Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent Abu Jahm ibn Hudhayfah as a collector of zakat. A man quarrelled with him about his sadaqah (i.e. zakat), and Abu Jahm struck him and wounded his head. His people came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Revenge, Messenger of Allah! The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. So they agreed. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: I am going to address the people in the afternoon and tell them about your consent. They said: Yes. Addressing (the people), the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: These people of faith came to me asking for revenge. I presented them with so much and so much and they agreed. Do you agree? They said: No. The immigrants (muhajirun) intended (to take revenge) on them. But the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded them to refrain and they refrained. He then called them and increased (the amount), and asked: Do you agree? They replied: Yes. He said: I am going to address the people and tell them about your consent. They said: Yes. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم addressed and said: Do you agree? They said: Yes.
ہم سے محمد بن داؤد بن سفیان نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک شخص نے اپنی زکاۃ کے سلسلہ میں ان سے جھگڑا کر لیا، ابوجہم نے اسے مارا تو اس کا سر زخمی ہو گیا، تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! قصاص دلوائیے، اس پر آپ نے ان سے فرمایا: تم اتنا اور اتنا لے لو لیکن وہ لوگ راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے فرمایا: اچھا اتنا اور اتنا لے لو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو آپ نے فرمایا: اچھا اتنا اور اتنا لے لو اس پر وہ رضامند ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج شام کو میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی خبر دوں گا لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور فرمایا: قبیلہ لیث کے یہ لوگ قصاص کے ارادے سے میرے پاس آئے ہیں تو میں نے ان کو اتنا اور اتنا مال پیش کیا اس پر یہ راضی ہو گئے ہیں ( پھر آپ نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا: ) بتاؤ کیا تم لوگ راضی ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو مہاجرین ان پر جھپٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان سے باز رہنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رک گئے، پھر آپ نے انہیں بلایا، اور کچھ اضافہ کیا پھر پوچھا: کیا اب تم راضی ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: میں لوگوں کو خطاب کروں گا، اور انہیں تمہاری رضا مندی کے بارے میں بتاؤں گا لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا، اور پوچھا: کیا تم راضی ہو؟ وہ بولے: ہاں۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
A girl was found with her head crushed between two stoned. She was asked: Who did it with you ? Was it so and so ? Was it so and so ? Until the Jew was named. Thereupon she gave a sign with her head. The Jew was arrested and he admitted. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave command that his head should be crushed with stones.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے بیان کیا، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، چنانچہ اس یہودی کو پکڑا گیا، اس نے اقبال جرم کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was distributing something, a man came towards him and bent down on him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم struck him with a bough and his face was wounded. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to him: Come and take retaliation. He said: no, I have forgiven, Messenger of Allah!.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے عمرو کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن حارث نے، بکر بن اشجع کی سند سے، عبیدہ بن مسافع کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آ گئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: آؤ قصاص لے لو وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے معاف کر دیا۔
Narrated Abu Firas:
Umar bin al-Khattab ( رضی اللہ عنہ) addressed us and said: I did not send my collectors (of zakat) so that they strike your bodies and that they take your property. If that is done with someone and he appeals to me, I shall take retaliation on him. Amr ibn al-As said: If any man (i.e. governor) inflicts disciplinary punishment on his subjects, would you take retaliation on him too? He said: Yes, by Him in Whose hand my soul is, I shall take retaliation on him. I saw that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has given retaliation on himself.
ہم سے ابوصالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق الفزاری نے بیان کیا، انہوں نے الجریری کی سند سے اور ابو نضرہ کی سند سے, ابوفراس کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے، وہ بولے: ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے قصاص لوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم Said: The disputants should refrain from taking retaliation. The one who is nearer should forgive first and then the one who is next to him, even if (the one who forgives) were a woman. Abu Dawud said: I have been informed that forgiving by women in the case of murder is permissible if a woman were one of the heirs (of the slain). I have been told on the authority of Abu Ubaid about the meaning of the word yanhajizu, that is, they should refrain from retaliation.
ہم سے داؤد بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے اوزاعی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے حسن سے سنا، انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو خبر دیتے ہوئے سنا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑنے والوں پر لازم ہے کہ وہ قصاص لینے سے باز رہیں، پہلے جو سب سے قریبی ہے وہ معاف کرے، پھر اس کے بعد والے خواہ وہ عورت ہی ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ عورتوں کا قتل کے سلسلے میں قصاص معاف کر دینا جائز ہے جب وہ مقتول کے اولیاء میں سے ہوں، اور مجھے ابو عبید کے واسطے سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے قول «ينحجزوا» کے معنی قصاص سے باز رہنے کے ہیں۔
Tawus, in his version said: If anyone is killed. Ibn Ubaid in his version said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone is killed in error (blindly) when people are throwing stones, or by beating with whips, or striking with a stick, it is accidental and the compensation for accidental death is due. But if anyone is killed deliberately, retaliation is due. Ibn Ubaid in his version: Retaliation of the man is due. The agreed version then goes: If anyone comes in (between the two parties) to prevent it, Allah's curse and anger will rest on him, and neither supererogatory nor obligatory acts will be accepted from him. The version of the tradition of Sufyan is more perfect.
