Chapter on Tafsir
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 48
Narrated 'Adi bin Hatim: When 'Until the white (light) thread of dawn appears distinct to you from the black thread (of night)' was revealed, the Prophet (ﷺ) said to me: 'That only refers to the whiteness of the day from the blackness of the night.'
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اس سے مراد رات کی تاریکی سے دن کی سفیدی ( روشنی ) کا نمودار ہو جانا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Adi bin Hatim: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the fast, he said: 'Until the white (light) thread of dawn appears distinct to you from the black thread (of night)' - he said: So I took two ropes, one white and the other black to look at them. So the Messenger of Allah (ﷺ) said to me - it was something that Sufyan (a sub narrator) did not remember - so he said: It is only the night and the day.
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ”یہاں تک کہ سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے“ تو میں نے دو ڈوریاں لیں۔ ایک سفید تھی دوسری کالی، میں انہیں کو دیکھ کر ( سحری کے وقت ہونے یا نہ ہونے کا ) فیصلہ کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کچھ باتیں کہیں ( ابن ابی عمر کہتے ہیں: میرے استاد ) سفیان انہیں یاد نہ رکھ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد رات اور دن ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Aslam bin 'Imran At-Tujibi: We were in a Roman city, when a large column of Romans came out to us. So about the same number or more of the Muslims went towards them. The commander of the people of Egypt was 'Uqbah bin 'Amir, and the commenter of the (our) group was Fadalah bin 'Ubaid. One man among the Muslims reached the Roman line until he entered amidst them, so the people started screaming: 'Subhan Allah! He has thrown himself into destruction!' Abu Ayyub Al-Ansari said: 'O you people! You give this interpretation for this Ayah, while this Ayah was only revealed about us, the people among the Ansar, when Allah made Islam might, and increased its supporters. Some of us secretly said to each other, outside of the presence of the Messenger of Allah (ﷺ): Our wealth has been ruined, and Allah has strengthened Islam, and increased its supporters, so if we tend to our wealth then what we lost of it shall be revitalized for us. So Allah, Blessed and Most High, revealed to His Prophet (ﷺ), rebuking what we said: 'And spend in the cause of Allah, and do not throw yourselves into destruction. (2:195)' So the destruction was tending to the wealth and maintaining it.' Abu Ayyub did not cease traveling in Allah's cause, until he was buried in the land of the Romans.
اسلم ابوعمران تجیبی کہتے ہیں کہ
ہم روم شہر میں تھے، رومیوں کی ایک بڑی جماعت ہم پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلی تو مسلمان بھی انہی جیسی بلکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں ان کے مقابلے میں نکلے، عقبہ بن عامر رضی الله عنہ اہل مصر کے گورنر تھے اور فضالہ بن عبید رضی الله عنہ فوج کے سپہ سالار تھے۔ ایک مسلمان رومی صف پر حملہ آور ہو گیا اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ ان کے اندر گھس گیا۔ لوگ چیخ پڑے، کہنے لگے: سبحان اللہ! اللہ پاک و برتر ہے اس نے تو خود ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو، یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں اتری ہے، جب اللہ نے اسلام کو طاقت بخشی اور اس کے مددگار بڑھ گئے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپا کر رازداری سے آپس میں کہا کہ ہمارے مال برباد ہو گئے ہیں ( یعنی ہماری کھیتی باڑیاں تباہ ہو گئی ہیں ) اللہ نے اسلام کو قوت و طاقت بخش دی۔ اس کے ( حمایتی ) و مددگار بڑھ گئے، اب اگر ہم اپنے کاروبار اور کھیتی باڑی کی طرف متوجہ ہو جاتے تو جو نقصان ہو گیا ہے اس کمی کو پورا کر لیتے، چنانچہ ہم میں سے جن لوگوں نے یہ بات کہی تھی اس کے رد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اللہ نے فرمایا: «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو“ ( البقرہ: ۱۹۵ ) ، تو ہلاکت یہ تھی کہ مالی حالت کو سدھار نے کی جدوجہد میں لگا جائے، اور جہاد کو چھوڑ دیا جائے ( یہی وجہ تھی کہ ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک علامت و ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے تھے یہاں تک کہ سر زمین روم میں مدفون ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Mujahid: that Ka'b bin 'Ujrah said: By the one in Whose Hand is my soul! This Ayah was revealed referring to my case: 'And whosoever of you is ill or has an ailment on his scalp (necessitating shaving) he must pay Fidyah of either fasting or giving charity, or a sacrifice. (2:196)' He said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at Al-Hudaibiyyah and we were in a state of Ihram. The idolaters had held us back, and I had a good deal of hair, and the lice were falling on my face. The Prophet (ﷺ) passed by me and said: 'The lice on your head are bothering you?' He said: I said: 'Yes.' He said: 'Then shave.' And this Ayah was revealed. Mujahid said: The fasting is for three days, the feeding is six needy people, and the sacrifice is a sheep or more.
