Narrated Abdur-Rahman bin Abdullah bin Kab bin Malik: On the authority of his mother than Umm Mubashshir said (Abu Saeed bin al-A'rabi said: So he said it on the authority of his mother ; what is correct is: on the authority of his father, instead of his mother): I entered upon the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He then mentioned the tradition of Makhlad bin Khalid in a way similar to the tradition of Jabir. The narrator said:
Then Bishr bin al-Bara bin Ma'rur died. So he (the Prophet) sent for the Jewess and said: What did motivate you for your work you have done ? He (the narrator) then mentioned the rest of the tradition like the tradition of Jabir. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ordered regarding her and she was killed. He (the narrator in this version) did not mention cupping.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن خالد نے بیان کیا، ہم سے رباح نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے,ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو سعید بن العر ابی کہتے ہیں: انہوں نے یہی کہا: اپنی والدہ سے اور صحیح روایت اپنے والد سے، ام مبشر رضی اللہ عنہا سے ہے, وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں پھر راوی نے مخلد بن خالد کی حدیث کا مفہوم اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی روایت میں ہے، اس میں ہے کہ
بشر بن براء بن معرور مر گئے، تو آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور پوچھا: یہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ پھر راوی نے وہی باتیں ذکر کیں جو جابر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی لیکن انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated Samurah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم Said: If anyone kills his slave, we shall kill him, and if anyone cuts off the nose of his slave, we shall cut off his nose.
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، قتادہ نے حسن کی سند سے, سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے ۔
Narrated Qatadah:
Through the same chain of narrators as mentioned before, i.e. Samurah reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone castrates his slave, we shall castrate him. He then mentioned the rest of the tradition like that of Sh'ubah and Hammad. Abu Dawud said: Abu Dawud al-Tayalisi transmitted it from Hisham like the tradition of Muadh.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا،اس سند سے بھی قتادہ سے بھی اسی کے مثل حدیث مروی ہے
اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے۔
Qatadah transmitted the tradition mentioned above through a chain of narrators like that of Shubah. This version adds: Then al-Hasan forgot this tradition, and he used to say:
A free man is not to be killed for a slave.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی عروبہ سے اور قتادہ کی سند سے, اس سند سے بھی قتادہ سے شعبہ کی سند والی روایت کے مثل مروی ہے,اس میں اضافہ ہے کہ پھر حسن ( راوی حدیث ) اس حدیث کو بھول گئے چنانچہ وہ کہتے تھے
آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
It was narrated from Hisham, from Qatadah, from Al-Hasan, who said:
A free man should not be subjected to retaliation in return for a slave.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے,حسن بصری کہتے ہیں
آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
Narrated Amr bin Shuaib: On his father's authority, said that his grandfather told:
A man came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم crying for help. He said: His slave-girl, Messenger of Allah! He said: Woe to you, what happened with you ? He said that it was an evil one. He saw the slave-girl of his master; he became jealous of him, and cut off his penis. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Bring the man to me. The man was called, but people could not get control over him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: Go away, you are free. He asked: Messenger of Allah! upon whom does my help lie? He replied: On every believer, or he said: On every Muslim. Abu Dawud said: The name of the man who was emancipated was Rawh bin Dinar Abu Dawud said: The man who cut off the penis was Zinba' Abu Dawud said: The Zinba' Abu Rawh was master of the slave.
