Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
A man and a woman of the Jews who were married committed fornication at the time when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Madina. Stoning was a prescribed punishment for them in accordance with the Torah, but they abandoned it and followed tajbiyyah, meaning, the man was beaten a hundred times with a rope painted with tar and was seated on a donkey with his face towards the tail of the donkey. Their rabbis then assembled and sent some people to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. They said to them: Ask him about the prescribed punishment for fornication. The transmitter then mentioned the rest of the tradition. They version adds: They were not the followers of his religion, and he (the prophet) was to pronounce judgment between them. So he was given a choice in this verse: ”If they do come to thee, either judge between them, or decline to interfere.
ہم سے عبدالعزیز بن یحییٰ ابو الاسباغ حرانی نے بیان کیا، ان سے محمد نے، ان سے ابن سلمہ نے، مجھ سے محمد بن اسحاق سے، وہ زہری کی سند سے، انہوں نے کہا: میں نے مزینہ کے ایک آدمی کو سعید بن الموسیع سے روایت کرتے ہوئے سنا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا وہ دونوں شادی شدہ تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو تورات میں رجم کا حکم تحریر تھا، لیکن انہوں نے اسے چھوڑے رکھا تھا اور اس کے بدلہ «تَجبیہ» کو اختیار کر لیا تھا، تارکول ملی ہوئی رسی سے اسے سو بار مارا جاتا، اسے گدھے پر سوار کیا جاتا اور اس کا چہرہ گدھے کے پچھاڑی کی طرف ہوتا، تو ان کے علماء میں سے کچھ عالم اکٹھا ہوئے ان لوگوں نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا جا کر ان سے زنا کی حد کے متعلق پوچھو، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: چونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر نہیں تھے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اسی لیے آپ کو اس سلسلہ میں اختیار دیا گیا اور فرمایا گیا «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے چاہو تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور چاہو تو ٹال دو ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
The Jews brought a man and a woman of them who had committed fornication. He said: Bring me two learned men or yours. So they brought the two sons of Suriya. He adjured them and said: How do you think about the matter if these two persons bear witness to the effect that they have seen his sexual organ in her female organ (penetrated) like a collyrium stick when enclosed in its case, they will be stoned to death. He asked: What is there which prevents you from stoning them: They replied: Our rule has gone, so we disapproved of killing. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then called four witnesses. They brought four witnesses. Who testified that they had seen his sexual organ (penetrated) in her female organ like a collyrium stick when enclosed in its case. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then gave orders for stoning them.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں مجالد نے امیر المومنین سے خبر دی، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا: تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو پھر انہیں رجم کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے؟ انہوں نے کہا: ہماری سلطنت تو رہی نہیں اس لیے اب ہمیں قتل اچھا نہیں لگتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلایا، وہ چار گواہ لے کر آئے، انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔
A similar tradition has also been transmitted by Ibrahim and al-Shabi from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. But this version does not mention the words:
He called the witnesses who testified.
ہم سے وہب بن بقیع نے بیان کیا، انہوں نے ہشام کی سند سے، وہ مغیرہ کی سند سے، ہم سے وہب بن بقیہ نے بیان کیا، وہ ہشیم کی سند سے، مغیرہ کی سند سے, ابراہیم اور شعبی سے روایت ہے, وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں لیکن اس میں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ
آپ نے گواہوں کو بلایا، اور انہوں نے گواہی دی۔
A similar tradition has also been transmitted by al-Shabi through a different chain of narrators.
ہم سے وہب بن بقیہ نے ہشام کی سند سے، ابن شبرمہ کی سند سے،شعبی سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had a man and a woman of the Jews who had committed fornication stoned to death.
