Narrated Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہما:
Concerning killing deliberately with something that is not usually used for killing: forty pregnant jadh'ah, thirty Hiqqah and thirty Bint Labun; and if the killing is not deliberate, thirty Hiqqah, thirty Bint Labun, twenty Bani Labun, twenty and twenty Bint Makhad.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے سعید نے، قتادہ کی سند سے، عبد ربیح سے، ابو عیاض کی سند سے, عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں چالیس گابھن جزعہ، تیس حقہ اور تیس بنت لبون ہیں، اور دیت خطا میں تیس حقہ، تیس بنت لبون، بیس ابن لبون، اور بیس بنت مخاض ہیں۔
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab, from Zaid bin Thabit, concerning killing deliberately with something that is not usually used for killing and he mention similar report (as no. 4554).
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے سعید نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے,زید بن ثابت سے دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں مروی ہے پھر راوی نے ہو بہو اسی کے مثل ذکر کیا جیسے اوپر گزرا۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The fingers are equal: ten camels for each finger.
ہم سے اسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ہم سے ابن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے غالب التمر نے بیان کیا، وہ حمید بن ہلال کی سند سے، انہوں نے مسروق بن اوس کی سند سے, ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، ان کی دیت دس دس اونٹ ہیں ۔
Narrated Abu Musa al-Ashari رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The fingers are equal. I asked: Ten camels for each? He replied: Yes. Abu Dawud said: Muhammad bin Jafar transmitted it from Shubah, from Ghalib, saying: I heard Masruq bin Aws ; and Ismail transmitted it, saying: Ghalib al-Tammar transmitted it to me through the chain of Abu al-Walid ; and Hanzlah bin Abi Safiyyah transmitted it from Ghalib through the chain of Ismail.
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ غالب التمار سے اور مسروق بن اوس کی سند سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں تمام برابر ہیں میں نے عرض کیا، کیا ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔ابوداؤد کہتے ہیں: اسے محمد بن جعفر نے شعب سے، غالب سے روایت کیا، کہتے ہیں: میں نے مسروق بن اوس سے سنا؛ اور اسماعیل نے اسے نقل کرتے ہوئے کہا: غالب التمر نے اسے ابو الولید کے سلسلہ سے مجھ تک پہنچایا۔ اور حنظلہ بن ابی صفیہ نے اسے غالب سے سلسلہ اسماعیل کے ذریعے نقل کیا ہے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: This and that are equal, that is, the thumb and the little finger.
ہم سے مصدّد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا۔ ہم سے ابن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا۔ ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، ان سب نے شعبہ کی سند سے، قتادہ کی سند سے، عکرمہ کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اور یہ برابر ہیں یعنی انگوٹھا اور چھنگلی ( کانی انگلی ) ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The fingers are equal and the teeth are equal. The front tooth and the molar tooth are equal, this and that are equal. Abu Dawud said: Nadr bin Shumail transmitted it from Shubah to the same effect as mentioned by Abd al-Samad. Abu Dawud said: al-Darimi narrated it to me from al-Nadr.
ہم سے عباس العنبری نے بیان کیا، ہم سے عبد الصمد بن عبد الوارث نے بیان کیا، مجھ سے شعبہ نے، قتادہ کی سند سے، عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں، سامنے کے دانت ہوں، یا ڈاڑھ کے سب برابر ہیں، یہ بھی برابر اور وہ بھی برابر ۔ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمائل نے اسے شعبہ سے اسی طرح نقل کیا ہے جیسا کہ عبد الصمد نے ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے الدارمی نے نضر سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The teeth are equal, and the fingers are equal.
ہم سے محمد بن حاتم بن بوزی نے بیان کیا، ہم سے علی بن الحسن نے بیان کیا، انہیں ابوحمزہ نے خبر دی، انہیں یزید النحوی نے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دانت سب برابر ہیں اور انگلیاں سب برابر ہیں ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم treated the fingers and toes as equal.
