Chapter on Tafsir
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 48
Narrated Umm Hani: that regarding Allah's saying: '...And you practice evil in your meetings... (29:29) that the Prophet (ﷺ) said: They would throw pebbles at people of the land and make a mockery of them.
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اور ہم اسے صرف حاتم بن ابی صغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سماک سے روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے سلیم بن اخضر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: that regarding Alif Lam Mim. The Romans have been defeated (In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious. Within Bid' years...) (30 1 & 2) The Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr about the wager: Why were you not more cautious Abu Bakr? For indeed Al-Bid' refers to what is from three to nine.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے ان کے ( قریش سے ) شرط لگانے پر کہا: ”اے ابوبکر تم نے شرط لگانے میں «الم غلبت الروم» کی احتیاط کیوں نہ برتی، کیونکہ لفظ ( «بضع» ) تین سے نو تک کے لیے بولا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے زہری عبیداللہ کے واسطہ سے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Narrated 'Atiyyah: Abu Sa'eed narrated: On the Day of Badr, the Romans had a victory over the Persians. So the believers were pleased with that, then the following was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated, up to His saying: 'the believers will rejoice - with the help of Allah... (30:1-5)' He said: So the believers were happy with the victory of the Romans over the Persians.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
بدر کی لڑائی کے موقع پر جب رومی اہل فارس پر غالب آ گئے تو مومنوں کو اس سے خوشی حاصل ہوئی ۱؎ اس پر یہ آیت: «الم غلبت الروم» سے لے کر «يفرح المؤمنون بنصر الله» ۲؎ تک نازل ہوئی، وہ کہتے ہیں: روم کے فارس پر غلبہ سے مسلمان بےحد خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتِ الرُّومُ» ( «غ» اور «ل» کے زبر کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
Narrated Sa'eed bin Jubair: from Ibn 'Abbas, regarding the saying of Allah, Most High: Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land (30:1-3) he said: Ghulibat wa Ghalabat (defeated and then victorious). He said: The idolaters wanted the Persians to be victorious over the Romans because they too were people who worshiped idols, while the Muslims wanted the Romans to be victorious over the Persians because they were people of the Book. This was mentioned to Abu Bakr, so Abu Bakr mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'They will certainly prevail.' Abu Bakr mentioned that to them, and they said: 'Make a wager between us and you; if we win, we shall get this and that, and if you win, you shall get this or that.' He made the term five years, but they (the Romans) were not victorious. They mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said: Why did you not make it less (than) - He (one of the narrators said): I think he said: ten? He said: Sa'eed said: Al-Bid' is what is less than then - he said: Afterwards the Romans have been victorious. He said: That is what Allah Most High said: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated' up to His saying: 'And on the day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills (30:1-5).' Sufyan said: I heard that they were victorious over them on the Day of Badr.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض» کے بارے میں کہتے ہیں: «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا گیا ہے، کفار و مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس روم پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ کفار و مشرکین اور وہ سب بت پرست تھے جب کہ مسلمان چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں، اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے، انہوں نے اس کا ذکر ابوبکر رضی الله عنہ سے کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے رسول اللہ سے، آپ نے فرمایا: ”وہ ( رومی ) ( مغلوب ہو جانے کے بعد پھر ) غالب آ جائیں گے، ابوبکر رضی الله عنہ نے جا کر انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: ( ایسی بات ہے تو ) ہمارے اور اپنے درمیان کوئی مدت متعین کر لو، اگر ہم غالب آ گئے تو ہمیں تم اتنا اتنا دینا، اور اگر تم غالب آ گئے ( جیت گئے ) تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ تو انہوں نے پانچ سال کی مدت رکھ دی، لیکن وہ ( رومی ) اس مدت میں غالب نہ آ سکے، ابوبکر رضی الله عنہ نے یہ بات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”تم نے اس کی مدت اس سے کچھ آگے کیوں نہ بڑھا دی؟“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ کی مراد اس سے دس ( سال ) تھی، ابوسعید نے کہا کہ «بضع» دس سے کم کو کہتے ہیں، اس کے بعد رومی غالب آ گئے۔ ( ابن عباس رضی الله عنہما ) کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے قول «الم غلبت الروم» سے «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء» تک کا یہی مفہوم ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ وہ ( رومی ) لوگ ان پر اس دن غالب آئے جس دن بدر کی جنگ لڑی گئی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف سفیان ثوری کی اس روایت سے جسے وہ حبیب بن ابو عمرہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، جانتے ہیں۔