ہم سے محمد بن الحسن بن تسنیم العتکی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے سوار ابو حمزہ نے خبر دی، کہا ہم سے عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے بیان کیا، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا: ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا؟ اس نے کہا: برا ہوا، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا، تو اسے غیرت آئی، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے ( اس غلام سے ) فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ہر مومن پر یا کہا: ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے۔
Narrated Sahl bin Abi Hathmah and Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہما :
Muhayyasah bin Masud and Abdullah bin Sahl came to Khaibar and parted (from each other) among palm trees. Abdullah bin Sahl was killed. The Jews were blamed (for the murder). Abdur-Rahman bin Sahl and Huwayyasah and Muhayyasah, the sons of his uncle (Masud) came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Abdur-Rahman, who was the youngest, spoke about his brother, but the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to him: (Respect) the elder, (respect) the elder or he said: Let the eldest begin. They then spoke about their friend and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Fifty of you should take oaths regarding a man from them (the Jews) and he should be entrusted (to him) with his rope (in his neck). They said: It is a matter which we did not see. How can we take oaths ? He said: The Jews exonerate themselves by the oaths of fifty of them. They said: Messenger of Allah! they are a people who are infidels. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم paid them bloodwit himself. Sahl said: Once I entered the resting place of their camels, and the she-camel struck me with her lef. Hammad said this or (something) similar to it. Abu Dawud said: Another version transmitted by Yahya bin Saeed has: Would you swear fifty oaths and make you claim regarding your friend or your slain man ? Bishr, the transmitter, did mention blood. Abdah transmitted it from Yahya as transmitted by Hammad. Ibn Uyainah has also transmitted it from Yahya, and began with his words: The Jew will exonerate themselves by fifty oaths which they will swear. He did not mention the claim. Abu Dawud said: This is a misunderstanding on the part of Ibn Uyainah.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ اور محمد بن عبید المعنی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے، یحییٰ بن سعید کی سند سے، وہ بشیر بن یسار کی سند سے, سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں ( چلتے چلتے ) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے، پھر عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو ( اور انہیں گفتگو کا موقع دو ) یا یوں فرمایا: بڑے کو پہلے بولنے دو چنانچہ ان دونوں ( حویصہ اور محیصہ ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کر دیا جائے ان لوگوں نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں؟ آپ نے فرمایا: پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے وہ بولے: اللہ کے رسول! یہ کافر لوگ ہیں ( ان کی قسموں کا کیا اعتبار؟ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی، سہل کہتے ہیں: ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے: کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو؟ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے ابتداء «تبرئكم يهود بخمسين يمينا يحلفون» سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔
Sahl bin Abi Hathmah رضی اللہ عنہ and some senior men of the tribe told that
Abdullah bin Abi Sahl and Muhayyasah رضی اللہ عنہما came to Khaibar on account of the calamity (i.e. famine) that befall them. Muhayyasah came and told the Abdullah bin Sahl had been killed and thrown in a well or stream. He hen came to the Jews and said: I swear by Allah, you have killed him. They said: We swear by Allah, we have not killed him. He then proceeded and came to his tribe and mentioned this to them. Then he, his brother Huwayyasah, who was older to him, and Abdur-Rahman bin Sahl came forward (to the Prophet). Muhayyasah began to speak. It was he who was at Khaibar. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said to him: Let the eldest (speak), let the eldest (speak), meaning age. So Huwayyasah spoke, and after him Muhayyasah spoke. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: They should either pay the bloodwit for you friend or they should be prepared for war. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wrote to them about it. They wrote (in reply): We swear by Allah, we have not killed him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said to Huwayyasah, Muhayyasah and Abdur-Rahman: Will you take an oath and thus have the claim to the blood of your friend ? They said: No. He (the Prophet) said: The Jews will then take an oath. They said: They are not Muslims. Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم himself paid the bloodwit. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then sent on one hundred she-camels and they were entered in their house. Sahl said: A red she-camel of them gave me a kick.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہیں مالک نے خبر دی، وہ ابو لیلیٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سہل کے واسطہ سے, سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما کسی پریشانی کی وجہ سے جس سے وہ دو چار ہوئے خیبر کی طرف نکلے پھر کسی نے آ کر محیصہ کو خبر دی کہ عبداللہ بن سہل مار ڈالے گئے اور انہیں کسی کنویں یا چشمے میں ڈال دیا گیا، وہ ( محیصہ ) یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے: قسم اللہ کی! تم نے ہی انہیں قتل کیا ہے، وہ بولے: اللہ کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل تینوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آئے، محیصہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کیونکہ وہی خیبر میں ساتھ تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کو بڑائی دو آپ کی مراد عمر میں بڑائی سے تھی چنانچہ حویصہ نے گفتگو کی، پھر محیصہ نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو یہ لوگ تمہارے آدمی کی دیت دیں، یا لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں پھر آپ نے اس سلسلے میں انہیں خط لکھا تو انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، تو آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے پوچھا: کیا تم قسم کھاؤ گے کہ اپنے بھائی کے خون کا مستحق بن سکو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس پر آپ نے فرمایا: تو پھر یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے اس پر وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی، اور سو اونٹ بھیج دیے گئے یہاں تک کہ وہ ان کے مکان میں داخل کر دیے گئے، سہل کہتے ہیں: انہیں میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری ہے۔
Narrated Amr bin Shuaib:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم killed a man of Banu Nadr bin Malik at Harrah ar-Righa' at the bank of Layyat al-Bahrah. The transmitter Mahmud (ibn Khalid) also mentioned the words along with the words at Bahrah the slayer and the slain were from among them. Mahmud alone transmitted in this tradition the words at the bank of Layyah.