ہم سے عبداللہ بن عمر بن محمد بن ابان نے بیان کیا، ہم سے ابو تمیلہ نے بیان کیا، انہوں نے حسین المعلم کی سند سے، یزید النحوی سے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کی انگلیوں کو برابر قرار دیا۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father, from his grandfather said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said in his address while he was leaning against the Kabah: (The blood-wit) for each finger is ten camels.
ہم سے حدبہ بن خالد نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، ہم سے حسین المعلم نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے، وہ اپنے والد سے، اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں جبکہ آپ اپنی پیٹھ کعبہ سے ٹیکے ہوئے تھے فرمایا: انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں ۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father, from his grandfather said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: For each tooth are ten camels.
ہم سے زہیر بن حرب ابو خیثمہ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ہم سے حسین المعلم نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دانتوں میں پانچ پانچ ( اونٹ ) ہیں ۔
Narrated Abu Dawud: I found in my notebook from Shaiban and I did not hear from him; Abu Bakr رضی اللہ عنہ , a reliable friend of ours, said: Shaiban - Muhammad bin Rashid - Sulaiman bin Musad-Amr bin Suhaib, On his father's authority, said that his grandfather said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would fix the blood-money for accidental killing at the rate of four hundred dinars or their equivalent in silver for townsmen, and he would fix it according to the price of camels. So when they were dear, he increased the amount to be paid, and when cheap prices prevailed he reduced the amount to be paid. In the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم they reached between four hundred and eight hundred dinars, their equivalent in silver being eight thousand dirhams. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave judgment that those who possessed cattle should pay two hundred cows, and those who possessed sheep two thousand sheep. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The blood-money is to be treated as something to be inherited by the heirs of the one who has been killed, and the remainder should be divided among the agnates. He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave judgment that for cutting off a nose completely there was full blood-money, one hundred (camels) were to be paid. If the tip of the nose was cut off, half of the blood-money, i. e. fifty camels were to be paid, or their equivalent in gold or in silver, or a hundred cows, or one thousand sheep. For the hand, when it was cut of, f half of the blood-money was to be paid; for one foot of half, the blood-money was to be paid. For a wound in the head, a third of the blood-money was due, i. e. thirty-three camels and a third of the blood-money, or their equivalent in gold, silver, cows or sheep. For a head thrust which reaches the body, the same blood-money was to be paid. Ten camels were to be paid for every finger, and five camels for every tooth. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave judgment that the blood-money for a woman should be divided among her relatives on her father's side, who did not inherit anything from her except the residence of her heirs. If she was killed, her blood-money should be distributed among her heirs, and they would have the right of taking revenge on the murderer. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: There is nothing for the murderer; and if he (the victim) has no heir, his heir will be the one who is nearest to him among the people, but the murderer should not inherit anything. Muhammad said: All this has been transmitted to me by Sulayman ibn Musa on the authority of Amr ibn Shuaib who, on his father's authority, said that his grandfather heard it from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Abu Dawud said: Muhammad bin Rashid, an inhabitant of Damascus, fled from Basrah escaping murder.
ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے اپنی کتاب میں شعبان کی روایت سے پایا، اور میں نے اسے ان سے نہیں سنا، تو ہمارے ایک ثقہ صحابی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, انہوں نے کہا: ہم سے شیبان نے بیان کیا، ہم سے محمد نے بیان کیا، یعنی ابن رشد نے,سلیمان کی سند پر، یعنی ابن موسیٰ، عمرو بن شعیب کی سند پر، اپنے والد کی سند پر، اپنے دادا کی سند پر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گاؤں والوں پر قتل خطا کی دیت کی قیمت چار سو دینار، یا اس کے برابر چاندی سے لگایا کرتے تھے، اور اس کی قیمت اونٹوں کی قیمتوں پر لگاتے، جب وہ مہنگے ہو جاتے تو آپ اس کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیتے، اور جب وہ سستے ہوتے تو آپ اس کی قیمت بھی گھٹا دیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ قیمت چار سو دینار سے لے کر آٹھ سو دینار تک پہنچی، اور اسی کے برابر چاندی سے ( دیت کی قیمت ) آٹھ ہزار درہم پہنچی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے بیل والوں پر ( دیت میں ) دو سو گایوں کا فیصلہ کیا، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریوں کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت کا مال مقتول کے وارثین کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق تقسیم ہو گا، اب اگر اس سے کچھ بچ رہے تو وہ عصبہ کا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کے سلسلے میں فیصلہ کیا کہ اگر وہ کاٹ دی جائے تو پوری دیت لازم ہو گی۔ اور اگر اس کا بانسہ ( دونوں نتھنوں کے بیچ کی ہڈی ) کاٹا گیا ہو تو آدھی دیت لازم ہو گی، یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا یا چاندی، یا سو گائیں، یا ایک ہزار بکریاں۔ اور ہاتھ جب کاٹا گیا ہو تو اس میں آدھی لازم ہو گی، پیر میں بھی آدھی دیت ہو گی۔ اور مامومہ میں ایک تہائی دیت ہو گی، تینتیس اونٹ اور ایک اونٹ کا تہائی یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، گائے یا بکری اور جائفہ میں بھی یہی دیت ہے۔ اور انگلیوں میں ہر انگلی میں دس اونٹ اور دانتوں میں ہر دانت میں پانچ اونٹ کی دیت ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: عورت کی جنایت کی دیت اس کے عصبات میں تقسیم ہو گی ( یعنی عورت اگر کوئی جنایت کرے تو اس کے عصبات کو دینا پڑے گا ) یعنی ان لوگوں کو جو ذوی الفروض سے بچا ہوا مال لے لیتے ہیں ( جیسے بیٹا، چچا، باپ، بھائی وغیرہ ) اور اگر وہ قتل کر دی گئی ہو تو اس کی دیت اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی ( نہ کہ عصبات میں ) اور وہی اپنے قاتل کو قتل کریں گے ( اگر قصاص لینا ہو ) ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں، اور اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا وارث سب سے قریبی رشتے دار ہو گا لیکن قاتل کسی چیز کا وارث نہ ہو گا ۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father, from his grandfather reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Blood-wit for what resembles intentional murder is to be made as severe as that for intentional murder, but the culprit is not to be killed. Khalid gave us some additional information on the authority of Ibn Rashid: That (unintentional murder which resembles intentional murder) means that Satan jumps among the people and then the blood is shed blindly without any malice and weapon.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بکر بن بلال عاملی نے بیان کیا، ان سے محمد نے، ان سے ابن رشد نے، کہا ہم کو سلیمان کی سند سے، یعنی ابن موسیٰ نے، عمرو بن شعیب کی سند سے، وہ اپنے والد سے، اپنے دادا کی سند سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شبہ عمد کی دیت عمد کی دیت کی طرح سخت ہے، البتہ اس کے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ خلیل کی محمد بن راشد سے روایت میں یہ اضافہ ہے یہ ( قتل شبہ عمد ) لوگوں کے درمیان ایک شیطانی فساد ہے کہ بلا کسی کینے اور بغیر ہتھیار اٹھائے خون ہو جاتا ہے اور قاتل کا پتا نہیں چلتا ۔
Narrated Amr bin Shuaib, from his father informed him, from Abdullah bin Amr:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Blood-wit for every wound which lays bare a bone is five camels.
ہم سے ابو کامل فضل بن حسین نے بیان کیا کہ ان سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا: حسین نے، جس کے معنی استاد ہیں، نے عمرو بن شعیب کی سند سے ہمیں خبر دی کہ ان کے والد نے انہیں عبداللہ بن عمرو کی سند سے خبر دی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مواضح» میں دیت پانچ اونٹ ہے ۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father that his grandfather said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave judgment that a third of the blood-wit should be paid for an eye fixed in its place.
