Chapter on Tafsir
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 48
Samurah narrated regarding the saying of Allah, Most High: And his progeny, them We made survivors (37:77).' The Prophet (ﷺ) said: Ham, Sam and Yafith - with (the letter) Tha.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ”ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا“ ( الصافات: ۷۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ” ( نوح کے تین بیٹے ) حام، سام اور یافث تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲- یافت «ت» سے اور یافث «ث» سے دونوں طرح سے کہا جاتا ہے «یفث» بھی کہا جاتا ہے۔
Narrated Samurah: that the Prophet (ﷺ) said: Sam was the father of Arabs, Ham the father of the Ethiopians, and Yafith the father of the Romans.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سام» «ابوالعرب» ( عربوں کے باپ ) ہیں اور «حام» «ابوالحبش» ( اہل حبشہ کے باپ ) ہیں اور «یافث» «ابوالروم» ( رومیوں کے باپ ) ہیں“۔
Narrated Ibn 'Abbas: Abu Talib fell ill, so the Quraish went to see him, and the Prophet (ﷺ) went to see him. There was a gathering there with Abu Talib, so Abu Jahl stood up enraged, to prevent him (the Prophet (ﷺ) from entering). He said: He complained to Abu Talib. So he (Abu Talib) said: 'O my nephew! What is it that you want from your people?' He said: 'I only want one word from them, for which, if they were to say it, then the Arabs will become their followers, and the non-Arabs will pay Jizyah to them.' He said: 'One word?' He replied: 'One word.' So he said: 'O uncle! Let them say La Ilaha Illallah' so they replied: 'One God? We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention.' He said: So the (following) was revealed in the Qur'an about them: 'Sad. By the Qur'an full of reminding. Those who disbelieve are in false pride and opposition...' up to His saying: 'We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention (38:1-7).'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ابوطالب بیمار پڑے، تو قریش ان کے پاس آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آئے، ابوطالب کے پاس صرف ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل اٹھا کہ وہ آپ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے، اور ان سب نے ابوطالب سے آپ کی شکایت کی، ابوطالب نے آپ سے کہا: بھتیجے! تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ نے فرمایا: ”میں ان سے صرف ایک ایسا کلمہ تسلیم کرانا چاہتا ہوں جسے یہ قبول کر لیں تو اس کلمہ کے ذریعہ پورا عرب مطیع و فرماں بردار ہو جائے گا اور عجم کے لوگ انہیں جزیہ ادا کریں گے، انہوں نے کہا: ایک ہی کلمہ؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک ہی کلمہ“، آپ نے فرمایا: ”چچا جان! آپ لوگ «لا إلہ الا اللہ» کہہ دیجئیے، انہوں نے کہا: ایک معبود کو تسلیم کر لیں؟ یہ بات تو ہم نے اگلے لوگوں میں نہیں سنی ہے، یہ تو صرف بناوٹی اور ( تمہاری ) گھڑی ہوئی بات ہے، ( ہم یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے ) ابن عباس کہتے ہیں: اسی پر ان ہی لوگوں سے متعلق سورۃ ”ص“ کی آیات «ص والقرآن ذي الذكر بل الذين كفروا في عزة وشقاق ) إلى قوله ( ما سمعنا بهذا في الملة الآخرة إن هذا إلا اختلاق» ”صٓ، اس نصیحت والے قرآن کی قسم، بلکہ کفار غرور و مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا، انہوں نے ہر چند چیخ و پکار کی لیکن وہ چھٹکارے کا نہ تھا اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہیں میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آ گیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے، کیا اس نے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا، واقعی یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے، ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے، ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے“ ( ص: ۱-۷ ) ، تک نازل ہوئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید نے بھی سفیان سے، سفیان نے اعمش سے اسی حدیث کے مثل حدیث بیان کی، اور یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عباد کے بجائے ”یحییٰ بن عمارہ“ کہا۔
