Chapter on Tafsir
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 48
Narrated Ibn 'Umar: that the Messenger of Allah (ﷺ) gave a Khutbah to the people on the day of the conquest of Makkah, and he said: O you people! Verily Allah has removed the slogans of Jahiliyyah from you, and its reverence of its forefathers. So, now there are two types of men: A man who is righteous, has Taqwa and honorable before Allah, and a wicked man, who is miserable and insignificant to Allah. People are children of Adam and Allah created Adam from the dust. Allah said: O you people! We have created you from a male and a female, and made you into nations and tribes, that you may know one another. Verily, the most honorable of you with Allah is the one who has most Taqwa. Verily, Allah is All-Knowing, All-Aware (49:13).
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ”لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر و غرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے، اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں ( ۱ ) اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور ( ۲ ) دوسرا فاجر بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمزور، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں۔ اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير» ”اے لوگو! ہم نے تمہیں نر اور مادہ ( کے ملاپ ) سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، ( کہ کون کس قبیلے اور کس خاندان کا ہے ) بیشک اللہ کی نظر میں تم میں سب سے زیادہ معزز و محترم وہ شخص ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے ولا ہے“ ( الحجرات: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند کے سوا جسے عبداللہ بن دینار ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کسی اور سند سے مروی نہیں جانتے، ۳- عبداللہ بن جعفر ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے، اور عبداللہ بن جعفر - یہ علی ابن مدینی - کے والد ہیں، ۴- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Al-Hasan: from Samurah that the Prophet (ﷺ) said: Al-Hasab is wealth and Al-Karam is Taqwa.
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «حسب» مال کو کہتے ہیں اور «کرم» سے مراد تقویٰ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سلام بن ابی مطیع کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Anas bin Malik: that Allah's Prophet (ﷺ) said: Jahannam will continue saying: 'Are there any more' until the Might Lord puts His Foot over it. It will say: 'Enough! Enough! By Your Might.' And one side of it will close in on the other.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کہتی رہے گی «هل من مزيد» ”کوئی اور ( جہنمی ) ہو تو لاؤ، ( ڈال دو اسے میرے پیٹ میں ) “ ( قٓ: ۳۰ ) ، یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، اس وقت جہنم «قط قط» ”بس، بس“ کہے گی اور قسم ہے تیری عزت و بزرگی کی ( اس کے بعد ) جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے میں ضم ہو جائے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ فائدہ ۱؎: یعنی ایک حصہ دوسرے حصہ سے چمٹ کر یکجا ہو جائے گا۔
Narrated Abu Wa'il: from a man of Rabi'ah who said: I arrived in Al-Madinah, entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned the emissary of 'Ad to him. I said: 'I seek refuge in Allah from being like the emissary of 'Ad.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'And what of the emissary of 'Ad?' He said: I said: You have got the one who is informed about it. When 'Ad suffered from famine they sent Qail and he stayed with Bakr bin Mu'awiyah. He gave him wine to drink and two slave girls to sing for him. Then he went out towards the mountains of Murrah and said: O Allah! I did not come to You to cure a sick person, nor to ransom a captive! So give water to Your slave as You used to do, and give water to Bakr bin Mu'awiyah along with him. He said that out of gratitude for the wine which he gave him to drink. So two clouds appeared and it was said to him: Choose one of them. So he chose the black one. It was said to him: Take it as ashes that will leave none in 'Ad. So he mentioned that the wind sent upon them was not more than this circle - meaning the circle of a ring - then he recited: ...We sent against them the barren wind; it spared nothing that it reached, but blew it into broken spreads of rotten ruins. (51:41 & 42)
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ
قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا: میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس ( دوران گفتگو ) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ( اچھا ہوا ) آپ نے واقف کار سے پوچھا ( میں آپ کو بتاتا ہوں ) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل ( نامی شخص ) کو ( امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ ) بھیجا، وہ ( آ کر ) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا رخ کیا ( مہرہ ایک قبیلہ کے دادا کا نام ہے ) اس نے ( دعا مانگی ) کہا: اے اللہ! میں تیرے پاس کوئی مریض لے کر نہیں آیا کہ اس کا علاج کراؤں، اور نہ کسی قیدی کے لیے آیا اسے آزاد کرا لوں، تو اپنے بندے کو پلا ( یعنی مجھے ) جو تجھے پلانا ہے اور اس کے ساتھ بکر بن معاویہ کو بھی پلا ( اس نے یہ دعا کر کے ) اس شراب کا شکریہ ادا کیا، جو بکر بن معاویہ نے اسے پلائی تھی، ( انجام کار ) اس کے لیے ( آسمان پر ) کئی بدلیاں چھائیں اور اس سے کہا گیا کہ تم ان میں سے کسی ایک کو اپنے لیے چن لو، اس نے ان میں سے کالی رنگ کی بدلی کو پسند کر لیا، کہا گیا: اسے لے لو اپنی ہلاکت و بربادی کی صورت میں، عاد قوم کے کسی فرد کو بھی نہ باقی چھوڑے گی، اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عاد پر ہوا ( آندھی ) اس حلقہ یعنی انگوٹھی کے حلقہ کے برابر ہی چھوڑی گئی۔ پھر آپ نے آیت «إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم ما تذر من شيء أتت عليه إلا جعلته كالرميم» ”یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی جس چیز کو بھی وہ ہوا چھو جاتی اسے چورا چورا کر دیتی“ ( الذاریات: ۴۲ ) ، پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو کئی لوگوں نے سلام ابومنذر سے، سلام نے عاصم بن ابی النجود سے، عاصم نے ابووائل سے اور ابووائل نے ( «عن رجل من ربیعة» کی جگہ ) حارث بن حسان سے روایت کیا ہے۔ ( یہ روایت آگے آ رہی ہے ) ۲- حارث بن حسان کو حارث بن یزید بھی کہا جاتا ہے۔
Narrated Abu Wa'il: that Al-Harith bin Yazid Al-Bakri said: I arrived in Al-Madinah and entered the Masjid and found it full with the people and I also noticed a black banner raised high, while Bilal was holding a sword before the Messenger of Allah (ﷺ). I said: 'What is the matter with the people?' They said: 'He intends to send 'Amr bin Al-'As somewhere.' So he mentioned the Hadith in its entirety, similar in meaning to the narration of Sufyan bin 'Uyainah (#3273). He said: He is also called Al-Harith bin Hassan.
حارث بن یزید البکری کہتے ہیں کہ
میں مدینہ آیا، مسجد نبوی میں گیا، وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، کالے جھنڈ ہوا میں اڑ رہے تھے اور بلال رضی الله عنہ آپ کے سامنے تلوار لٹکائے ہوئے کھڑے تھے، میں نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا: آپ کا ارادہ عمرو بن العاص رضی الله عنہ کو ( فوجی دستہ کے ساتھ ) کسی طرف بھیجنے کا ہے، پھر پوری لمبی حدیث سفیان بن عیینہ کی حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی بیان کی۔ حارث بن یزید کو حارث بن حسان بھی کہا جاتا ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: that the Prophet (ﷺ) said: And at the setting of the stars (52:49) (about) the two Rak'ah before Fajr. And after the prostrations (50:40) 'The two Rak'at after Al-Maghrib.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إدبار النجوم» ۱؎ ( نجوم کے پیچھے ) سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں یعنی سنتیں ہیں اور «إدبار السجود» ( سجدوں کے بعد ) سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعتیں ہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو مرفوعاً صرف محمد بن فضیل کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ رشدین بن کریب سے روایت کرتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے محمد ( محمد بن فضیل ) اور رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھا کہ ان دونوں میں کون زیادہ ثقہ ہے؟ انہوں نے کہا: دونوں ایک سے ہیں، لیکن محمد بن فضیل میرے نزدیک زیادہ راجح ہیں ( یعنی انہیں فوقیت حاصل ہے ) ۴- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) سے اس بارے میں پوچھا ( آپ کیا کہتے ہیں؟ ) کہا: کیا خوب دونوں میں یکسانیت ہے، لیکن رشدین بن کریب میرے نزدیک ان دونوں میں قابل ترجیح ہیں، کہتے ہیں: میرے نزدیک بات وہی درست ہے جو ابو محمد یعنی دارمی نے کہی ہے، رشدین محمد بن فضیل سے راجح ہیں اور پہلے کے بھی ہیں، رشدین نے ابن عباس کا زمانہ پایا ہے اور انہیں دیکھا بھی ہے۔
Narrated ['Abdullah] bin Mas'ud: When the Messenger of Allah (ﷺ) reached Sidrat Al-Muntaha He said: 'There terminates everything that ascends from the earth, and everything that descends from above. So there Allah gave him three, which He did not give to any Prophet before him: He made fiver prayers obligatory upon him, He gave him the last Verses of Surat Al-Baqarah, and He pardoned the grave sins for those of his Ummah who do not associate anything with Allah.' Ibn Mas'ud said regarding the Ayah: When that covered the Sidrah which did cover it! (53:16) he said: The sixth Sidrah in heavens. Sufyan said: Golden butterflies and Sufyan indicated with his hand in a fluttering motion. Others besides Malik bin Mighwal said: There terminates the creatures' knowledge, there is no knowledge for them of what is above that.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( معراج کی رات ) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو کہا: یہی وہ آخری جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، ( ۱ ) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، ( ۲ ) سورۃ البقرہ کی «خواتیم» ( آخری آیات ) عطا کی گئیں، ( ۳ ) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، ( پھر ) ابن مسعود رضی الله عنہ نے آیت «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ”ڈھانپ رہی تھی سدرہ کو جو چیز ڈھانپ رہی تھی“ ( النجم: ۱۶ ) ، پڑھ کر کہا «السدرہ» ( بیری کا درخت ) چھٹے آسمان پر ہے، سفیان کہتے ہیں: سونے کے پروانے ڈھانپ رہے تھے اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے انہیں چونکا دیا ( یعنی تصور میں چونک کر ان پروانوں کے اڑنے کی کیفیت دکھائی ) مالک بن مغول کے سوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہیں تک مخلوق کے علم کی پہنچ ہے اس سے اوپر کیا کچھ ہے کیا کچھ ہوتا ہے انہیں اس کا کچھ بھی علم اور کچھ بھی خبر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ash-Shaibani: I asked Zirr bin Hubaish about the saying of Allah the Might and Sublime: And was a distance of two bow lengths or less (53:9). So he said: 'Ibn Mas'ud informed me that the Prophet (ﷺ) saw Jibra'il, and he had six-hundred wings.'
