Chapter on Tafsir
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 48
Abu Hurairah said: “We were with the Messenger of Allah when Surat Al-Jumuah was revealed, so he recited it until he reached: And other among them who have not yet joined them, A man said to him: ‘O Messenger of Allah! Who are these people who have not yet joined us?’ But he did not say anything to him.” He said: “Salman [Al-Farsi] was among us.” He said: “So the Messenger of Allah placed his hand upon Salman and said: ‘By the One in whose Hand is my soul! If faith were on Pleiades then men among these people would reach it.”’
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے اس کی تلاوت کی، جب آپ «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» ”اور اللہ نے اس نبی کو ان میں سے ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی بھیجا ہے جو اب تک ان سے ملے نہیں ہیں“ ( الجمعۃ: ۳ ) ، پر پہنچے تو ایک شخص نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں جو اب تک ہم سے نہیں ملے ہیں؟ ( آپ خاموش رہے ) اس سے کوئی بات نہ کی، سلمان ( فارسی ) رضی الله عنہ ہمارے درمیان موجود تھے، آپ نے اپنا ہاتھ سلمان پر رکھ کر فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو بھی ( اتنی بلندی اور دوری پر پہنچ کر ) ان کی قوم کے لوگ اسے حاصل کر کے ہی رہتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور عبداللہ بن جعفر، علی بن المدینی کے والد ہیں، یحییٰ بن معین نے انہیں ضعیف کہا ہے، ۲- ثور بن زید مدنی ہیں، اور ثور بن یزید شامی ہیں، اور ابوالغیث کا نام سالم ہے، یہ عبداللہ بن مطیع کے آزاد کردہ غلام ہیں، مدنی اور ثقہ ہیں، ۳- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ( اور اسی بنیاد پر صحیح ہے ) ۔
Jabir said: “The Prophet was standing and delivering a Khutbah for us on one Friday, when a caravan arrived in Al-Madinah. So the Companions of the Messenger of Allah rushed off until only twelve men remained. Among them were Abu Bakr and Umar. And This Ayah was revealed: And when they see some merchandise or some amusement, they disperse headlong to it.”
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے خطبہ دے رہے تھے، مدینہ کا ( تجارتی ) قافلہ آ گیا، ( یہ سن کر ) صحابہ بھی ( خطبہ چھوڑ کر ) ادھر ہی لپک لیے، صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے جن میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی تھے، اسی موقع پر آیت «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ”اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشہ نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ کے پاس جو ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے“ ( الجمعۃ: ۱۱ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Zaid bin Aslam said: “I was with my uncle when I heard Abdullah bin Ubayy bin Salul saying to his companions: Do not spend on those who are with the Messenger of Allah until they desert from him. If we return to Al-Madinah then the more honorable will expel the meaner among them. So I mentioned that to my uncle, then my uncle mentioned it to the Prophet. So the Prophet called for me to narrated it to him. Then the Messenger of Allah sent message to Abdullah bin Ubayy and his companions but they took an oath that they had not said it. So he did not believe me and he trusted what they said. I was struck with distress the likes of which I had not suffered before. So I just at in my house, and my uncle said to me: ‘You only wanted the Messenger of Allah to not believe you and hate you.’ Then Allah [Most High] revealed: ‘When the hypocrites come to you’ So the Messenger of Allah sent for me, and he recites it and said: ‘Indeed Allah has verified the truth of what you said.’”
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں اپنے چچا کے ساتھ تھا، میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو اپنے ساتھیوں سے کہتے ہوئے سنا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں، یہاں تک کہ وہ تتربتر ہو جائیں، اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا، میں نے یہ بات اپنے چچا کو بتائی تو میرے چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر دیا، آپ نے مجھے بلا کر پوچھا تو میں نے آپ کو ( بھی ) بتا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا کر پوچھا، تو انہوں نے قسم کھا لی کہ ہم نے نہیں کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھوٹا اور اسے سچا تسلیم کر لیا، اس کا مجھے اتنا رنج و ملال ہوا کہ اس جیسا صدمہ، اور رنج و ملال مجھے کبھی نہ ہوا تھا، میں ( مارے شرم و ندامت اور صدمہ کے ) اپنے گھر میں ہی بیٹھ رہا، میرے چچا نے کہا: تو نے یہی چاہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں جھٹلا دیں اور تجھ پر خفا ہوں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے «إذا جاءك المنافقون» والی سورت نازل فرمائی، تو آپ نے مجھے بلا بھیجا ( جب میں آیا تو ) آپ نے یہ سورۃ پڑھ کر سنائی، پھر فرمایا: ”اللہ نے تجھے سچا قرار دے دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Zaid bin Arqam said: “We were participating in a battle along with the Messenger of Allah, and there were some people from the Bedouins with us. So we all rushed toward some water and the Bedouins raced us to it. One of the Bedouins beat his companions to it and he (tried to obstruct) the pond, he placed rocks around it and he put a leather sheet over it until his companions came.” He said: “A man among the Ansar reached the Bedouin and he dropped the reigns of his camel to drink, but the Bedouin would not allow him. So he started removing the barriers around the water, but the Bedouin raised a stick beating the Ansari man on the head, and smashed it. He went to Abdullah bin Ubayy, the head of the hypocrite, to inform him – he was in fact one of his companions. So Abdullah bin Ubayy became enraged, the he said: ‘Do not spend anything on whoever is with Muhammad until they depart.’ Meaning the Bedouins. They were preparing food for the Messenger of Allah. So Abdullah said: ‘When they depart from Muhammad, then bring Muhammad some food, and let him and whoever is with him eat it.’ Then he said to his companions: ‘If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.’” Zaid said: “And I was riding behind the Messenger of Allah, and I had heard Abdullah bin Ubayy, so I informed my uncle who went to tell the Messenger of Allah. He sent a message to him (Abdullah) but he took an oath and denied it.” He said: “So the Messenger of Allah accepted what he said and did not believe me. So my uncle came to me and said: ‘You only wanted the Messenger of Allah to hate you, and the Muslims to say that you lied.’” He said: “I suffered such worry as has not been suffered by anyone else.” He said: “(Later) while I was on the move with the Messenger of Allah on a journey, my mind was relieved of worry, since the Messenger of Allah came to me and rubbed my ear and smiled in my face. I would never be happier than with that as long as the world remained. Then Abu Bakr caught up to me, and said: ‘What did the Messenger of Allah say to you?’ I said: ‘He did not say anything to me, he only rubbed my ear and smiled in my face.’ He said: ‘Receive the good news!’ Then Umar caught up with me and I said the same to him as I had said to Abu Bakr. In the morning the Messenger of Allah recited Surat Al-Munafiqin.”