ہم سے محمود بن خالد اور کثیر بن عبید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اس نے بیان کیا ہم سے محمد بن صباح بن سفیان نے بیان کیا، انہیں ولید نے ابو عمرو رضی اللہ عنہ سے خبر دی، عمرو بن شعیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے قسامہ سے بنی نصر بن مالک کے ایک آدمی کو بحرۃالرغاء میں لیۃالبحرہ کے کنارے پر قتل کیا، راوی کہتے ہیں: قاتل اور مقتول دونوں بنی نصر کے تھے، «ببحرة الرغاء على شطر لية البحر»کے یہ الفاظ محمود کے ہیں اور محمود اس حدیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ درست آدمی ہیں۔
Narrated Bashir bin Yasar:
A man of the Ansar called Sahl bin Abi Hathmah told him that some people of his tribe went to Khaibar and separated there. They found one of them slain. They said to those with whom they had found him: You have killed our friend. They replied: We did not kill him, nor do we know the slayer. We (the people of the slain) then went to the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said to them: Bring proof against the one who has slain him. They replied: We have no proof. He said: Then they will take an oath for you. They said: We do not accept the oaths of the Jews. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not like no responsibility should be fixed for his blood. So he himself paid his bloodwit consisting of one hundred camels of sadaqah (i. e. camels sent to the Prophet as zakat).
ہم سے حسن بن محمد بن الصباح الزعفرانی نے بیان کیا، ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، ہم سے سعید بن عبید طائی نے بیان کیا، بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ
سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے: ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے پاس گواہ نہیں ہے، اس پر آپ نے فرمایا: پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے وہ کہنے لگے: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہو جائے چنانچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی۔
Narrated Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ :
A man of the Ansar was killed at Khaybar and his relatives went to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and mentioned that to him. He asked: Have you two witnesses who can testify to the murderer of your friend? They replied: Messenger of Allah! there was not a single Muslim present, but only Jews who sometimes have the audacity to do even greater crimes than this. He said: Then choose fifty of them and demand that they take an oath; but they refused and the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم paid the blood-wit himself.
ہم سے حسن بن علی بن راشد نے بیان کیا، ہمیں ہشام نے خبر دی، ہم سے ابو حیان تیمی نے بیان کیا، ہم سے عبایہ بن رفاعہ نے بیان کیا,رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کر دیا گیا، تو اس کے وارثین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہو جانے کی گواہی دیں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کر لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔
Narrated Abdur-Rahman bin Bujaid:
I swear by Allah, Sahl had a misunderstanding about this tradition. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wrote to the Jews: A slain man has been found amongnst you, so pay his bloodwit. They wrote (to him): Swearing by Allah fifty oaths, we neither killed him nor do we know his slayer. He said: Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم himself paid his bloodwit which consisted of one hundred camels.
