Narrated Jabir bin Abdullah:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Cutting of hand is not to be inflicted on one who plunders, but he who plunders conspicuously does not belong to us.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے کہا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعلانیہ زبردستی کسی کا مال لے کر بھاگ جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ، اور جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں ۔
And with this chain, he said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Cutting of the hand is not to be inflicted on one who is treacherous.
اور اس سلسلہ کے ساتھ انہوں نے کہا: اور اس سلسلہ کے ساتھ انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امانت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Jabir رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. This version adds:
Cutting of the hand is not be inflicted on one who snatches something. Abu Dawud said: Ibn Juraij did not hear these two traditions from Abu al-Zubair, I have been informed by Ahmad. bin Hanbal saving: Ibn Juraij heard them from Yasin al-Zayyat. Aby Dawud said: Al-Mughirah bin Muslim has transmitted it from Abu al-Zubair from Jabir From the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج سے اور ابو الزبیر کی سند سے,جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں
اس میں اتنا اضافہ ہے اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن جریج نے یہ دونوں روایات ابو الزبیر سے نہیں سنی، مجھے احمد بن حنبل کی روایت سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: ابن جریج نے انہیں صرف یاسین الزیات سے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: المغیرہ بن مسلم نے انہیں ابو الزبیر کی سند سے، جابر رضی اللہ عنہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
Narrated Safwan bin Umayyah رضی اللہ عنہ :
I was sleeping in the mosque on a cloak mine whose price was thirty dirhams. A man came and pinched it away from me. The man was seized and brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He ordered that his hand should be cut off. I came to him and said: Do you cut off only for thirty dirhams ? I sell it to him and make the payment of its price a loan ? He said: Why did you not do so before bringing him to me ? Abu Dawud said: Zaidah has also transmitted it from Simak from Ju'ayd ibn Hujayr. He said: Safwan slept. Mujahid and Tawus said: While he was sleeping a thief came and stole the cloak from beneath his head. The version of Abu Salamah ibn Abdur Rahman has: He snatched it away from beneath his head and he awoke. He cried and he (the thief) was seized. Az-Zuhri narrated from Safwan ibn Abdullah. His version has: He slept in the mosque and used his cloak as pillow. A thief came and took his cloak. The thief was seized and brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن حماد بن طلحہ نے بیان کیا، ہم سے اسباط نے بیان کیا، ان سے سماک بن حرب نے بیان کیا، وہ صفوان کے بھتیجے حمید کی سند سے, صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے اوپر میری ایک اونی چادر پڑی تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کر لے کر بھاگا، لیکن وہ پکڑ لیا گیا، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے، تو میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا تیس درہم کی وجہ سے آپ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں گے؟ میں اسے اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں، اور اس کی قیمت اس پر ادھار چھوڑ دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس لانے سے پہلے ہی ایسے ایسے کیوں نہیں کر لیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زائدہ نے سماک سے، سماک نے جعید بن حجیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: صفوان سو گئے تھے اتنے میں چور آیا ۔ اور طاؤس و مجاہد نے اس کو یوں روایت کیا ہے کہ وہ سوئے تھے اتنے میں ایک چور آیا، اور ان کے سر کے نیچے سے چادر چرا لی۔ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسے یوں روایت کیا ہے کہ اس نے اسے ان کے سر کے نیچے سے کھینچا، تو وہ جاگ گئے، اور چلائے، اور وہ پکڑ لیا گیا۔ اور زہری نے صفوان بن عبداللہ سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ وہ مسجد میں سوئے اور انہوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، اتنے میں ایک چور آیا، اور اس نے ان کی چادر چرا لی، تو اسے پکڑ لیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
A Makhzuml woman used to borrow goods and deny having received them, so the prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave orders and her hand was cut off. Abu Dawud said: Juwairiyyah has transmitted it from Nafi from Ibn Umar or from Safiyyah daughter of Abu Ubaid. This version adds: The prophet صلی اللہ علیہ وسلم got up and gave an address saying: Is there any woman who repents to Allah, the Exalted, and to his Messenger? He said it three times, That ( woman) was present there but she did not get up and speak. Ibn Ghunj transmitted it from Nafi from Safiyyah daughter of Abu Ubaid. This version has: He witnessed to her.