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ بنی مصطلق میں ) جہاد کے لیے نکلے، ہمارے ساتھ کچھ اعرابی بھی تھے ( جب کہیں پانی نظر آتا ) تو ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ کر حاصل کر لینے کی کوشش کرتے، اعرابی پانی تک پہنچنے میں ہم سے آگے بڑھ جاتے ( اس وقت ایسا ہوا ) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، جب آگے نکلتا تو حوض کو بھرتا اور اس کے اردگرد پتھر رکھتا، اس پر چمڑے کی چٹائی ڈال دیتا، پھر اس کے ساتھی آتے، اسی موقع پر انصاریوں میں سے ایک اعرابی کے پاس آیا، اور اپنی اونٹنی کی مہار ڈھیلی کر دی تاکہ وہ پانی پی لے، مگر اس اعرابی شخص نے پانی پینے نہ دیا، انصاری نے باندھ توڑ دیا اعرابی نے لٹھ اٹھائی اور انصاری کے سر پر مار کر اس کا سر توڑ دیا، وہ انصاری منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی کے پاس آیا، وہ اس کے ( ہم خیال ) ساتھیوں میں سے تھا، اس نے اسے واقعہ کی اطلاع دی، عبداللہ بن ابی یہ خبر سن کر بھڑک اٹھا، غصہ میں آ گیا، کہا: ان لوگوں پر تم لوگ خرچ نہ کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جب تک کہ وہ ( یعنی اعرابی ) ہٹ نہ جائیں جب کہ ان کا معمول یہ تھا کہ کھانے کے وقت وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا اور موجود ہوتے تھے، عبداللہ بن ابی نے کہا: جب وہ لوگ محمد کے پاس سے چلے جائیں تو محمد کے پاس کھانا لے کر آؤ تاکہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھ ( خاص ) موجود لوگ کھا لیں، پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اگر ہم مدینہ ( بسلامت ) پہنچ گئے تو تم میں جو عزت والے ہیں انہیں ذلت والوں ( اعرابیوں ) کو مدینہ سے ضرور نکال بھگا دینا چاہیئے، زید کہتے ہیں: میں سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے عبداللہ بن ابی کی بات سن لی، تو اپنے چچا کو بتا دی، چچا گئے، انہوں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھیج کر اسے بلوایا، اس نے آ کر قسمیں کھائیں اور انکار کیا ( کہ میں نے ایسی باتیں نہیں کہی ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا مان لیا اور مجھے جھوٹا ٹھہرا دیا، پھر میرے چچا میرے پاس آئے، بولے ( بیٹے ) تو نے کیا سوچا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر غصہ ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے تجھے جھوٹا ٹھہرا دیا، ( یہ سن کر ) مجھے اتنا غم اور صدمہ ہوا کہ شاید اتنا غم اور صدمہ کسی اور کو نہ ہوا ہو گا، میں غم سے اپنا سر جھکائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں چلا ہی جا رہا تھا کہ یکایک آپ میرے قریب آئے میرے کان کو جھٹکا دیا اور میرے سامنے مسکرا دیئے مجھے اس سے اتنی خوشی ہوئی کہ اس کے بدلے میں اگر مجھے دنیا میں جنت مل جاتی تو بھی اتنی خوشی نہ ہوتی، پھر مجھے ابوبکر رضی الله عنہ ملے، مجھ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا: مجھ سے آپ نے کچھ نہیں کہا: البتہ میرے کان پکڑ کر آپ نے ہلائے اور مجھے دیکھ کر ہنسے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: خوش ہو جاؤ، پھر مجھے عمر رضی الله عنہ ملے، میں نے انہیں بھی وہی بات بتائی، جو میں نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہی تھی، پھر صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز فجر میں ) سورۃ منافقین پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Al-Hakam bin Utaibah said: “I heard Muhammad bin Ka’b Al-Qurazi – forty years ago – narrating from Zaid bin Arqam [may Allah be pleased with him] that during the battle of Tabuk, Abdullah bin Ubayy said: “If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.” He said: ‘So I went to the Prophet and mentioned that to him, but he (Abdullah) took an oath that he did not say it. My people blamed me for that, they said: “What did you expect to accomplish from this?’ So I went to my house and slept full of grief. Then the Prophet came to me’ or ‘I went to him, and he said: “Indeed Allah has verified the truth of what you said.” He said: ‘So this Ayah was revealed: there are the ones who say: “Do not spend on those who are with the Messenger of Allah until they desert from him.”
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ
میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی ( جب اس سے بازپرس ہوئی ) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی ( جھوٹ ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے یا میں آپ کے پاس پہنچا ( راوی کو شک ہو گیا ہے کہ زید بن ارقم رضی الله عنہ نے یہ کہا یا وہ کہا ) آپ نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے سچا ٹھہرایا ہے یہ آیت نازل ہوئی ہے: «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا» ”وہی لوگ تھے جو کہتے تھے ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں“ ( المنافقون: ۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sufyan narrated from Amr bin Dinar that he heard Jabir bin Abdullah saying: “We were in a battle” – Sufyan said: “They say it was the battle of Banu Mustaliq” – “A man from the Muhajirin kicked a man from the Ansar. The man from the Muhajirin said: ‘O Muhajirin!’ the man from the Ansar said: ‘O Ansar!’ The Prophet heard that and said: ‘What is this evil call of Jahliyyah?’ They said: ‘A man from the Muhajirin kicked a man from the Ansar.’ So the Prophet said: ‘Leave that, for it is offensive.’ Abdullah bin Ubayy bin Salul heard that and said: ‘Did they really do that? By Allah! If we return to Al-Madinah indeed the more honorable will expel therefrom the meaner.’ Umar said: ‘Allow me to chop off the head of this hypocrite, O Messenger of Allah!’ The Prophet said: ‘Leave him, I do not want the people to say that Muhammad kills his Companions.’” Someone other than Amr said: “So his son, Abdullah bin Abdullah, said: ‘By Allah! You shall not return until you say that you are the mean and that the Messenger of Allah is the honorable.’ So he did so.”
