Chapter on Virtues
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 50
Narrated Ibn 'Umar: I had a dream in which I saw as if there was a piece of silk in my hand, and I would not gesture to any place in Paradise except that it would fly with me, (taking me) to it. So I told the dream to Hafsah, so she told it to the Prophet (ﷺ), so he said: 'Indeed, your brother is a righteous man,' or 'Indeed, 'Abdullah is a righteous man.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے، تو میں نے یہ خواب ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی الله عنہا سے بیان کیا پھر حفصہ رضی الله عنہا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے“ یا فرمایا: ”عبداللہ مرد صالح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn Abi Mulaikah: from 'Aishah, that the Prophet (ﷺ) saw a lamp in the house of Az-Zubair, so he said: O 'Aishah, I do not think except that Asma has given birth, so do not name him until I should name him. So he named him 'Abdullah, and he (performed Tahnik) with a date that was in his hand.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خواب میں ) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ رضی الله عنہا سے فرمایا: ”عائشہ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Anas bin Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) passed by, so my mother, Umm Sulaim, heard his voice and said: 'May my father and mother be ransomed for you, O Messenger of Allah. This is Unais.' So the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated for me with three supplications, and I have seem two of them in the world, and I hope for the third in the Hereafter.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں: میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول! یہ انیس ۱؎ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ۲؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated Anas bin Malik: that the Prophet (ﷺ) said to him: O possessor of two ears! (One of the narrators) Abu Usamah said: 'He only meant it as a joke.'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: ”اے دو کانوں والے“۔ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
Narrated Anas bin Malik: from Umm Sulaim, that she said: O Messenger of Allah, Anas bin Malik is your servant, supplicate to Allah for him. He said: O Allah, increase his wealth and his children, and bless him in what You have given him.
ام سلیم رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! انس آپ کا خادم ہے، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: «اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Anas [may Allah be pleased with him]: The Messenger of Allah (ﷺ) gave me my Kunyah because of a plant that I used to care for.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ایک ساگ ( گھاس ) کے ساتھ رکھی جسے میں چن رہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں، ۲- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Narrated Thabit Al-Bunani: Anas bin Malik said to me: 'O Thabit, take from me, for indeed you shall not take from one more trustworthy than me. Verily, I took it from the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) took it from Jibra'il, and Jibra'il took it from Allah the Mighty and Sublime.'
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ
مجھ سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے، میں نے اسے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Thabit: from Anas, similar to the previous narration of Ibrahim bin Ya'qub, and he did not mention in it: And the Prophet (ﷺ) took it from Jibra'il.
اس سند سے بھی
انس رضی الله عنہ سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جبرائیل سے لیا ہے۔
Narrated Abu Khaldah: I said to Abu Al-'Aliyah: '(Did) Anas heard from the Prophet (ﷺ)?' He said: 'He served him for ten years, and the Prophet (ﷺ) supplicated for him, and he used to have a garden that would bear fruit twice in the year, and there used to be sweet basil in it, from which could be found the smell of musk.'
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا: کیا انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، اور انس رضی الله عنہ کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک رضی الله عنہ کا زمانہ پایا ہے، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔
Narrated Abu Hurairah: I came to the Prophet (ﷺ) and spread out my garment to him, then he took it and gathered it at my heart, so I did not forget after that [any Hadith].
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے پاس اپنی چادر پھیلا دی، آپ نے اسے اٹھایا اور سمیٹ کر اسے میرے دل پر رکھ دیا، اس کے بعد سے میں کوئی چیز نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Hurairah: I said: 'O Messenger of Allah, I heard from you things that I do not remember.' He said: 'Spread your cloak.' So I spread it, then he narrated many Ahadith, and I did not forget a thing that he reported to me.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا، آپ نے فرمایا: ”اپنی چادر پھیلاؤ“، تو میں نے اسے پھیلا دیا، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
Narrated Al-Walid bin 'Abdur-Rahman: that Ibn 'Umar said to Abu Hurairah: You used to stick to the Messenger of Allah (ﷺ) most out of all of us, and you used to best memorize his Ahadith out of us.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہا: ابوہریرہ! آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے اور ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد رکھنے والے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Malik bin Abi 'Amir: A man came to Talhah bin 'Ubaidullah and said: 'O Abu Muhammad, do you see this Yemeni - meaning: Abu Hurairah - is he more knowledgeable of Ahadith of the Messenger of Allah (ﷺ) than you? We hear from him what we do not hear from you, or does he attribute to the Messenger of Allah (ﷺ) what he did not say?' He said: 'As for his having heard from the Messenger of Allah (ﷺ) what we did not hear from him, then that is because he was poor, having nothing, a guest of the Messenger of Allah (ﷺ), his hand was in the hand of the Messenger of Allah (ﷺ). And we used to be people of houses and wealth, and we used to come to the Messenger of Allah (ﷺ) at the two ends of the day. I do not doubt that he heard from the Messenger of Allah (ﷺ) what we did not hear, and you will not find anyone in whom there is good attributing to the Messenger of Allah (ﷺ) what he did not say.'
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا: اے ابو محمد! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا: نہیں ایسی بات نہیں، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ ( کھانے پینے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح میں اور شام ہی میں آ پاتے تھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں، اور تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس میں کوئی خیر ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن بکیر نے اور ان کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah: The Prophet (ﷺ) said to me: 'Who are you from?' I said: 'From Daws.' He said: 'I did not think there was anyone from Daws in whom there was good.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس قبیلہ سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو گا جس میں خیر ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔
Narrated Abu Hurairah: I came to the Prophet (ﷺ) with some dates and said: 'O Messenger of Allah, supplicate to Allah to bless them.' So he took them and supplicated for me for blessing in them, and then said to me: 'Take them and put them in this bag of yours - or this bag - and whenever you intend to take from it, then put your hand in it and take it, and do not scatter them all about.' So I carried such and such Wasq of those dates in the cause of Allah. We used to eat from it, and give others to eat, and it (the bag) would not part from my waist until the day 'Uthman was killed, for they had run out.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لو، اسے بکھیرو نہیں چنانچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ۱؎ اور وہ ( تھیلی ) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی، یہاں تک کہ جس دن عثمان رضی الله عنہ قتل کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر ( کہیں ) گر گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے آئی ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Rafi': I said to Abu Hurairah: 'Why were you given the Kunyah Abu Hurairah?' He said: 'Do you not fear me?' He said: Indeed, I am in awe of you.' He said: 'I used to tend the sheep of my people, and I had a small kitten; so I used to place it in a tree at night, and during the day I would take it and play with it. So they named me Abu Hurairah.'
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ
میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ قسم اللہ کی! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Hurairah [may Allah be pleased with him] : There is none with more Ahadith from the Messenger of Allah (ﷺ) than I, except for 'Abdullah bin 'Amr, for he used to write, (the Ahadith) and I did not used to write.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abu 'Umairah - and he was one of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ): from the Prophet (ﷺ), that he said to Mu'awiyah: O Allah, make him a guiding one, and guide (others) by him.
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Idris Al-Khawlani: When 'Umar bin Al-Khattab removed 'Umair bin Sa'd as governor of Hims, he appointed Mu'awiyah. The people said: 'He has removed 'Umair and appointed Mu'awiyah.' So 'Umair said: 'Do not mentioned Mu'awiyah except with good, for indeed, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: O Allah guide (others) by him.
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ
جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا: تم لوگ معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اهد به» ”اے اللہ! ان کے ذریعہ ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں۔
Narrated 'Uqbah bin 'Amir: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The people submitted while 'Amr bin Al-'As believed.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اسلام لائے اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ ایمان لائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