Narrated Abu Salih: I asked 'Aishah and Umm Salamah about which deed did the Messenger of Allah (ﷺ) like to do most. They said: 'Whatever he could do regularly, even if it was little.'
ابوصالح سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھا؟، ان دونوں نے جواب دیا کہ وہ عمل جو گرچہ تھوڑا ہو لیکن اسے مستقل اور برابر کیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Cover the vessels, tie the water-skins, close the doors, extinguish the torches, for indeed the vermin may drag away the wick, causing a fire for the inhabitants of the house.
جابر رضی الله عنہ سے روایت کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( رات میں ) برتنوں کو ڈھانپ کر رکھو اور مشکوں کے منہ باندھ دیا کرو، گھر کے دروازے بند کر دیا کرو، اور چراغوں کو بجھا دیا کرو کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چوہیا چراغ کی بتی کھینچ لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے جابر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: When you travel through fertile land, then give the camels their fill of the land, and when you travel through drought, then hasten while they are fresh, and when you camp late, then stay away from the road, for indeed it is the route of the beasts and the abode of poisonous vermin in the night.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ہریالی اور شادابی کے زمانہ میں سفر کرو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو ( یعنی جی بھر کر چر لینے دیا کرو ) اور جب تم خزاں و خشکی اور قحط کے دنوں میں سفر کرو اس کی قوت سے فائدہ اٹھا لینے میں کرو تو جلدی ۱؎ اور جب تم رات میں قیام کے لیے پڑاؤ ڈالو تو عام راستے سے ہٹ کر قیام کرو، کیونکہ یہ ( راستے ) رات میں چوپایوں کے راستے اور کیڑوں مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