Chapter on the description of the Day of Judgement, Ar-Riqaq, and Al-Wara`
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله
Chapter 38
Jabir bin 'Abdullah narrated: The Messenger of Allah (s.a.w) dispatched us, and there were three-hundred of us. We were carrying our provisions on our shoulders. Then our provisions ran out such that each man among us could eat only a date per day. It was said to him: O Abu 'Abdullah! How could one date be enough for a man?' He said: We realized its value when we did not even have that. Then we came to the sea where we saw a whale that the sea had tossed (on the shore). So we ate as much as we liked from it for eighteen days.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین سو کی تعداد میں بھیجا، ہم اپنا اپنا زاد سفر اٹھائے ہوئے تھے، ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہر آدمی کے حصہ میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی، ان سے کہا گیا: ابوعبداللہ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہو گا؟ جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی، انہوں نے فرمایا: ہم سمندر کے کنارے پہنچے آخر ہمیں ایک مچھلی ملی، جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، چنانچہ ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک جس طرح چاہا سیر ہو کر کھاتے رہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث جابر کے واسطے سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، ۳- اس حدیث کو مالک بن انس نے وہب بن کیسان سے اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کیا ہے۔
Yazid bin Ziyad narrated from Muhammad bin Ka'b Al-Qurazi who heard from Abi Talib narrated that he said: 'I was sitting in a gathering with the Messenger of Allah (s.a.w) when Mus'ab bin 'Umair appeared before us, wearing nothing but a Burdah patched with some animal furs. When the Messenger of Allah (s.a.w) saw him he began crying because of the good life he previously had compared to the state that he was in that day. Then the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'How will you people be, when the late morning comes upon one of you while wearing a Hullah, and at the end of the day he is in, (another) Hullah, when a platter is placed in front of him while another is removed, and you cover your houses just as the Ka'bah is covered?' They said: 'O Messenger of Allah! On that day we will be better than we are today, devoting ourselves to worship, satisfied with our good fortune.' So the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'No, today you are better than you will be on that day.'
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیر ۱؎ آئے ان کے بدن پر چمڑے کی پیوند لگی ہوئی ایک چادر تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کی اس ناز و نعمت کو دیکھ کر رونے لگے جس میں وہ پہلے تھے اور جس حالت میں ان دنوں تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا حال ہو گا تمہارا اس وقت جب کہ تم میں سے ایک شخص ایک جوڑے میں صبح کرے گا تو دوسرے جوڑے میں شام کرے گا اور اس کے سامنے ایک برتن کھانے کا رکھا جائے گا تو دوسرا اٹھایا جائے گا، اور تم اپنے مکانوں میں ایسے ہی پردہ ڈالو گے جیسا کہ کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے؟ ۲؎“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اس وقت آج سے بہت اچھے ہوں گے اور عبادت کے لیے فارغ ہوں گے اور محنت و مشقت سے بچ جائیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم آج کے دن ان دنوں سے بہتر ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یزید بن زیاد سے مراد یزید بن زیاد بن میسرہ مدنی ہیں، ان سے مالک بن انس اور دیگر اہل علم نے روایت کی ہے اور ( دوسرے ) یزید بن زیاد دمشقی وہ ہیں جنہوں نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان سے ( یعنی دمشقی سے ) وکیع اور مروان بن معاویہ نے روایت کیا ہے، اور ( تیسرے ) یزید بن ابی زیاد کوفی ہیں ۳؎۔
Abu Hurairah narrated: The people of As-Suffah were the guests of the people of Islam,they had nothing of people nor wealth to rely upon. And By Allah, the One Whom there is none worthy of worship besides Him – I would lay on the ground on my liver (side) due to hunger, And I would fasten a stone to my stomach out of hunger. One day I sat by the way that they (the Companions) use to come out through. Abu Bakr passed and so I asked him about an Ayah from Allah's Book, not asking him except that he might tell me to follow him (for something to eat). But he passed on without doing so. Then `Umar passed, so I asked him about an Ayah from Allah's Book, not asking him except that he might tell me to follow him. But he passed on without doing so. Then Abul-Qasim (s.a.w) passed, and he smiled when he saw me, and said: 'Abu Hurairah?' I said: 'I am here O Messenger of Allah!' He said: 'Come along.' He continued and I followed him, he entered his house, so I sought permission to enter, and he permitted me. He found a bowl of milk and said: 'Where did this milk come from?' It was said: 'It was a gift to us from so – and – so.' So the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Abu Hurairah' I said: 'I am here O Messenger of Allah!' He said: 'Go to the people of As-Suffah to invite them.' - Now, they were the guests of the people of Islam, they had nothing of people nor wealth to rely upon. Whenever some charity was brought to him, he would send it to them without using any of it. And when a gift was given to him (s.a.w), he would send for them to participate