Chapter on Tafsir
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 48
Narrated Musa bin Ibrahim bin Kathir Al-Ansari: I heard Talhah bin Khirash say: 'I heard Jabir bin 'Abdullah saying: The Messenger of Allah (ﷺ) met me and said to me: 'O Jabir! Why do I see you upset?' I said: 'O Messenger of Allah! My father was martyred (on the Day of Uhud) leaving my family and debt behind.' He (ﷺ) said: 'Shall I give you news of what your father met Allah with?' He said: But of course O Messenger of Allah! He said: 'Allah does not speak to anyone except from behind a veil, but He brought your father to speak to Him directly. He said: [O My slave!] Do you wish that I give you anything? He said: 'O Lord! Give me life so that I may fight for You a second time.' So the Lord [Blessed and Most High] said: 'It has been decreed by Me that they shall not return (21:95).' He said: So this Ayah was revealed: Think not of those as dead who are killed in the way of Allah (3:169).
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے اور فرمایا: ”جابر! کیا بات ہے میں تجھے شکستہ دل دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد شہید کر دیئے گئے، جنگ احد میں ان کے قتل کا سانحہ پیش آیا، اور وہ بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ سے ملاقات کے وقت کہا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر پردہ کے کلام نہیں کیا ( لیکن ) اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا، پھر ان سے ( بغیر پردہ کے ) آمنے سامنے بات کی، کہا: اے میرے بندے! مجھ سے کسی چیز کے حاصل کرنے کی تمنا و آرزو کر، میں تجھے دوں گا، انہوں نے کہا: رب! مجھے دوبارہ زندہ فرما، تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا: میری طرف سے یہ فیصلہ پہلے ہو چکا ہے «أنهم إليها لا يرجعون» کہ لوگ دنیا میں دوبارہ نہ بھیجے جائیں گے“، راوی کہتے ہیں: آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ۱؎ اسی سلسلہ میں نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل نے اس حدیث کا کچھ حصہ جابر سے روایت کیا ہے، ۳- اور اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۴- اسے علی بن عبداللہ بن مدینی اور کئی بڑے محدثین نے موسیٰ بن ابراہیم کے واسطہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔
Narrated Masruq: from 'Abdullah that he was asked about Allah's saying: Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay they are alive, with their Lord (3:169). So he said: As for us, we asked about that, and we were informed that their souls are in green birds wandering in Paradise wherever they wish, returning to lamps hanging from the Throne. Your Lord looks at them and says: 'Do you want anything more that We may grant you more?' They say: 'Our Lord! What more could we have when we are in Paradise wandering wherever we want' Then He looks at them a second time and says: Do you want anything more that We may grant you more?' When they realize that they will not be left alone with that, they say: 'Return our souls to our bodies, so that we may return to the world to be killed in Your cause another time.'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ان سے آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: لوگو! سن لو، ہم نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) اس کی تفسیر پوچھی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں ہیں، جنت میں جہاں چاہتی گھومتی پھرتی ہیں اور شام میں عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں۔ ایک بار تمہارے رب نے انہیں جھانک کر ایک نظر دیکھا اور پوچھا: ”تمہیں کوئی چیز مزید چاہیئے تو میں عطا کروں؟“ انہوں نے کہا: رب! ہمیں مزید کچھ نہیں چاہیئے۔ ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں گھومتی ہیں۔ پھر ( ایک دن ) دوبارہ اللہ نے ان کی طرف جھانکا اور فرمایا: ”کیا تمہیں مزید کچھ چاہیئے تو میں عطا کر دوں؟“ جب انہوں نے دیکھا کہ ( اللہ دینے پر ہی تلا ہوا ہے، بغیر مانگے اور لیے ) چھٹکارا نہیں ہے تو انہوں نے کہا: ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں دوبارہ لوٹا دے، تاکہ ہم دنیا میں واپس چلے جائیں۔ پھر تیری راہ میں دوبارہ قتل کئے جائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Wa'il: 'Abdullah [bin Mas'ud] narrating from the Prophet (ﷺ) that he said: 'There is no person who does not pay the Zakat due on his wealth but on the Day of Resurrection Allah will make a Shuja'a around his neck.' Then he recited the Ayah for us from the Book of Allah, the Mighty and Sublime, testifying to that: And let not those who are stringy with that which Allah has bestowed on them of His bounty... (3:180) And another time he said: 'Testifying to that, the Messenger of Allah (ﷺ) recited: On the Day of Resurrection, the things that they were stingy with... (3:180)' and whoever deprives his Muslim brother of his wealth by swearing, then he shall meet Allah while He is angry with him.' Then testifying to that, the Messenger of Allah (ﷺ) recited the Ayah from Allah's Book: Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant (3:77).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک سانپ ڈال دے گا“، پھر آپ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» ۱؎ پڑھی راوی نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ آپ نے اس کی مناسبت سے یہ آیت «سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ۲؎ تلاوت فرمائی، اور فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا مال جھوٹی قسم کھا کر لے لے وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے برہم ( اور سخت غصے میں ) ہو گا“، پھر آپ نے اس کی مصداق آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله» پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed the space in Paradise taken up by a whip, is better than the world and what is in it. Recite if you wish: 'And whoever is moved away from the Fire and admitted to Paradise, he indeed is successful. The life of this world is only the enjoyment of deception (3:185).'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، اس کو سمجھنے کے لیے چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Humaid bin 'Abdur-Rahman bin 'Awf: that Marwan bin Al-Hakam said: Go O Rafi' - who was his gate-keeper - to Ibn 'Abbas and say to him: 'If every person who rejoices with what he has done, and loves to be praised for what he has not done, will be punished, then we will all be punished.' So Ibn 'Abbas said: 'This Ayah has got nothing to do with you. This was only revealed about the People of the Book.' Then Ibn 'Abbas recited: When Allah took a covenant from those who were given the Scripture to make it known and clear to mankind... (3:187) and he recited: Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done... (3:188) Ibn 'Abbas said: 'The Prophet (ﷺ) asked them about something, and they concealed it, and told him about something else. So they left wanting him to think that they informed him about what he asked them, and wanting to be praised for that by him, and they were rejoicing over what they had concealed, and the fact that they were asked about it.
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں بتایا کہ مروان بن حکم نے اپنے دربان ابورافع سے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے کہو، اگر اپنے کیے پر خوش ہونے والا اور بن کیے پر تعریف چاہنے والا ہر شخص سزا کا مستحق ہو جائے، تب تو ہم سب ہی مستحق سزا بن جائیں گے، ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: تمہیں اس آیت سے کیا مطلب؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، پھر ابن عباس رضی الله عنہما نے یہ آیت «وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه» ۱؎ پڑھی اور «لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا» ۲؎ کی تلاوت کی۔ اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( یہود ) سے کسی چیز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے وہ چیز چھپا لی، اور اس سے ہٹ کر کوئی اور چیز بتا دی اور چلے گئے، پھر آپ پر یہ ظاہر کیا کہ آپ نے ان سے جو کچھ پوچھا تھا اس کے متعلق انہوں نے بتا دیا ہے، اور آپ سے اس کی تعریف سننی چاہی، اور انہوں نے اپنی کتاب سے چھپا کر آپ کو جو جواب دیا اور آپ نے انہیں جو مخاطب کر لیا اس پر خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: I was ill, so the Messenger of Allah (ﷺ) came to visit me, and I was unconscious. When I awoke, I said: 'How do you order me regarding my wealth?' He did not answer me until Allah revealed: Allah commands you regarding your children's (inheritance): to the male, a portion equal to that of two females (4:11).