Narrated Niyar bin Mukram Al-Aslami: When (the following) was revealed: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious in Bid' years (30:1-4).' - on the day that these Ayat were revealed, the Persians had defeated the Romans, and the Muslims had wanted the Romans to be victorious over them, because they were the people of the Book. So Allah said about that: 'And on that day, the believers will rejoice - with the help of Allah. He helps whom He wills, and He is the Almighty, the Most Merciful (30:4 & 5). The Quraish wanted the Persians to be victorious since they were not people of the Book, nor did they believe in the Resurrection. So when Allah revealed these Ayat, Abu Bakr As-Siddiq, may Allah be pleased with him, went out, proclaiming throughout Makkah: 'Alif Lam Mim. The Romans have been defeated. In the nearest land, and they, after their defeat, will be victorious, in Bid' years (30:1-4).' Some of the Quraish said: 'Then this is (a bet) between us and you. Your companion claims that the Romans will defeat the Persians in Bid' years, so why have have a bet on that between us and you?' Abu Bakr said: 'Yes.' This was before betting has been forbidden. So Abu Bakr and the idolaters made a bet, and they said to Abu Bakr: 'What do you think - Bid' means something between three and nine years, so let us agree on the middle.' So they agreed on six years; Then six years passed without the Romans being victorious. The idolaters took what they won in the bet from Abu Bakr. When the seventh year came and the Romans were finally victorious over the Persians, the Muslims rebuked Abu Bakr for agreeing to six years. He said: 'Because Allah said: 'In Bid' years.' At that time, many people became Muslims.
نیار بن مکرم اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» نازل ہوئی، اس وقت اہل فارس روم پر غالب و قابض تھے، اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ان پر غالب آ جائیں، کیونکہ رومی اور مسلمان دونوں ہی اہل کتاب تھے، اور اسی سلسلے میں یہ آیت: «ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله ينصر من يشاء وهو العزيز الرحيم» ”اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، وہ زبردست ہے مہربان بھی ہے“ ( الروم: ۴-۵ ) ، بھی اتری ہے، قریش چاہتے تھے کہ اہل فارس غالب ہوں کیونکہ وہ اور اہل فارس دونوں ہی نہ تو اہل کتاب تھے، اور نہ دونوں ہی قیامت پر ایمان رکھتے تھے، جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر صدیق رضی الله عنہ مکہ کے اطراف میں اعلان کرنے نکل کھڑے ہوئے، انہوں نے چیخ چیخ کر ( بآواز بلند ) اعلان کیا، «الم غلبت الروم في أدنى الأرض وهم من بعد غلبهم سيغلبون في بضع سنين» ”رومی مغلوب ہو گئے زمین میں، وہ مغلوب ہو جانے کے بعد چند سالوں میں پھر غالب آ جائیں گے“ تو قریش کے کچھ لوگوں نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آؤ ہمارے اور تمہارے درمیان اس بات پر شرط ہو جائے، تمہارے ساتھی ( نبی ) کا خیال ہے کہ رومی فارسیوں پر چند سالوں کے اندر اندر غالب آ جائیں گے، کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم سے اس بات پر شرط لگا لیں، انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ ہم تیار ہیں، ابوبکر رضی الله عنہ اور مشرکین دونوں نے شرط لگا لی، اور شرط کا مال کہیں رکھوا دیا، مشرکین نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: تم «بضع» کو تین سے نو سال کے اندر کتنے سال پر متعین و مشروط کرتے ہو؟ ہمارے اور اپنے درمیان بیچ کی ایک مدت متعین کر لو، جس پر فیصلہ ہو جائے، راوی کہتے ہیں: انہوں نے چھ سال کی مدت متعین اور مقرر کر دی۔ راوی کہتے ہیں کہ روم کے مشرکین پر غالب آنے سے پہلے چھ سال گزر گئے تو مشرکین نے ابوبکر رضی الله عنہ کے بطور شرط جمع کرائے ہوئے مال کو لے لیا، مگر جب ساتواں سال شروع ہوا اور رومی فارسیوں پر غالب آ گئے، تو مسلمانوں نے ابوبکر رضی الله عنہ پر نکتہ چینی کی کہ یہ ان کی غلطی تھی کہ چھ سال کی مدت متعین کی جب کہ اللہ تعالیٰ نے «بضع سنین» کہا تھا، ( اور «بضع» تین سال سے نو سال تک کے لیے مستعمل ہوتا ہے ) ۔ راوی کہتے ہیں: اس پیشین گوئی کے برحق ثابت ہونے پر بہت سارے لوگ ایمان لے آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث نیار بن مکرم کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوالزناد کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔
Narrated Abu Umamah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not sell the female singers, nor purchase them, nor teach them (to sing). And there is no good in trade in them, and their prices are unlawful. It was about the likes of this that this Ayah was revealed: 'And among mankind is he who purchases idle talk to divert from the way of Allah (31:6).'