and share with him in it. I became upset about that, and I said (to myself): 'What good will this bowl be among the people of As-Suffah and I am the one bringing it to them?' Then he ordered me to circulate it among them (So I wondered) what of it would reach me from it, and I hoped that I would get from it what would satisfy me. But I would certainly not neglect to obey Allah and obey His Messenger, so I went to them and invited them. When they entered upon him they sat down. He said: 'Abu Hurairah, take the bowl and give it to them.' So I gave it to a man who drank his fill, then he gave it to another one, until it ended up with the Messenger of Allah (s.a.w), and all of the people had drank their fill. The Messenger of Allah (s.a.w) took the bowl, put it on his hand,then raised his head. He smiled and said: 'Abu Hurairah, drink.' So I drank, then he said: 'Drink.' I kept drinking and he kept on saying, 'Drink.' Then I said: 'By the One Who sent you with the truth! I have no more space for it.' So he took the bowl and praised Allah, mentioned His Name and drank.'” (Sahih)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے، وہ مال اور اہل و عیال والے نہ تھے، قسم ہے اس معبود کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بھوک کی شدت سے میں اپنا پیٹ زمین پر رکھ دیتا تھا اور بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، ایک دن میں لوگوں کی گزرگاہ پر بیٹھ گیا، اس طرف سے ابوبکر رضی الله عنہ گزرے تو میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت اس وجہ سے پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں لیکن وہ چلے گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لیا، پھر عمر رضی الله عنہ گزرے، ان سے بھی میں نے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں مگر وہ بھی آگے بڑھ گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔ پھر ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر مسکرایا اور فرمایا: ”ابوہریرہ!“ میں نے کہا: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”ساتھ چلو“ اور آپ چل پڑے، میں بھی ساتھ میں ہو لیا، آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے پھر میں نے بھی اجازت چاہی، چنانچہ مجھے اجازت دے دی گئی، وہاں آپ نے دودھ کا ایک پیالہ پایا، دریافت فرمایا: ”یہ دودھ کہاں سے ملا؟“ عرض کیا گیا: فلاں نے اسے ہدیہ بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ!“ میں نے کہا: حاضر ہوں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ اہل صفہ کو بلا لاؤ“، یہ مسلمانوں کے مہمان تھے ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، گھربار تھا نہ کوئی مال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی صدقہ آتا تھا تو اسے ان کے پاس بھیج دیتے تھے، اس میں سے آپ کچھ نہیں لیتے تھے، اور جب کوئی ہدیہ آتا تو ان کو بلا بھیجتے، اس میں سے آپ بھی کچھ لے لیتے، اور ان کو بھی اس میں شریک فرماتے، لیکن اس ذرا سے دودھ کے لیے آپ کا مجھے بھیجنا ناگوار گزرا اور میں نے ( دل میں ) کہا: اہل صفہ کا کیا بنے گا؟ اور میں انہیں بلانے جاؤں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہی حکم دیں گے کہ اس پیالے میں جو کچھ ہے انہیں دوں، مجھے یقین ہے کہ اس میں سے مجھے کچھ نہیں ملے گا، حالانکہ مجھے امید تھی کہ اس میں سے مجھے اتنا ضرور ملے گا جو میرے لیے کافی ہو جائے گا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، چنانچہ میں ان سب کو بلا لایا، جب وہ سب آپ کے پاس آئے اور اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: ”ابوہریرہ! یہ پیالہ ان لوگوں کو دے دو“، چنانچہ میں وہ پیالہ ایک ایک کو دینے لگا، جب ایک شخص پی کر سیر ہو جاتا تو میں دوسرے شخص کو دیتا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا، ساری قوم سیر ہو چکی تھی ( یا سب لوگ سیر ہو چکے تھے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ لے کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا پھر اپنا سر اٹھایا اور مسکرا کر فرمایا: ”ابوہریرہ! یہ دودھ پیو“، چنانچہ میں نے پیا، پھر آپ نے فرمایا: ”اسے پیو“ میں پیتا رہا اور آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق لے کر بھیجا ہے اب میں پینے کی گنجائش نہیں پاتا، پھر آپ نے پیالہ لیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور بسم اللہ کہہ کر دودھ پیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Yahya Al-Bakka' narrated from Ibn 'Umar who said: A man belched in the presence of the Prophet(s.a.w), so he said: 'Restain your belching from us. For indeed those who are filled most in the world will be the hungriest on the Day of Judgement.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے ڈکار لیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنی ڈکار ہم سے دور رکھو اس لیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا رہے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوجحیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Abu Burdah bin Abi Musa narrated that his father said: O my son! If you saw us when we were with the Prophet(s.a.w) and the sky poured upon us, you would think that our smell was the smell of sheep.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اگر تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نصیب ہوتی تھی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کے کپڑے اون کے ہوتے تھے، جب اس پر بارش کا پانی پڑتا تو اس سے بھیڑ کی جیسی بو آنے لگتی تھی ۱؎۔
Sufyan Ath-Thawri narrated: From Abu Hamzah, (who said): From Ibrahim An-Nakha'i who said: 'All buildings and concerns for them will be against you.' I said: 'What do you think about what one can not do without?' He said: 'There is no reward for that nor harm.'
