisham bin Saad:
There was a distance of ten miles between them, that is, Makkah and Sarif.
ہم سے احمد بن حنبل کے پڑوسی محمد بن ہشام نے بیان کیا: ہم سے جعفر بن عون نے ہشام بن سعد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہشام بن سعد کہتے ہیں کہ
دونوں یعنی مکہ اور سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Dinar said:
The sun set when I was with Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما . We proceeded, and when we saw that the evening came, we said prayer. He went on travelling until the twilight disappeared and the stars became thick. He then slighted and combined the two prayers. Then he said: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ; when he hastened his travelling, he would pray like this prayer of mine. He said: He would combine the two prayers after the passing of a part of night. Abu Dawud said: This has been transmitted by Asim Ibn Muhammad from his brother on the authority of Salim and this has also been narrated by Ibn Abu Najih from Ismail Ibn Abdur Rahman Ibn Dhuwayb saying that Ibn Umar رضی اللہ عنہما would combine the two prayers after the disappearance of twilight.
ہم سے عبد الملک بن شعیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے لیث کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ربیعہ نے کہا، یعنی انہوں نے انہیں لکھا، مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا
سورج ڈوب گیا، اس وقت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، پھر ہم چلے، جب دیکھا کہ رات آ گئی ہے تو ہم نے کہا: نماز ( ادا کر لیں ) لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی اور تارے پوری طرح جگمگا نے لگے، پھر آپ اترے، اور دونوں نمازیں ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ادا کیں، پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس نماز کی طرح آپ بھی نماز ادا کرتے یعنی دونوں کو رات ہو جانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نمازوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے شفق غائب ہونے کے بعددونوں نمازوں کو جمع کرتے تھے۔