Chapter on the description of the Day of Judgement, Ar-Riqaq, and Al-Wara`
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله
Chapter 38
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (s.a.w)said: The son of Adam grows old. But two things keep him young: Desire for life and desire for wealth.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو خواہشیں جوان رہتی ہیں: ایک مال کی ہوس دوسری لمبی عمر کی تمنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mutarrif bin 'Abdullah bin Ash-Shikh-khir narrated from his father from the Prophet(s.a.w) who said: The case of the son of Adam is such that he is surrounded by ninety-nine calamities, if the calamities miss him, he falls into decrepitude.
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی مثال ایسی ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے آفتیں ہیں، اگر وہ ان آفتوں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں گرفتار ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
At-Tufail bin Ubayy bin Ka'b narrated from his father who said: When a third of the night had passed, the Messenger of Allah(s.a.w) stood and said: 'O you people! Remember Allah! Remember Allah! The Rajifah is coming, followed by the Radifah, death and what it brings is coming, death and what it brings is coming!' Ubayy said: I said: 'O Messenger of Allah! Indeed I say very much Salat for you. How much of my Salat should I make for you?' He said: 'As you wish.' [He said:] I said: 'A fourth?' He said: 'As you wish. But if you add more it would be better for you.' I said: 'Then half?' He said: 'As you wish. And if you add more it would be better [for you].' [He said:] I said: 'Then two-thirds? 'He said: 'As you wish, but if you add more it would be better for you.' I said: 'Should I make all of my Salat for you?' He said: 'Then your problems would be solved and your sins would be forgiven.'
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور فرماتے: لوگو! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت صلاۃ ( درود ) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو“، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے“، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟“ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہو گا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Have Haya' for Allah as is His due. [He said:] We said: O Prophet of Allah! We have Haya', and all praise is due to Allah. He said: Not that, but having the Haya' for Allah which He is due is to protect the head and what it contains and to protect the insides and what it includes, and to remember death and the trial, and whoever intends the Hereafter, he leaves the adornments of the world. So whoever does that, then he has indeed fulfilled Haya', meaning the Haya' which Allah is due.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے شرم و حیاء کرو جیسا کہ اس سے شرم و حیاء کرنے کا حق ہے“ ۱؎، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے شرم و حیاء کرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”حیاء کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیاء کرنے کا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو ۲؎، اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو ۳؎، اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کیا کرو، اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب و زینت کو ترک کر دے پس جس نے یہ سب پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی جیسا کہ اس سے حیاء کرنے کا حق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اس حدیث کو اس سند سے ہم صرف ابان بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اور انہوں نے صباح بن محمد سے روایت کی ہے۔
Shaddad bin Aws narrated that the Prophet (s.a.w) said: The clever person ids the one who subjugates his soul, and works for what is after death. And the incapable is the one who follows his desires and merely hopes in Allah.
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو رام کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے اور عاجز و بیوقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات پر لگا دے اور رحمت الٰہی کی آرزو رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور «من دان نفسه» کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کر لے اس سے پہلے کہ قیامت کے روز اس کا محاسبہ کیا جائے، ۳- عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں: اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اور «عرض الأكبر» ( آخرت کی پیشی ) کے لیے تدبیر کرو، اور جو شخص دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے قیامت کے روز اس پر حساب و کتاب آسان ہو گا، ۴- میمون بن مہران کہتے ہیں: بندہ متقی و پرہیزگار نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے جیسا کہ اپنے شریک سے محاسبہ کرتا ہے اور یہ خیال کرے کہ میرا کھانا اور لباس کہاں سے ہے۔
Abu Sa'eed narrated: The Messenger of Allah (s.a.w) entered his Musalla and saw the people who looked as if they were smiling. So he said: 'Indeed, if you were to increase in remembrance of the severer of pleasures, then you would find yourselves too busy for what I see. So increase in remembrance of death, the severer of pleasures. For indeed there is no day that comes upon the grave except that it speaks, saying: I am thee house of the estranged, I am the house of the solitude, I am the house of dust, and I am the house of the worm-eaten. When the believing worshipper is buried, the grave says to him: Welcome, make yourself comfortable. Indeed, to me, you are the most beloved of those who walked upon me. Since you have been entrusted to me and delivered to me today, you shall see what I have arranged for you. It will then widen for him so that his sight extends, and the door to Paradise is opened for him. And when the wicked worshipper or the disbeliever is buried , the grave says to him: You are not welcome, do not get comfortable. Indeed, to me, you are the most hated of those who walked upon me. Since you have been entrusted to me and delivered to me today, you shall see what I have arranged for you.' He said: 'It will begin closing in on him(squeezing him) until his ribs are crushing each other.' He said: The Messenger of Allah (s.a.w) clasped some of his fingers between others and said: 'Seventy giant serpents will constrict him, if even one of them were to hiss on the earth, nothing upon it would grow as long as it remained. They will chew on him and bite him until he is brought to the Reckoning.' He said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The grave is but a garden from the gardens of Paradise, or a pit from the pits of the Fire.'