مجاہد کہتے ہیں کہ
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ آیت: «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ”البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے“ ( البقرہ: ۱۹۶ ) ، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس سے ہوا ( ہمیں دیکھ کر ) آپ نے فرمایا: ”لگتا ہے تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”سر لو مونڈ ڈالو“، پھر یہ آیت ( مذکورہ ) اتری۔ مجاہد کہتے ہیں: روزے تین دن ہیں، کھانا چھ مسکینوں ۱؎ کو کھلانا ہے۔ اور قربانی ( کم از کم ) ایک بکری، اور اس سے زیادہ بھی ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Laila: from Ka'b bin 'Ujrah who said: The Messenger of Allah (ﷺ) came to me while I was lighting a fire under a pot, and lice were falling on my face, or on my eye-brows. He said: 'Are your lice bothering you?' [He said:] I said: 'Yes.' He said: 'Then shave your head and offer a sacrifice, or fast three days, or feed six needy people.' Ayyub said: I do not know which of them he started with.
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ اس وقت میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میری پیشانی یا بھوؤں پر بکھر رہی تھیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”اپنا سر مونڈ ڈالو اور بدلہ میں قربانی کر دو، یا تین دن روزہ رکھ لو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو“۔ ایوب ( راوی ) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں رہا کہ ( میرے استاذ نے ) کون سی چیز پہلے بتائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Ya'mar: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Hajj is 'Arafat, the Hajj is 'Arafat, the Hajj is 'Arafat. The days of Mina are three: But whoever hastens to leave in two days, there is no sin on him, and whoever stays on, there is no sin on him (2:203). And whoever sees (attends) the 'Arafah before the rising of Fajr, then he has performed the Hajj. Ibn Abi 'Umar said: Sufyan bin 'Uyainah said: 'This is the best Hadith that Ath-Thawri reported.'
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے، منیٰ ( میں قیام ) کے دن تین ہیں۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۲؎ اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا، اس نے حج کو پا لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ نے کہا: یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے، جسے انہوں نے روایت کی ہے، ۳- اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے، ۴- اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Narrated 'Aishah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The most hated man to Allah is the most quarrelsome.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Anas: When the women among the Jews menstruated, they would not eat with them, nor drink with them, nor mingle with them in their homes. The Prophet (ﷺ) was asked about that, so Allah, Blessed and Most High, revealed: They ask you about menstruation. Say It is a Adha (harmful matter) (2:222).' So the Messenger of Allah (ﷺ) told them to eat with them, drink with them and to remain in the house with them, and to do everything besides intercourse with them. The Jews said: 'He does not want to leave any matter of ours without opposing us in it.' He said: Then 'Abbad bin Bishr and Usaid bin Hudair came to the Messenger of Allah (ﷺ) to inform him about that. They said: 'O Messenger of Allah! Should we not (then) have intercourse with them during their menstruation?' The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed color, until they thought that he was angry with them. So they left, and afterwards the Prophet (ﷺ) was given some milk as a gift, so he sent some of it to them to drink. Then they knew that he was not angry with them.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