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ہم ایک غزوہ میں تھے، ( سفیان کہتے ہیں: لوگوں کا خیال یہ تھا کہ وہ غزوہ بنی مصطلق تھا ) ، مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری شخص کے چوتڑ پر لات مار دی، مہاجر نے پکارا: اے مہاجرین، انصاری نے کہا: اے انصاریو! یہ ( آواز ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی، فرمایا: ”جاہلیت کی کیسی پکار ہو رہی ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو لات مار دی ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ ( پکار ) چھوڑ دو، یہ قبیح و ناپسندیدہ پکار ہے“، یہ بات عبداللہ بن ابی بن سلول نے سنی تو اس نے کہا: واقعی انہوں نے ایسا کیا ہے؟ قسم اللہ کی مدینہ پہنچ کر ہم میں سے عزت دار لوگ ذلیل و بےوقعت لوگوں کو نکال دیں گے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانے دو ( گردن نہ مارو ) لوگ یہ باتیں کرنے لگیں کہ محمد تو اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتا ہے“، عمرو بن دینار کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: عبداللہ بن ابی سے اس کے بیٹے عبداللہ ابن عبداللہ نے ( تو یہاں تک ) کہہ دیا کہ تم پلٹ نہیں سکتے جب تک یہ اقرار نہ کر لو کہ تم ہی ذلیل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی باعزت ہیں تو اس نے اقرار کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ad-Dahhak bin Muzahim narrated: From Ibn Abbas [may Allah be pleased with him] who said: “Whoever has wealth, required him to perform Hajj to the House of his Lord, or upon which Zakat is obligatory, but he does not do it, then he shall ask to return (the world) upon his death.” A man said: “Oh Ibn Abbas! Have Taqwa of Allah! It is only the disbelievers who will be asked to return.” He said: “For that, I shall recite to you from the Qur’an: You who believe! Let not your properties or your children divert you from the remembrance of Allah. And whosever does that, then they are with the losers. And spend of that which We have provided you before death comes to one of you, and says: “My Lord! If only You would give me respite for a little while, then I should give Sadaqah” up to His saying: “And Allah is All-Aware of what you do.” He said: “So what makes Zakat obligatory?” He said: “When wealth reaches two hundred or above.” He said: “What makes Hajj obligatory?” He said: “Provisions and a camel.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حج بیت اللہ کو جا سکے یا اس پر اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہو اور وہ حج کو نہ جائے، زکاۃ ادا نہ کرے تو وہ مرتے وقت اللہ سے درخواست کرے گا کہ اسے وہ دنیا میں دوبارہ لوٹا دے، ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اللہ سے ڈرو، دوبارہ لوٹا دیئے جانے کی آرزو تو کفار کریں گے ( نہ کہ مسلمین ) ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے متعلق قرآن پڑھ کر سناتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يا أيها الذين آمنوا لا تلهكم أموالكم ولا أولادكم عن ذكر الله ومن يفعل ذلك فأولئك هم الخاسرون وأنفقوا من ما رزقناكم من قبل أن يأتي أحدكم الموت» سے «والله خبير بما تعملون» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں، اور جس نے ایسا کیا وہی لوگ ہیں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے، اور جو روزی ہم نے تمہیں دی ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آئے اور وہ کہنے لگے کہ اے میرے رب! کیوں نہ تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دے لیتا، اور نیک لوگوں میں سے ہو جاتا اور جب کسی کا مقررہ وقت آ جاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو سب معلوم ہے“ ( المنافقین: ۹-۱۱ ) ، تک۔ اس نے پوچھا: کتنے مال میں زکاۃ واجب ہو جاتی ہے؟ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: جب مال دو سو درہم ۱؎ ہو جائے یا زیادہ، پھر پوچھا: حج کب واجب ہوتا ہے؟ کہا: جب توشہ اور سواری کا انتظام ہو جائے۔
Ikrimah narrated that : Ibn Abbas was asked by a man about this Ayah: O you who believe! Verity, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them! He said: “These are men who submitted (to Islam) in Makkah, and they wanted to come to the Prophet but their wives and children refused to allow them to come to the Messenger of Allah. So when they came to the Messenger of Allah, they saw that the people had gained such understanding in the religion that they wanted to punish them (their families). So Allah revealed the Ayah: O you who believe! Verily, among your wives and your children there are enemies for you; therefore beware of them!”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ان سے ایک آدمی نے آیت «يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم فاحذروهم» ”اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے“ ( التغابن: ۱۴ ) ، کے بارے میں پوچھا کہ یہ کس کے بارے میں اتری ہے؟ انہوں نے کہا: اہل مکہ میں کچھ لوگ تھے جو ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا، مگر ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں نے انکار کیا کہ وہ انہیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، پھر جب وہ ( کافی دنوں کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور دیکھا کہ لوگوں نے دین کی فقہ، ( دین کی سوجھ بوجھ ) کافی حاصل کر لی ہے، تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو ( ان کے رکاوٹ ڈالنے کے باعث ) سزا دیں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ibn Abbas said: “I was ever determined to ask Umar about the two women, among the wives of the Prophet, about whom Allah [the Mighty and Sublime] said: If you two turn in repentance, your hearts are indeed so inclined… until once when Umar performed Hajj, and I performed Hajj along with him. I poured water for his Wudu from a water holder, and I said: ‘O Commander of the Believers! Who are the two women among the wives of the Prophet, about whom Allah said: If your two turn in repentance, you hearts are indeed so inclined?’ He said to me: ‘I am astonished at you O Ibn Abbas!’” – Az-Zubair (one of the narrators) said: “By Allah! He disliked what he asked him, but he did not withhold it from him.” – “He said to me: ‘It was Aishah and Hafsah.’” He said: “Then he began narrating the Hadith to me. He said: ‘We, the people of the Quraish, used to have the upper hand over our women. So when we arrived in Al-Madinah, we found a people whose women had the upper hand over them. Our women began acquiring the habits of their women. One day I became angry with my wife when she started talking back to to me, she said: “What bothers you about that? By Allah! The wives of the Prophet talk back to him, and one of them may stay away from him a whole day until the night?’” “He said: ‘I said to myself: “Whoever among them has done that, then she has thwarted herself and lost.’” “He said: ‘My house was in Al-Awali among those of Banu Umayyah, and I had a neighbor among the Ansar, and he and I would take turns visiting the Messenger of Allah.’ He said: ‘One day I would visit him and bring the news of the Revealation, and other than that, and one day he would visit him and bring the same. We heard stories that Ghassan were preparing their horses to attack us. He said: ‘One day he came to me in the evening and knocked on my door, so I went out to him. He said: “A horrible thing has happened.” I said: “Ghassan has come?” He said: “Worse than that. The Messenger of Allah has divorced his wives.’” He said: ‘I said to myself: “Hafsah has thwarted herself and is a loser! I though this would happen some day.’” He said: ‘After we prayed Subh, I put on my clothes, then went to visit Hafsah. There I found her crying. I said: “Has the Messenger of Allah divorced (all of you)?” She said: “I do not know. He has secluded himself in the upper room.’” He said: ‘So I wen, and came upon a black slave, I said: “Seek permission for Umar.’” He said: ‘So he entered then came out to me. He said: “I mentioned you to him, but he did not say anything.’” He said: ‘So I went to the Masjid. There I found a group of people sitting around the Minhar weeping, so I sat down with them. Then it became too much for me, so I went to the slave and said: “Seek permission for Umar.” He went in, then he came out to me and said: “I mentioned you to him, but he did not say anything.’” He said: ‘So I went to the Masjid again, and sat there until I could not take it any more, and I went back to the slave and said: “Seek permission for Umar.” He went in, then he came out to me and said: “I mentioned you to him but he did not say anything.’” He said: ‘So I turned to leave, when the slave called me back. He said: “Enter for he has given you permission.’” He said: ‘So I entered, and found the Prophet reclining upon a woven mat, and I saw the marks it left on his side. I said: “O Messenger of Allah! Have you divorced your women?” He said: “No.” I said: “Allahu Akbar! IF you only saw us O Messenger of Allah! We the people of the Quraish used to have the upper hand over our women, but when we came to Al-Madinah we found a people whose women had the upper hand over them. Our women began acquiring the habits of their women. One day I became angry with my wife, so when she started talking back to me I rebuked her and she said: ‘What bothers you about that? By Allah! The wives of the Prophet talk back to him, and one of them may stay away from him a whole day until the night?’” He said: “I said to Hafsah: ‘Do you talk back to the Messenger of Allah?’ She said: ‘Yes, and one of us may stay away from him all day until the night.’” He said: “I said: ‘Whoever among them has done that, then she has thwarted herself and lost. So any of you feel so secure against Allah becoming angry with you because of the anger of the Messenger of Allah, then she will be ruined?’ He said: ‘So the Prophet smiled.’ He said: ‘So I said to Hafsah: “Do not talk back to the Messenger of Allah, and don’t ask him for anything. Ask me for whatever you want. And do not be tempted by the behavior of your companions, for she is more beautiful than you, and more loved by the Messenger of Allah.’” He said: ‘So he smiled again, I said: “O Messenger of Allah! May I speak candidily?” He said: “Yes.’” He said: ‘I raised my head and did not see in the house except for three hides. So I said: “O Messenger of Allah! Supplicate to Allah to make your followers prosperous. For verily, He has made the Persians and the Romans prosper, and they do not worship Him.” He then sat up and said: “Do you have some doubts O Ibn Al-Khattab? They are a people whose good has been hastened for them in this world’s life.’” He said: ‘He swore that he would not enter upon his women for a month. So Allah censured him for that, and he made the atonement of an oath.’” Az-Zuhri said: “Urwah informed me that Aishah said: “When twenty-nine days passed, the Prophet entered upon me first, and he said: “O Aishah! I am about to mention something to you, but do not be hasty in reply until you consult your parents.’” She said: ‘Then he recited this Ayah: “O Prophet! Say to your wives.” She said: ‘I knew by Allah! That my parents would not tell me to part with him.’ She said: ‘I said: “Is it about this that I should consult with my parents? Indeed I want Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter.” Ma’mar (one of the narrators) said: “Ayyub informed me that Aishah said to him: ‘O Messenger of Allah! Do not inform your wives that I chose you.’ So the Prophet said: ‘Allah send me only as one who conveys (Muballigh), He did not send me as one causing hardship.’”