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیاں نہ بیچو، نہ انہیں خریدو اور نہ انہیں گانا بجانا سکھاؤ، ان کی تجارت میں کوئی بہتری نہیں ہے، ان کی قیمت حرام ہے“، ایسے ہی مواقع کے لیے آپ پر آیت «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”بعض لوگ ایسے ہیں جو لہو و لعب کی چیزیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں“ ( لقمان: ۶ ) ، آخر تک نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث قاسم سے ابوامامہ کے واسطہ سے مروی ہے، قاسم ثقہ ہیں اور علی بن یزید میں ضعیف سمجھے جاتے ہیں، یہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے۔
Anas bin Malik said about this Ayah: Their sides forsake their beds (32:16) - It was revealed about waiting for [this] Salat which you call Al-'Atamah.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
یہ آیت «تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ”ان کے پہلو خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، اس نماز کا انتظار کرنے والوں کے حق میں اتری ہے جسے رات کی پہلی تہائی کی نماز کہتے ہیں، یعنی نماز عشاء ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: that the Prophet (ﷺ) said: Allah Most High said: 'I have prepared for My righteous worshipers what no eye has seen, no ear has heard, and no human heart has conceived.' And that is testified to in Allah's [the Mighty and Sublime] Book: No person knows what is kept hidden for them of delights of the eyes (32:17).
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں نے اپنے نیک صالح بندوں کے لیے ایسی چیز تیار کی ہے جسے کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے، اس کی تصدیق کتاب اللہ ( قرآن ) کی اس آیت «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» ”کوئی شخص نہیں جانتا جو ہم نے ان کے ( صالح ) اعمال کے بدلے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ( کے لیے ) پوشیدہ رکھ رکھی ہے“ ( السجدۃ: ۱۶ ) ، سے ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ash-Sha'bi: While he was on the Minbar, I heard Al-Mughirah bin Shu'bah saying - and he attributed it to the Prophet (ﷺ) - 'Indeed Musa [peace be upon him] asked his Lord: O Lord! Who is the lowest in rank among the people of Paradise? He said: A man who comes after the people of Paradise have been admitted to Paradise, and he is told to enter. He says: 'How can I enter when they have gotten all of their abodes, and all that is to be had?' He said: So it is said to him: 'Would you accept if you were to have what a king in the world?' He says: 'Yes, O Lord! I accept.' So it is said to him: 'Then for you is this and its like, and its like again, and its like again.' So he says: 'I accept, O Lord!' So it is said to him: 'Then for you is this and ten the like thereof.' So he says: 'I accept, O Lord!' So it is said: 'Indeed you shall have this, and whatever your soul desires, and whatever delights your eyes.'
شعبی کہتے ہیں
میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کو منبر پر کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھتے ہوئے کہا: اے میرے رب! کون سا جنتی سب سے کمتر درجے کا ہو گا؟ اللہ فرمائے گا: جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد ایک شخص آئے گا، اس سے کہا جائے گا: تو بھی جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا: میں کیسے داخل ہو جاؤں جب کہ لوگ ( پہلے پہنچ کر ) اپنے اپنے گھروں میں آباد ہو چکے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس جتنا کچھ ہوتا ہے اتنا تمہیں دے دیا جائے، تو کیا تم اس سے راضی و خوش ہو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے کہا جائے گا: تو جا تیرے لیے یہ ہے اور اتنا اور اتنا اور اتنا اور، وہ کہے گا: میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے پھر کہا جائے گا جاؤ تمہارے لیے یہ سب کچھ اور اس سے دس گنا اور بھی وہ کہے گا، میرے رب! بس میں راضی ہو گیا، تو اس سے کہا جائے گا: اس ( ساری بخشش و عطایا ) کے باوجود تمہارا جی اور نفس جو کچھ چاہے اور جس چیز سے بھی تمہیں لذت ملے وہ سب تمہارے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ان میں سے بعض ( محدثین ) نے اس حدیث کو شعبی سے اور انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، لیکن ( حقیقت یہ ہے کہ ) مرفوع روایت زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Zuhair: Qabus bin Abi Zabyan narrated to us, that his father narrated to him, he said: 'We said to Ibn 'Abbas: What is the meaning of the saying of Allah the Mighty and Sublime: Allah has not made for any man two hears inside his body.? (33:4) He said: The Prophet of Allah (ﷺ) stood one day for Salat, then he was unsure (regarding how much he had prayed). The hypocrites who prayed with him said: 'Don't you see that he has two hearts, a heart with you and another with them?' So Allah revealed: 'Allah has not made for any man two hearts inside his body.'