ہم سے محمود بن خالد السلمی نے بیان کیا، ان سے مروان نے، یعنی ابن محمد نے، ہم سے الحیثم بن حمید نے بیان کیا، ان سے علاء بن الحارث نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی آنکھ میں جو اپنی جگہ باقی رہے لیکن بینائی جاتی رہے، تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔
Narrated Al-Mughirah bin Shubah رضی اللہ عنہ :
A man of Hudhail has two wives. One of them struck her fellow-wife with a tent-pole and killed her and her unborn child. They brought the dispute to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. One of two men said: How can we pay bloodwit for the one who did not make a noise, or ate, nor drank, nor raised his voice ? He (the Prophet) asked: Is it rhymed prose like that of bedouin? He gave judgement that a male or female slave of the best quality should be paid in compensation, and he fixed it to be paid by woman's relatives on her father's side.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے منصور سے، ابراہیم کی سند سے، عبید بن نضلہ سے, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، ( اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غرہ ( لونڈی یا غلام ) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ ( وارثین ) کے ذمہ ٹھہرایا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Mansur through a different chain of narrators and to the same effect. This version adds:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم fixed the bloodwit for the slain woman to be paid by the relatives of the woman who had slain her, on the father's side. Abu Dawud said: In a similar way it has been transmitted by al-Hakam from Mujahid from al-Mughirah.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے منصورے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ ( غلام یا لونڈی ) ٹھہرایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔
Narrated Al-Miswar bin Makhramah رضی اللہ عنہما :
Umar رضی اللہ عنہ consulted the people about the compensation of abortion of woman. Al-Mughirah bin Shubah رضی اللہ عنہ said: I was present with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم when he gave judgement that a male or female slave should testify you. So he brought Muhammad bin Maslamah رضی اللہ عنہ to him. Harun added: He then testified him. Imlas means a man striking the belly of his wife. Abu Dawud said: I have been informed that Abu Ubaid said: It (abortion) is called imlas because the woman causes it to slip before the time of delivery. Similarly, anything which slips from the hand or from some other thing is called malis (slipped).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور ہارون بن عباد العزدی المعنا نے بیان کیا : ہم سے وکیع نے ہشام کی سند سے عروہ کی سند سے بیان کیا , مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا: میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گر جائے تو اس کی تعبیر «مَلِصَ» سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Umar رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said: Hammad bin Zaid and Hammad bin Salamah transmitted it from Hisham bin 'Arubah on his father's authority who said that Umar said. . .
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، اپنے والد سے، المغیرہ کی سند سے, عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے,ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔
Narrated Umar رضی اللہ عنہ :
He asked about the decision of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about that (i.e. abortion). Haml bin Malik bin al-Nabhigah got up and said: I was between two women. One of them struck another with a rolling-pin killing both her and what was in her womb. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave judgement that the bloodwit for the unborn child should be a male or a female slave of the best quality and the she should be killed. Abu Dawud said: Al-Nadr bin Shumail said: Mistah means a rolling-pin. Abu Dawud said: Abu Ubaid said: Mistah means a pole from the tent-poles.
ہم سے محمد بن مسعود المصیصی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے سماعطوس کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا, عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے: میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مر گئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «مسطح» چوپ یعنی ( روٹی پکانے کی لکڑی ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عبید نے کہا:«مسطح» خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔
Narrated Tawus:
Umar رضی اللہ عنہ stood on the pulpit. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as mentioned before. He did not mention that she should be killed . This version adds: a male or a female slave . Umar رضی اللہ عنہ then said: Allah is Most Great. Had I not heard it, we would have decided about it something else.
ہم سے عبداللہ بن محمد الزہری نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمرو کی سند سے بیان کیا, طاؤس کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی البتہ اس کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قتل کی جائے، اور انہوں نے «بغرة عبد أو أمة» کا اضافہ کیا ہے، راوی کہتے ہیں: اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حکم نہ سنے ہوتے تو اس کے خلاف فیصلہ دیتے۔