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه» عمر رضی الله عنہ نے مجھ سے حیرت سے کہا: ہائے تعجب! اے ابن عباس ( تمہیں اتنی سی بات معلوم نہیں ) ( زہری کہتے ہیں قسم اللہ کی ابن عباس رضی الله عنہما نے جو بات پوچھی وہ انہیں بری لگی مگر انہوں نے حقیقت چھپائی نہیں بتا دی ) انہوں نے مجھے بتایا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی الله عنہما ہیں، پھر وہ مجھے پوری بات بتانے لگے کہا: ہم قریش والے عورتوں پر حاوی رہتے اور انہیں دبا کر رکھتے تھے، مگر جب مدینہ آئے تو یہاں ایسے لوگ ملے جن پر ان کی بیویاں غالب اور حاوی ہوتی تھیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ان کے رنگ ڈھنگ سیکھنے لگیں، ایک دن ایسا ہوا کہ میں اپنی بیوی پر غصہ ہو گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بھی مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے ( سخت ) ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے، اس نے کہا: آپ کو یہ بات کیوں ناگوار لگ رہی ہے؟ قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور دن سے رات تک آپ کو چھوڑے رہتی ہیں ( روٹھی اور اینٹھی رہتی ) ہیں، میں نے اپنے جی میں کہا: آپ کی بیویوں میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور گھاٹے میں رہی، میرا گھر مدینہ کے بنی امیہ نامی محلہ میں عوالی کے علاقہ میں تھا، اور میرا ایک انصاری پڑوسی تھا، ہم باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے، ایک دن وہ آتا اور جو کچھ ہوا ہوتا وہ واپس جا کر مجھے بتاتا، اور ایسے ہی ایک دن میں آپ کے پاس آتا اور وحی وغیرہ کی جو بھی خبر ہوتی میں جا کر اسے بتاتا، ہم ( اس وقت ) باتیں کیا کرتے تھے کہ اہل غسان ہم سے لڑائی کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں کے پیروں میں نعلیں ٹھونک رہے ہیں، ایک دن عشاء کے وقت ہمارے پڑوسی انصاری نے آ کر، دروازہ کھٹکھٹایا، میں دروازہ کھول کر اس کے پاس گیا، اس نے کہا: ایک بڑی بات ہو گئی ہے، میں نے پوچھا: کیا اہل غسان ہم پر چڑھائی کر آئے ہیں؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، میں نے اپنے جی میں کہا: حفصہ ناکام رہی گھاٹے میں پڑی، میں سوچا کرتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے، جب میں نے فجر پڑھی تو اپنے کپڑے پہنے اور چل پڑا، حفصہ کے پاس پہنچا تو وہ ( بیٹھی ) رو رہی تھی، میں نے پوچھا: کیا تم سب بیویوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ہے، البتہ آپ اس بالاخانے پر الگ تھلگ بیٹھے ہیں، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں ( اٹھ کر آپ سے ملنے ) چلا، میں ایک کالے رنگ کے ( دربان ) لڑکے کے پاس آیا اور اس سے کہا: جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر کے آنے کی اجازت مانگو، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: وہ لڑکا آپ کے پاس گیا پھر نکل کر میرے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کے آنے کی خبر کی مگر آپ نے کچھ نہ کہا، میں مسجد چلا گیا ( دیکھا ) منبر کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے رو رہے تھے، میں بھی انہیں لوگوں کے پاس بیٹھ گیا، ( مجھے سکون نہ ملا ) میری فکرو تشویش بڑھتی گئی، میں اٹھ کر دوبارہ لڑکے کے پاس چلا آیا، میں نے کہا: جاؤ آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، تو وہ اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، اس نے کہا: میں نے آپ کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں دوبارہ مسجد میں آ کر بیٹھ گیا، مگر مجھ پر پھر وہی فکر سوار ہو گئی، میں ( سہ بارہ ) لڑکے کے پاس آ گیا اور اس سے کہا: جاؤ اور آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، وہ لڑکا اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، کہا: میں نے آپ سے آپ کے آنے کا ذکر کیا مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا، ( یہ سن کر ) میں پلٹ پڑا، یکایک لڑکا مجھے پکارنے لگا، ( آ جائیے آ جائیے ) اندر تشریف لے جائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے، میں اندر چلا گیا، میں نے دیکھا آپ بوریئے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں اور اس کا اثر و نشان آپ کے پہلوؤں میں دیکھا، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: اللہ اکبر، آپ نے دیکھا ہو گا اللہ کے رسول! ہم قریشی لوگ اپنی بیویوں پر کنٹرول رکھتے تھے، لیکن جب ہم مدینہ آ گئے تو ہمارا سابقہ ایک ایسی قوم سے پڑ گیا ہے جن پر ان کی بیویاں حاوی اور غالب رہتی ہیں، ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ( ان کے طور طریقے ) سیکھنے لگیں، ایک دن اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے یہ سخت برا لگا، کہنے لگی آپ کو کیوں اتنا برا لگ رہا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور کوئی بھی عورت دن سے رات تک آپ کو چھوڑ کر ( روٹھی و اینٹھی ) رہتی ہے، میں نے حفصہ سے کہا: کیا تم پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں، ہم میں کوئی بھی آپ سے ( خفا ہو کر ) دن سے رات تک آپ سے علیحدہ رہتی ہے، میں نے کہا: تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ گھاٹے میں رہی اور ناکام ہوئی، کیا تم میں سے ہر کوئی اس بات سے مطمئن ہے کہ اللہ اپنے رسول کی ناراضگی کے سبب اس سے ناراض و ناخوش ہو جائے اور وہ ہلاک و برباد ہو جائے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے حفصہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب نہ دو اور نہ آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کرو، جس چیز کی تمہیں حاجت ہو وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، اور تم بھروسے میں نہ رہو تمہاری سوکن تو تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی ہے ۱؎ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مسکرا دیئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں دل بستگی کی بات کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، عمر کہتے ہیں: میں نے سر اٹھایا تو گھر میں تین کچی کھالوں کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دی، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمایئے کہ وہ آپ کی امت کو وہ کشادگی و فراوانی دے جو اس نے روم و فارس کو دی ہے، جب کہ وہ اس کی عبادت و بندگی بھی نہیں کرتے ہیں، ( یہ سن کر ) آپ جم کر بیٹھ گئے، فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! کیا تم ابھی تک اسلام کی حقانیت کے بارے میں شک و شبہہ میں پڑے ہوئے ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان کے حصہ کی اچھی چیزیں پہلے ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک مہینہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے فہمائش کی اور آپ کو کفارہ یمین ( قسم کا کفارہ ) ادا کرنے کا حکم دیا۔ زہری کہتے ہیں: عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ رضی الله عنہا نے بتایا کہ جب مہینے کے ۲۹ دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کا ذکر کرنے والا ہوں، اپنے والدین سے مشورہ کئے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا“، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي قل لأزواجك» ( آخر آیت تک ) ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی خوش رنگینیاں چاہیئے، تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دوں، اور خوش اسلوبی سے تم کو رخصت کر دوں، اور اگر تمہیں اللہ اور اس کا رسول چاہیں اور آخرت کی بھلائی چاہیں تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“ ( الاحزاب: ۲۸، ۲۹ ) ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ جانتے تھے، قسم اللہ کی میرے والدین مجھے آپ سے علیحدگی اختیار کر لینے کا ہرگز حکم نہ دیں گے، میں نے کہا: کیا میں اس معاملے میں والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی اور پسند کرتی ہوں۔
Abdul-Wahid bin Sulaim said: “I arrived in Makkah and met Ata bin Abi Rabah. I said: ‘O Abu Muhammad! Some people with us speak about Al-Qadar.’ Ata said: ‘I met Al-Walid bin Ubadah bin As-Samit and he said: “My father narrated to me, he said: ‘I heard the Messenger of Allah saying: “Verily the first of what Allah created was the Pen. He said to it: “Write.” So it wrote what will be forever.’”
