Narrated 'Abdullah bin Jardah Al-Aslami: from his father, from the Prophet (ﷺ) who said: The thigh is 'Awrah.
جرہد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ اپنی ران کھولے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ران ڈھانپ لو کیونکہ یہ ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: that the Prophet (ﷺ) said: The thigh is 'Awrah.
جرہد اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ران ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی اور محمد بن عبداللہ بن جحش سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور عبداللہ بن جحش اور ان کے بیٹے محمد رضی الله عنہما دونوں صحابی رسول ہیں۔
Narrated Abu Az-Zinad: Ibn Jarhad informed me from his father, that the Prophet (ﷺ) passed by him while his thigh was exposed, so the Prophet (ﷺ) said: 'Cover your thigh, for indeed it is 'Awrah.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ران بھی ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Salih bin Abi Hassan: I heard Sa'eed bin Musayyab saying: 'Indeed Allah is Tayyib (good) and he loves Tayyib (what is good), and He is Nazif (clean) and He loves cleanliness, He is Karim (kind) and He loves kindness, He is Jawad (generous) and He loves generosity. So clean' - I think he said - 'your courtyards, and do not resemble the Jews.' He said: I mentioned that to Muhajir bin Mismar, and he said: Amir bin Sa'd [bin Abi Waqqas] narrated it to me from his father from the Prophet (ﷺ), similarly, except that he did not say: Clean your courtyards.
صالح بن ابی حسان کہتے ہیں کہ
میں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا: اللہ طیب ( پاک ) ہے اور پاکی ( صفائی و ستھرائی ) کو پسند کرتا ہے۔ اللہ مہربان ہے اور مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ اور اللہ سخی و فیاض ہے اور جود و سخا کو پسند کرتا ہے، تو پاک و صاف رکھو۔ ( میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس سے آگے کہا ) اپنے گھروں کے صحنوں اور گھروں کے سامنے کے میدانوں کو، اور یہود سے مشابہت نہ اختیار کرو“۔ ( صالح کہتے ہیں ) میں نے اس ( روایت ) کا مہاجر بن مسمار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اس کو عامر بن سعد نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ البتہ مہاجر نے «نظفوا أفنيتكم» کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- خالد بن الیاس ضعیف سمجھے جاتے ہیں اور انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے۔
Narrated Abu Muhayyah: from Laith, from Nafi, from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Beware of nakedness! For indeed there are with you, those who do not part from you except at the place of defecation, and when a man goes into his wife. So be shy of them and honor them.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ننگے ہونے سے بچو، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ ( فرشتے ) ہوتے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ تو صرف اس وقت جدا ہوتے ہیں جب آدمی پاخانہ جاتا ہے یا اپنی بیوی کے پاس جا کر اس سے ہمبستر ہوتا ہے۔ اس لیے تم ان ( فرشتوں ) سے شرم کھاؤ اور ان کی عزت کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated Jabir: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever believes in Allah and the Last Day, then he is not to let his wife enter the Hammam, and whoever believes in Allah and the Last Day, then he is not to enter the Hammam without an Izar. And whoever believes in Allah and the Last Day, then he is not to sit at a spread in which Khamr is circulated.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہہ بند باندھے بغیر غسل خانہ ( حمام ) میں داخل نہ ہو، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی بیوی کو غسل خانہ ( حمام ) میں نہ بھیجے، اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چلتا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اس سند سے جانتے ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: لیث بن ابی سلیم صدوق ہیں، لیکن بسا اوقات وہ وہم کر جاتے ہیں، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں: لیث کی حدیث سے دل خوش نہیں ہوتا۔ لیث بعض ایسی حدیثوں کو مرفوع بیان کر دیتے تھے جسے دوسرے لوگ مرفوع نہیں کرتے تھے۔ انہیں وجوہات سے لوگوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
Narrated Abu 'Udhrah [and he lived during the time of the Prophet (ﷺ)]: from 'Aishah, that the Prophet (ﷺ) prohibitied the men and women from the Hammamat (plural of Hammam), then he permitted it for the men in Izar.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حمامات ( عمومی غسل خانوں ) میں جا کر نہانے سے منع فرمایا۔ پھر مردوں کو تہہ بند پہن کر نہانے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند ویسی مضبوط نہیں ہے۔
Narrated Abu Al-Malih Al-Hudhali: that some women from the inhabitants of Hims, or from the inhabitants of Ash-Sham entered upon 'Aishah, so she said: Are you those whose women enter the Hammamat? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'No woman removes her garments in other than the house of her husband except that she has torn the screen between herself and her Lord.'