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ
میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو تشریف لائے اس وقت مجھ پر بے ہوشی طاری تھی، پھر جب مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: میں اپنے مال میں کس طرح تقسیم کروں؟ آپ یہ سن کر خاموش رہے، مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیات «يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين» نازل ہوئیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے کئی اور لوگوں نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: On the Day of Awtas, we captured some women who had husbands among the idolaters. So some of the men disliked that, so Allah, Most High, revealed: And women already married, except those whom your right hands possess... (4:24)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
اوطاس کے موقع پر غنیمت میں ہمیں کچھ ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے مشرک شوہر موجود تھے کچھ مسلمانوں نے عورتوں سے صحبت کرنے کو مکروہ جانا ۱؎ تو اللہ تعالیٰ نے آیت «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» ۱؎ نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: We captured some women on the Day of Awtas and they had husbands among their people. That was mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ) so Allah revealed: '...And women already married, except those whom your right hands possess... (4:24)'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ
جنگ اوطاس میں ہمیں کچھ ایسی قیدی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے شوہر ان کی قوم میں موجود تھے، تو لوگوں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اس پر آیت «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ثوری نے عثمان بتی سے اور عثمان بتی نے ابوالخلیل سے اور ابوالخلیل نے ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی، ۳- امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں علقمہ سے روایت کا ذکر نہیں ہے۔ ( جب کہ پچھلی سند میں ہے ) اور میں نہیں جانتا کہ کسی نے اس حدیث میں ابوعلقمہ کا ذکر کیا ہو سوائے ہمام کے، ۴- ابوالخلیل کا نام صالح بن ابی مریم ہے۔
Narrated 'Ubaidullah bin Abi Bakr [bin Anas]: from Anas bin Malik, that the Prophet (ﷺ) [said] about the major sins: Shirk with Allah, disobeying the parents, taking the life, and false statement.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبیرہ گناہ: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، ( ناحق ) کسی کو قتل کرنا، جھوٹ کہنا یا جھوٹ بولنا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس کو روح بن عبادہ نے بھی شعبہ یہ روایت کیا ہے، لیکن ( عبیداللہ کی جگہ عبداللہ بن ابی بکر کہا ہے، ( عبیداللہ ہی صحیح ہے ) لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah: from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Shall I not narrate to you about the worst of the major sins? They said: Of course O Messenger of Allah! He said: Associating others with Allah and disobeying the parents. He said: And he sat reclining and said: 'The false testimony.' Or he said: 'The false statement.' He said: So the Messenger of Allah (ﷺ) would not stop saying it until we said (to ourselves): 'If he would only stop.'
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی دینا، یا جھوٹی بات کہنا“، آپ یہ بات باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Abu Umamah Al-Ansari: from 'Abdullah bin Unais Al-Juhni who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed among the worst of the major sins is Shirk with Allah, disobeying the parents, the false oath, and none insists on taking an oath in which he swears, including the like of a wing of a mosquito (of falsehood) in it - except that a spot is placed in his heart until the Day of Judgement.'