Narrated Abu Qilabah: from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said: During the night, my Lord, Blessed is He, and Most High, came to me in the best of appearances. He (one of the narrators) said - I think he said it was during a dream - So he said: 'O Muhammad! Do you know in what the most exalted group busy themselves with?' He said: I said: 'No.' He said: So He placed His Hand between my shoulders, until I sensed its coolness between my breast. - or he said: on my throat, so I knew what was in the heavens, and what was in the earth. He said: 'O Muhammad! Do you know in what the most exalted group busy themselves with?' I said: 'Yes, in the acts that atone: and the acts that atone are; lingering in the Masjid after the Salat, walking on the feet to the congregation, Isbagh Al-Wudu, in difficulty, and whoever does that, he lives in goodness and dies upon goodness, and his wrongs shall be like that of the day his mother bore him.' He said: 'O Muhammad! When you have performed Salat then say: 'O Allah! Indeed I ask of You, the doing of good deeds, avoiding the evil deeds, and loving the poor. And when you have willed Fitnah for your slave, then take me to You, without making me suffer from Fitnah.' He [the Prophet (ﷺ)] said: And the acts that raise ranks are spreading the Salam, feeding others, and Salat during the night, while the people are sleeping.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بزرگ و برتر رب بہترین صورت میں میرے پاس آیا“، مجھے خیال پڑتا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”- خواب میں - رب کریم نے کہا: اے محمد! کیا تمہیں معلوم ہے کہ «ملا ٔ اعلی» ( اونچے مرتبے والے فرشتے ) کس بات پر آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تو اللہ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے بیچ میں رکھ دیا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان محسوس کی، یا اپنے سینے میں یا «نحری» کہا، ( ہاتھ کندھے پر رکھنے کے بعد ) آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ میں جان گیا، رب کریم نے فرمایا: اے محمد! کیا تم جانتے ہو «ملا ٔ اعلی» میں کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے، ( بحث و تکرار ہو رہی ہے ) ؟ میں نے کہا: ہاں، کفارات گناہوں کو مٹا دینے والی چیزوں کے بارے میں ( کہ وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ ) ( فرمایا ) ”کفارات یہ ہیں: ( ۱ ) نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا، ( ۲ ) پیروں سے چل کر نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانا، ( ۳ ) ناگواری کے باوجود باقاعدگی سے وضو کرنا، جو ایسا کرے گا بھلائی کی زندگی گزارے گا، اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس طرح وہ اس دن پاک و صاف تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا، رب کریم کہے گا: اے محمد! جب تم نماز پڑھ چکو تو کہو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وإذا أردت بعبادك فتنة فاقبضني إليك غير مفتون» ”اے اللہ میں تجھ سے بھلے کام کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور ناپسندیدہ و منکر کاموں سے بچنا چاہتا ہوں اور مسکینوں سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں ڈالنا چاہیئے تو فتنے میں ڈالے جانے سے پہلے مجھے اپنے پاس بلا لے“، آپ نے فرمایا: ”درجات بلند کرنے والی چیزیں ( ۱ ) سلام کو پھیلانا عام کرنا ہے، ( ۲ ) ( محتاج و مسکین ) کو کھانا کھلانا ہے، ( ۳ ) رات کو تہجد پڑھنا ہے کہ جب لوگ سو رہے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- کچھ محدثین نے ابوقلابہ اور ابن عباس رضی الله عنہما کے درمیان اس حدیث میں ایک شخص کا ذکر کیا ہے۔ ( اور وہ خالد بن لجلاج ہیں ان روایت کے آگے آ رہی ہے ) ۲- اس حدیث کو قتادہ نے ابوقلابہ سے روایت کی ہے اور ابوقلابہ نے خالد بن لجلاج سے، اور خالد بن لجلاج نے ابن عباس سے روایت کی ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: that the Prophet (ﷺ) said: My Lord, Blessed is He and Most High, came to me in the best of appearances. So he said: 'O Muhammad!' I said: 'Here I am O my Lord! And I am at Your service.' He said: 'What is it that the most exalted group busy themselves with?' I said: '[Lord] I do not know.' So He placed His Hand between my shoulders, until I sensed its coolness between my breast, so I knew what was in between the east and the west. He said: 'O Muhammad!' I said: 'Here I am O my Lord! And I am at Your service.' He said: 'What is it that the most exalted group busy themselves with?' I said: 'In the acts that raise ranks and the acts that atone, and in recording the footsteps to the congregation, Isbagh Al-Wudu in difficulties, and awaiting the Salat after the Salat. And whoever preserves them, he shall live in goodness and die upon goodness, and his sins shall be like that on the day upon which his mother bore him.