Narrated Jabir bin 'Abdullah: I asked the Messenger Of Allah (ﷺ) about the unintentional glance, so he ordered me that I divert my sight.
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کسی اجنبیہ عورت پر ) اچانک پڑ جانے والی نظر سے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنی نگاہ پھیر لیا کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn Buraidah: from his father (from the Prophet (ﷺ)) who said: O 'Ali! Do not follow a look with a look, the first is for you, but the next is not for you.
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر ( معاف ) ہے اور دوسری ( معاف ) نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Nabhan the freed slave of Umm Salamah: to Ibn Shihab, that Umm Salamah narrated to him, that she and Maimunah were with the Messenger of Allah (ﷺ), she said: So when we were with him, Ibn Umm Maktum came, and he entered upon him, and that was after veiling had been ordered for us. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Veil yourselves from him.' So I said: 'O Messenger of Allah! Is he not blind such that he can not see us or recognize us?' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Are you two blind such that you can not see him?'
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں اور میمونہ رضی الله عنہا بھی موجود تھیں، اسی دوران کہ ہم دونوں آپ کے پاس بیٹھی تھیں، عبداللہ بن ام مکتوم آئے اور آپ کے پاس پہنچ گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ہمیں پردے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں ان سے پردہ کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اندھے نہیں ہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں؟ اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں بھی اندھی ہو؟ کیا تم دونوں انہیں دیکھتی نہیں ہو؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Dhakwan: from the freed slave of 'Amr bin Al-'As that 'Amr bin Al-'As sent him to 'Ali seeking his permission to enter upon Asma bint Umais, so he permitted him. When he was finished from what he needed, the freed slave of 'Amr bin Al-'As asked about that, so he said: Indeed the Prophet (ﷺ) prohibited us - or - prohibited that we enter upon women, without the permission of their husbands.
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ
عمرو بن العاص رضی الله عنہ نے انہیں علی رضی الله عنہ کے پاس ( ان کی بیوی ) اسماء بنت عمیس ۱؎ سے ملاقات کی اجازت مانگنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے اجازت دے دی، پھر جب وہ جس ضرورت سے گئے تھے اس سے کہہ سن کر فارغ ہوئے تو ان کے مولیٰ ( آزاد کردہ غلام ) نے ان سے ( اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس ان کے شوہروں سے اجازت لیے بغیر جانے سے منع فرمایا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عقبہ بن عامر، عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Usamah bin Zaid, and Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail: that the Prophet (ﷺ) said: I have not left among the people after me, a Fitnah more harmful upon men than women.
اسامہ بن زید اور سعید بن زید رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی ثقہ لوگوں نے بطریق: «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے اس سند میں «عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل» کا ذکر نہیں کیا، ۳- ہم معتمر کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے «عن أسامة بن زيد وسعيد بن زيد» ( ایک ساتھ ) کہا ہو، ۴- اس باب میں ابوسعید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Humaid bin 'Abdur-Rahman: that he heard Mu'awiyah giving a Khutbah in Al-Madinah, and saying: Where are your scholars, O people of Al-Madinah? [Indeed] I heard the Messenger of Allah (ﷺ) forbidding from these locks (of hair), and saying: 'The Children of Isra'il were only ruined when their women used them.'
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو مدینہ میں خطبہ کے دوران کہتے ہوئے سنا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان زائد بالوں کے استعمال سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور آپ کہتے تھے: ”جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے اسے اپنا لیا تو وہ ہلاک ہو گئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے معاویہ رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے۔
Narrated 'Abdullah: that the Prophet (ﷺ) cursed the women who practice tattooing and those who seek to be tattooed, the women who remove hair from their faces seeking beautification by changing the creation of Allah.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے گودنا گودنے والی اور گودنا گدوانے والیوں پر اور حسن میں اضافے کی خاطر چہرے سے بال اکھاڑنے والی اور اکھیڑوانے والیوں پر اور اللہ کی بناوٹ ( تخلیق ) میں تبدیلیاں کرنے والیوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو شعبہ اور کئی دوسرے ائمہ نے بھی منصور سے روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: that the Prophet (ﷺ) said: Allah's curse is upon the woman who lengthens hair and the women who seeks to have her hair lengthened, and the woman who tattoos and the woman who seeks to have her herself tattooed.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو بالوں کو جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور گودنا گودنے اور گودنا گودوانے والی پر“، نافع کہتے ہیں: گودائی مسوڑھے میں ہوتی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، معقل بن یسار، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے یحییٰ بن سعید نے وہ کہتے ہیں: ہم سے عبیداللہ بن عمر نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( مذکورہ ) روایت کی طرح روایت کی۔ مگر یحییٰ نے اس روایت میں نافع کا قول ذکر نہیں کیا۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) cursed the women who imitate men and the men who imitate women.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ان عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) cursed those men who behave effeminately and those women whose behavior is masculine.