Chapter on Tafsir
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 48
Al-Qasim bin Al-Fadl Al-Huddani narrated from Yusuf bin Sa’d, who said: “A man stood up in front of Al-Hasan bin Ali, after he pledged to Mu’awiyah, so he said: ‘You have made fools of the believers.’ – or: ‘O you who has made fools of the believers’ – So he said: ‘Do not scold me so, may Allah have mercy upon you, for indeed the Prophet had a dream in which he saw Banu Umayyah upon his Minbar. That distressed him, so (the following) was revealed: Verily We have granted you Al-Kauthar (O Muhammad) meaning a river in Paradise, and (the following) was revealed: ‘Verily We have sent it down on the Night of Al-Qadr. And what will make you know what the Night of Al-Qadr is? The Night of Al-Qadr is better than a thousand months, in which Banu Umayyah rules after you O Muhammad.” Al-Qasim said: “So we counted them, and found that they were one-thousand months, not a day more nor less.”
یوسف بن سعد کہتے ہیں کہ
ایک شخص حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس ان کے معاویہ رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لینے کے بعد گیا اور کہا: آپ نے تو مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دی، ( راوی کو شک ہے «سودت» کہا یا «يا مسود وجوه المؤمنين» ( مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دینے والا ) کہا، انہوں نے کہا تو مجھ پر الزام نہ رکھ، اللہ تم پر رحم فرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی امیہ اپنے منبر پر دکھائے گئے تو آپ کو یہ چیز بری لگی، اس پر آیت «إنا أعطيناك الكوثر» ”اے محمد! ہم نے آپ کو کوثر دی“، نازل ہوئی۔ کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور سورۃ القدر کی آیات «إنا أنزلناه في ليلة القدر وما أدراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر» ”ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے“، نازل ہوئیں، اے محمد تیرے بعد بنو امیہ ان مہینوں کے مالک ہوں گے ۳؎ قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں: ہم نے بنی امیہ کے ایام حکومت کو گنا تو وہ ہزار مہینے ہی نکلے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس سند سے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ قاسم بن فضل سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے یوسف بن مازن سے روایت کی ہے، قاسم بن فضل حدانی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ثقہ کہا ہے، اور یوسف بن سعد ایک مجہول شخص ہیں اور ہم اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Zirr bin Hubaish [and Zirr bin Hubaish’s Kunyah is Abu Mariam] said: “I said to Ubayy bin Ka’b: ‘Your brother Abdullah bin Mas’ud says: “Whoever stands (in voluntary prayer) the whole year, then he will have reached the Night of Al-Qadr.’” So he said: ‘May Allah forgive Abu Abdur-Rahman. He knows that is during the last ten (nights) of Ramadan, and that it is the night of the twenty-seventh. But he wanted the people to not rely upon that.’ Then he uttered an oath, that without exception it is on the night of the twenty-seventh.” He said: “I said to him: ‘Why is it that you say that O Abu Al-Mindhir?’ He said: “By the sign or indication which the Messenger of Allah informed us of: ‘That the sun rises on that day having no beams with it.’”
زر بن حبیش (جن کی کنیت ابومریم ہے) کہتے ہیں کہ
میں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے کہا آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: جو سال بھر ( رات کو ) کھڑے ہو کر نمازیں پڑھتا رہے وہ لیلۃ القدر پا لے گا، ابی بن کعب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت فرمائے ( ابوعبدالرحمٰن، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی کنیت ہے ) انہیں معلوم ہے کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان کی ستائیسویں ( ۲۷ ) رات ہے، لیکن وہ چاہتے تھے کی لوگ اسی ایک ستائیسویں ( ۲۷ ) رات پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ رہیں کہ دوسری راتوں میں عبادت کرنے اور جاگنے سے باز آ جائیں، بغیر کسی استثناء کے ابی بن کعب رضی الله عنہ نے قسم کھا کر کہا: ( شب قدر ) یہ ( ۲۷ ) رات ہی ہے، زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: ابوالمنذر! آپ ایسا کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس آیت اور نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے ( یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ انہوں نے «بالآية» کا لفظ استعمال کیا یا «بالعلامة» کا آپ نے علامت یہ بتائی ( کہ ستائیسویں شب کی صبح ) سورج طلوع تو ہو گا لیکن اس میں شعاع نہ ہو گی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas bin Malik narrated that: A man said to the Prophet: “O best of creatures!” So he said: “That is Ibrahim.”