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرا رب ( خواب میں ) بہترین صورت میں نظر آیا، اور اس نے مجھ سے کہا: محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں تیری خدمت میں حاضر و موجود ہوں، کہا: اونچے مرتبے والے فرشتوں کی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: ( میرے ) رب! میں نہیں جانتا، ( اس پر ) میرے رب نے اپنا دست شفقت و عزت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان ( سینے میں ) محسوس کی، اور مجھے مشرق و مغرب کے درمیان کی چیزوں کا علم حاصل ہو گیا، ( پھر ) کہا: محمد! میں نے عرض کیا: ( میرے ) رب! میں حاضر ہوں، اور تیرے حضور میری موجودگی میری خوش بختی ہے، فرمایا: فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے کہا: انسان کا درجہ و مرتبہ بڑھانے والی اور گناہوں کو مٹانے والی چیزوں کے بارے میں ( کہ وہ کیا کیا ہیں ) تکرار کر رہے ہیں، جماعتوں کی طرف جانے کے لیے اٹھنے والے قدموں کے بارے میں اور طبیعت کے نہ چاہتے ہوئے بھی مکمل وضو کرنے کے بارے میں۔ اور ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں، جو شخص ان کی پابندی کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا، اور خیر ( بھلائی ) ہی کے ساتھ مرے گا، اور اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس دن کہ ان کی ماں نے جنا تھا، اور وہ گناہوں سے پاک و صاف تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل اور عبدالرحمٰن بن عائش رضی الله عنہما ۱؎ کی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، اور اس پوری لمبی حدیث کو معاذ بن جبل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، ( اس میں ہے ) ”میں نے ذرا سی اونگھ لی، تو مجھے گہری نیند آ گئی، پھر میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا، میرے رب نے کہا: «فيم يختصم الملأ الأعلى» فرشتوں کی ( سب سے اونچے مرتبے کی جماعت ) کس بات پر لڑ جھگڑ رہی ہے؟
Narrated Mu'adh bin Jabal [may Allah be pleased with him]: One morning, the Messenger of Allah (ﷺ) was prevented from coming to us for Salat As-Subh, until we were just about to look for the eye of the sun (meaning sunrise). Then he came out quickly, had the Salat prepared for. The Messenger of Allah (ﷺ) performed the Salat, and he performed his Salat in a relatively quick manner. When he said the Salam, he called aloud with his voice saying to us: 'Stay in your rows as you are.' Then he turned coming near to us, then he said: 'I am going to narrate to you what kept me from you this morning: I got up during the night, I performed Wudu and prayed as much as I was able to, and I dozed off during my Salat, and fell deep asleep. Then I saw my Lord, Blessed and Most High, in the best of appearances. He said: 'O Muhammad!' I said: 'My Lord here I am my Lord!' He said: 'What is it that the most exalted group busy themselves with?' I said: 'I do not know Lord.' And He said it three times. He said: So I saw Him place His Palm between my shoulders, and I sensed the coolness of His Fingertips between my breast. Then everything was disclosed for me, and I became aware. So He said: 'O Muhammad!' I said: 'Here I am my Lord!' He said: 'What is it that the most exalted group busy themselves with?' I said: 'In the acts that atone.' He said: 'And what are they?' I said: 'The footsteps to the congregation, the gatherings in the Masajid after the Salat, Isbagh Al-Wudu during difficulties.' He said: 'Then what else?' I said: 'Feeding others, being lenient in speech, and Salat during the night while the people are sleeping.' He said: 'Ask.' I said: 'O Allah! I ask of you the doing of the good deeds, avoiding the evil deeds, loving the poor, and that You forgive me, and have mercy upon me. And when You have willed Fitnah in the people, then take me without the Fitnah. And I ask You for Your love, the love of whomever You love, and the of the deeds that bring one nearer to Your love.