عبداللہ بن انیس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ہے، جھوٹی قسم کھانا۔ تو جس کسی نے بھی ایسی قسم کھائی جس پر وہ مجبور کر دیا گیا اور ( اسی پر فیصلہ کا انحصار ہے ) پھر اس نے اس میں مچھر کے پر کے برابر جھوٹ شامل کر دیا تو اس کے دل میں ایک ( کالا ) نکتہ ڈال دیا جائے گا جو قیامت تک قائم اور باقی رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوامامہ انصاری ثعلبہ کے بیٹے ہیں اور ان کا نام ہمیں نہیں معلوم ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Prophet (ﷺ) said: The major sins are associating others with Allah, disobeying the parents or he said, the false oath . Shu'bah (a narrator in the chain) was in doubt.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبائر یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، یا کہا: جھوٹی قسم کھانا“۔ اس میں شعبہ کو شک ہو گیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Mujahid: from Umm Salamah that she said: The men fight and the women do not fight, and we only get half the inheritance.' So Allah, Blessed and Most High, revealed: 'And wish not for things in which Allah has made some of you excell over others... (4:32)' Mujahid said: And the following was revealed about that: 'Verily the Muslim men and the Muslim women... (33:35). And Umm Salamah was the first camel-borne woman to arrive in Al-Madinah as an emigrant.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
مرد جنگ کرتے ہیں، عورتیں جنگ نہیں کرتیں، ہم عورتوں کو آدھی میراث ملتی ہے ( یعنی مرد کے حصے کا آدھا ) تو اللہ تعالیٰ نے آیت «ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم على بعض» ۱؎ نازل فرمائی۔ مجاہد کہتے ہیں: انہیں کے بارے میں آیت «إن المسلمين والمسلمات» ۲؎ بھی نازل ہوئی ہے، ام سلمہ پہلی مسافرہ ہیں جو ہجرت کر کے مدینہ آئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ مرسل حدیث ہے، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے ابن ابی نجیح کے واسطہ سے مجاہد سے مرسلاً روایت کیا ہے، کہ ام سلمہ نے اس اس طرح کہا ہے۔
Narrated 'Amr bin Dinar: from a man among the children of Umm Salamah, from Umm Salamah that she said: O Messenger of Allah! I have not heard Allah mentioning anything about women and emigration. So Allah, Blessed and Most High, revealed: Never will I allow to be lost the work of any of you, be he male or female. You are members one of another (3:195).
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
اللہ کے رسول! میں عورتوں کی ہجرت کا ذکر کلام پاک میں نہیں سنتی، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أني لا أضيع عمل عامل منكم من ذكر أو أنثى بعضكم من بعض» ۱؎ نازل فرمائی۔
Narrated 'Alqamah: 'Abdullah said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) commanded me to recite for him while he was on the Minbar. So I recited from Surat An-Nisa for him, until I reached: How then (will it be) when We bring from each nation a witness, and We bring you (Muhammad) as a witness against these people? (4:41) The Messenger of Allah (ﷺ) was beckoning me (to stop) with his hand, and I looked at him and his eyes were flowing with tears.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء میں سے تلاوت کی، جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» ۱؎ پر پہنچا تو رسول اللہ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا ( کہ بس کرو، آگے نہ پڑھو ) میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابولأحوص نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم سے اور ابراہیم نے علقمہ کے واسطہ سے، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے، اور حقیقت میں وہ سند یوں ہے «إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله» ( «عن علقمة» نہیں ) ۔
Narrated Ibrahim: from 'Abidah that 'Abdullah said: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Recite for me.' I said: 'O Messenger of Allah! Shall I recite for you while it is to you whom it was revealed?' He said: 'I love to hear it from other than me.' So I recited Surat An-Nisa until I reached: ...And We bring you (Muhammad) as a witness against these people? (4:41) He said: So I saw the eyes of the Prophet (ﷺ) overflowing with tears.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کے سامنے قرآن پڑھوں قرآن تو آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟، آپ نے فرمایا: ”اپنے سے ہٹ کر دوسرے سے سننا چاہتا ہوں“، تو میں نے سورۃ نساء پڑھی، جب میں آیت: «وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آپ کی دونوں آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوالا ٔحوص کی روایت سے صحیح تر ہے۔
Narrated Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami: that 'Ali bin Abi Talib said: 'Abdur-Rahman bin 'Awf prepared some food for which he invited us, and he gave us some wine to drink. The wine began to affect us when it was time for Salat. So they encouraged me (to lead) and I recited: 'Say: O you disbelievers! I do not worship what you worship, and we worship what you worship' - so Allah, Most High, revealed: O you who believe! Do not approach Salat when you are in a drunken state until you know what you are saying (4:43).