ہم سے ابراہیم بن حسن المصیصی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے سنا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ایک مرد اور ایک عورت کو جنہوں نے زنا کیا تھا رجم کیا۔
Narrated Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہما :
While I was wandering in search of my camels which had strayed, a caravan or some horsemen carrying a standard came forward. The bedouin began to go round me for my position with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. They came to a domed structure, took out a man from it, and struck his neck. I asked about him. They told me that he had married his father's wife.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے مطرف نے بیان کیا، ابو الجہم کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔
Narrated YYazid bin Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہ, that his father:
I met my uncle who was carrying a standard. I asked him: Where are you going? He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has sent me to a man who has married his father's wife. He has ordered me to cut off his head and take his property.
ہم سے عمرو بن قصیت الروقی نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن عمرو نے بیان کیا، وہ زید بن ابی انیسہ سے، عدی بن ثابت سے، یزید بن براء رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے
میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔
Narrated Habib bin Salim said:
A man called Abdur Rahman bin Hunayn had intercourse with his wife's slave-girl. The matter was brought to an-Numan ibn Bashir who was the Governor of Kufah. He said: I shall decide between you in accordance with the decision of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. If she made her lawful for you, I shall flog you one hundred lashes. If she did not make her lawful for you, I shall stone you to death. So they found that she had made her lawful for him. He, therefore, flogged him one hundred lashes. Qatadah said: I wrote to Habib bin Salim; so he wrote this (tradition) to me.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابان نے قتادہ کی سند سے، وہ خالد بن عرفطہ کی سند سے, حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ
عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی، معاملہ کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا: میں بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کر دیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کر دیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی۔
Narrated An-Numan bin Bashir رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: about a man who had (unlawful) intercourse with his wife's slave girl: If she made her lawful for him, he will be flogged one hundred lashes; if she did not make her lawful for him, I shall stone him.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے شعبہ کی سند سے، ابو بشر سے، خالد بن عرفتہ سے، حبیب بن سلیم کی سند سے, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو: اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کر دیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا ۔
Narrated Salamah bin al-Muhabbaq رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made a decision about a man who had intercourse with his wife's slave-girl as follows. If he forced her, she is free, and he shall give her mistress a slave-girl similar to her; if she asked him to have intercourse voluntarily, she will belong to him, and he shall give her mistress a slave-girl similar to her. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Yunus bin Ubaid, Amr bin Dinar, Mansur bin Zadhan and Salam from al-Hasan to the same effect. But yunus and Mansur did not mention Qabisah.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، قتادہ کی سند سے، حسن کی سند سے، وہ قبیصہ بن حریث سے, سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی، اور اگر لونڈی نے خوشی سے اس کی مان لی ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی ۔ابوداؤد نے کہا: اس روایت کو یونس بن عبید، عمرو بن دینار، منصور بن زدان اور سلام نے حسن سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ لیکن یونس اور منصور نے قبیسہ کا ذکر نہیں کیا۔
A similar tradition (to the No. 4445) has also been transmitted by Salamah ibn al-Muhabbaq from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version has:
If she asked her to have intercourse with her voluntarily, then she and a similar slave-girl would be given to her mistress from his property.