ابوحمزہ سے روایت ہے کہ
ابراہیم نخعی کہتے ہیں: گھر مکان سب کا سب ہر عمارت باعث وبال ہے، میں نے کہا: اس مکان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جسے بنائے بغیر چارہ نہیں انہوں نے کہا: نہ اس میں کوئی اجر ہے اور نہ کوئی گناہ۔
Sahl bin Mu'adh bin Anas Al-Juhani narrated from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w)said: Whoever leaves(valuable) dress out of humility to Allah while he is able to (afford it), Allah will call him before the heads of creation on the Day of Judgement so that he can chose whichever Hulal of faith he wishes to wear.
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص زینت کا لباس خالص اللہ کی رضا مندی اور اس کی تواضع کی خاطر چھوڑ دے باوجود یہ کہ وہ اسے میسر ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو قیامت کے دن تمام خلائق کے سامنے بلائے گا تاکہ وہ اہل ایمان کے لباس میں سے جسے چاہے پسند کرے، اور پہنے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- «حلل الإيمان» سے جنت کے وہ لباس مراد ہیں جو اہل ایمان کو دیئے جائیں گے۔
Shahib bin Bashir narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) said: All expenditures are in Allah's Cause, except for buildings, for there is no good in it.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفقہ سب کا سب اللہ کی راہ میں ہے سوائے اس نفقہ کے جو گھر بنانے میں صرف ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Harithah bin Mudarrib said: We went to visit Khabbab who had himself cauterised in seven places on his body. He said: 'I have been ill for so long, and if it was not that I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: None of you should wish for death then I would have wished for it, and he said: A man is rewarded for [all of] his spending except for the dust - or he said - in the dust.
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ
ہم خباب رضی الله عنہ کے پاس عیادت کرنے کے لیے آئے، انہوں نے اپنے بدن میں سات داغ لگوا رکھے تھے، انہوں نے کہا: یقیناً میرا مرض بہت لمبا ہو گیا ہے، اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ ”موت کی تمنا نہ کرو“، تو میں ضرور اس کی تمنا کرتا، اور آپ نے فرمایا: ”آدمی کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے“، یا فرمایا: ”گھر بنانے میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Husain said: A beggar came to Ibn 'Abbas to beg from him. Ibn 'Abbas said to the beggar: 'Do you testify to La Ilaha Illallah?' He said: 'Yes.' He said: 'Do you testify that Muhammad is the Messenfger of Allah?' He said: 'Yes.' He said: 'You fast(the month of) Ramadan?' He said: 'Yes?' He said: 'You asked, and the one who asked has a right, so you have a right upon us that we give you.' So he gave him a garment then said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying: No Muslim clothes a Muslim with a garment except that he is under the protection of Allah as long as a shred from it remains upon him.
حصین کہتے ہیں کہ
ایک سائل نے آ کر ابن عباس رضی الله عنہما سے کچھ مانگا تو ابن عباس نے سائل سے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: کیا تم رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: تم نے سوال کیا اور سائل کا حق ہوتا ہے، بیشک ہمارے اوپر ضروری ہے کہ ہم تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں، چنانچہ انہوں نے اسے ایک کپڑا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو کوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کو کوئی کپڑا پہناتا ہے تو وہ اللہ کی امان میں اس وقت تک رہتا ہے جب تک اس کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی اس پر باقی رہتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Abdullah bin Salam said: When the Messenger of Allah (s.a.w) arrived- meaning in Al-Madinah – the people came out to meet him. It was said that the Messenger of Allah (s.a.w) had arrived, so I went among the people to get a look at him. When I gazed upon the face of the Messenger of Allah (s.a.w), I knew that this face was not the face of a liar. The first thing that he spoke about was that he said: 'O you people! Spread the Salam, feed(others), and perform Salat while the people are sleeping; you will enter Paradise with(the greeting of) Salam.'” (Sahih)
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ آپ کو دیکھوں، پھر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، اور سب سے پہلی بات جو آپ نے کہی وہ یہ تھی ”لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو، تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Prophet(s.a.w) said: The one who eats and is grateful is like the status of the patient fasting person.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا ( اجر و ثواب میں ) صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Anas said: When the Messenger of Allah (s.a.w) arrived in Al-Madinah the Muhajirun came to him and said: 'O Messenger of Allah! We have not seen a people more willing to sacrifice when having a lot, nor more patient when having a little than the people whom we are staying among. Our provisions are so sufficient, and we share with them in their produce such that we fear that all our reward is gone. So the Prophet (s.a.w) said: No. As long as you supplicate to Allah for them and praise (show gratitude to) them(for it).
