Chapter on the description of the Day of Judgement, Ar-Riqaq, and Al-Wara`
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله
Chapter 38
Anas narrated that the Messenger of allah (s.a.w)said: My intercession is for the people who committed the major sins in my Ummah.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Ja'far bin Muhammad narrated from his father, from Jabir bin 'Abdullah who said: The Messenger of Allah (s.a.w)said: 'My intercession is for the people who comitted major sins in my Ummah.' Muhammad bin 'Ali said: Jabir said to me: 'O Muhammad! Whoever is not among the peole of major sins, then there is no need in the intercession for him.'
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہو گی“۔ محمد بن علی الباقر کہتے ہیں: مجھ سے جابر رضی الله عنہ نے کہا: محمد! جو اہل کبائر میں سے نہ ہوں گے انہیں شفاعت سے کیا تعلق؟ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث جعفر الصادق بن محمد الباقر کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Abu Umamah narrated the Messenger of Allah (s.a.w)said: My Lord promised me that seventy thousand of my Ummah shall be admitted into Paradise without a reckoning against them, Nor any punishment. With every thousand, are seventy thousand and three measures from the measures of my Lord.
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہو گا اور نہ ان پر کوئی عذاب، ( پھر ) ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Abdullah bin Shaqiq Umamah narrated: I was with a troop in Jeruselem, and a man among them said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w)saying: From the intersection of one man in my Ummah more (people) then Banu Tamim will be admitted into Paradise.' It was said: 'O Messenger of Allah! Someone other than you?' He said: 'Other than me.' So when he stood, I said: 'Who is this?' They said: 'This is Ibn Abi Al-Jadh'a.'
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ
میں ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے ایک فرد کی شفاعت سے قبیلہ بنی تمیم کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے“، کسی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ شخص آپ کے علاوہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، میرے علاوہ ہو گا“، پھر جب وہ ( راوی حدیث ) کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابن ابی جذعاء رضی الله عنہ کا نام عبداللہ ہے، ان سے صرف یہی ایک حدیث مشہور ہے۔
Al-Hasan Al-Basri said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'On the Day of Judgement, 'Uthman bin 'Affan will intercede for (an amount) the likes of Rabi'ah and Mudar.'
حسن بصری کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان بن عفان رضی الله عنہ قیامت کے دن قبیلہ ربیعہ اور مضر کے برابر، لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے“۔
Abu Sa'eed narrated the Messenger of Allah (s.a.w)said: Indeed in my Ummah are those who intercede for large groups pf people, and among them (there are) who intercede for a tribe, and among them (there are) who intercede for a group, and among them (there are) who intercede for a man, until they are admitted to Paradise.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا کوئی شخص کئی جماعت کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک قبیلہ کے لیے شفاعت کرے گا، کوئی ایک گروہ کے لیے شفاعت کرے گا، اور کوئی ایک آدمی کے لیے شفاعت کرے گا، یہاں تک کہ سب جنت میں داخل ہوں جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Abu Al-Malih narrated from 'Awf bin Malik Al-Ashja'i who said: The Messenger of Allah (s.a.w) said 'Someone came to me from myLord to give me choice between the half of my Ummah being admitted into Paradise or intercession. So I chose the intercession,and it is for whoever dies and he did not associate anything with Allah. '
عوف بن مالک اشجعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا ( جبرائیل علیہ السلام ) میرے پاس آیا اور مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا یہ کہ مجھے شفاعت کا حق حاصل ہو، چنانچہ میں نے شفاعت کو اختیار کیا، یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جس کا خاتمہ شرک کی حالت پر نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوملیح نے ایک اور صحابی سے روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ( لیکن ) اس میں عوف بن مالک کا ذکر نہیں کیا، اس حدیث میں ایک طویل قصہ مذکور ہے۔