یہودیوں کے یہاں جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تھی تو وہ اسے اپنے ساتھ نہ کھلاتے تھے نہ پلاتے تھے۔ اور نہ ہی اسے اپنے ساتھ گھر میں رہنے دیتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ۱؎ نازل فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ کھلائیں پلائیں اور ان کے ساتھ گھروں میں رہیں۔ اور ان کے ساتھ جماع کے سوا ( بوس و کنار وغیرہ ) سب کچھ کریں، یہودیوں نے کہا: یہ شخص ہمارا کوئی کام نہیں چھوڑتا جس میں ہماری مخالفت نہ کرتا ہو، عباد بن بشیر اور اسید بن حضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو یہودیوں کی یہ بات بتائی اور کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے حالت حیض میں جماع ( بھی ) نہ کریں؟ یہ سن کر آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ آپ ان دونوں سے سخت ناراض ہو گئے ہیں۔ وہ اٹھ کر ( اپنے گھر چلے ) ان کے نکلتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں بلانے کے لیے ) ان کے پیچھے آدمی بھیجا ( وہ آ گئے ) تو آپ نے ان دونوں کو دودھ پلایا، جس سے انہوں نے جانا کہ آپ ان دونوں سے غصہ نہیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Jabir: The Jews would say: Whoever goes into his wife's vagina from behind her, then his children will be cross-eyed.' So Allah revealed: Your wives are a tilth for your, so go to your tilth when or how you will (2:223).
انس رضی الله عنہ سے
اس سند سے بھی اسی کے ہم معنی روایت ہے۔
Narrated Umm Salamah: from the Prophet (SA), regarding: Your wives are a tilth for you, so go to your tilth when or how you will (2:223). [He (ﷺ) said]: Meaning one valve.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد ایک سوراخ ( یعنی قبل اگلی شرمگاہ ) میں دخول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: 'Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! I am ruined!' He said: 'Why are you ruined?' He said: 'I turned my mount during the night (meaning that he went into his wife from behind).' He said: So the Messenger of Allah (ﷺ) did not say anything in reply to him. Then Allah revealed this Ayah to the Messenger of Allah (ﷺ): 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth when or how you will (2:223).' From the front, the back, avoiding the anus, and menstruation.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا؟“ کہا: رات میں نے سواری تبدیل کر دی ( یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی ) ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Al-Hasan: from Ma'qil bin Yasar that he married his sister to a man among the Muslims during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). She remained with him as long as she did, then he divorced her once without taking her back until her 'Iddah elapsed, but they desired each other again. He (Ma'qil) said to him: 'You ingrate! I honored you by marrying her to you, then you divorced her. By Allah! She will never be returned to you again.' Allah knew of his heed for her and her need for a husband, so Allah, Blessed and Most High, revealed: 'And when you have divorced women and they have fulfilled the term of their prescribed period...' up to His saying: '... and you do not know (2:232).' So when Ma'qil heard that he said: 'I heard my Lord and obey.' Then he called for him and said: 'I marry you, and honor you.'
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے نبی اکرم کے زمانے میں اپنی بہن کی شادی ایک مسلمان شخص سے کر دی۔ وہ اس کے یہاں کچھ عرصے تک رہیں، پھر اس نے انہیں ایسی طلاق دی کہ اس کے بعد ان سے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ عدت کی مدت ختم ہو گئی۔ پھر دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی خواہش و چاہت پیدا ہوئی اور ( دوسرے ) پیغام نکاح دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی پیغام نکاح دیا۔ معقل رضی الله عنہ نے اس سے کہا: بیوقوف! میں نے تمہاری شادی اس سے کر کے تیری عزت افزائی کی تھی پھر بھی تو اسے طلاق دے بیٹھا، قسم اللہ کی! اب وہ تمہاری طرف زندگی بھر کبھی بھی لوٹ نہیں سکتی، اور اللہ معلوم تھا کہ اس شخص کو اس عورت کی حاجت و خواہش ہے اور اس عورت کو اس شخص کی حاجت و چاہت ہے۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت: «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن» سے «وأنتم لا تعلمون» ۱؎ تک نازل فرمائی۔ جب معقل رضی الله عنہ نے یہ آیت سنی تو کہا: اب اپنے رب کی بات سنتا ہوں اور اطاعت کرتا ہوں ( یہ کہہ کر ) بلایا اور کہا: میں تمہاری شادی ( دوبارہ ) کیے دیتا ہوں اور تجھے عزت بخشتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ کئی سندوں سے حسن بصری سے مروی ہے۔ حسن بصری کے واسطہ سے یہ غریب ہے، ۳- اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ معقل بن یسار کی بہن ثیبہ تھیں۔ اگر ولی کی بجائے معاملہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ اپنی شادی آپ کر سکتی تھیں اور وہ اپنے ولی معقل بن یسار کی محتاج نہ ہوتیں۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اپنے ( سابق ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ تو اس آیت میں اس بات کا ثبوت ہے کہ نکاح کا معاملہ عورتوں کی رضا مندی کے ساتھ اولیاء کے ہاتھ میں ہے۔