ہم سے علی بن حسین الدرمی نے بیان کیا، ہم سے عبد العلا نے سعید کی سند سے، قتادہ کی سند سے، حسن کی سند سے, سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ
اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If you find anyone doing as Lot's people did, kill the one who does it, and the one to whom it is done. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Sulaiman bin Bilal from Amr bin Abi Umar. And 'Abbad bin Mansur transmitted it from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas who transmitted it from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. It has also been transmitted by Ibn Juraij from Ibrahim from Dawud bin Al-Husain from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas who transmitted it from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن علی النفیلی نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، وہ عمرو بن ابی عمرو کی سند سے، انہوں نے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہے دونوں کو قتل کر دو ۔ابوداؤد نے کہا: اسی طرح کی روایت سلیمان بن بلال نے بھی عمرو بن ابی عمر سے نقل کی ہے۔ اور عباد بن منصور نے اسے عکرمہ سے ابن عباس کی سند سے روایت کیا ہے جنہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اسے ابن جریج نے ابراہیم سے، داؤد بن الحسین سے، عکرمہ سے، ابن عباس سے روایت کیا ہے جنہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
If a man who is not married is seized committing sodomy, he will be stoned to death. Abu Dawud said: The tradition of Asim proved the tradition of Amir bin Abi Amr as weak.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن خثیم نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے سعید بن جبیر اور مجاہد کو بیان کرتے ہوئے سنا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے
کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone has sexual intercourse with an animal, kill him and kill it along with him. I (Ikrimah) said: I asked him (Ibn Abbas): What offence can be attributed to the animal/ He replied: I think he (the Prophet) disapproved of its flesh being eaten when such a thing had been done to it. Abu Dawud said: This is not a strong tradition.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس سے پوچھا: اس چوپایہ کا کیا جرم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
Asim reported from Abu Razin on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما saying:
There is no prescribed punishment for one who has sexual intercourse with an animal. Abu Dawud said: Ata is also so. Al Hakam said: I think he should be flogged, but the number should not reach the one of the prescribed punishment. Al-Hasan said: He is like a fornicator. Abu Dawud said: THe tradition of Asim proves the tradition of Amr bin Abi Amr as weak.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہ ان سے شر یک، ابو الاحوص اور ان سے ابوبکر بن عیاش نے عاصم کی سند سے، انہوں نے ابو رزین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۔
Narrated Sahl bin Saad رضی اللہ عنہ:
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and made acknowledgment before him that he had committed fornication with a woman whom he named. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent someone to the woman and he asked her about it. She denied that she had committed fornication. So he gave him the prescribed punishment of lashes and left her.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، ہم سے عبدالسلام بن حفص نے بیان کیا، ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما:
A man of Bakr bin Layth came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and made confession four times that he had committed fornication with a woman, so he had a hundred lashes administered to him. The man had not been married. He then asked him to produce proof against the woman, and she said: I swear by Allah, Messenger of Allah, that he has lied. Then he was given the punishment of eighty lashes of falsehood.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن ہارون البردی نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، ان سے القاسم بن فیاض الابنوی نے، وہ خلاد بن عبدالرحمٰن کی سند سے، وہ ابن المسیب کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، وہ کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا: قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے، اللہ کے رسول! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی ( ۸۰ ) کوڑے لگائے۔
Abdullah (bin Masud) رضی اللہ عنہ said:
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: I contacted directly a women at the furthest part of the city (i.e., Madina), and I did with her everything except sexual intercourse. So here I am; inflict any punishment you wish. Thereupon Umar رضی اللہ عنہ said: Allah has concealed your fault; it would have been better if you also had concealed it yourself. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent a men after him. (When he came) he recited the verse: “And establish regular prayers at the two ends of the day and at the approaches of the night. . . ” up to the end of the verse. A man from the people got up and asked: Is it particular to him, Messenger of Allah, or for the people in general? He replied: It is all the people.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحوص نے بیان کیا، ہم سے سماک نے بیان کیا، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا، لیکن جماع نہیں کیا، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، تو وہ شخص چلا گیا، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل» دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ ساعتوں میں بھی ۔ ( ھود: ۱۱۴ ) تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے، یا سارے لوگوں کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارے لوگوں کے لیے ہے ۔
Abu Hurairah and Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was asked about a slave-woman who commits fornication, and she is not married: If she commits fornication, flog her: if she commits fornication again flog her; if only for a rope of hair (dafir). Ibn Shihab: I do not know whether he (the Prophet) said it is a third or a fourth time.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سند سے, ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لونڈی جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو ( تو اس کا کیا حکم ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، گو ایک رسی ہی کے عوض میں ہو ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ یہ آپ نے تیسری بار میں فرمایا: یا چوتھی بار میں اور «ضفیر» کے معنی رسی کے ہیں۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When the slave-woman of any of you commits fornication, he should inflict the prescribed punishment on her, but not hurl reproaches at her. This is to be done up to three times. If she a fourth time, he should flog her, and sell her even if only for a rope of hair.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ کی سند سے، مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبوری نے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے ۔