ہم سے عبدالعزیز بن یحییٰ حرانی نے بیان کیا، ان سے محمد، یعنی ابن سلمہ نے، مجھ سے محمد بن اسحاق کی سند سے، وہ محمد بن ابراہیم بن الحارث کی سند سے, عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ
اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں: اس پر اس کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹ ( خود ) ادا کی۔
Narrated Abu Salamah bin Abdur-Rahman and Sulaiman bin Yasar: On the authority of some men of the Ansar:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to the Jews and started with them: Fifty of you should take the oaths. But they refused (to take the oaths). He then said to the Ansar: Prove your claim. They said: Do we take the oaths without seeing, Messenger of Allah? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then imposed the blood-wit on the Jews because he (the slain) was found among them.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سلیمان بن یسار کی سند سے, انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا: تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: تم اپنا حق ثابت کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
A girl was found with her head crushed between two stones. She was asked: Who has done this to you? Is it so and so? Is it so and so, until a Jew was named, and she gave a sign with her head. The Jew was caught ad he admitted. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave command that his head should be crushed with stones.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
A Jew killed a girl of the Ansar for her ornaments. He then threw her in a well, and crushed her head with stones. He was then arrested and brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He ordered regarding him that he should be stoned to death. He was then stoned till he died. Abu Dawud said: It has been transmitted by Ibn Juraij from Ayyub in a similar way.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، انہوں نے معمر سے، ایوب سے، ابو قلابہ سے, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اسے رجم کر دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
A girl was wearing silver ornaments. A Jew crushed her head with a stone. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon her when she had some breath. He said to her: Who has killed you ? Had so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Who has killed you ? Has so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Has so and so killed you ? She said: Yes, making sign with her head. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded regarding him, and he was killed between two stones.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن ادریس نے شعبہ کی سند سے اور ہشام بن زید سے, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا؟ فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا فلاں نے کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان ( کچل کر ) مار ڈالا گیا۔
Narrated Qays bin Abbad:
I and Ashtar went to Ali رضی اللہ عنہ and said to him: Did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم give you any instruction about anything for which he did not give any instruction to the people in general? He said: No, except what is contained in this document of mine. Musaddad said: He then took out a document. Ahmad said: A document from the sheath of his sword. It contained: The lives of all Muslims are equal; they are one hand against others; the lowliest of them can guarantee their protection. Beware, a Muslim must not be killed for an infidel, nor must one who has been given a covenant be killed while his covenant holds. If anyone introduces an innovation, he will be responsible for it. If anyone introduces an innovation or gives shelter to a man who introduces an innovation (in religion), he is cursed by Allah, by His angels, and by all the people. Musaddad said: Ibn Abu Urubah's version has: He took out a document.
ہم سے احمد بن حنبل اور مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ کی سند سے اور حسن رضی اللہ عنہ کی سند سے, قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ
میں اور اشتر دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو؟ وہ بولے: نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں: پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک کتاب ( نکالی ) اس میں یہ لکھا تھا: سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل ( باہمی نصرت و معاونت میں ) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنی بھی ان کے امان کا پاس و لحاظ رکھے گا ۱؎، آگاہ رہو! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمے داری اسی کے اوپر ہو گی، اور جو نئی بات نکالے گا، یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص ( بدعتی ) کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ مسدد کہتے ہیں: ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک کتاب نکالی۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father that his grandfather reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said, mentioning the tradition similar to the one transmitted by Ali رضی اللہ عنہ. This version adds: The most distant of them gives protection as from all, those who are strong among them send back (spoil) to those who are weak among them, and their expeditions sending it back to those who are at home.
ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: … پھر راوی نے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
Saad bin Ubadah رضی اللہ عنہ said: Messenger of Allah! If a man finds a man with his wife, should he kill him ? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: No. Saad: Why not, by Him who has honoured you with truth ? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Listen to what your chief is saying. The narrator Abdul-Wahhab said: (Listen) to what Saad is saying.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور عبد الوہاب بن نجدہ الحوطی نے بیان کیا، معنی ایک ہی ہیں, انہوں نے کہا: ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے سہیل کی سند سے اور اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں سعد نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی ( میں تو اسے قتل کر دوں گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں ( عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، ( سنو ) جو سعد کہہ رہے ہیں ) ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
Saad bin Ubadah رضی اللہ عنہ said to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: What do you think if I find with my wife a man ; should I give him some time until I bring four witnesses ? He said: Yes .
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، سہیل بن ابی صالح کی سند سے، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