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «يا خير البرية» ! اے تمام مخلوق میں بہتر! آپ نے فرمایا: ”یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah, may Allah be pleased with him, said: “The Messenger of Allah recited this Ayah: ‘That Day it will declare its information.’ He said: “Do you know what its information is?” They said: “Allah and His Messenger know better.” He said: “That it testifies about what every male or female slave (of Allah) did upon its surface. It says: ‘He did this and that on this day.’ This is its information.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سورۃ الزلزال کی ) آیت «يومئذ تحدث أخبارها» ”اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی“ ( الزلزال: ۴ ) ، پڑھی، پھر آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ اس کی پیٹھ پر یعنی زمین پر ہر بندے نے خواہ مرد ہو یا عورت جو کچھ کیا ہو گا اس کی وہ گواہی دے گی، وہ کہے گی: اس بندے نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا، یہی اس کی خبریں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mutarrif bin Abdullah bin Ash-Shikh-khir reported from his father, : that he went to the Prophet and he was reciting: ‘The mutual rivalry (for piling up worldly things) diverts you.’ He said: “The son of Adam says: ‘My wealth, my wealth.’ And do you own anything except what you give in charity, such that you’ve spent it, or what you eat, suc that you’ve finished it, or you wear, such that you’ve worn it out?”
شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ آیت «ألهاكم التكاثر» ”زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا“ ( التکاثر: ۱ ) ، تلاوت فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”ابن آدم میرا مال، میرا مال کہے جاتا ہے ( اسی ہوس و فکر میں مرا جاتا ہے ) مگر بتاؤ تو تمہیں اس سے زیادہ کیا ملا جو تم نے صدقہ دے دیا اور آگے بھیج دیا یا کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر بوسیدہ کر دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Zirr bin Jubaish reported from Ali [may Allah be pleased with him] that he said: “We were still in doubt concerning the torment of the grave, until ‘the mutual rivalry diverts you” was revealed’.”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں رہے، یہاں تک کہ سورۃ «ألهاكم التكاثر» نازل ہوئی، تو ہمیں اس پر یقین حاصل ہوا۔ ابوکریب کبھی عمرو بن ابی قیس کہتے ہیں، تو یہ عمروبن قیس رازی ہیں - اور عمرو بن قیس ملائی کوفی ہیں اور یہ ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں: اور وہ ( ابن ابی لیلیٰ ) روایت کرتے ہیں منہال بن عمرو سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Abdullah bin Az-Zubair bin Al-Awwam narrated from his father who said: “When the following was revealed: Then on that Day, you shall be asked about the delights!’ Az-Zubair said: ‘O Messenger of Allah! Which are the delights that we will be asked about, when they (delights) are but the two black things: dates and water?’ He said: ‘But it is what shall come.’”
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» ”اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا“ ( التکاثر: ۸ ) ، نازل ہوئی تو زبیر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ ہمیں تو صرف دو ہی ( کالی ) نعمتیں حاصل ہیں، ایک کھجور اور دوسرے پانی ۱؎ آپ نے فرمایا: ”عنقریب وہ بھی ہو جائیں گی“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Abu Hurairah said: “When this Ayah was revealed: ‘Then on that Day, you shall be asked about the delights!’ the people said: ‘O Messenger of Allah! About which delights shall we be asked? For they are only the two black things, while the enemy is present and our swords are (at the ready) upon our shoulders?” He said: ‘But it is what shall come.’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ وہ تو صرف یہی دو سیاہ چیزیں ہیں ( ایک کھجور دوسرا پانی ) ( ہمارا ) دشمن ( سامنے ) حاضر و موجود ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ۱؎۔ آپ نے فرمایا: ” ( تمہیں ابھی معلوم نہیں ) عنقریب ایسا ہو گا ( کہ تمہارے پاس نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث سے زیادہ صحیح میرے نزدیک ابن عیینہ کی وہ حدیث ہے جسے وہ محمد بن عمر سے روایت کرتے ہیں، ( یعنی پچھلی روایت ) سفیان بن عیینہ ابوبکر بن عیاش کے مقابلے میں حدیث کو زیادہ یاد رکھنے اور زیادہ صحت کے ساتھ بیان کرنے والے ہیں۔
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: “Indeed the first of what will be asked about on the Day of Judgment – meaning the slave (of Allah) being questioned about the favors – is that it will be said to him: ‘Did We not make your body, health, and give you of cool water to drink?’”
ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزم اشعری کہتے ہیں کہ
میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، ( وہ یہ ہیں ) اس سے کہا جائے گا: کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور ٹھیک ٹھاک نہ رکھا اور تمہیں ٹھنڈا پانی نہ پلاتا رہا؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ضحاک، یہ بیٹے ہیں عبدالرحمٰن بن عرزب کے، اور انہیں ابن عرزم بھی کہا جاتا ہے اور ابن عرزم کہنا زیادہ صحیح ہے۔
Anas narrated [regarding Allah, Most High’s saying] ‘Verily We have granted you Al-Kauthar’ (108: 1) that the Prophet (ﷺ) said: “It is a river in Paradise.” He said: “The Prophet (ﷺ) said: ‘I saw a river in Paradise, whose banks had tents were made of pearl. I said: “What is this O Jibril?’” He said: “This is Al-Kauthar which Allah has granted you.”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ارشاد باری «إنا أعطيناك الكوثر» کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک نہر ہے جنت میں جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے ہیں، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Anas narrated that the Messenger of Allah said: “While I was traveling through Paradise, a river appeared before me whose banks had tents of pearl. I said to the angel: ‘What is this?’ He said: ‘This is Al-Kauthar, which Allah has granted you.’” He said: “Then he put his hand in the clay, and removed musk from it, then I was raised up to Sidrat Al-Muntaha so I saw a magnificent light at it.”
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک نہر پیش کی گئی جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے تھے، میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ مٹی تک ڈال دیا، نکالا تو وہ مشک کی طرح مہک رہی تھی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ لا کر پیش کی گئی، میں نے وہاں بہت زیادہ نور ( نور عظیم ) دیکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے بھی انس رضی الله عنہ سے آئی ہے۔
`Abdullah bin `Umar narrated that : the Messenger of Allah said: “Al-Kauthar is a river in Paradise, whose banks are of gold, and it flows over pearls and corundum. Its dirt is purer than musk, and its water is sweeter than honey and whiter than milk.”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الكوثر» جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کے پانی کا گزر موتیوں اور یاقوت پر ہوتا ہے، اس کی مٹی مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے اور برف سے بھی زیادہ سفید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibn Abbas said: “Umar used to ask me questions in front of the Companions of the Prophet. So Abdur-Rahman bin Awf said to him: ‘Why do you ask him, while we have children like him?’” He said: “Umar said to him: ‘It is because of what you know (about him).’ So he asked him about this Ayah: ‘When there comes the help of Allah and the Conquest.’ I said: “It is only regarding the (end of the) life span of the Messenger of Allah, informing him of it.” Then he recited the Surat until its end. So Umar said to him: “By Allah! I know not about it, but what you know.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا اور جانا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا محمد بن جعفر نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا شعبہ نے اور انہوں نے روایت کی اسے اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبشر سے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: «أتسأله ولنا أبناء مثله» ۲؎۔
Ibn Abbas narrated: “One day the Messenger of Allah ascended As-Safa and called out: ‘O people! Come at once!’ So the Quraish gathered before him. He said: ‘I am a warner for you before the coming of a severe punishment. Do you think that if I informed you that the enemy was preparing to attack you in the evening or in the morning, would you believe me?’ So Abu Lahab said: ‘Is it for this that you gathered us? May you perish?’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Perish the hands of Abu Lahad, perish he.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Al-Aliyah narrated from Ubayy bin Ka’b: “The idolaters were saying to the Messenger of Allah: ‘Name the lineage of your Lord for us.’ So Allah, Most High, revealed: Say: “He is Allah, the One. Allah As-Samad.” So As-Samad is ‘the One Who does not beget, nor is He begotten,’ because there is nothing born except it will die, and there is nothing that dies except that it will be inherited from, and verily. Allah, the Mighty and Sublime, does not die, nor is He inherited from. ‘And there is none comparable to Him.’ He said: ‘There is nothing similar to Him, nor equal to Him, nor is there anything like Him.’”