ابوظبیان کہتے ہیں کہ
ہم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا: ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» ”اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں“ ( الاحزاب: ۴ ) ، کا کیا معنی و مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ سے کچھ سہو ہو گیا، آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے منافقین نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» نازل فرمائی۔
Narrated Anas: My paternal uncle Anas bin An-Nadr - after whom I was named - did not participate in the battle of Badr with the Messenger of Allah (ﷺ). This distressed him and he said: 'I was absent from the first battle which the Messenger of Allah (ﷺ) attended. By Allah! If Allah gives me the opportunity to participate in another battle along with the Messenger of Allah (ﷺ), then Allah will see what I will do!' He said: He did not want to say more than that. A year later, he attended the battle of Uhud, where he saw Sa'd bin Mu'adh and said: 'O Abu 'Amr where are you going?' He said: 'I long for the fragrance of Paradise and I have found it near the mountains of Uhud.' He fought them until he was killed. They found more than eighty wounds on his body, be they from blows of a sword, puncture wounds, or arrows. My paternal aunt Ar-Ruba'i bin An-Nadr said: 'I could not recognize my brother except by his finger tips.' And this Ayah was revealed: 'Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah; of them some have fulfilled their vow, and some of them are still waiting, but they have never changed in the least (33:23).'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میرے چچا انس بن نضر رضی الله عنہ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، یہ بات انہیں بڑی شاق اور گراں گزر رہی تھی، کہتے تھے: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حاضر و موجود تھے میں اس سے غیر حاضر رہا، ( اس کا مجھے بےحد افسوس ہے ) مگر سنو! قسم اللہ کی! اب اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یقیناً اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں، راوی کہتے ہیں: وہ اس کے سوا اور کچھ کہنے سے ڈرتے ( اور بچتے ) رہے، پھر اگلے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک ہوئے، سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا ان سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا: ابوعمرو! کہاں کا ارادہ ہے انہوں نے کہا: اے واہ! میں تو احد پہاڑ کے پرے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں پھر وہ لڑے اور اس شان سے لڑے کہ شہید کر دیئے گئے، ان کے جسم میں اسی ( ۸۰ ) سے کچھ زائد چوٹ تیر و نیزہ کے زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر رضی الله عنہا نے کہا: میں اپنے بھائی کی نعش صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچان پائی، اسی موقع پر آیت «رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» ”ایمان والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کے ساتھ جو انہوں نے وعدے کیے تھے ان میں وہ پورے اترے، ان میں سے کچھ تو انتقال کر گئے اور کچھ لوگ مرنے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے اس میں یعنی ( اللہ سے کیے ہوئے اپنے معاہدہ میں کسی قسم ) کی تبدیلی نہیں کی“ ( الاحزاب: ۲۳ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Anas bin Malik: My paternal uncle was absent from the fighting of Badr, so he said: 'I was absent from the first fight the Messenger of Allah (ﷺ) fought with idolaters, so if Allah grants me to participate in a fight with the idolaters, then Allah will see what I will do!' So on the Day of Uhud, when the Muslims were driven back he said: 'O Allah! Indeed I am innocent before you of what these people - meaning the idolaters - have done, and I beg of You to excuse these people for what they have done - meaning the Companions. Then he went forward and met up with Sa'd. He said: 'O my brother! Whatever you do, I am with you!' But he was not able to do the same as him. He was found with more than eighty wounds, between blows with the sword, thrusts of a spear, or arrow wounds. We would say: 'It was about him and his companions that (the following) was revealed: 'Of them some have fulfilled their vow, and some of them are still waiting, but they have never changed in the least (33:23). (One of the narrators) Yazid said: Meaning this Ayah.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ان کے چچا ( انس بن نضر ) بدر کی لڑائی میں غیر حاضر تھے، انہوں نے ( افسوس کرتے ہوئے ) کہا: اس پہلی لڑائی میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے لڑائی میں غیر موجود رہا، اب اگر اللہ نے مشرکین سے مجھے کسی جنگ میں لڑنے کا موقع دیا تو اللہ ضرور دیکھے گا کہ میں ( بے جگری و بہادری سے کس طرح لڑتا اور ) کیا کرتا ہوں۔ پھر جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع آیا، اور مسلمان ( میدان سے ) چھٹ گئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جسے یہ لوگ یعنی مشرکین لے کر آئے ہیں اور ان سے یعنی آپ کے صحابہ سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے، اس کے لیے تجھ سے معذرت خواہ ہوں، پھر وہ آگے بڑھے، ان سے سعد بن معاذ رضی الله عنہ کی ملاقات ہوئی، سعد نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ جو بھی کریں میں آپ کے ساتھ ساتھ ہوں، ( سعد کہتے ہیں ) لیکن انہوں نے جو کچھ کیا وہ میں نہ کر سکا، ان کی لاش پر تلوار کی مار کے، نیزے گھوپنے کے اور تیر لگنے کے اسّی ( ۸۰ ) سے کچھ زیادہ ہی زخم تھے، ہم کہتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آیت «فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» اتری ہے۔ یزید ( راوی ) کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ( پوری ) آیت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- انس بن مالک کے چچا کا نام انس بن نضر رضی الله عنہما ہے۔