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ
اہل حمص یا اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم وہی ہو جن کی عورتیں حمامات ( عمومی غسل خانوں ) میں نہانے جایا کرتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے سوا اپنے کپڑے کہیں دوسری جگہ اتار کر رکھتی ہے وہ عورت اپنے اور اپنے رب کے درمیان سے حجاب کا پردہ اٹھا دیتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: I heard Abu Talhah saying: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: The angels do not enter a house in which there is a dog or an object of images.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جس میں جاندار مجسموں کی تصویر ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ishaq bin 'Abdullah bin Abi Talhah: that Rafi' bin Ishaq informed him, saying: I and 'Abdullah bin Abi Talhah entered upon Abu Sa'eed Al-Khudri to visit him. So Abu Sa'eed said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) informed us: The angels do not enter a house in which there is an image or a picture.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمے ہوں یا تصویر ہو“، ( اس حدیث میں اسحاق راوی کو شک ہو گیا کہ ان کے استاد نے «تماثیل» اور «صورة» دونوں میں سے کیا کہا؟ انہیں یاد نہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Jibra'il came to me and said: Indeed I had come to you last night, and nothing prevented me from entering upon you at the house you were in, except that there were images of men at the door of the house, and there was a curtain screen with imagines on it, and there was a dog in the house. So go and sever the head of the image that is at the door so that it will become like a tree stump, and go and cut the screen and make two throw-cushions to be sat upon, and go and expel the dog. So the Messenger of Allah (ﷺ) did so, and the dog was a puppy belonging to Al-Husain or Al-Hasan which was under his belongings, so he ordered him to expel it.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: ”کل رات میں آپ کے پاس آیا تھا لیکن مجھے آپ کے پاس گھر میں آنے سے اس بات نے روکا کہ آپ جس گھر میں تھے اس کے دروازے پر مردوں کی تصویریں تھیں اور گھر کے پردے پر بھی تصویریں تھیں۔ اور گھر میں کتا بھی تھا، تو آپ ایسا کریں کہ دروازے کی «تماثیل» ( مجسموں ) کے سر کو اڑوا دیجئیے کہ وہ مجسمے پیڑ جیسے ہو جائیں، اور پردے پھڑوا کر ان کے دو تکیے بنوا دیجئیے جو پڑے رہیں اور روندے اور استعمال کیے جائیں۔ اور کتے کو نکال بھگائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ اور وہ کتا ایک پلا تھا حسن یا حسین کا ان کی چارپائی کے نیچے رہتا تھا، چنانچہ آپ نے اسے بھگا دینے کا حکم دیا اور اسے بھگا دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابوطلحہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: A man passed by while wearing two red garments. He gave Salam to the Prophet (ﷺ) but he did not return the Salam.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص سرخ رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے گزرا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث سے اہل علم کے نزدیک مراد یہ ہے کہ وہ زرد رنگ میں رنگا ہوا کپڑا پہننا مکروہ سمجھتے ہیں۔ اور جو کپڑا گیروے رنگ وغیرہ میں رنگا جائے اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب کہ وہ کسم کا نہ ہو ( یعنی زرد رنگ کا نہ ہو ) ۔
Narrated 'Ali bin Abi Talib: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the gold ring, Al-Qassi, Al-Mitharah, and Al-Ji'ah (beer).