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed it is true, so study it and learn it.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے ( حجرہ سے ) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو ( اپنے قریب ) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، ( تہجد کی ) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے بزرگ و برتر رب کے ساتھ ہوں وہ بہتر صورت و شکل میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» ( فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت ) کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: رب کریم میں نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار پوچھی، آپ نے فرمایا: میں نے اللہ ذوالجلال کو دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی، ہر چیز میرے سامنے روشن ہو کر آ گئی، اور میں جان گیا ( اور پہچان گیا ) پھر اللہ عزوجل نے فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: «کفارات» کے بارے میں، اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: نماز باجماعت کے لیے پیروں سے چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر ( دوسری نماز کے انتظار میں ) رہنا، ناگواری کے وقت بھی مکمل وضو کرنا، اس نے پوچھا: پھر کس چیز کے بارے میں ( بحث کر رہے ہیں ) ؟ میں نے کہا: ( محتاجوں اور ضرورت مندوں کو ) کھانا کھلانے کے بارے میں، نرم بات چیت میں، جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت اٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں، رب کریم نے فرمایا: مانگو ( اور مانگتے وقت کہو ) کہو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون أسألك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقرب إلى حبك» ”اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات ( ناپسندیدہ کاموں ) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور مساکین سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو مجھے تو فتنہ میں ڈالنے سے پہلے موت دیدے، میں تجھ سے اور اس شخص سے جو تجھ سے محبت کرتا ہو، محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو کام تیری محبت کے حصول کا سبب بنے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حق ہے، اسے پڑھو یاد کرو اور دوسروں کو پڑھاؤ سکھاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ بھی کہا کہ یہ حدیث ولید بن مسلم کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا خالد بن لجلاج نے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن عائش حضرمی نے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آگے یہی حدیث بیان کی، اور یہ غیر محفوظ ہے، ولید نے اسی طرح اپنی حدیث میں جسے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عائش سے روایت کیا ہے ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جبکہ بشر بن بکر نے، روایت کیا عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے، یہ حدیث اسی سند کے ساتھ، انہوں نے روایت کیا، عبدالرحمٰن بن عائش سے اور عبدالرحمٰن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بلفظ «عن» اور یہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ عبدالرحمٰن بن عائش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair: from his father who said: When (the following) was revealed: 'Then, on the Day of Resurrection, you will be disputing before your Lord (39:31).' Az-Zubair said O Messenger of Allah! We will repeat our disputes after what happened between us in the world? He said: Yes. So he said: Indeed this is a very serious matter.
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما اپنے باپ (زبیر) سے روایت کرتے ہیں کہ
جب آیت «ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون» ”پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس ( توحید و شرک کے سلسلے میں ) جھگڑ رہے ہو گے“ ( الروم: ۳۱ ) ، نازل ہوئی تو زبیر بن عوام رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس دنیا میں ہمارا آپس میں جو لڑائی جھگڑا ہے اس کے بعد بھی دوبارہ ہمارے درمیان ( آخرت میں ) لڑائی جھگڑے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: پھر تو معاملہ بڑا سخت ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Asma bint Yazid: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting: 'Say: O My slaves who have transgressed against themselves! Despair not of the mercy of Allah, verily, Allah forgives all sins and I do not mind (referring to 39:53).