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس مہاجرین نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں ان سے بڑھ کر ہم نے کوئی قوم ایسی نہیں دیکھی جو اپنے مال بہت زیادہ خرچ کرنے والی ہے اور تھوڑے مال ہونے کی صورت میں بھی دوسروں کے ساتھ غم خواری کرنے والی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ہم کو محنت و مشقت سے باز رکھا اور ہم کو آرام و راحت میں شریک کیا یہاں تک کہ ہمیں خوف ہے کہ ہماری ساری نیکیوں کا ثواب کہیں انہیں کو نہ مل جائے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بات ایسی نہیں ہے جیسا تم نے سمجھا ہے جب تک تم لوگ اللہ سے ان کے لیے دعائے خیر کرتے رہو گے اور ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Abdullah bin Mas'ud narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Shall I not inform you of whom the Fire is unlawful and he is unlawful for the Fire? Every person who is near(to people), amicable, and easy(to deal with).'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر یا جہنم کی آگ ان پر حرام ہے؟ جہنم کی آگ لوگوں کے قریب رہنے والے، آسانی کرنے والے، اور نرم اخلاق والے پر حرام ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Aswad bin Yazid narrated: I said: 'O 'Aishah! What would the Prophet (s.a.w) do when he entered his house?' She said: 'he would busy himself with serving his family, then when (the time for) Salat was due he would stand (to go) for it.'
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ
میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے کام کاج میں مشغول ہو جاتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہو جاتا تو کھڑے ہوتے اور نماز پڑھنے لگتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated: When the Prophet(s.a.w) would receive a man to shake hands with him,he would not remove his hand until he [the man]removed his, and he would not turn his face away from his face until the man turned and he would not be seen advancing his knees before one sitting with him.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کوئی شخص آتا اور آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں نکالتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ نکال لیتا، اور آپ اپنا رخ اس کی طرف سے نہیں پھیرتے، جب تک کہ وہ خود اپنا رخ نہ پھیر لیتا، اور آپ نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Abdullah bin 'Amr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: A man among those before you went out arrogantly in a Hullah of his. So Allah ordered the earth to take him. He remains sinking[into it] - or he said - He will remain sinking into it until the Day of Judgement.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے اگلی امتوں میں سے ایک شخص ایک جوڑا پہن کر اس میں اتراتا ہوا نکلا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا اور زمین نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا، پس وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather from the Prophet (s.a.w) who said: The proud will be gathered on the Day of Judgement resembling tiny particles in the image of men. They will be covered with humiliation everywhere, they will be dragged into a prison in Hell called Bulas, submerged in the Fire of Fires, drinking the drippings of the people of the Fire, filled with derangement.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متکبر ( گھمنڈ کرنے والے ) لوگوں کو قیامت کے دن میدان حشر میں چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کے مانند لوگوں کی صورتوں میں لایا جائے گا، انہیں ہر جگہ ذلت ڈھانپے رہے گی، پھر وہ جہنم کے ایک ایسے قید خانے کی طرف ہنکائے جائیں گے جس کا نام «بولس» ہے۔ اس میں انہیں بھڑکتی ہوئی آگ ابالے گی، وہ اس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ پئیں گے جسے «طينة الخبال» کہتے ہیں، یعنی سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sahl bin Mu'ad bin Anas narrated from his father, that the Prophet (s.a.w) said: Whoever suppresses his rage, while he is able to exact it, Allah will call him before the heads of creation [on the Day of Judgement] so that he can chose whichever of the Hur he wishes.
معاذ بن انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غصہ پر قابو پا لیا اس حال میں کہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اختیار دے گا کہ وہ جنت کی حوروں میں سے جسے چاہے پسند کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Abu Bakr bin Al-Munkadir narrated from Jabir that the Messenger of Allah (s.a.w) said: There are three (characteristics) for which whomever has them,Allah will expose His side,and admit him to Paradise:Being courteous to the guest,kind to parents,and doing good for slaves.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین خصلتیں ایسی ہیں کہ یہ جس کے اندر پائی جائیں تو قیامت کے روز اللہ اپنی رحمت کے سایہ تلے رکھے گا، اور اسے اپنی جنت میں داخل کرے گا۔ ( ۱ ) ضعیفوں کے ساتھ نرم برتاؤ کرے ( ۲ ) ماں باپ کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرے، ( ۳ ) لونڈیوں اور غلاموں پر احسان کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