Chapter on Virtues
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 50
Narrated Abu Al-'Ala: from Samurah bin Jundab that he said: We were with the Prophet (ﷺ) and we would take turns (eating) from a bowl from the morning till the evening. Ten would stand and ten would sit. We said: So what was filling it up?' He said: What are you amazed at? It wasn't filled up from anywhere but here, and he pointed with his hand towards the sky.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے، ہم نے ( سمرہ سے ) کہا: تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا؟ انہوں نے کہا: تمہیں تعجب کس بات پر ہے؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Ali bin Abi Talib: I was with the Prophet (ﷺ) in Makkah. We departed to one of its suburbs, and no mountain or tree was before him, except that it said: 'Peace be upon you O Messenger of Allah.'
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا، جب ہم اس کے بعض اطراف میں نکلے تو جو بھی پہاڑ اور درخت آپ کے سامنے آتے سبھی ”السلام علیک یا رسول اللہ“ کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث ولید بن ابی ثور سے روایت کی ہے اور ان سب نے «عن عباد أبي يزيد» کہا ہے، اور انہیں میں سے فروہ بن ابی المغراء بھی ہیں ۱؎۔
Narrated Anas bin Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) used to give Khutbah next to a tree, and then they made a Minbar for him, so he gave Khutbahs on it, so the tree whimpered like a camel. So the Prophet (ﷺ) rubbed it, and it quieted.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیا، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی، جابر، ابن عمر، سہل بن سعد، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Ibn 'Abbas: A Bedouin came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'How shall I know that you are a Prophet?' He said: 'If I were to call this date cluster from this palm tree, would you bear witness that I am the Messenger of Allah?' So the Messenger of Allah (ﷺ) called it and they started to fall from the tree, until they fell towards the Prophet (ﷺ), then he said: 'Go back,' and it went back. So the Bedouin accepted Islam.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلا لوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو گے؟“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ ( ٹہنی ) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گر پڑی، پھر آپ نے فرمایا: ”لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Narrated Abu Zaid bin Akhtab: The Messenger of Allah (ﷺ) wiped his hand over my face and supplicated for me. 'Azrah (one of the narrators) said: Indeed he lived for one-hundred and twenty years, and there weren't upon his head except for a few small grey hairs.
ابوزید بن اخطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی، عزرہ کہتے ہیں: وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے۔
Narrated Anas bin Malik: Abu Talhah said to Umm Sulaim: 'I heard the voice of the Messenger of Allah (ﷺ) sounding weak and I sensed some hunger in it. Do you have anything? She said: 'Yes.' So she got some loaves of wheat bread, then she took out a Khimar of hers, and put the bread in it. Then she put it under my arm, and wrapped my upper body with part of it, and she sent me to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: So I brought it to him, and I found the Messenger of Allah (ﷺ) sitting in the Masjid, and there were people with him. So I stood among them, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Has Abu Talhah sent you?' I said: 'Yes.' He said: 'With food?' I said: 'Yes.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said to those with him: 'Stand up.' So they left, and I left in front of them, until I came to Abu Talhah, and I told him (that they were coming). Abu Talhah said: 'O Umm Sulaim! The Messenger of Allah (ﷺ) is coming with people, and we don't have anything to feed them.' Umm Sulaim said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: So Abu Talhah departed until he met up with the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah came, while Abu Talhah was with him, until they entered, when the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Come O Umm Sulaim! What do you have?' So she brought him that bread, and he (ﷺ) ordered that it be broken into pieces. Umm Sulaim poured some butter from an oil-skin upon them, then the Messenger of Allah (ﷺ) recited whatever Allah willed for him to say over it. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and then they left. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and they left. Then he said: 'Let ten come.' So ten were admitted, and they ate until they were full, and there were seventy or eighty men.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ام سلیم رضی الله عنہما سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی، وہ کمزور تھی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کھانا لے کر؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا: ”اٹھو چلو“، چنانچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، تو ابوطلحہ رضی الله عنہ چلے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوطلحہ رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ“، چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کر دیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا، پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا، پھر آپ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہو گئے، پھر وہ نکل گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”دس کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہو گئے اور نکل گئے، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Anas bin Malik: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) at the time when the 'Asr prayer had drawn near, and the people were searching for water for Wudu, bu they did not find any. So the Messenger of Allah (ﷺ) was brought some water for Wudu, and the Messenger of Allah (ﷺ) put his hand in the container and ordered that the people make Wudu from it. He said: So I saw water springing out from under his fingers. The people performed Wudu until the last of them made Wudu.