طاؤس کہتے ہیں کہ
جو مارا جائے، اور ابن عبید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی لڑائی یا دنگے میں جو لوگوں میں چھڑ گئی ہو غیر معروف پتھر، کوڑے، یا لاٹھی سے مارا جائے ۱؎ تو وہ قتل خطا ہے، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو قصداً مارا جائے تو اس میں قصاص ہے ( البتہ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ ) اس میں ہاتھ کا قصاص ہے، ۲؎ ( پھر دونوں کی روایت ایک ہے کہ ) جو کوئی اس کے بیچ بچاؤ میں پڑے ۳؎ تو اس پر اللہ کی لعنت، اور اس کا غضب ہو، اس کی نہ توبہ قبول ہو گی اور نہ فدیہ، یا اس کے فرض قبول ہوں گے نہ نفل اور سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as mentioned by Sufyan.
ہم سے محمد بن ابی غالب نے بیان کیا، ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن کثیر نے، ہم سے عمرو بن دینار نے طاؤس کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آگے راوی نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Narrated Amr bin Suhaib, from his father's authority, said that his grandfather reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave judgment that if anyone is killed accidentally, his blood-wit should be one hundred camels: thirty she-camels which had entered their second year, thirty she-camels which had entered their third year, thirty she-camels which had entered their fourth year, and ten male camels which had entered their third year.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن راشد نے بیان کیا اور ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا, ہم سے میرے والد نے بیان کیا, ہم سے محمد بن راشد نے، سلیمان بن موسیٰ سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض تیس بنت لبون تیس حقے اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہو چکے ہوں ۔
Narrated Amr bin Suhaib: On his father's authority, said that his grandfather reported:
The value of the blood-money at the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was eight hundred dinars or eight thousand dirhams, and the blood-money for the people of the Book was half of that for Muslims. He said: This applied till Umar (Allah be pleased with him) became caliph and he made a speech in which he said: Take note! Camels have become dear. So Umar fixed the value for those who possessed gold at one thousand dinars, for those who possessed silver at twelve thousand (dirhams), for those who possessed cattle at two hundred cows, for those who possessed sheep at two thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing at two hundred suits. He left the blood-money for dhimmis (protected people) as it was, not raising it in proportion to the increase he made in the blood-wit.
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے حسین المعلم نے بیان کیا، ان سے عمرو بن شعیب نے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار ( درہم ) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں ( مسلمانوں کی دیت کی طرح ) اضافہ نہیں کیا۔
Narrated Ata bin Abu Rabah:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave judgment that blood-wit for those who possessed camels should be one hundred camels, and for those who possessed cattle two hundred cows, and for those who possessed sheep one thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing two hundred suits, and for those who possessed wheat something which the narrator Muhammad (ibn Ishaq) did not remember.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا, عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد ( محمد بن اسحاق ) کو یاد نہیں رہا۔
Abu Dawud رضی اللہ عنہما said: I read out to Saeed bin Ya'qub al-Taliqini who said: Abu Tumailah transmitted to us, saying: Muhammad bin Ishaq transmitted to us saying: Ata reported Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما as saying:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم fixed; and he mentioned the tradition like that of Musa; he said: And those who possess corn food should pay something which I do not remember.
ابوداؤد کہتے ہیں, میں نے سعید بن یعقوب الطالقانی کو پڑھا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو تمیلہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا: عطاء نے ذکر کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا پھر راوی نے ایسے ہی ذکر کیا جیسے موسیٰ کی روایت میں ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ طَعام والوں پر کچھ مقرر کیا جو کہ مجھ کو یاد نہیں رہا۔
Narrated Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Diyah on the case of accidental killing is twenty Hiqqah, twenty Jugh'ah, twenty bint Makhad, twenty bint labud, and twenty male Bani Makhad." And this is the saying of Abdullah.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا، ہم سے الحجاج نے بیان کیا، وہ زید بن جبیر سے، وہ خشف بن مالک طائی کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
A man of Banu Adi was killed. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم fixed his blood-wit at the rate of twelve thousand (dirhams). Abu Dawud said: Ibn Uyainah transmitted it from Amr, from Ikrimah, from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, and he did not mention Ibn Abbas.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے زید بن الحبب نے بیان کیا، ان سے محمد بن مسلمہ نے، عمرو بن دینار سے، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم)ٹھہرائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated Abdullah bin Amr ضی اللہ عنہما :
(Musaddad's version has): The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made a speech on the day of the conquest of Makkah, and said: Allah is Most Great, three times. He then said: There is no god but Allah alone: He fulfilled His promise, helped His servant, and alone defeated the companies. (The narrator said: ) I have remembered from Musaddad up to this. Then the agreed version has: Take note! All the merits mentioned in pre-Islamic times, and the claim made for blood or property are under my feet, except the supply of water to the pilgrims and the custody of the Kabah. He then said: The blood-money for unintentional murder which appears intentional, such as is done with a whip and a stick, is one hundred camels, forty of which are pregnant. Musaddad's version is more accurate.