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ
میں مکہ آیا، عطاء بن ابی رباح سے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے کہا: ابو محمد! ہمارے یہاں کچھ لوگ تقدیر کا انکار کرتے ہیں، عطا نے کہا: میں ولید بن عبادہ بن صامت سے ملا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے: سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا ( بنایا ) پھر اس سے کہا: لکھ، تو وہ چل پڑا، اور ہمیشہ ہمیش تک جو کچھ ہونے والا تھا سب اس نے لکھ ڈالا ۱؎۔ اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Al-Ahnaf bin Wais narrated : from Al-Abbas bin Abdul-Muttalib who claimed that he was sitting in Al-Batha with a group, and the Messenger of Allah was sitting amongst them, when a cloud passed over them. They looked at it, and the Messenger of Allah said: ‘Di you know what its name it?’ They said: ‘Yes. This is As-Sahab (cloud).’ The Messenger of Allah saidl: ‘Al-Muzn (rain cloud)?’ They said: ‘Yes. This is As-Sahab (cloud).’ Then the Messenger of Allah said: ‘Do you know how much distance there is between the heavens and the earth?’ They said: ‘No, by Allah we do not know.’ He said: ‘The distance between every two of them is either seventy-one, or two, or three, years, and the heaven that is above that one is like that.’ Until he enumerated Seven heavens like that. Then he said: ‘Above the seventh heaven is a sea, Between its highest part and its lowest is just as there is between one heaven to another heaven. Then above their backs is the Throne. Between its lowest and highest parts is the same as what is between one heaven to another heaven, and Allah is above that.’”
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں وادی بطحاء میں صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور آپ بھی انہیں لوگوں میں تشریف فرما تھے، اچانک لوگوں کے اوپر سے ایک بدلی گزری، لوگ اسے دیکھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس کا نام کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہم جانتے ہیں، یہ «سحاب» ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا یہ «مزن» ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں یہ «مزن» بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اسے «عنان» ۱؎ بھی کہتے ہیں“، لوگوں نے کہا: جی ہاں یہ «عنان» بھی ہے، پھر آپ نے لوگوں سے کہا: کیا تم جانتے ہو آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی ہم نہیں جانتے، آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں اکہتر ( ۷۱ ) بہتر ( ۷۲ ) یا تہتر ( ۷۳ ) سال کا فرق ہے اور جو آسمان اس کے اوپر ہے وہ بھی اتنا ہی دور ہے“، اور اسی فرق کے ساتھ آپ نے سات آسمان گن ڈالے، پھر آپ نے فرمایا: ”ساتویں آسمان پر ایک دریا ہے جس کی اوپری سطح اور نچلی سطح میں اتنی دوری ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی دوری ہے ( یعنی وہ اتنا زیادہ گہرا ہے ) اور ان کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ( فرشتے ) ہیں جن کی کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی دوری اور لمبائی ہے جتنی دوری اور لمبائی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر ان کی پیٹھوں پر عرش ہے، عرش کی نچلی سطح اور اوپری سطح میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی سی دوری ہے ( یعنی عرش اتنا موٹا ہے ) اور اللہ اس کے اوپر ہے۔ عبد بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے ہوئے سنا ہے، عبدالرحمٰن بن سعد حج کرنے کیوں نہیں جاتے کہ وہاں ان سے یہ حدیث ہم سنتے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ولید بن ابوثور نے سماک سے اسی طرح یہ حدیث روایت کی ہے اور اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، ۳- شریک نے سماک سے اس حدیث کے بعض حصوں کی روایت کی ہے اور اسے موقوفا روایت کیا ہے، مرفوعاً نہیں کیا، ۴- عبدالرحمٰن، یہ ابن عبداللہ بن سعد رازی ہیں۔
Abdur-Rahman bin Abdullah bin Sa’d Ar-Razi [and he is Ad-Dashtaki] narrated : that his father informed him, that his father – may Allah have mercy upon him – informed him, he said: “I saw a man in Bukhara upon a mule wearing a black Imamah, saying: ‘It was given to me by the Messenger of Allah.’”