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Indeed, at my Hawd there are drinking vessels as numerous as the stars in the heavens.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میرے حوض پر آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر پیالے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Samurah narrated the Messenger of Allah (s.a.w)said: Indeed there is a Hawd for every Prophet, and indeed they compete to see which of them has the most arriving at it. Indeed I hope that mine will be the one with the most arrival.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز ہر نبی کے لیے ایک حوض ہو گا، اور وہ آپس میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ کس کے حوض پر پانی پینے والے زیادہ جمع ہوتے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ میرے حوض پر ( اللہ کے فضل سے ) سب سے زیادہ لوگ جمع ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اشعث بن عبدالملک نے اس حدیث کو حسن بصری کے واسطے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں سمرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
Al-'Abbas narrated from Abu Sallam Al-Habashi who said: 'Umar bin 'Abdul-'Aziz summoned me so I got a ride on a mule. [He said:] When he entered upon him, he said: 'O Commander of the Beleivers! My riding mule was troublesome for me.' So he said: 'O Abu Sallam!I did not want to trouble you, but a Hadith which you narrated-from Thawban, from the Prophet (s.a.w) about the Hawd-was conveyed to me,and I wanted you to narrate it directly to me. 'Abu Sallam said: Thawban narrated to me from The Messenger of Allah (s.a.w) who said 'My Hawd (is as large as) from 'Adan to 'Amman of Al-Balqa', its water is whiter than milk and sweeter than honey. Its cups are as numerous as the stars, whoever drinks one drink from it, he will never be thirsty after that again. The first people to arrive at it are the poor among the Muhajirin with disheveled heads, dirty clothes, those whom the women of favor would not marry, nor would the doors be open for them.' 'Umar said: 'But I have married a women of favor and the doors are open for me. I married Fatimah bint 'Abdul-Malik. I shall certainly not wash my head until it is disheveled, nor wash my garment which touches my body until it becomes dirty.
ابو سلام حبشی کہتے ہیں کہ
عمر بن عبدالعزیز نے میرے پاس بلاوے کا پیغام بھیجا، چنانچہ میں ڈاک سواری خچر پر سوار ہو کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! ڈاک سواری خچر کی سواری مجھ پر شاق گزری تو انہوں نے کہا: ابو سلام! میں تمہیں تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا، لیکن میں نے تمہارے بارے میں یہ سنا ہے کہ تم ثوبان رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہو، چنانچہ میری یہ خواہش ہوئی کہ وہ حدیث تم سے براہ راست سن لوں، ابو سلام نے کہا: ثوبان رضی الله عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن سے اردن والے عمان تک کا فاصلہ ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس کے پیالے آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہو گا، سب سے پہلے اس پر فقراء مہاجرین پہنچیں گے، جن کے سر دھول سے اٹے ہوں گے اور ان کے کپڑے میلے کچیلے ہوں گے، جو ناز و نعم عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ان کے لیے جاہ و منزلت کے دروازے کھولے جاتے“۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا: لیکن میں نے تو ناز و نعم میں پلی عورتوں سے نکاح کیا اور میرے لیے جاہ و منزلت کے دروازے بھی کھولے گئے، میں نے فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کیا، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اپنے سر کو نہیں دھوتا یہاں تک کہ وہ غبار آلود نہ ہو جائے اور اپنے بدن کے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوتا جب تک کہ میلے نہ ہو جائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث معدان بن ابی طلحہ کے واسطے سے «عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے، ۳- ابو سلام حبشی کا نام ممطور ہے، یہ شامی ہیں اور ثقہ راوی ہیں۔
Abu Dharr narrated: I said: 'O Messenger of Allah! What about the vessels of the Hawd?' He said: 'By the one in Whose Hand is my soul! Its vessels number more than the stars of the heavens and the planets on a clear dark night. (They are) among the vessels of Paradise, whoever drinks from them, he will never be thirsty again. Its longest breadth is the same as its length, like that which is between 'Amman to Aylah, its water is whiter than milk and sweeter than honey.'