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کر دیں، اور اسی دوران نماز کا وقت آ گیا، تو لوگوں نے مجھے ( امامت کے لیے ) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا «قل يا أيها الكافرون لا أعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» ”اے نبی! کہہ دیجئیے: کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو“، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى حتى تعلموا ما تقولون» ”اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو، تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو“ ( النساء: ۴۳ ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated 'Urwah bin Az-Zubair: that 'Abdullah bin Az-Zubair narrated to him: A man from the Ansar was arguing with Az-Zubair about a stream at Al-Harrah with which they irrigated their date-palms. So the Ansari man said: 'Let the water pass through.' But he refused, so they brought their dispute to the Messenger of Allah (ﷺ). So the Messenger of Allah (ﷺ) said to Az-Zubair: 'O Zubair! Water and let the water flow to your neighbor.' The Ansari got angry and said: 'O Messenger of Allah! Is it because he is your nephew?' The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed. Then he said: 'O Zubair! Water and withhold the water until until it flows over your walls.' So Az-Zubair said: 'By Allah, I think this Ayah was revealed about that incident: But no, by your Lord! They can have no faith until they make you judge in all disputes between them... (4:65)
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک انصاری نے ( ان کے والد ) زبیر بن العوام رضی الله عنہ سے، حرہ ۱؎ کی نالی کے معاملہ میں، جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، جھگڑا کیا، انصاری نے زبیر رضی الله عنہ سے کہا کہ پانی کو بہنے دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے ۲؎، زبیر نے انکار کیا، پھر وہ لوگ اس جھگڑے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر سے کہا: زبیر! تم ( اپنا کھیت ) سینچ کر پانی پڑوسی کے کھیت میں جانے دو، ( یہ سن کر ) انصاری غصہ ہو گیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ وہ ( زبیر ) آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ ( یہ سن کر ) آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا آپ نے کہا: زبیر! اپنا کھیت سینچ لو، اور پانی اتنا بھر لو کہ منڈیروں تک پہنچ جائے“۔ زبیر کہتے ہیں: قسم اللہ کی میں گمان کرتا ہوں کہ آیت: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ”سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں“ ( النساء: ۶۵ ) ۔ اسی مقدمہ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابن وہب نے بطریق: «الليث بن سعد ويونس عن الزهري عن عروة عن عبد الله بن الزبير» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۲- اور شعیب بن ابی حمزہ نے بطریق: «الزهري عن عروة عن الزبير» روایت کی ہے اور انہوں نے اپنی روایت میں عبداللہ بن زبیر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Yazid: from Zaid bin Thabit that he heard about this Ayah: Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites? (4:88) He said: People among the Companions of the Prophet (ﷺ) returned on the Day of Uhud and there were two parties among them, a group who said: 'Kill them,' and a group that say not to. So Allah revealed this Ayah: Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites? (4:88) So he said: Indeed it is Taibah (Al-Madinah). And he said: 'It expels filth from it just like the fire expels filth from iron.'
عبداللہ بن یزید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
زید بن ثابت رضی الله عنہ آیت: «فما لكم في المنافقين فئتين» کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ( ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے ) لوٹ آئے ۱؎ تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا: انہیں قتل کر دو، اور دوسرے فریق نے کہا: نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لكم في المنافقين فئتين» ۱؎ نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا: ”مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو ( إن شاء اللہ ) ایسے دور کر دے گا جیسے آگ لوہے کی ناپاکی ( میل و زنگ ) کو دور کر دیتی ہے۔ ( یہ منافق یہاں رہ نہ سکیں گے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن یزید انصاری خطمی ہیں اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔
Narrated 'Amr bin Dinar: from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said: On the Day of Judgement, the murdered will come with the murderer's scalp and his head in his hand, and his jugular vein flowing blood saying: 'O Lord! This one killed me!' Until he comes close to the Throne. So they mentioned repentance to Ibn 'Abbas, and he recited this Ayah: And whoever kills a believer intentionally then his recompense is Hell (4:93). He said: This Ayah was not abrogated nor (its ruling) replaced so from where is his repentance?
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، ( یہ کہتا ہوا ) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے ابن عباس رضی الله عنہما سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ۱؎ تلاوت کی، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہو گی؟ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے۔