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا» ”اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ( یعنی گناہ کیے ہیں ) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوؤ، اللہ سبھی گناہ معاف کر دیتا ہے“ ( الزمر: ۵۳ ) ، پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اللہ کو کوئی پروا نہیں ہوتی ( کہ اللہ کی اس چھوٹ اور مہربانی سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اور کون محروم رہ رہا ہے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ثابت کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ شہر بن حوشب سے روایت کرتے ہیں، ۳- شہر بن حوشب ام سلمہ انصاریہ سے روایت کرتے ہیں، اور ام سلمہ انصاریہ اسماء بنت یزید ہیں۔
Narrated 'Abdullah: A Jew came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Muhammad! Allah will seize the heavens upon a finger, the mountains upon a finger, the earths upon a finger, and the rest of creation upon a finger. Then He says: 'I am the King.' He said: 'So the Messenger of Allah (ﷺ) laughed until his molars were visible. He said: They made not a just estimate of Allah such as is due to Him (39:67).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: محمد! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روکے ہوئے ہے، زمینوں کو ایک انگلی پر اٹھائے ہوئے ہے، پہاڑوں کو ایک انگلی سے تھامے ہوئے ہے، اور مخلوقات کو ایک انگلی پر آباد کئے ہوئے ہے، پھر کہتا ہے: میں ہی ( ساری کائنات کا ) بادشاہ ہوں۔ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھلکھلا کر ہنس پڑے، فرمایا: ”پھر بھی لوگوں نے اللہ کی قدر و عزت نہ کی جیسی کہ کرنی چاہیئے تھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdullah: So the Prophet (ﷺ) laughed in amazement and approval.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تعجب سے اور ( اس کی باتوں کی ) تصدیق میں ہنس پڑے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: A Jew passed by the Prophet (ﷺ), so the Prophet (ﷺ) said: 'O you Jew! Narrate something to us.' So he said: 'What shall you say O Abul-Qasim, when Allah places the heavens upon this, the earths upon this, the water upon this, the mountains upon this, and the rest of creation upon this?' - Muhammad bin As-Salt, Abu Ja'far (one of the narrators) indicated first with his little finger, then followed one by one until he reached his index finger - So Allah, the Mighty and Sublime revealed: They made not a just estimate of Allah such as is due to Him (39:67).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک یہودی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( یہودی ) سے کہا: ”ہم سے کچھ بات چیت کرو“، اس نے کہا: ابوالقاسم! آپ کیا کہتے ہیں: جب اللہ آسمانوں کو اس پر اٹھائے گا ۱؎ اور زمینوں کو اس پر اور پانی کو اس پر اور پہاڑوں کو اس پر اور ساری مخلوق کو اس پر، ابوجعفر محمد بن صلت نے ( یہ بات بیان کرتے ہوئے ) پہلے چھنگلی ( کانی انگلی ) کی طرف اشارہ کیا، اور یکے بعد دیگرے اشارہ کرتے , ہوئے انگوٹھے تک پہنچے، ( اس موقع پر بطور جواب ) اللہ تعالیٰ نے «وما قدروا الله حق قدره» ”انہوں نے اللہ کی ( ان ساری قدرتوں کے باوجود ) صحیح قدر و منزلت نہ جانی، نہ پہچانی“ ( الزمر: ۶۷ ) ، نازل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- ہم اسے ( ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے ) صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابوکدینہ کا نام یحییٰ بن مہلب ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو دیکھا ہے، انہوں نے یہ حدیث حسن بن شجاع سے اور حسن نے محمد بن صلت سے روایت کی ہے۔
Narrated Mujahid: that Ibn 'Abbas said: Do you know what is the width of Jahannam? I said: No. He said: Yes, and by Allah I do not know. 'Aishah narrated to me that she asked the Messenger of ALlah (ﷺ) about Allah's saying: 'On the Day of Resurrection the whole earth will be grasped by His Hand and the heavens will be rolled up in his Right Hand (39:67).' She said: 'I said Where will the people be on that day O Messenger of Allah? He said: Upon the bridge over Jahannam.