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ( مردوں کو ) سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے ( ریشم ملے ہوئے ) کپڑے پہننے سے، زین پر رکھنے والی ریشمی گدیلے سے اور جَو کی نبیذ سے۔ ابوالا ٔحوص کہتے ہیں «جعه» ایک شراب ہے جو مصر میں جَو سے بنائی جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Al-Bara bin 'Azib: The Messenger of Allah (ﷺ) ordered us with seven things and he forbade us from seven. He ordered us to follow the funeral, visit the ill, reply to the sneezing person, accept the invitation, assist the oppressed, to help the one who made an oath, and to return the Salam. And he forbade us from seven things: From the gold ring, or ringlets of gold, silver vessels, wearing silk, Ad-Dibaj, Al-Istabraq, And Al-Qassi.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں کے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جنازے کے ساتھ جائیں۔ مریض کی عیادت کریں، چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دیں۔ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کریں، مظلوم کی مدد کریں، اور قسم کھانے والے کی قسم پوری کرائیں، اور سلام کا جواب دیں کا، اور سات چیزوں سے آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے سونے کی انگوٹھی پہننے، یا سونے کے چھلے استعمال کرنے سے، اور چاندی کے برتنوں سے اور حریر، دیباج، استبرق اور قسی کے پہننے سے ( یہ سب ریشمی کپڑے ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اشعث بن سلیم: یہ اشعث بن ابوشعثاء ہیں، ابوشعثاء کا نام سلیم بن اسود ہے۔
Narrated Samurah bin Jundab: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Wear white, for indeed it is very pure and cleaner, and shroud your dead in it.'
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں، اور انہیں سفید کپڑوں کا اپنے مردوں کو کفن دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Jabir Bin Samurah: I saw the Prophet (ﷺ) on a clear night, so I looked at the Messenger of Allah (ﷺ) and at the moon, and he was wearing a red Hullah, and he looked better than the moon to me.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپ کو دیکھنے لگا اور چاند کو بھی دیکھنے لگا ( کہ ان دونوں میں کون زیادہ خوبصورت ہے ) آپ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے ۱؎، اور آپ مجھے چاند سے بھی زیادہ حسین نظر آ رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اشعث کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Abu Rimthah: I saw the Messenger of Allah wearing two green Burud.
ابورمثہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سبز کپڑے استعمال کئے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبیداللہ بن ایاد کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- ابورمثہ تیمی کا نام حبیب بن حیان ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا نام رفاعہ بن یثربی ہے۔
Narrated 'Aishah: The Messenger of Allah (ﷺ) went out during the morning wearing a Mirt made of black hair.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) نکلے، اس وقت آپ کالے بالوں کی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Hassan: that his grandmothers Safiyyah bint 'Ulaibah and Dhuhaibah bint 'Ulaibah narrated to him, from Qailah bint Makhramah - and they were her wet nurses and Qailah was the grandmother of their father - his mother's mother - she said: We came to the Messenger of Allah (ﷺ) and she mentioned the Hadith in its entirety; until a man came when the sun had rose up, so he said: As-Salamu 'Alaika O Messenger of Allah!' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Wa 'Alaikas-Salamu Wa Rahmatullah' and upon him - meaning the Prophet (ﷺ) - were two tattered cloths, which had been dyed with saffron and had faded, and he had a small date-palm branch with him.
قیلہ بنت مخرمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر انہوں نے پوری لمبی حدیث بیان کی ( اس میں ہے کہ ) ایک شخص اس وقت آیا جب سورج چڑھ آیا تھا۔ اس نے کہا: «السلام علیک یا رسول اللہ» ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام ورحمة اللہ»، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کے جسم ) پر دو پرانے کپڑے تھے۔ وہ زعفران سے رنگے ہوئے تھے، اور کثرت استعمال سے ان کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا ۱؎ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کی ایک شاخ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: قیلہ کی حدیث کو ہم صرف عبداللہ بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Anas bin Malik: that the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited saffron for men.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کو ) زعفرانی رنگ کے استعمال سے منع فرمایا ہے، مردوں کے لیے زعفران کے استعمال کی کراہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد زعفران کی خوشبو نہ لگائیں۔