شیبانی کہتے ہیں کہ
میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنى» ”دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا“ ( النجم: ۹ ) ، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن مسعود رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Narrated Ash-Sha'bi: Ibn 'Abbas met Ka'b at Arafat, so he asked him about something and he kept on saying the Takbir until it reverberated off of the mountains. So Ibn 'Abbas (finally) said: 'We are Banu Hashim.' So Ka'b said: 'Indeed Allah divided His being seen and His speaking between Muhammad and Musa. He spoke to Musa two times, and Muhammad saw Him two times.' Masruq said: 'I entered upon 'Aishah and asked her if Muhammad saw his Lord.' She said: 'You have said something that makes my hair stand on end.' I said: 'Take it easy.' Then I recited: Indeed he saw of the great signs of his Lord (53:18). So she said: 'What do you mean by that? That is only Jibra'il. Whoever informed you that Muhammad saw his Lord, or that (ﷺ) concealed something he was ordered with, or he knew of the five things about which Allah, [Most High] said: Verily Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain (31:34) - then he has fabricated the worst lie. Rather he (ﷺ) saw Jibra'il, but he did not see him in his (real) image except two times. One time at Sidrat Al-Muntaha and one time in Jiyad, he had six-hundred wings which filled the horizon.'
عامر شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی الله عنہما کی ملاقات کعب الاحبار سے عرفہ میں ہوئی، انہوں نے کعب سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیرات پڑھیں جن کی صدائے بازگشت پہاڑوں میں گونجنے لگی، ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: ہم بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں، کعب نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی رویت و دیدار کو اور اپنے کلام کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کے درمیان تقسیم کر دیا ہے۔ اللہ نے موسیٰ سے دو بار بات کی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو دو بار دیکھا۔ مسروق کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس پہنچا، میں نے ان سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے تو ایسی بات کہی ہے جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، میں نے کہا: ٹھہریئے، جلدی نہ کیجئے ( پوری بات سن لیجئے ) پھر میں نے آیت «لقد رأى من آيات ربه الكبرى» ”پھر آپ نے اللہ کی بڑی آیات و نشانیاں دیکھیں“ ( النجم: ۱۸ ) ، تلاوت کی ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا: ”تمہیں کہاں لے جایا گیا ہے؟ ( کہاں بہکا دیے گئے ہو؟ ) یہ دیکھے جانے والے تو جبرائیل تھے، تمہیں جو یہ خبر دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ یا جن باتوں کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ان میں سے آپ نے کچھ چھپا لیا ہے، یا وہ پانچ چیزیں جانتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث» ”اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ بارش کب اور کہاں نازل ہو گی“ ( سورۃ لقمان: ۳۴ ) ، اس نے بڑا جھوٹ بولا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، جبرائیل علیہ السلام کو آپ نے ان کی اپنی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، ( ایک بار ) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک بار جیاد میں ( جیاد نشیبی مکہ کا ایک محلہ ہے ) جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو بازو تھے، انہوں نے سارے افق کو اپنے پروں سے ڈھانپ رکھا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: داود بن ابی ہند نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے اور مسروق نے عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کی، داود کی حدیث مجالد کی حدیث سے چھوٹی ہے ( لیکن وہی صحیح ہے ) ۔
Narrated 'Ikrimah: that Ibn 'Abbas said: Muhammad saw his Lord. I said: Did Allah not say: No vision can grasp Him, but He grasps all vision (6:103). He said: Woe unto you! That is when He manifests His Light. But Muhammad saw his Lord two times.