ہم سے سلیمان بن حرب اور مسدد المعنی نے بیان کیا: ہم سے حماد نے خالد کی سند سے، قاسم بن ربیعہ سے، عقبہ بن اوس کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسدد کی روایت کے مطابق ) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی ( یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہے ) سنو! وہ تمام فضیلتیں جو جاہلیت میں بیان کی جاتی تھیں اور خون یا مال کے جتنے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے پاؤں تلے ہیں ( یعنی لغو اور باطل ہیں ) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے ( یہ اب بھی ان کے ہی سپرد رہے گی جن کے سپر د پہلے تھی پھر فرمایا: سنو! قتل خطا یعنی قتل شبہ عمد کوڑے یا لاٹھی سے ہونے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں ( اور مسدد والی روایت زیادہ کامل ہے ) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Khalid رضی اللہ عنہ through the same chain of narrators to the same effect.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، خالد رضی اللہ عنہ سے، اس سلسلہ سند کے ساتھ، معنی میں کچھ ایسا ہی ہے.
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect. This version has:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم addressed on the day of Conquest, or he said: On the conquest of Makkah on the ladder of the House or of the Kabah. Abu Dawud said: In a similar way of Ibn Uyainah also transmitted it from Ali bin Zaid, from al-Qasim bin Rabiah, from Ibn Umar رضی اللہ عنہما , from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ; and Ayyub al-Sukhtiyani transmitted it from al-Qasim bin Rabiah from Abdullah bin Amr like the tradition of Khalid. Hammad bin Salamah also transmitted it from Ali bin Zaid, from Ya'qub al-Sadusi, on the authority of Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The statements of Zaid and of Abu Musa are similar to the tradition of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and to the tradition of Umar (رضی اللہ عنہ).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، علی بن زید نے قاسم بن ربیعہ کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں,اس میں ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے دن یا فتح مکہ کے دن بیت اللہ یا کعبہ کی سیڑھی پر خطبہ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے بھی اسی طرح علی بن زید سے، علی بن زید نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور اسے ایوب سختیانی نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے خالد کی حدیث کے مثل روایت کی ہے۔ نیز اسے حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے، علی بن زید نے یعقوب سدوسی سے، سدوسی نے عبداللہ بن عمرو سے، اور عبداللہ بن عمرو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور زید اور ابوموسیٰ کا قول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مثل ہے۔
Narrated Mujahid:
Umar gave judgement that bloodwit for quasi-intentional murder should be thirty she-camels in their fourth year, thirty she-camels in their fifth year, and forty pregnant she-camels in their sixth year up to the ninth
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابن ابی نجیح کی سند سے, مجاہد کہتے ہیں
عمر نے قتل شبہ عمد میں تیس حقہ، تیس جزعہ، چالیس گابھن اونٹنیوں ( جو چھ برس سے نو برس تک کی ہوں ) کی دیت کا فیصلہ کیا۔
Narrated Ali رضی اللہ عنہ :
The bloodwit for unintentional murder which resembles intentional is twenty-five she camels which entered their fourth year, twenty five she-camels which had entered their fifth year, twenty five she-camels which had entered their third year, and twenty five camels which had entered their second year.
ہم سے ہناد نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، انہوں نے ابواسحاق سے، عاصم بن ضمرہ سے، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
شبہ عمد کی دیت میں تین قسم کے اونٹ ہوں گے، تینتیس حقہ، تینتیس جذعہ اور چونتیس ایسی اونٹنیاں جو چھ برس سے لے کر نو برس تک کی ہوں اور سب گابھن ہوں۔
Narrated Ali رضی اللہ عنہ :
The bloodwit for unintentional murder is in four parts: twenty five she-camels in their fourth year, twenty five she-camels in their fifth year, twenty five she-camels in their third year, and twenty twenty five she-camels in their second year.
ابو اسحاق کی سند سے، علقمہ اور الاسود کی سند سے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے منصوبہ بند قتل کے معاملے کے بارے میں کہا
قتل خطا اونٹ چارطرح کےہوں شبہ عمد کی دیت پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض ہے۔
Narrated Abdullah:
Twenty five Hiqah, twenty five jadh'ah, twenty five Bint Labun, twenty five Bint Makhad.
ہم سے ہناد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواس نے بیان کیا، ابواسحاق کی سند سے، علقمہ اور اسود سے، عبداللہ نے قصداً قتل کے بارے میں کہا
قتل خطا کی دیت میں چار قسم کے اونٹ ہوں گے: پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض۔