Narrated Abu Yunus, the freed slave of 'Aishah: 'Aishah ordered me to write a Mushaf for her, and she said: 'When you get to this Ayah then tell me: Guard strictly (the five obligatory) prayers, and the middle Salat (2:238). So when I reached it, I told her and she dictated to me: 'Guard strictly (the five obligatory) prayers, and the middle Salat, and Salat Al-'Asr. And stand before Allah with obedience.' She said: 'I heard that from the Messenger of Allah (ﷺ).'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ
مجھے عائشہ رضی الله عنہا نے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھ کر تیار کر دوں۔ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تم آیت: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ۱؎ پر پہنچو تو مجھے خبر دو، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا اور میں نے انہیں خبر دی، تو انہوں نے مجھے بول کر لکھایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» ۱؎ ”نمازوں پر مداومت کرو اور درمیانی نماز کا خاص خیال کرو، اور نماز عصر کا بھی خاص دھیان رکھو اور اللہ کے آگے خضوع و خشوع سے کھڑے ہوا کرو“۔ اور انہوں نے کہا کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
Narrated Samurah bin Jundab: The Prophet of Allah (ﷺ) said: 'The middle Salat is Salat Al-'Asr.'
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة الوسطى» ( بیچ کی نماز ) نماز عصر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated: 'Ubaidah As-Salmani that 'Ali narrated to him that on the Day of Al-Ahzab the Prophet (ﷺ) said: O Allah! Fill their graves and their homes with fire as they have kept us busy from Salat Al-Wusta (the middle prayer) until the sun set.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے دن فرمایا: ”اے اللہ! ان کفار و مشرکین کی قبریں اور ان کے گھر آگ سے بھر دے جیسے کہ انہوں نے ہمیں درمیانی نماز ( نماز عصر ) پڑھنے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Salat Al-Wusta is Salat Al-'Asr.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة الوسطى» سے مراد عصر کی نماز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں زید بن ثابت، ابوہاشم بن عتبہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Zaid bin Arqam: During the time of the Messenger of Allah (ﷺ), we would talk during Salat, so 'And stand before Allah with obedience (2:238) was revealed, ordering us to be silent.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز کے اندر باتیں کیا کرتے تھے، تو جب آیت «وقوموا لله قانتين» ( البقرہ: ۲۳۸ ) ، نازل ہوئی تو ہمیں چپ رہنے کا حکم ملا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Malik: from Al-Bara (regarding): And do not aim at that which is bad to spend from it (2:267) - he said: It was revealed about us, the people of the Ansar who were date-palm owners. A man would bring the amount of dates that he would from his date-palms, either a lot or a little. A man would bring a cluster or two and hang it in the Masjid. The people of As-Suffah did not have food, so one of them would go up to the cluster and hit it with his stick, and unripe and ripe dates would fall, and he would eat. Some people did not hope for good, so a man would bring a cluster with pitless and hard dates, and a cluster with damaged dates, and hang it. So Allah, Blessed and Most High, revealed: O you who believe! Spend of the good things which you have earned, and of that which We have produced from the earth for you, and do not aim at that which is bad to spend from it (2:267). They said: 'If one of you were given similar to what he gave, he would take it except bashfully with your eyes closed.' So after that, one of us would bring the best that we had.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