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد رازی سے روایت ہے کہ
ان کے باب عبداللہ نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو بخارا میں خچر پر سوار سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے دیکھا وہ کہتا تھا: یہ وہ عمامہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہنایا ہے ۱؎۔
Abu Sa’eed narrated : from the Prophet regarding Allah’s saying: Like Al-Muhl – he said: “Like boiling oil, such that when it is brought close to one’s face the skin of his face will fall off into it.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ”جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا“ ( المعارج: ۸ ) ، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔
Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said: the Messenger of Allah did not recite for the jinns nor did he see them. The Messenger of Allah went out with a group of his Companions towards the Ukaz market. Something had been intervening between the Shayatin and the news from the heavens, and shooting stars has been sent upon them, so the Shayatin returned to their people and they said to them: ‘What is wrong with you?’ They replied: ‘Something has been intervening between us and the news of the heavens except that something has happened. So travel east and west in the earth and look for what is it that intervenes between you an between the news of the heavens.’” He said: “So they went traveling east and west on the earth, seeking whatever it was that had been intervening between them and the news of the heavens. A group of those who were traveling towards Tihamah headed in the direction of the Messenger of Allah, while he was at Nakhlah, enroute to the Ukaz market. He was performing Salat Al-Fajr with his Companions. When they heard the Quran they listened to it, and they said: ‘By Allah! This is what has been intervening between us and the news of the heavens.’” He said: “Then they returned to their people and said: ‘O our people! Verily we heard a wonderful Recitation! It guides to the Right Path, and we have believed therein, and we shall never join anything with our Lord.’ So Allah, Blessed is He and Most High, revealed to His Prophet: Say: ‘It has been revealed to me that a group of the jinn listened.’ So the saying of the jinns was only revealed to him.”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کھڑی ہوئی ہے، تم زمین کے مشرق و مغرب میں چاروں طرف پھیل جاؤ اور دیکھو کہ وہ کون سی چیز ہے جو ہمارے اور ہمارے آسمان سے خبریں حاصل کرنے کے درمیان حائل ہوئی ( اور رکاوٹ بنی ) ہے چنانچہ وہ زمین کے چاروں کونے مغربین و مشرقین میں تلاش کرنے نکل کھڑے ہوئے، شیاطین کا جو گروہ تہامہ کی طرف نکلا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ( اس وقت ) آپ سوق عکاظ جاتے ہوئے مقام نخلہ میں تھے، اور اپنے صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے قرآن سنا تو پوری توجہ سے کان لگا کر سننے لگے، ( سن چکے تو ) انہوں نے کہا: یہ ہے قسم اللہ کی! وہ چیز جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: یہیں سے وہ لوگ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے، ( وہاں جا کر ) کہا: اے میری قوم! «إنا سمعنا قرآنا عجبا يهدي إلى الرشد فآمنا به ولن نشرك بربنا أحدا» ”ہم نے عجیب و غریب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے ( اب ) ہم کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے“ ( الجن: ۱-۲ ) ، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت «قل أوحي إلي أنه استمع نفر من الجن» نازل فرمائی، اور آپ پر جن کا قول وحی کیا گیا ۲؎۔
Ibn Abbas said: “The jinns used to ascent through the heavens, trying to listen about the Revealation. So when they heard a statement, they would add nine to it. The statement that they heard would be true, while what they added was false. So it was with the advent of the Messenger of Allah that they were prevented from their places. So they mentioned that to Iblis – and the stars were not shot at them before that. So Iblis said to them: ‘This is naught but an event that has occurred in the earth.’ So he sent out his armies, and they found the Messenger of Allah standing in Salat between two mountains” – I think he said “in Makkah” – “So they (returned) to meet with him (Iblis), and informed him. He said: ‘This is the event that has happened on the earth.’”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جن آسمان کی طرف چڑھ کر وحی سننے جایا کرتے تھے، اور جب وہ ایک بات سن لیتے تو اس میں اور بڑھا لیتے، تو جو بات وہ سنتے وہ تو حق ہوتی لیکن جو بات وہ اس کے ساتھ بڑھا دیتے وہ باطل ہوتی، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرما دیئے گئے تو انہیں ( جنوں کو ) ان کی نشست گاہوں سے روک دیا گیا تو انہوں نے اس بات کا ذکر ابلیس سے کیا: اس سے پہلے انہیں تارے پھینک پھینک کر نہ مارا جاتا تھا، ابلیس نے کہا: زمین میں کوئی نیا حادثہ وقوع پذیر ہوا ہے جبھی ایسا ہوا ہے، اس نے پتا لگانے کے لیے اپنے لشکر کو بھیجا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو پہاڑوں کے درمیان کھڑے نماز پڑھتے ہوئے ملے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ واقعہ مکہ میں پیش آیا، وہ لوگ آپ سے ملے اور جا کر اسے بتایا، پھر اس نے کہا یہی وہ حادثہ ہے جو زمین پر ظہور پذیر ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jabir bin Abdullah [may Allah be pleased with him] said: “I heard the Messenger of Allah – and he was narrating about the pause in Revelation – so he said in his narration: “I was walking, when I heard a voice from the heavens. So I raised my head, and there was an angel, the one that had come to me at Hira, sitting upon a chair between the heavens and the earth. I fled from him out of fear, and I returned and said: ‘Wrap me up! Wrap me up! So they covered me.” Then Allah, Most High revealed: ‘O you who are wrapped up! Arise and warm.’ Up to His saying: ‘And keep away from the Rujz!’ before the Salat was made obligatory.”