عکرمہ سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار» ”اس کو آنکھیں نہیں پا سکتی ہیں ہاں وہ خود نگاہوں کو پا لیتا ہے“ ( الانعام: ۱۰۳ ) ، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے ( تم سمجھ نہیں سکے ) یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنے ذاتی نور کے ساتھ تجلی فرمائے، انہوں نے کہا: آپ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Salamah: from Ibn 'Abbas regarding Allah's saying: And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha (53:13 & 14). So He revealed to His worshiper whatever he revealed (53:10). And was a distance of two bow lengths or less (53:9). Ibn 'Abbas said: The Prophet (ﷺ) saw Him.
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ
ابن عباس رضی الله عنہما نے آیت: «ولقد رآه نزلة أخرى عند سدرة المنتهى» ۱؎ «فأوحى إلى عبده ما أوحى» ۲؎ «فكان قاب قوسين أو أدنى» ۳؎ کی تفسیر میں کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated 'Ikrimah: that Ibn 'Abbas said (regarding the Ayah): The heart lied not in what he (ﷺ) saw (53:11). He said: He saw Him with his heart.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے آیت «ما كذب الفؤاد ما رأى» ”جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے دل نے جھٹلایا نہیں ( بلکہ اس کی تصدیق کی ) “ ( النجم: ۱۱ ) ، پڑھی، کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دل کی آنکھ سے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Shaqiq: I said to Abu Dharr: 'If I saw the Prophet (ﷺ) then I would asked him. He said: 'What is it that you would have asked him about?' I said: 'I would have asked him if Muhammad saw his Lord?' He said: 'I did ask him that, and he (ﷺ) said: I saw light.'
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ
میں نے ابوذر رضی الله عنہ سے کہا: اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہوتا تو آپ سے پوچھتا، انہوں نے کہا: تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا پوچھتے؟ میں نے کہا: میں یہ پوچھتا کہ کیا آپ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ ابوذر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے آپ سے یہ بات پوچھی تھی، آپ نے فرمایا: ”وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Zaid: from 'Abdullah (regarding the Ayah): The heart lied not in what he saw (53:11). He said: The Messenger of Allah (ﷺ) saw Jibra'il in a Hullah (dress normally made up of two pieces) of Rafraf filling what is between the heavens and the earth.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اس آیت: «ما كذب الفؤاد ما رأى» کی تفسیر میں کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو باریک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ آسمان و زمین کی ساری جگہیں ان کے وجود سے بھر گئی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Ata: from Ibn 'Abbas (regarding this Ayah): Those who avoid great sins and Al-Fawahish except Al-Lamam (minor sins) (53:32). He said: The Prophet (ﷺ) said: 'Your forgiveness, O Allah is so ample, and which of Your worshipers has not committed Al-Lamam (minor sins)!'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الذين يجتنبون كبائر الإثم والفواحش إلا اللمم» ”جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر چھوٹے گناہ ( جو کبھی ان سے سرزد ہو جائیں تو وہ بھی معاف ہو جائیں گے ) “ ( النجم: ۳۲ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے رب اگر بخشتا ہے تو سب ہی گناہ بخش دے، اور تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس سے کوئی چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہوا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف زکریا بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) in Mina, when the moon was cleft asunder into two parts. Part of it was behind the mountain, and part of it before it. The Messenger of Allah (ﷺ) said to us: 'Bear witness' meaning: The house has drawn near, and the moon has been cleft asunder (54:1).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا ( اس جانب ) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب ( پہاڑ کے آگے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”گواہ رہو، یعنی اس بات کے گواہ رہو کہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی: قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Anas: The people of Makkah asked the Prophet (ﷺ) for a sign, so the moon was cleft asunder in Makkah two times (meaning two parts), so the following was revealed: 'The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder, up to his saying: 'Magic, Mustamir (54:1 & 2)' meaning 'Going away.'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی ( معجزہ ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں: «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» ( یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو ) امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn Mas'ud: The moon was cleft asunder during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so the Prophet (ﷺ) said to us: 'Bear witness.'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: The moon was split during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Bear witness.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب گواہ رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Muhammad bin Jubair bin Mut'im: from his father who said: The moon was split during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) until it became as two sections, one above this mountain and one above that mountain. So they said: 'Muhammad has cast a spell upon us.' Some of them said: 'If he could cast a spell upon us, he can not cast a spell upon all of the people.'
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے ( اس کی تردید کی ) کہا: اگر انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ہے تو ( باہر کے ) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لا سکتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے، جبیر نے اپنے باپ محمد سے، محمد نے ان ( جبیر پوتا ) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے۔