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو الله أحد الله الصمد» ”کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے، اللہ بے نیاز ہے“ ( الاخلاص: ۱-۲ ) ، نازل فرمائی، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو، اس لیے ( اصول یہ ہے کہ ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا، «ولم يكن له كفوا أحد» ”اور نہ اس کا کوئی «کفو» ( ہمسر ) ہے“، راوی کہتے ہیں: «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔
Abu Al-Aliyah narrated: “The Prophet mentioned their (the idolater’s) gods, so they said: ‘Then name your Lord’s lineage for us.’” He said: “So Jibril, peace be upon him, came to him with this Surat: Say: “He is Allah, the One.” So he mentioned similarly, but he did not say in it: “From Ubayy bin Ka’b.” And this is more correct than the narration of Abu Sa’eed (no. 3364). Abu Sa’eed’s name is Muhammad bin Muyassar.
ابولعالیہ (رفیع بن مہران) سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ( یعنی مشرکین کے ) معبودوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کیجئے، آپ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس یہ سورۃ «قل هو الله أحد» لے کر آئے، پھر انہوں نے اسی طرح حدیث بیان کی، اور اس کی سند میں ابی بن کعب سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ ابوسعد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ابوسعد کا نام محمد بن میسر ہے، اور ابو جعفر رازی کا نام عیسیٰ ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے یہ ایک غلام تھے جنہیں ایک قیدی عورت نے آزاد کیا تھا۔
Aishah narrated: “The Prophet looked at the moon and he said: ‘O Aishah! Do you seek refuge with Allah from the evil of this? For indeed this is Al-Ghasiqu Idha Waqab (The darkened one as it darkens).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”عائشہ! اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہ «غاسق» ہے جب یہ ڈوب جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Uqbah bin Amir Al-Juhni narrated that: the Prophet said: “Allah has revealed to me Ayat the likes of which have not been seen: “Say: I seek refuge in the Lord of mankind…” until the end of the Surat. “Say: I seek refuge in the Lord of Al-Falaq…” until the end of the Surat.
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھ پر کچھ ایسی آیتیں نازل کی ہیں کہ ان جیسی آیتیں کہیں دیکھی نہ گئی ہیں، وہ ہیں «قل أعوذ برب الناس» آخر سورۃ تک اور «قل أعوذ برب الفلق» آخر سورۃ تک۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: “When Allah created Adam, He breathed the soul into him, then he sneezed and said: ‘All praise is due to Allah.’ So he praised Allah by His permission. Then His Lord said to him: ‘May Allah have mercy upon you O Adam. Go to those angels – to that gathering of them sitting – so say: “As-Salamu Alaikas-Salamu, Wa Rahmatullah’ Then he returned to his Lord, He said: ‘This is your greeting and the greeting of your children among each other.’ Then Allah said to him – while His Two Hands were closed – ‘Choose which of them you wish.’ He said: ‘I chose the right My Lord and both of the Hands of my Lord are right, blessed.’ Then He extended it, and there was Adam and his offspring in it.’ So he said: ‘What are these O my Lord?’ He said: ‘These are your offspring?’ Each one of them had his age written between his eyes. But among them there was a man who was the most illuminating of them – or among the most illuminated of them. He said: ‘O Lord! Who is this?’ He said: ‘This is your son Dawud, I wrote forty years for him.’ He said: ‘O Lord! Add to his age.’ He said: ‘That is what I have written for him.’ He said: ‘O Lord! Give him sixty of my years.’ He said: ‘So you shall have it.’” He said: “Then, he resided in Paradise as long as Allah willed, then he was cast from it, so Adam was counting for himself.” He said: “So the Angel of death came to him, and Adam said to him: ‘You are hasty, one-thousand years were written for me.’ He said: ‘Of course! But you gave sixty years to your son Dawud.’ So he rejected, and his offspring rejected, and he forgot, and his offspring forgot.” He said: “So ever since that day, what is written and witnessed has been decreed.