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلی پر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر تم لوگ لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز کو یاد رکھتے تو تم اپنی ان حرکتوں سے باز رہتے، سو لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کا ذکر کثرت سے کرو، اس لیے کہ قبر روزانہ بولتی ہے اور کہتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، پھر جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا ( خوش آمدید ) کہتی ہے اور مبارک باد دیتی ہے اور کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب تھا جو میرے پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہو گئی اور تو میری طرف آ گیا تو اب دیکھ لے گا کہ میں تیرے ساتھ کیسا حسن سلوک کروں گی، پھر اس کی نظر پہنچنے تک قبر کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، اور جب فاجر یا کافر دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے نہ ہی مرحبا کہتی ہے اور نہ ہی مبارک باد دیتی ہے بلکہ کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ قابل نفرت تھا جو میری پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہوں اور تو میری طرف آ گیا سو آج تو اپنے ساتھ میری بدسلوکیاں دیکھ لے گا، پھر وہ اس کو دباتی ہے، اور ہر طرف سے اس پر زور ڈالتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک طرف سے دوسری طرف مل جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور ایک دوسرے کو آپس میں داخل کر کے فرمایا: ”اللہ اس پر ستر اژدہے مقرر کر دے گا، اگر ان میں سے کوئی ایک بار بھی زمین پر پھونک مار دے تو اس پر رہتی دنیا تک کبھی گھاس نہ اگے، پھر وہ اژدہے اسے حساب و کتاب لیے جانے تک دانتوں سے کاٹیں گے اور نوچیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Ibn 'Abbas narrated: 'Umar bin Al-Khattab informed me, saying: 'I entered upon the Messenger of Allah (s.a.w) and saw him reclining upon a mat woven from fibers, and I could see the impressions it left upon his side.'
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ چٹائی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے سو میں نے دیکھا کہ چٹائی کا نشان آپ کے پہلو پر اثر کر گیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے، ( وہی آپ کا ازواج مطہرات سے ایلاء کرنے کا قصہ ) ۔
Al-Mustawrad bin Makhramah narrated that 'Amir bin 'Awf informed him- and he was an ally of Banu 'Amr bin Lu'ay who had participated with The Messenger of Allah (s.a.w) at(the battle of ) Badr, he said: The Messenger of Allah (s.a.w) had dispatched Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah, so he arrived with the wealth from Al-Bahrain. When the Ansar had heard of the arrival of Abu 'Ubaidah they were attending Salat Al-Fajr. So the the Messenger of Allah (s.a.w) performed the Salat and when he finished, they assembled before him. The Messenger of Allah (s.a.w) smiled when he saw them, then he said: 'I think that you heard that Abu 'Ubaidah has arrived with something?' They said: 'Yes O Messenger of Allah! 'He said: 'Then receive good news, and hope for what will please you. By Allah! It is not poverty that I fear for you, but what I fear for you is that the world will be presented for you just as it was presented for those before you,then you will compete for it, just as they competed for it, and it will destroy you, just as it destroyed them.'
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ
عمرو بن عوف رضی الله عنہ ( یہ بنو عامر بن لوی کے حلیف اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے ) نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو بھیجا پھر وہ بحرین ( احساء ) سے کچھ مال غنیمت لے کر آئے، جب انصار نے ابوعبیدہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، ادھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو لوگ آپ کے سامنے آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا: ”شاید تم لوگوں نے یہ بات سن لی ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں“، لوگوں نے کہا جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے خوشخبری ہے اور اس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کرے، اللہ کی قسم! میں تم پر فقر و محتاجی سے نہیں ڈرتا ہوں، البتہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ دنیا تم پر کشادہ کر دی جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی، پھر تم اس میں حرص و رغبت کرنے لگو جیسا کہ ان لوگوں نے حرص و رغبت کی، پھر دنیا تمہیں تباہ و برباد کر دے جیسا کہ اس نے ان کو تباہ و برباد کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Urwah bin Az-Zubair and Ibn Musayyab narrated that Hakim bin Hizam said: I (once) asked the Messenger of Allah (s.a.w) (for something) and he gave it to me. Then I asked him (again) and he gave it to me. Then I asked him (again) and he gave it to me. Then I asked him (again), so he gave it to me. Then he said: 'O Hakim! Indeed this wealth is green and sweet, so whoever takes it without asking for it, he will be blessed in it. And whoever takes it, insisting upon it, he will not be blessed in it. He is like the one who eats but does not get satisfied and contended. And the upper hand (giving) is better than the lower hand (receiving). So Hakim said: I said: 'O Messenger of Allah! By the One who sent you with the Truth! I shall not ask anyone for anything after you until I depart the world.' So Abu Bakr used to call Hakim to give him something, but he refused to accept it. Then 'Umar called him to give to him, but he refused to accept it. So 'Umar said: O you Muslims! I would like you to bear witness that I presented Hakim with his due of these spoils of war but he refused to accept it. So Hakim never asked anyone of the people for anything after the Messenger of Allah, until he died.