ہم سے حسن بن علی اور مخلد بن خالد المعنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، مخلد نے کہا: معمر سے، ایوب سے، نافع سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں منگنی ( مانگ کر ) لے کر مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جویریہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ نے تین بار فرمایا: کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی ۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اس کے خلاف گواہی دی۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
A woman borrowed jewellery through some known persons and she herself was unknown. She then sold them. She was seized and brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He gave orders that her hand should be cut off. It is this woman about whom Usamah interceded and of her the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said whatever he said.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا، لیث کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے یونس نے بیان کیا, ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بیان کرتے تھے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ
ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور منگنی لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی، اور اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فرمانا تھا فرمایا تھا۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
A Makhzuml woman used to borrow goods and deny having received them. The prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave orders that her hand should be cut off. He (the narrator) then narrated the tradition similar to the one transmitted by Qutaibah from al-Laith from Ibn Shahib. This version adds: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had her hand cut off.
ہم سے عباس بن عبد العظیم اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں معمر نے زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
قبیلہ مخزوم کی ایک عورت سامان منگنی ( مانگ کر ) لیتی اور اس سے مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ معمر نے اسی طرح کی روایت بیان کی جیسے قتیبہ نے لیث سے، لیث نے ابن شہاب سے بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There are three (persons) whose actions are not recorded: a sleeper till he awakes, an idiot till he is restored to reason, and a boy till he reaches puberty.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں حماد بن سلمہ نے خبر دی، انہیں حماد کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
A lunatic woman who had committed adultery was brought to Umar رضی اللہ عنہ. He consulted the people and ordered that she should be stoned. Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ passed by and said: What is the matter with this (woman)? They said: This is a lunatic woman belonging to a certain family. She has committed adultery. Umar رضی اللہ عنہ has given orders that she should be stoned. He said: Take her back. He then came to him and said: Commander of the Faithful, do you not know that there are three people whose actions are not recorded: a lunatic till he is restored to reason, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty? He said: Yes. He then asked: Why is it that this woman is being stoned? He said: There is nothing. He then said: Let her go. He (Umar) let her go and began to utter: Allah is most great.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش سے، انہوں نے ابو ظَبیان کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے واپس لے چلو، پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، کہا: کیوں نہیں؟ ضرور معلوم ہے، تو بولے: پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے؟ بولے: کوئی بات نہیں، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اسے چھوڑیئے، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور لگے اللہ اکبر کہنے ۔
A similar tradition has also been transmitted by al-Amash through a different chain of narrators. He also said:
“. . . . Till he reaches puberty, and a lunatic till he is restored to consciousness. ” Umar then began to utter: Allah is most great.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا, اس سند سے اعمش سے
اسی جیسی حدیث مروی ہے اس میں بھی «حتى يعقل» ہے اور «عن المجنون حتى يبرأ» کے بجائے «حتى يفيق» ہے، اور «فجعل يكبر» کے بجائے «فجعل عمر يكبر» ہے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
A lunatic woman passed by Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as Uthman mentioned. This version has: Do you not remember that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has said: There are three whose actions are not recorded: a lunatic whose mind is deranged till he is restored to consciousness, a sleeper till he awakes, and a boy till he reaches puberty?
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جریر بن حازم نے بیان کیا، وہ سلیمان بن مہران سے، وہ ابو ظبیان کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اسے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزارا گیا، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے، اس میں ہے: کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے تو عمر رضی اللہ عنہ بولے: تم نے سچ کہا، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
Narrated Abu Zubyan said:
A woman who had committed adultery was brought to Umar رضی اللہ عنہ . He gave orders that she should be stoned. Ali رضی اللہ عنہ passed by just then. He seized her and let her go. Umar رضی اللہ عنہ was informed of it. He said: Ask Ali رضی اللہ عنہ to come to me. Ali رضی اللہ عنہ came to him and said: Commander of the Faithful, you know that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There are three (people) whose actions are not recorded: A boy till he reaches puberty, a sleeper till he awakes, a lunatic till he is restored to reason. This is an idiot (mad) woman belonging to the family of so and so. Someone might have done this action with her when she suffered the fit of lunacy. Umar رضی اللہ عنہ said: I do not know. Ali رضی اللہ عنہ said: I do not know.