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حوض کوثر کے برتن کیسے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً اس کے برتن تاروں سے بھی زیادہ ہیں اس تاریک رات میں جس میں آسمان سے بادل چھٹ گیا ہو، اور اس کے پیالے جنت کے برتنوں میں سے ہوں گے، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، اس کا فاصلہ اتنا ہے جتنا عمان سے ایلہ تک کا فاصلہ ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ بن یمان، عبداللہ بن عمرو، ابوبرزہ اسلمی، ابن عمر، حارثہ بن وہب اور مستورد بن شداد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض کا فاصلہ اتنا ہے جتنا کوفہ سے حجر اسود تک کا فاصلہ ہے“۔
Ibn 'Abbas narrated : When the Prophet (s.a.w) was taken for the Night Journey, he passed by a Prophet, and, some Prophets and with them were some people, and a Prophet, and some Prophets and with them was a group of people, and a Prophet, and some Prophets and with them there was no one. Until he passed by a large multitude. (The Prophet (s.a.w)said: ) I said: 'Who is this?' It was said: 'Musa and his people. But raise your head and look.' There was a large multitude that covered the horizon, from one side to the other. It was said: 'These people are your Ummah, and there are seventy thousand besides these from your Ummah that shall enter Paradise without a reckoning.' So he went inside, and they did not question him, and he gave no explanation to them. (Some of them) said: 'We are them.' Others said: 'They are the children who were born upon the Fitrah and Islam.' So the Prophet (s.a.w) came out and said: 'They are those who do not get themselves cauterized, nor seek Ruqyah, nor read omens, and upon their Lord they rely.' So 'Ukashah bin Mihsan stood and said: 'Am I among them O Messenger of Allah?' He said: 'Yes.' Then another one stood up and said: 'Am I among them?' So he said Ukashah has preceded you to it.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کا ایک نبی اور کئی نبیوں کے پاس سے گزر ہوا، ان میں سے کسی نبی کے ساتھ ان کی پوری امت تھی، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی، کسی کے ساتھ کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ آپ کا گزر ایک بڑے گروہ سے ہوا، تو آپ نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ موسیٰ اور ان کی قوم ہے، آپ اپنے سر کو بلند کیجئے اور دیکھئیے: تو یکایک میں نے ایک بہت بڑا گروہ دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو اس جانب سے اس جانب تک گھیر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس کے سوا آپ کی امت میں ستر ہزار اور ہیں جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور لوگ آپ سے اس کی بابت نہیں پوچھ سکے اور نہ ہی آپ نے ان کے سامنے اس کی تفسیر بیان کی، چنانچہ ان میں سے بعض صحابہ نے کہا: شاید وہ ہم ہی لوگ ہوں اور بعض نے کہا: شاید ہماری وہ اولاد ہیں جو فطرت اسلام پر پیدا ہوئیں۔ لوگ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے اور فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ بدن پر داغ لگواتے ہیں اور نہ جھاڑ پھونک اور منتر کرواتے ہیں اور نہ ہی بدفالی لیتے ہیں، وہ صرف اپنے رب پر توکل و اعتماد کرتے ہیں“، اسی اثناء میں عکاشہ بن محصن رضی الله عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، ( تم بھی انہی میں سے ہو ) پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”عکاشہ نے تم پر سبقت حاصل کر لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu 'Imaran Al-Jawni narrated : From Anas bin Malik who said : 'I do not recognize anything (today) from what we were upon during the time of The Messenger of Allah (s.a.w).' So I said : 'What about the Salat?' He said: 'Have you (people) not done what you know (you have done)?'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں وہ چیزیں نہیں دیکھتا جن پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عمل کرتے تھے، راوی حدیث ابوعمران جونی نے کہا: کیا آپ نماز نہیں دیکھتے؟ انس رضی الله عنہ نے کہا: کیا تم لوگوں نے نماز میں وہ سب نہیں کیا جو تم جانتے ہو؟ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوعمران جونی کی روایت سے غریب حسن ہے، ۲- یہ حدیث انس کے واسطے سے اس کے علاوہ اور کئی سندوں سے مروی ہے۔
Asma bint 'Umais Al-Khath'amiyyah narrated that The Messenger of Allah (s.a.w) said: What an evil servant is the one who fancies himself and becomes vain forgetting the Most Great, the Most High. What an evil servant is the one who forces and behaves hostility, forgetting the Compeller, the Most High. What an evil servant is the one who is heedless and diverted, forgetting about the graves and the trials. What an evil servant is the one who is violent and tyrannical, forgetting his beginnings or his end. What an evil servant is the one who seeks the world through the religion. What an evil servant is the one who seeks the religion through his desires. What an evil servant is the one who puts all hope in his own zeal. What an evil servant is the worshipper who is misled by his desire. What an evil servant is the one whose aspirations humiliate him.
اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”برا ہے وہ بندہ جو تکبر کرے اور اترائے اور اللہ بزرگ و برتر کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو مظلوموں پر قہر ڈھائے اور ظلم و زیادتی کرے اور اللہ جبار برتر کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو لہو و لعب میں مشغول ہو اور قبروں اور ہڈیوں کے سڑ گل جانے کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو حد سے آگے بڑھ جائے اور سرکشی کا راستہ اپنائے اور اپنی پیدائش اور موت کو بھول جائے، اور برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا کو طلب کرے، اور برا ہے وہ بندہ جو اپنے دین کو شبہات سے ملائے، اور برا ہے وہ بندہ جسے لالچ اپنی طرف کھینچ لے، اور برا ہے وہ بندہ جسے اس کا ہوائے نفسانی گمراہ کر دے اور برا ہے وہ بندہ جسے حرص ذلیل و رسوا کر دے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
Atiyyah Al-'Awfi narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri,that The Messenger of Allah (s.a.w) said: Whichever believer feeds a hungry believer , Allah feeds him from the fruits of Paradise on the Day of Resurrection. Whichever believer gives drink to a thirsty believer, Allah gives him to drink from the 'sealed nectar' on the Day of Resurrection. Whichever believer clothes a naked believer, Allah clothes him from the green garments of Paradise.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مومن بندہ کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلائے گا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جنت کے پھل کھلائے گا، اور جو مومن بندہ کسی پیاسے مومن کو پانی پلائے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے «الرحيق المختوم» ( مہر بند شراب ) پلائے گا، اور جو مومن بندہ کسی ننگے بدن والے مومن کو کپڑا پہنائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے سبز جوڑے پہنائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث عطیہ کے واسطے سے ابو سعید خدری سے موقوفا مروی ہے، اور ہمارے نزدیک یہی سند سب سے زیادہ اقرب اور صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that The Messenger of Allah (s.a.w) said: Whoever fears traveling at night - and whoever travels at night reaches his destination - Allah provides him with the most precious of goods, and indeed Allah's goods are but Paradise.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دشمن کے حملہ سے ڈرا اور شروع رات ہی میں سفر میں نکل پڑا وہ منزل کو پہنچ گیا ۱؎، آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ کا سامان بڑی قیمت والا ہے، آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ کا سامان جنت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب ہے، اسے ہم صرف ابونضر ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Rabi'ah bin Yazid and 'Atiyyah bin Qais narrated from 'Atiyyah As-Sa'di - and he was one of the Companions of the Prophet (ﷺ) - that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The servant shall not reach the state of being among the Muttaqin until he leaves what there is no harm in out of caution for its harm.
عطیہ سعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو جس میں کوئی حرج نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے، جس میں برائی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Hanzalah Al-Usaiyyidi narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: If you would (always) be as you are with me, then the angels would shade you with their wings.
حنظلہ اسیدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری وہی کیفیت رہے، جیسی میرے سامنے ہوتی ہے تو فرشتے اپنے پروں سے تم پر سایہ کریں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث حنظلہ اسیدی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سند کے علاوہ دیگر سندوں سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said: Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy).
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
Abdullah bin Mas'ud narrated The Messenger of Allah (s.a.w) drew a square line (on the ground) forus, and in the middle of the (square) line he drew another line, and he drew another line going out of the (square) line.Around the one that was in the middle, he drew (various) lines. Then he said: 'This is the son of Adam, and this is his life-span encircling him, and this one in the middle in the person, and these lines are his obstacles, if he escapes this one, this one ensnares him, and the line extending outside is his hope.'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مربع خط ( یعنی چوکور ) لکیر کھینچی اور ایک لکیر درمیان میں اس سے باہر نکلتا ہوا کھینچی، اور اس درمیانی لکیر کے بغل میں چند چھوٹی چھوٹی لکیریں اور کھینچی، پھر فرمایا: ”یہ ابن آدم ہے اور یہ لکیر اس کی موت کی ہے جو ہر طرف سے اسے گھیرے ہوئے ہے۔ اور یہ درمیان والی لکیر انسان ہے ( یعنی اس کی آرزوئیں ہیں ) اور یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں انسان کو پیش آنے والے حوادث ہیں، اگر ایک حادثہ سے وہ بچ نکلا تو دوسرا اسے ڈس لے گا اور باہر نکلنے والا خط اس کی امید ہے ۱؎۔