آیت «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ۱؎ ہم گروہ انصار کے بارے میں اتری ہے۔ ہم کھجور والے لوگ تھے، ہم میں سے کوئی آدمی اپنی کھجوروں کی کم و بیش پیداوار و مقدار کے اعتبار سے زیادہ یا تھوڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا۔ بعض لوگ کھجور کے ایک دو گچھے لے کر آتے، اور انہیں مسجد میں لٹکا دیتے، اہل صفہ کے کھانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا تو ان میں سے جب کسی کو بھوک لگتی تو وہ گچھے کے پاس آتا اور اسے چھڑی سے جھاڑتا کچی اور پکی کھجوریں گرتیں پھر وہ انہیں کھا لیتا۔ کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں خیر سے رغبت و دلچسپی نہ تھی، وہ ایسے گچھے لاتے جس میں خراب، ردی اور گلی سڑی کھجوریں ہوتیں اور بعض گچھے ٹوٹے بھی ہوتے، وہ انہیں لٹکا دیتے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا أنفقوا من طيبات ما كسبتم ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم بآخذيه إلا أن تغمضوا فيه» ۲؎ نازل فرمائی۔ لوگوں نے کہا کہ اگر تم میں سے کسی کو ویسا ہی ہدیہ دیا جائے جیسا دین سے بیزار لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو وہ اسے نہیں لے گا اور لے گا بھی تو منہ موڑ کر، اس کے بعد ہم میں سے ہر شخص اپنے پاس موجود عمدہ چیز میں سے لانے لگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے سدی سے اس روایت میں سے کچھ روایت کی ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed the Shaitan has an effect on the son of Adam, and the angel also has en effect. As for the Shaitan, it is by threatening evil repercussions and rejecting the truth. As for the effect of the angel, it is by his promise of a good end and believing in the truth. Whoever finds that, let him know that it is from Allah, and let him praise Allah for it. Whoever finds the other then let him seek refuge with Allah from the Shaitan (the outcast) then recite: Shaitan threatens you with poverty and orders you to commit Fahisha (2:268).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی پر شیطان کا اثر ( وسوسہ ) ہوتا ہے اور فرشتے کا بھی اثر ( الہام ) ہوتا ہے۔ شیطان کا اثر یہ ہے کہ انسان سے برائی کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کو جھٹلاتا ہے۔ اور فرشتے کا اثر یہ ہے کہ وہ خیر کا وعدہ کرتا ہے، اور حق کی تصدیق کرتا ہے۔ تو جو شخص یہ پائے ۱؎ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو دوسرا اثر پائے یعنی شیطان کا تو شیطان سے اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ پھر آپ نے آیت «الشيطان يعدكم الفقر ويأمركم بالفحشاء» ۲؎ پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوالاحوص کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابوالاحوص کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O you people! Indeed Allah is Tayyib (good) and he does not accept but what is good. And indeed Allah ordered the believers with what He ordered the Messengers. He (ﷺ) said: 'O you Messengers! Eat of the good things and do righteous deeds. Verily I am well acquainted with what you do (23:51).' And He said: 'O you who believe! Eat from the good things We have provided you (2:172).' He said: And he mentioned a man: 'Who is undertaking a long journey, whose hair is dishevelled and he is covered with dust. He raises his hands to the heavens and says: O Lord! O Lord! Yet his food is from the unlawful, his drink is from the unlawful, his clothing is from the unlawful, and he was nourished by the unlawful. So how can that be accepted?'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”لوگو! اللہ پاک ہے اور حلال و پاک چیز کو ہی پسند کرتا ہے اور اللہ نے مومنین کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ اللہ نے فرمایا: «يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم» ۱؎ اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم» ۲؎ ( پھر ) آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، پریشان حال اور غبار آلود ہے۔ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہے ( میرے رب! اے میرے رب! ) اور حال یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس پینا حرام ہے، اس کا پہننا حرام کا ہے اور اس کی پرورش ہی حرام سے ہوئی ہے۔ پھر اس کی دعا کیوں کر قبول ہو گی“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