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، عصر کا وقت ہو گیا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا، لیکن وہ نہیں پا سکے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں، وہ کہتے ہیں: تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن مسعود، جابر اور زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Aishah: The first of what the Messenger of Allah (ﷺ) initiated with of Prophethood, when Allah wanted to honor him and grant His mercy upon His creatures, was that he would not see anything (in a dream) except that it would occur like the break of dawn. So he continued upon that for as long as Allah willed for him to continue, and seclusion was made beloved to him, such that there was not anything more beloved to him than being alone.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہو جاتی تھی ۱؎، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah: You consider the signs to be punishment, whereas we used to think of them as a blessing during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). We used to eat food with the Prophet (ﷺ) and we would hear the food's Tasbih. He said: And the Prophet (ﷺ) was brought a container, so he put his hand it in, and the water began to spring from between his fingers. So the Prophet (ﷺ) said: 'Hasten to the blessed Wudu and the blessing from the heavens' until all of had performed Wudu.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Aishah: that Al-Harith bin Hisham asked the Prophet (ﷺ): 'How does the Revelation come to you?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Sometimes it comes to me like the ringing of a bell and that is the hardest upon me, and sometimes the angel will appear to me like a man, and he will speak to me such that I understand what he says.' 'Aishah said: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) while the Revelation was descending upon him on an extremely cold day. Then it ceased and his forehead was flooded with sweat.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
حارث بن ہشام رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز ۱؎ کی طرح آتی ہے اور یہ میرے لیے زیادہ سخت ہوتی ہے ۲؎ اور کبھی کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو وہ جو کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے دیکھی جب وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ آیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Al-Bara: I have not seen anyone with hair past his shoulders in a red Hullah more handsome than the Messenger of Allah (ﷺ). He had hair that would flow on his shoulders, having broad shoulders, not too short and not too tall.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ۱؎ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ۲؎، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ۳؎، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Ishaq: A man asked Al-Bara: 'Was the face of the Messenger of Allah (ﷺ) like a sword?' He said: 'No, like the moon.'
ابواسحاق کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے براء سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی مانند تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Ali: The Prophet (ﷺ) was not tall nor was he short, his hands and feet were thick, his head was large, he was big-boned, he had a long Masrubah (the line of hair from the chest to the navel), and whenever he walked, he leaned forward as if he was going down a decline. I have not seen anyone before him nor after him that resembled him (ﷺ).
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لمبے تھے نہ پستہ قد، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر تھے، آپ بڑے سر اور موٹے جوڑوں والے تھے، ( یعنی گھٹنے اور کہنیاں گوشت سے پُر اور فربہ تھیں ) ، سینہ سے ناف تک باریک بال تھے، جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے ہوتے گویا آپ اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں، میں نے نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو آپ جیسا دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibrahim bin Muhammad, one of the offspring of 'Ali bin Abi Talib: said: When 'Ali [may Allah be pleased with him] described the Prophet (ﷺ) he would say: 'He was not extremely tall (Mummaghit), nor was he extremely short (Mutaraddid), and he was of medium height in relation to the people. The wave of his hair was not completely curly (Qatat), nor straight, but it was in between. He did not have a large head, nor a small head (Mukaltham), his face was round and a blended-white color (Mushrab), his eyes were dark black (Ad'aj), his eye-lashes were long (Ahdab). He was big-boned and broad shouldered (Al-Katad), his body hair was well-placed, and he had a Masrubah, his hands and feet were thick (Shathn). When he walked he walked briskly (Taqalla'), he leaned forward as if he was walking on a decline (Sabab). And if he turned his head, his body turned as well, between his two shoulders was the seal of Prophethood, and he was the seal of the Prophets. He was the most generous of people [in hand, and the most big-hearted of them] in breast. He was the most truthful of people in speech, the softest of them in nature, and the most noble of them in his relations ('Ishrah). Whoever saw him for the first time (Badihah) would fear him, and whoever got to know him, loved him. The one who tried to describe him would have to say: 'I have not seen before him or after him anyone who resembles him (ﷺ).'