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”حکیم! بیشک یہ مال ہرا بھرا میٹھا ہے، جو اسے خوش دلی سے لے لے گا تو اسے اس میں برکت نصیب ہو گی، اور جو اسے حریص بن کر لے گا اسے اس میں برکت حاصل نہ ہو گی، اور اس کی مثال ایسے ہی ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا، اور اوپر کا ہاتھ ( دینے والا ) نیچے کے ہاتھ ( لینے والے ) سے بہتر ہے“، حکیم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! آپ کے بعد میں کسی سے کچھ نہ لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جاؤں، پھر ابوبکر رضی الله عنہ، حکیم رضی الله عنہ کو کچھ دینے کے لیے بلاتے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے، ان کے بعد عمر رضی الله عنہ نے بھی انہیں کچھ دینے کے لیے بلایا تو اسے بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا، چنانچہ عمر رضی الله عنہ نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! میں تم لوگوں کو حکیم پر گواہ بناتا ہوں کہ اس مال غنیمت میں سے میں ان کا حق پیش کرتا ہوں تو وہ اسے لینے سے انکار کرتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکیم رضی الله عنہ نے کسی شخص کے مال سے کچھ نہیں لیا یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Abdur-Rahman bin 'Awf said: We were tested along with the Messenger of Allah(s.a.w) by adversity, so we were patient, then we were tested after him with prosperity, but we were not patient.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکلیف اور تنگی میں آزمائے گئے تو اس پر ہم نے صبر کیا، پھر آپ کے بعد کی حالت میں کشادگی اور خوشی میں آزمائے گئے تو ہم صبر نہ کر سکے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: Whoever makes the Hereafter his goal, Allah makes his heart rich, and organizes his affairs, and the world comes to him whether it want to or not. And whoever makes the world his goal, Allah puts his poverty right before his eyes, and disorganizes his affairs, and the world does not come to him, except what has been decreed for him.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا مقصود زندگی آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں استغناء و بےنیازی پیدا کر دیتا ہے، اور اسے دل جمعی عطا کرتا ہے ۱؎، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کا مقصود طلب دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کی جمع خاطر کو پریشان کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس اتنی ہی آتی ہے جو اس کے لیے مقدر ہے“۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: Indeed Allah, Most High said: 'O son of Adam! Devote yourself to My worship, I will fill your chest with riches and alleviate your poverty. And if you do not do so, then I will fill your hands with problems and not alleviate your poverty.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرا سینہ استغناء و بےنیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کروں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Aishah said : The Messenger of Allah(s.a.w) died and we had a Shatrof barely. We ate from it as Allah willed, then I said to the slave girl: 'Measure it' so she measured it, and it was not long before it was gone. She said: If we had left it alone then we could have eaten from it more than that.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اس وقت ہمارے پاس تھوڑی سی جو تھی، پھر جتنی مدت تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم نے اسی سے کھایا، پھر ہم نے لونڈی کو جو تولنے کے لیے کہا، تو اس نے تولا، پھر بقیہ جو بھی جلد ہی ختم ہو گئے، لیکن اگر ہم اسے چھوڑ دیتے اور نہ تولتے تو اس میں سے اس سے زیادہ مدت تک کھاتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہاں عائشہ رضی الله عنہا کے قول «شطر» کا معنی قدرے اور تھوڑا ہے۔
Aishah narrated: We had a cloth which had some pictures on it as a curtain on my door. The Messenger of Allah(s.a.w) saw it and said: 'Remove it, for it reminds me of the world.' She said: We had a piece of velvet that had patches of silk on it which we used to wear.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ہمارے پاس ایک باریک پردہ تھا جس پر تصویریں بنی تھیں، پردہ میرے دروازے پر لٹک رہا تھا، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ”اس کو یہاں سے دور کر دو اس لیے کہ یہ مجھے دینا کی یاد دلاتا ہے“، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: ہمارے پاس ایک روئیں دار پرانی چادر تھی جس پر ریشم کے نشانات بنے ہوئے تھے اور اسے ہم اوڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Aishah narrated: The Messenger of Allah (s.a.w) had a leather cushion stuffed with palm fibres which he would lean on.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چمڑے کا ایک تکیہ ( بستر ) تھا جس پر آپ آرام فرماتے تھے اس میں کھجور کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Abu Maisarah narrated from 'Aishah that they had slaughtered a sheep, so the Prophet (s.a.w) said: What remains of it? She said: Nothing remains of it except its shoulder. He said: All of it remains except its shoulder.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