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی زنانے ( مخنث ) مردوں پر، اور مردانہ پن اختیار کرنے والی عورتوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Musa: that the Prophet (ﷺ) said: Every eye commits adultery, and when the woman uses perfume and she passes by a gathering, then she is like this and that.' Meaning an adulteress.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آنکھ زنا کار ہے اور عورت جب خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ایسی ہے یعنی وہ بھی زانیہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Fragrance for men is that which its scent is apparent and its color is hidden, and fragrance for women is that which its color is visible and its scent is hidden. (Meaning when leaving the home as indicated by the previous chapter. As far as in the presence of the husband, then the woman may wear fragrant perfume.)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیل رہی ہو اور رنگ چھپا ہوا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو لیکن مہک اس کی چھپی ہوئی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated 'Imran bin Husain: The Prophet (ﷺ) said [to me]: 'Indeed the best fragrance for men is what's scent is apparent and its color is hidden, and the best fragrance for women is what's color is visible and its scent is hidden.' And he prohibited Mitharatil-Urjawan (Mitharah was some type of saddle cloth. Some of the people of knowledge say it was a certain kind of cloth made of silk, and it preceded earlier under no. 1760. They disagree over Al-Urjawan, and perhaps it means whatever is red, meaning the Red Mitahrah, see Tuhfat Al-Ahwadhi).
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مرد کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیلے اور اس کا رنگ چھپا رہے، اور عورتوں کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو چھپی رہے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زین کے اوپر انتہائی سرخ ریشمی کپڑا ڈالنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Narrated Thumamah bin 'Abdullah: Anas would not refuse perfume, and Anas said: 'Indeed the Prophet (ﷺ) would not refuse perfume.
ثمامہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
انس رضی الله عنہ خوشبو ( کی چیز ) واپس نہیں کرتے تھے، اور انس رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو واپس نہ کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: There are three that are not refused: Cushions, oils [Duhn (fragrance)], and milk.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ( ہدیہ و تحفہ میں آئیں ) تو وہ واپس نہیں کی جاتی ہیں: تکئے، دہن، اور دودھ، دہن ( تیل ) سے مراد خوشبو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عبداللہ یہ مسلم بن جندب کے بیٹے ہیں اور مدنی ہیں۔
Narrated Abu 'Uthman An-Nahdi: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When one of you is given some fragrance then do not refuse it, for indeed it comes from Paradise.
ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو خوشبو دی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ وہ جنت سے نکلی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حنان ( نام کے ) راوی کو ہم صرف اسی حدیث میں پاتے ہیں، ۳- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو پایا لیکن انہیں آپ کا دیدار نصیب نہ ہوا اور نہ ہی آپ سے کوئی حدیث سن سکے۔
Narrated 'Abdullah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: A woman is not to touch a woman such that she can describe her to her husband as if he is looking at her.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت عورت سے نہ چمٹے یہاں تک کہ وہ اسے اپنے شوہر سے اس طرح بیان کرے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Sa'eed [Al-Khudri] from his father who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'A man is not to look at the 'Awrah of a man, and a woman is not to look at the 'Awrah of a woman. A man is not to be alone with a man under one garment, and a woman is not to be alone with a woman under one garment.'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد مرد کی شرمگاہ اور عورت عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ننگا ہو کر نہ لیٹے اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔
Narrated Bahz bin Hakim: from his father, from his grandfather, who said: I said: 'O Prophet of Allah! Regarding our 'Awrah, what of it must we cover and what of it may we leave?' He said: 'Protect your 'Awrah except from your wife or what your right hand possesses.' He said: I said: 'O Messenger of Allah! What about when some people are with others?' He said: 'If you are able to not let anyone see it then do not let them see it.' He said: I said: 'O Prophet of Allah! What about when one of us is alone?' He said: 'Allah is more deserving of being shy from Him than the people.'
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کہا: اللہ کے نبی! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی شرمگاہ اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر ایک سے چھپاؤ“، میں نے پھر کہا: جب لوگ مل جل کر رہ رہے ہوں ( تو ہم کیا اور کیسے کریں؟ ) آپ نے فرمایا: ”تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونا چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے“، میں نے پھر کہا: اللہ کے نبی! جب آدمی تنہا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے مقابل اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Zur'ah bin Muslim bin Jardah Al-Aslami: about his grandfather Jarhad, he said: The Prophet (ﷺ) passed by Jarhad in the Masjid and his thigh was exposed, so he said: 'Indeed the thigh is 'Awrah.'
جرہد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جرہد کے پاس ( یعنی میرے پاس سے ) سے گزرے ( اس وقت ) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ”ران بھی ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