Narrated Musa bin Talhah: I entered upon Mu'awiyah and he said:' Shall I not give you some good news?' I said: 'Of course!' He said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Talhah is among those who fulfilled their vow.'
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ
میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے کہا: ضرور، سنائیے، کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”طلحہ رضی الله عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «ممن قضى نحبه» فرمایا ہے“، یعنی جو اپنا کام پورا کر چکے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- جبکہ یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ صرف طلحہ کی حدیث سے روایت کی جاتی ہے، ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
Narrated Musa and 'Eisa, the sons of Talhah: from their father: The Companions of the Prophet (ﷺ) said, to an unknowing Bedouin man: 'Ask him who it is that has fulfilled his vow.' They were not in the habit of asking questions out of their respect and reverence for him. So the Bedouin asked him, but he turned away from him. Then he asked him again, but he turned away from him. Then again he asked him, but he turned away from him. Then I stood looking from the door of the Masjid, while I was wearing a green garment, and I saw the Prophet (ﷺ), he said: 'Where is the one who was asking about the one who fulfilled his vow?' The Bedouin said: 'Here I am O Messenger of Allah!' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This is one who has fulfilled his vow.'
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
صحابہ نے ایک جاہل دیہاتی سے کہا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھے کہ اس سے مراد کیا ہے؟ وہ لوگ خود آپ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے، وہ آپ کا ادب و احترام کرتے تھے اور آپ سے ڈرتے بھی تھے، اعرابی نے آپ سے پوچھا، مگر آپ نے اعراض کیا، اس نے پھر پوچھا، آپ نے پھر اس کی طرف توجہ نہ دی، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر بےرخی برتی، پھر میں مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور ( اندر آیا ) میں ( نمایاں ) سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ” «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے“؟ اعرابی، ( گنوار دیہاتی ) نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص ( طلحہ ) انہی لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اپنے کام اور ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن بکیر کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]: When the Messenger of Allah (ﷺ) was ordered to tell his wives to make a choice, he started with me. He said: 'O 'Aishah! I am going to mention something to you, but you should not hasten (to reply) until you have consulted your parents.' She said: And he knew that my parents would not have ordered me to part from him.' She said: Then Allah [Most High] revealed: 'O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world and its glitter then come...' until reaching: '...for the good doers among you an enormous reward (33:28 & 29).' I said: 'For what should I consult my parents? Indeed I want Allah, His Messenger, and the abode of the Hereafter.' The (remaining) wives of the Prophet (ﷺ) did the same as I did.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں ۱؎ تو آپ نے اپنی اس کاروائی کی ابتداء مجھ سے کی: آپ نے کہا: عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھتا ہوں، تم اپنے ماں باپ سے مشورہ لیے بغیر جواب دہی میں جلد بازی نہ کرنا، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ خوب سمجھتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی و علیحدگی اختیار کر لینے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين» سے لے کر یہاں تک «للمحسنات منكن أجرا عظيما» ۲؎ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں ماں باپ سے مشورہ لوں؟ ( نہیں مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ) میں اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، آپ کی دیگر بیویوں نے بھی ویسا ہی کچھ کہا جیسا میں نے کہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ سے روایت کی ہے۔
Narrated 'Umar bin Abi Salamah - the step-son of the Prophet (ﷺ): When these Ayat were revealed to the Prophet (ﷺ): 'Allah only wishes to remove the Rijs from you, O members of the family, and to purify you with a thorough purification (33:33)' in the home of Umm Salamah, he called for Fatimah, Hasan, Husain, and wrapped him in the cloak, and 'Ali was behind him, so he wrapped him in the cloak, then he said: 'O Allah! These are the people of my house, so remove the Rijs from them, and purify them with a thorough purification.' So Umm Salamah said: 'And I, Prophet of Allah?' He said: 'You are in your place (meaning you are already a member of my household), and you are goodness.'