نے ایک بکری ذبح کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”اس میں سے کچھ باقی ہے؟“ عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: دستی کے سوا اور کچھ نہیں باقی ہے، آپ نے فرمایا: ”دستی کے سوا سب کچھ باقی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Aishah narrated: We, the family of Muhammad, would go for a month without kindling a fire, having only water and dates.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ہم آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسے تھے کہ ایک ایک مہینہ چولہا نہیں جلاتے تھے، ہمارا گزر بسر صرف کھجور اور پانی پر ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Anas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Indeed I have feared for the sake of Allah, such that no one has feared, and I have been harmed for the sake of Allah, such that no one has been harmed. Thirty days and nights have passed over me, and there was no food with Bilal and I forced something with a liver to eat, except what Bilal could conceal under his armpit.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ کی راہ میں ایسا ڈرایا گیا کہ اس طرح کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں کہ اس طرح کسی کو نہیں پہنچائی گئیں، مجھ پر مسلسل تیس دن و رات گزر جاتے اور میرے اور بلال کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوتا کہ جسے کوئی جان والا کھائے سوائے تھوڑی سی چیز کے جسے بلال اپنی بغل میں چھپا لیتے تھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ـ اس حدیث میں وہ دن مراد ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ سے بیزار ہو کر مکہ سے نکل گئے تھے اور ساتھ میں بلال رضی الله عنہ تھے، ان کے پاس کچھ کھانا تھا جسے وہ بغل میں دبائے ہوئے تھے۔
Muhammad bin Ka'b Al-Qurazi said: Someone narrated to me that he heard 'ali bin abi Talib saying: 'I went out on a cold day from the house of the Messenger of Allah (s.a.w). I had taken a tanned skin, si I tore it in the middle, and out it over my neck, and wrapped my mid-section, fastening it with a palm leave. I was severely hungry, and if there was food in the house of the Messenger of Allah (s.a.w) I would have eaten some of it. I went in search of something. I passed by a Jew on his property drawing water (from a well) with a pulley. I watched him from a gap in the fence. He said: what is wrong with you O Arab1 Would you like to get a date for every bucket? I said: Yes. Open the door so I can come in. He opened the door, I entered and he gave me his bucket. Then for every bucket I pulled out, he would give me a date, until when it was enough for me. I put his bucket down and said: I think I had enough to eat then I scooped some water to drink it. Then I came to the Masjid and found the Messenger of Allah (s.a.w) in it.'
علی بن ابی طالب کہتے ہیں کہ
ایک ٹھنڈے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے میں نکلا اور ساتھ میں ایک بدبودار چمڑا لے لیا جس کے بال جھڑے ہوئے تھے، پھر بیچ سے میں نے اسے کاٹ کر اپنی گردن میں ڈال لیا اور اپنی کمر کو کھجور کی شاخ سے باندھ دیا، مجھے بہت سخت بھوک لگی ہوئی تھی، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ کھانا ہوتا تو میں اس میں سے ضرور کھا لیتا، چنانچہ میں کچھ کھانے کی تلاش میں نکلا، راستے میں ایک یہودی کے پاس سے گزرا جو اپنے باغ میں چرخی سے پانی دے رہا تھا، اس کو میں نے دیوار کی ایک سوراخ سے جھانکا تو اس نے کہا: اعرابی! کیا بات ہے؟ کیا تو ایک کھجور پر ایک ڈول پانی کھینچے گا؟ میں نے کہا: ہاں، اور اپنا دروازہ کھول دو تاکہ میں اندر آ جاؤں، اس نے دروازہ کھول دیا اور میں داخل ہو گیا، اس نے مجھے اپنا ڈول دیا، پھر جب بھی میں ایک ڈول پانی نکالتا تو وہ ایک کھجور مجھے دیتا یہاں تک کہ جب میری مٹھی بھر گئی تو میں نے اس کا ڈول چھوڑ دیا اور کہا کہ اتنا میرے لیے کافی ہے، چنانچہ میں نے اسے کھایا اور دو تین گھونٹ پانی پیا، پھر میں مسجد میں آیا اور وہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود پایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Abu 'Uthman An-Nahdi narrated: from Abu Hurairah that they (the Companions) were suffering from hunger so the Messenger of Allah (s.a.w) gave them each a date.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
صحابہ کو ایک مرتبہ بھوک لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو صرف ایک ایک کھجور دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