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونک دی، تو ان کو چھینک آئی، انہوں نے «الحمد لله» کہنا چاہا چنانچہ اللہ کی اجازت سے «الحمد لله» کہا، ( تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں ) پھر ان سے ان کے رب نے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے، اے آدم! ان فرشتوں کی بیٹھی ہوئی جماعت و گروہ کے پاس جاؤ اور ان سے السلام علیکم کہو، انہوں نے جا کر السلام علیکم کیا، فرشتوں نے جواب دیا، وعلیک السلام ورحمۃ اللہ، پھر وہ اپنے رب کے پاس لوٹ آئے، اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں طریقہ سلام و دعا ہے، پھر اللہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر کے آدم سے کہا: ان میں سے جسے چاہو پسند کر لو، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے دایاں ہاتھ کو پسند کیا، اور حقیقت یہ ہے کہ میرے رب کے دونوں ہی ہاتھ داہنے ہاتھ ہیں اور برکت والے ہیں، پھر اس نے مٹھی کھولی تو اس میں آدم اور آدم کی ذریت تھی، آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ سب تیری اولاد ہیں اور ہر ایک کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں لکھی ہوئی ہے، ان میں ایک سب سے زیادہ روشن چہرہ والا تھا، آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب یہ کون ہے؟ کہا یہ تمہارا بیٹا داود ہے، میں نے اس کی عمر چالیس سال لکھ دی ہے، آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! اس کی عمر بڑھا دیجئیے، اللہ نے کہا: یہ عمر تو اس کی لکھی جا چکی ہے، آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! میں اپنی عمر میں سے ساٹھ سال اسے دیئے دیتا ہوں، اللہ نے کہا: تم اور وہ جانو؟ چلو خیر، پھر آدم علیہ السلام جنت میں رہے جب تک کہ اللہ کو منظور ہوا، پھر آدم علیہ السلام جنت سے نکال باہر کر دیئے گئے، آدم علیہ السلام اپنی زندگی کے دن گنا کرتے تھے، ملک الموت ان کے پاس آئے تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ تو جلدی آ گئے میری عمر تو ہزار برس لکھی گئی ہے، ملک الموت نے کہا: ہاں ( بات تو صحیح ہے ) لیکن آپ نے تو اپنی زندگی کے ساٹھ سال اپنے بیٹے داود کو دے دیے تھے، تو انہوں نے انکار کر دیا آدم علیہ السلام کے اسی انکار کا نتیجہ اور اثر ہے کہ ان کی اولاد بھی انکار کرنے لگ گئی، آدم علیہ السلام بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولنے لگ گئی، اسی دن سے حکم دے دیا گیا ساری باتیں لکھ لی جایا کریں اور گواہ بنا لیے جایا کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور ابوہریرہ کی اس حدیث کو زید بن اسلم نے بطریق: «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے۔
Anas bin Malik narrated that: The Prophet said: “When Allah created the earth, it started shaking. So He created the mountains, and said to them: ‘Upon it’ so it began to settle. The angels were amazed at the strength of the mountains, so they said: ‘O Lord! Is there among your creatures one who is more severe than the mountains?’ He said: ‘Yes. Iron.’ They said: ‘O Lord! Then is there anything among your creatures that is more severe than that iron?’ He said: ‘Yes. Fire.’ S they said: ‘O Lord! Is there anything among your creatures that is more severe than fire?’ He said: ‘Yes. Water.’ They said: ‘O Lord! Is there anything among your creatures that is more severe than water?’ He said: ‘Yes. Wind.’ They said: ‘O Lord! Is there anything among your creatures more severe than wind?’ He said: ‘Yes. The son of Adam. He gives charity with his right hands, while hiding it from his left.’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے زمین بنائی تو وہ ہلنے لگی چنانچہ اللہ نے پہاڑ بنائے اور ان سے کہا: اسے تھامے رہو، تو زمین ٹھہر گئی، ( اس کا ہلنا و جھکنا بند ہو گیا ) فرشتوں کو پہاڑوں کی سختی و مضبوطی دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑ سے بھی زیادہ ٹھوس کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، لوہا ہے“، انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں لوہے سے بھی طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، آگ ہے“، انہوں نے کہا: اے میرے رب! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، پانی ہے“، انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں پانی سے بھی زیادہ طاقتور کوئی چیز ہے؟ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، ہوا ہے“، انہوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! کیا آپ کی مخلوق میں ہوا سے بھی زیادہ طاقتور کوئی مخلوق ہے۔ اللہ نے فرمایا: ”ہاں، ابن آدم ہے جو اپنے داہنے سے اس طرح صدقہ دیتا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہونے پاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں۔