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ ( ہر قسم کی ) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین ( رضی الله عنہم ) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔
Narrated Anas bin Malik: For six months, the Messenger of Allah (ﷺ) would pass by the door of Fatimah when going to the Fajr prayer saying: 'As-Salat O People of the house! Allah only wishes to remove the Rijs from you, O members of the family, and to purify you with thorough purification (33:33).'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی الله عنہا کے دروازے کے سامنے سے چھ مہینے تک گزرتے رہے، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» ”اے میرے گھر والو! نماز فجر کے لیے اٹھو“ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوالحمراء، معقل بن یسار اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]: If the Messenger of Allah (ﷺ) was to have concealed anything that was revealed to him, then he would have concealed these Ayat: 'When you said to him on whom Allah has bestowed grace (meaning by Islam); and you have done a favor (meaning that he was a slave and you freed him) Keep your wife to yourself, and have Taqwa of Allah. But you did hide in yourself that which Allah will make manifest, you did fear the people whereas Allah had better right that you should fear Him' up to His saying: 'And Allah's command must be fulfilled (33:37).' They said: 'He married his wife's son, so Allah revealed: 'Muhammad is not the father of any of your men, but he is the Messenger of Allah and the Last of the Prophets (33:40).' The Messenger of Allah (ﷺ) had taken (adopted) him as a son when he was small, and he remained being called 'Zaid bin Muhammad' until he grew up to adulthood, then Allah revealed: 'Call them by their fathers, then your brothers in religion and your Mawali (33:5). (Say) So-and-so, the Mawla of so-and-so, and; So-and-so, the brother of so-and-so. 'That is more just with Allah' meaning that doing that is more just to Allah.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کی کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه» ”جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اسلام کے ذریعہ انعام کیے تھے اور آپ نے بھی ( اسے آزاد کر کے ) اس پر انعام و احسان کیے تھے کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو ( طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا تم لوگوں کے ( لعن طعن ) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ تم اس سے ڈرو“، سے لے کر «وكان أمر الله مفعولا» تک چھپا لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے ( زینب سے ) شادی کر لی تو لوگوں نے کہا: آپ نے اپنے ( لے پالک ) بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين» ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ( آخری نبی ) ہیں“، نازل فرمائی، زید چھوٹے تھے تبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، وہ برابر آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ جوان ہو گئے، اور ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» ”انہیں ان کے ( اصلی باپ کی طرف ) منسوب کر کے پکارو ( جن کے نطفے سے وہ پیدا ہوئے ہیں ) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف بات ہے، لیکن اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو ( کہ وہ کون ہیں ) تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں“، فلاں فلاں کا دوست ہے اور فلاں فلاں کا دینی بھائی ہے ۴؎، «هو أقسط عند الله» یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی کا مفہوم یہ ہے کہ پورا انصاف ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ اس سند سے مسروق نے عائشہ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو آپ یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» چھپاتے، ( اس روایت میں ) یہ حدیث کی پوری روایت نہیں کی گئی ہے ۵؎۔
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]: If the Prophet (ﷺ) was to have hidden anything from the Revelation, then he would have hidden this Ayah: 'When you said to him on whom Allah has bestowed grace and you have done a favor (33:37).'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» کو چھپاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: We called Zaid bin Harithah nothing but 'Zaid bin Muhammad' until the Qur'an was revealed (saying): 'Call them by their fathers, that is more just according to Allah (33:5).'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہہ کر ہی پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”ایسے لوگوں کو ان کے اصلی باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارو یہی اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے“ ( الاحزاب: ۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