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ وحی موقوف ہو جانے کے واقعہ کا ذکر کر رہے تھے، آپ نے دوران گفتگو بتایا: ”میں چلا جا رہا تھا کہ یکایک میں نے آسمان سے آتی ہوئی ایک آواز سنی، میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ فرشتہ جو ( غار ) حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، رعب کی وجہ سے مجھ پر دہشت طاری ہو گئی، میں لوٹ پڑا ( گھر آ کر ) کہا: مجھے کمبل میں لپیٹ دو، تو لوگوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا، اسی موقع پر آیت «يا أيها المدثر قم فأنذر» سے «والرجز فاهجر» ”اے کپڑا اوڑھنے والے، کھڑے ہو جا اور لوگوں کو ڈرا، اور اپنے رب کی بڑائیاں بیان کر، اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر، اور ناپاکی کو چھوڑ دے“ ( المدثر: ۱-۵ ) ، تک نازل ہوئی، یہ واقعہ نماز فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث یحییٰ بن کثیر نے بھی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطہ سے جابر سے بھی روایت کی ہے، ۳- اور ابوسلمہ کا نام عبداللہ ہے۔ ( یہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے بیٹے تھے اور ان کا شمار فقہائے مدینہ میں ہوتا تھا ) ۔
Abu Sa’eed narrated that: The Messenger of Allah said: “As-Sa’ud is a mountain of fire, a disbeliever will be rised upon it for seventy autumns, and them similarly he will fall down it, forever.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صعود» جہنم کا ایک پہاڑ ہے، اس پر کافر ستر سال تک چڑھتا رہے گا پھر وہاں سے لڑھک جائے گا، یہی عذاب اسے ہمیشہ ہوتا رہے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے مرفوع صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس حدیث کا کچھ حصہ عطیہ سے مروی ہے جسے وہ ابوسعید سے موقوفاً روایت کرتے ہیں۔
Jabir [bin Abdullah] said: “Some people from the Jews said to some people among the Companions of the Prophet: ‘Does your Prophet know how many keepers are there in Jahannam?’ They said: ‘We do not know until we ask our Prophet and said: ‘O Muhammad! Your Companions were defeated today.’ He said: ‘In what were they defeated?’ He said: ‘Some Jews asked them if their Prophet knew how many keepers are there in Jahannam.’ He said: ‘So what did they say?’ He said: ‘They said: “We do not know until we ask our Prophet.” He said: ‘Are a people defeated who are asked about something that they do not know, merely because they said, “We do not know until we ask our Prophet?” Rather, there (people) did ask their Prophet, they said: “Show us Allah plainly.” I should ask the enemies of Allah about the Darmak.’ So when they came to him they said: ‘O Abul-Qasim! How many keepers are there in Jahannum?’ He said: ‘This and that many.’ One time ten, and one time nine. They said: ‘Yes.’ He said to them: ‘What is the dirt of Paradise?’” He said: “They were silent for a while, then they said: ‘Is it bread O Abul-Qasim?’ So the Prophet said: ‘The bread is made of Ad-Darmak.’”
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
کچھ یہودیوں نے بعض صحابہ سے پوچھا: کیا تمہارا نبی جانتا ہے کہ جہنم کے نگراں کتنے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم نہیں جانتے مگر پوچھ کر جان لیں گے، اسی دوران ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہا: اے محمد! آج تو تمہارے ساتھی ہار گئے، آپ نے پوچھا: ”کیسے ہار گئے؟“ اس نے کہا: یہود نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہارا نبی جانتا ہے کہ جہنم کے نگراں کتنے ہیں؟ آپ نے پوچھا: ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ اس نے کہا: انہوں نے کہا: ہمیں نہیں معلوم، ہم اپنے نبی سے پوچھ کر بتا سکتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا وہ قوم ہاری ہوئی مانی جاتی ہے جس سے ایسی چیز پوچھی گئی ہو جسے وہ نہ جانتی ہو اور انہوں نے کہا ہو کہ ہم نہیں جانتے جب تک کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ نہ لیں؟ ( اس میں ہارنے کی کوئی بات نہیں ہے ) البتہ ان لوگوں نے تو اس سے بڑھ کر بےادبی و گستاخی کی بات کی، جنہوں نے اپنے نبی سے یہ سوال کیا کہ ہمیں اللہ کو کھلے طور پر دکھا دو“، آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ان دشمنوں کو ہمارے سامنے لاؤ میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھتا ہوں، وہ نرم مٹی ہے“، جب وہ سب یہودی آ گئے تو انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! جہنم کے نگراں لوگوں کی کتنی تعداد ہے؟ آپ نے اس طرح ہاتھ سے اشارہ فرمایا: ”ایک مرتبہ دس ( انگلیاں دکھائیں ) اور ایک مرتبہ نو ( کل ۱۹ ) “ انہوں نے کہا: ہاں، ( آپ نے درست فرمایا ) اب آپ نے پلٹ کر ان سے پوچھا: ”جنت کی مٹی کا ہے کی ہے؟“ راوی کہتے ہیں: وہ لوگ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر کہنے لگے: ابوالقاسم! وہ روٹی کی ہے، آپ نے فرمایا: ”روٹی میدہ ( نرم مٹی ) کی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے مجالد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Anas bin Malik narrated that: The Messenger of Allah said regarding this Ayah: “He is the One deserving of the Taqwa, and He is the One Who forgives. – he said: ‘Allah, Blessed is He and Most High, said: “I am the most worthy to have Taqwa of, so whoever has Taqwa of Me, not having any god besides Me, then I am most worthy that I forgive him.”
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» ”وہی ( اللہ ) ہے جس سے ڈرنا چاہیئے، اور وہی مغفرت کرنے والا ہے“ ( المدثر: ۵۶ ) ، کے بارے میں فرمایا: اللہ عزوجل کہتا ہے کہ میں اس کا اہل اور سزاوار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، تو جو مجھ سے ڈرا اور میرے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرایا تو مجھے لائق ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- سہل حدیث میں قوی نہیں مانے جاتے ہیں اور وہ یہ حدیث ثابت سے روایت کرنے میں تنہا ( بھی ) ہیں۔
Ibn Abbas said: “When the Quran was being revealed to the Messenger of Allah, he would move his tongue in attempt to memorize it. So Allah, Blessed is He and Most High, revealed: Move not your tongue concerning it to make haste therewith.” He said: “So he would move his two lips.” And Sufyan (a sub-narrator) would move his two lips.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا تو جلدی جلدی زبان چلانے ( دہرانے ) لگتے تاکہ اسے یاد و محفوظ کر لیں، اس پر اللہ نے آیت «لا تحرك به لسانك لتعجل به» ”اے نبی! ) آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں“ ( القیامۃ: ۱۶ ) ، نازل ہوئی۔ ( راوی ) اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، ( ان کے شاگرد ) سفیان نے بھی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ سفیان ثوری موسیٰ بن ابی عائشہ کو اچھا سمجھتے تھے۔