مجاہد کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے جہنم کتنی بڑی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: بیشک، قسم اللہ کی! مجھے بھی معلوم نہ تھا، ( مگر ) عائشہ رضی الله عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» ”ساری زمین قیامت کے دن رب کی ایک مٹھی میں ہو گی اور سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے“ ( الزمر: ۶۷ ) ، کے تعلق سے پوچھا: رسول اللہ! پھر اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنم کے پل پر، ( اس سے مجھے معلوم ہو گیا کہ جہنم بہت لمبی چوڑی ہو گی ) اس حدیث کے سلسلے میں پوری ایک کہانی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Masruq: that 'Aishah said: O Messenger of Allah! - On the Day of Resurrection the whole earth will be grasped by His Hand and the heavens will be rolled up in His Right Hand (39:67). Where will the believers be? He said: Upon the Sirat O 'Aishah!
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
اللہ کے رسول! «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» ”زمین ساری کی ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی، اور آسمان سارے کے سارے اس کے ہاتھ لپٹے ہوئے ہوں گے“ پھر اس دن مومن لوگ کہاں پر ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! وہ لوگ ( پل ) صراط پر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: How can I be comfortable when the one with the horn is holding it in his lips and his forehead is leaning forward, waiting to be given permission to blow? The Muslims said: So what should we say, O Messenger of Allah? He said: Say: 'Allah is sufficient for us and what a good protector He is. We rely upon [our Lord] Allah' - and perhaps Sufyan (one of the narrators) said: upon Allah we rely.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے، مسلمانوں نے کہا: ہم ( ایسے موقعوں پر ) کیا کہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا وربما» ”ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے“ راوی کہتے ہیں: کبھی کبھی سفیان نے «توكلنا على الله ربنا» کے بجائے «على الله توكلنا» روایت کیا ہے۔ ( اس کے معنی بھی وہی ہیں ) ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اعمش نے بھی اسے عطیہ سے اور عطیہ نے ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr [may Allah be pleased with him]: A Bedouin said: 'O Messenger of Allah! What is As-Sur?' He said: 'A horn which is blown into.'
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی نے کہا: اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک سینگ ( بھوپو ) ہے جس میں پھونکا جائے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور ہم اسے صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: In the market of Al-Madinah, a Jew said 'No! By the One who chose Musa above all humans.' He said: A man from the Ansar raised his hand and struck him in his face. He said 'You say this while Allah's Prophet (ﷺ) is among us?' So the Messenger of Allah (ﷺ) said 'And the Trumpet will be blown, and all who are in the heavens and all who are on the earth will swoon away, except him whom Allah wills. Then it will blown another time and behold, they will be standing, looking on (39:68). So I shall be the first to raise his head and there will be Musa holding on to one of the supports of the Throne. So I will not know if he raised his head before me, or if he was one of those whom Allah made the exception for. And whoever says: 'I am better than Yunus bin Matta, then he has indeed lied.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں سے چن لیا، ( یہ سنا ) تو ایک انصاری شخص نے ہاتھ اٹھا کر ایک طمانچہ اس کے منہ پر مار دیا، کہا: تو ایسا کہتا ہے جب کہ ( تمام انسانوں اور جنوں کے سردار ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ( دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» ”جب صور پھونکا جائے گا آواز کی کڑک سے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا آسمانوں و زمین کے سبھی لوگ غشی کھا جائیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو وہ کھڑے ہو کر دیکھتے ہوں گے ( کہ ان کے ساتھ ) کیا کیا جاتا ہے؟“ ( الزمر: ۶۹ ) ، پڑھی اور کہا: سب سے پہلا سر اٹھانے والا میں ہوں گا تو موسیٰ مجھے عرش کا ایک پایہ پکڑے ہوئے دکھائی دیں گے، میں نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا ہو گا یا وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «إلا من شاء الله» کہہ کر مستثنیٰ کر دیا ہے ۲؎ اور جس نے کہا: میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اس نے غلط کہا ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Prophet (ﷺ) said: A caller will call out: 'You shall have life and never die; you shall be healthy and never be ill; you shall be young and never grow old; you shall live in favor and never suffer difficult circumstances.' That is the saying of Allah Most High: This is Paradise, which you have been made to inherit because of your deeds that you used to do (43:72).