ہم سے ہناد نے ابو الاحواص کی سند سے بیان کیا, ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر المعنی نے عطاء بن السائب کی سند سے بیان کیا, ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے، فلاں قوم کی ہے، ہو سکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی۔
Narrated Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There are three (persons) whose actions are not recorded: a sleeper till he awakes, a boy till he reaches puberty, and a lunatic till he comes to reason. Abu Dawud said: Ibn Juraij has transmitted it from Al-Qasim bin Yazid on the authority of Ali رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version adds: and an old man who is feeble-minded.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے خالد نے، وہ ابو الضحیٰ کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں کھوسٹ بوڑھے کا اضافہ ہے۔
Narrated Atiyyah al-Qurazi:
I was among the captives of Banu Qurayzah. They (the Companions) examined us, and those who had begun to grow hair (pubes) were killed, and those who had not were not killed. I was among those who had not grown hair.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الملک بن عمیر نے بیان کیا, عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ
بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abdul- Malik bin Umar through a different chain of narrators. This version has:
They uncovered my private parts, and when they found that the hair had not begun to grow they put me among the captives.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا, عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث مروی ہے, اس میں ہے
انہوں نے میرے زیر ناف کا حصہ کھولا تو دیکھا کہ وہ اگا نہیں تھا تو مجھے قیدی بنا لیا۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
He was presented before the prophet صلی اللہ علیہ وسلم on the day of Uhd when he was fourteen years old, but he did not allow him (to participate in the battle). He was again presented before him on the day of Khandaq when he was fifteen years old, Then he allowed him.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ نے کہا: مجھے نافع نے خبر دی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کئے گئے تو ان کی عمر چودہ سال کی تھی آپ نے انہیں جنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی، اور غزوہ خندق میں پیش ہوئے تو پندرہ سال کے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
Nafi said: When I mentioned this tradition to Umar bin Abdul-Aziz he said:
This prescribed punishment is between the minor and the major.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، وہ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے, نافع کہتے ہیں اس حدیث کو میں نے عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا,تو انہوں نے کہا
یہی بالغ اور نابالغ کی حد ہے۔
Narrated Junadah bin Abu Umayyah said:
We were with Busr bin Artat on the sea (on an expedition). A thief called Misdar who had stolen a bukhti she-camel was brought. He said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Hands are not to be cut off during a warlike expedition. Had it not been so, I would have cut it off.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حیوہ بن شریح نے خبر دی، ان سے عیاش بن عباس القتبانی نے، وہ شیام بن بیطان اور یزید بن سبھ اصبہی کی سند سے, جنادہ بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ
ہم بسر بن ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر پر تھے کہ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مصدر تھا اس نے ایک اونٹ چرایا تھا تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: سفر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اگر آپ کا یہ فرمان نہ ہوتا تو میں ضرور اسے کاٹ ڈالتا۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: O Abu Dharr: I replied: At your service and at your pleasure, Messenger of Allah! He said: how will you do when death smites people, and a house, meaning a grave, will cost as much as a slave. I said: Allah and His Messenger know best, or he said: What Allah and His Messenger choose for me. He said: Show endurance, or he said: You may show endurance. Abu Dawud said: Hammad bin Abi Sulaiman said: The hand of one who rifles a grave should be cut off because he had entered the deceased's house.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ابو عمران کی سند سے، وہ مشعث بن طریف نے عبداللہ بن صامت کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! میں نے کہا: حاضر ہوں، اور حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگوں کو موت پہنچے گی اور گھر یعنی قبر ایک خادم کے بدلہ میں خریدی جائیگی؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، یا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا: اس دن صبر کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں گھسا ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ:
A thief was brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! Then he said: Cut off his hand. So his (right) hand was cut off. He was brought a second time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! Then he said: Cut off his foot. So his (left) foot was cut off. He was brought a third time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! So he said: Cut off his hand. (So his (left) hand was cut off. ) He was brought a fourth time and he said: Kill him. The people said: He has committed theft, Messenger of Allah! So he said: Cut off his foot. So his (right) foot was cut off. He was brought a fifth time and he said: Kill him. So we took him away and killed him. We then dragged him and cast him into a well and threw stones over him.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن عبید بن عقیل ہلالی نے بیان کیا، ہم سے میرے دادا نے بیان کیا، مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر اسی شخص کو دوسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو لوگوں نے پھر یہی کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اس کا ہاتھ کاٹ دو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر وہی شخص تیسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو قتل کر دو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی تو کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اس کا ایک پیر کاٹ دو پھر اسے پانچویں بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور ہم نے اسے قتل کر دیا، اور گھسیٹ کر اسے ایک کنویں میں ڈال دیا، اور اس پر پتھر مارے۔