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکارنے والا پکار کر کہے گا: ( جنت میں ) تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہ ہو گے، کبھی محتاج و حاجت مند نہ ہو گے، اللہ تعالیٰ کے قول: «وتلك الجنة التي أورثتموها بما كنتم تعملون» ”یہی وہ جنت ہے جس کے تم اپنے نیک اعمال کے بدلے وارث بنائے جاؤ گے“ ( الزخرف: ۷۲ ) ، کا یہی مطلب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن مبارک وغیرہ نے یہ حدیث ثوری سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Narrated An-Nu'man bin Bashir: that the Prophet (ﷺ) said: Supplication is the worship. Then he recited: 'And your Lord said: 'Call upon Me, I will answer you. Verily, those who scorn my My worship, they will surely enter Hell in humiliation (43:72).'
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» ( غافر: 60 ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn Mas'ud: Three men whose bellies were fat, but whose hearts had little understanding, were arguing at the House. Two of them were from Quraish and one was from Thaqif - or two from Thaqif, and one from Quraish. One of them said: 'Do you think that Allah can hear what we are saying?' Another said: 'He can hear if we are loud, but He can not hear when we are quiet.' Another said: 'If He can hear when we are loud then He can hear when we are quiet.' So Allah, the Mighty and Sublime revealed: And you have not been hiding yourselves, lest your ears and your eyes and your skins should testify against you (41:22).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
تین آدمی خانہ کعبہ کے قریب جھگڑ بیٹھے، دو قریشی تھے اور ایک ثقفی، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی، ان کے پیٹوں پر چربی چڑھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا: کیا سمجھتے ہو کہ ہم جو کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے، دوسرے نے کہا: ہم جب زور سے بولتے ہیں تو وہ سنتا ہے اور جب ہم دھیرے بولتے ہیں تو وہ نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا: اگر وہ ہمارے زور سے بولنے کو سنتا ہے تو وہ ہمارے دھیرے بولنے کو بھی سنتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم» ( فصلت: 22 ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdullah: I was hiding beneath the covering of the Ka'bah, and three men came along - a man from the Quraish, and two of his brothers-in-law from Thaqif, or a man from Thaqif and two of his brothers-in-law from Quraish. Their bellies were fat, and they did not have much understanding. They said something that I could not understand, then one of them said: 'Do you think that Allah can hear what we are talking about?' Another said: 'If we raise our voices, He will hear it, but if we do not raise our voices, He will not hear it.' The other one said: 'If He can hear something from us, then He can hear all of it.' 'Abdullah said: I mentioned that to the Prophet (ﷺ), so Allah revealed: 'And you have not been hiding yourselves, lest your ears and your eyes and your skin should testify against you...' up to His saying: '...and you have become of those utterly lost! (42:22 & 23)
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: میں کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا کھڑا تھا، تین ناسمجھ جن کے پیٹوں کی چربی زیادہ تھی ) آئے، ایک قریشی تھا اور دو اس کے سالے ثقفی تھے، یا ایک ثقفی تھا اور دو اس کے قریشی سالے تھے، انہوں نے ایک ایسی زبان میں بات کی جسے میں سمجھ نہ سکا، ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے: کیا اللہ ہماری یہ بات چیت سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا: جب ہم بآواز بلند بات چیت کرتے ہیں تو سنتا ہے، اور جب ہم اپنی آواز بلند نہیں کرتے ہیں تو نہیں سنتا ہے، تیسرے نے کہا: اگر وہ ہماری بات چیت کا کچھ حصہ سن سکتا ہے تو وہ سبھی کچھ سن سکتا ہے، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر آیت «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم» ( فصلت: 22 ) سے لے کر «فأصبحتم من الخاسرين» ( فصلت: 23 ) تک نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں ـ: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