ابراہیم بن محمد جو علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ
علی رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے تو کہتے: نہ آپ بہت لمبے تھے نہ بہت پستہ قد، بلکہ لوگوں میں درمیانی قد کے تھے، آپ کے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تھے، نہ آپ بہت موٹے تھے اور نہ چہرہ بالکل گول تھا، ہاں اس میں کچھ گولائی ضرور تھی، آپ گورے سفید سرخی مائل، سیاہ چشم، لمبی پلکوں والے، بڑے جوڑوں والے اور بڑے شانہ والے تھے، آپ کے جسم پر زیادہ بال نہیں تھے، صرف بالوں کا ایک خط سینہ سے ناف تک کھنچا ہوا تھا، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت سے پُر تھے جب چلتے زمین پر پیر جما کر چلتے، پلٹتے تو پورے بدن کے ساتھ پلٹتے، آپ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت تھی، آپ خاتم النبیین تھے، لوگوں میں آپ سب سے زیادہ سخی تھے، آپ کھلے دل کے تھے، یعنی آپ کا سینہ بغض و حسد سے آئینہ کے مانند پاک و صاف ہوتا تھا، اور سب سے زیادہ سچ بولنے والے، نرم مزاج اور سب سے بہتر رہن سہن والے تھے، جو آپ کو یکایک دیکھتا ڈر جاتا اور جو آپ کو جان اور سمجھ کر آپ سے گھل مل جاتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا، آپ کی توصیف کرنے والا کہتا: نہ آپ سے پہلے میں نے کسی کو آپ جیسا دیکھا ہے اور نہ آپ کے بعد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- ( نسائی کے شیخ ) ابو جعفر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کی تفسیر میں اصمعی کو کہتے ہوئے سنا کہ «الممغط» کے معنی لمبائی میں جانے والے کے ہیں، میں نے ایک اعرابی کو سنا وہ کہہ رہا تھا «تمغط فی نشابة» یعنی اس نے اپنا تیر بہت زیادہ کھینچا اور «متردد» ایسا شخص ہے جس کا بدن ٹھنگنے پن کی وجہ سے بعض بعض میں گھسا ہوا ہو اور «قطط» سخت گھونگھریالے بال کو کہتے ہیں، اور «رَجِل» اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے بالوں میں تھوڑی خمید گی ہو اور «مطہم» ایسے جسم والے کو کہتے ہیں جو موٹا اور زیادہ گوشت والا ہو اور «مکلثم» جس کا چہرہ گول ہو اور «مشدب» وہ شخص ہے جس کی پیشانی میں سرخی ہو اور «ادعج» وہ شخص ہے جس کے آنکھوں کی سیاہی خوب کالی ہو اور «اہدب» وہ ہے جس کی پلکیں لمبی ہوں اور «کتد» دونوں شانوں کے ملنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور «مسربة» وہ باریک بال ہیں جو ایک خط کی طرح سینہ سے ناف تک چلے گئے ہوں اور «شثن» وہ شخص ہے جس کے ہتھیلیوں اور پیروں کی انگلیاں موٹی ہوں، اور «تقلع» سے مراد پیر جما جما کر طاقت سے چلنا ہے اور «صبب» اترنے کے معنی میں ہے، عرب کہتے ہیں «انحدر نافی صبوب وصبب» یعنی ہم بلندی سے اترے «جلیل المشاش» سے مراد شانوں کے سرے ہیں، یعنی آپ بلند شانہ والے تھے، اور «عشرة» سے مراد رہن سہن ہے اور «عشیرہ» کے معنیٰ رہن سہن والے کے ہیں اور «بدیھة» کے معنی یکایک اور یکبارگی کے ہیں، عرب کہتے ہیں «بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ» میں ایک معاملہ کو لے کر اس کے پاس اچانک آیا۔
Narrated 'Urwah: that 'Aishah said: The Messenger of Allah (ﷺ) did not speak quickly like you do now, rather he would speak so clearly, unmistakably, that those who sat with him would memorize it.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے بلکہ آپ ایسی گفتگو کرتے جس میں ٹھہراؤ ہوتا تھا، جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا وہ اسے یاد کر لیتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن یزید نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
Narrated Anas bin Malik: that the Messenger of Allah (ﷺ) would repeat a statement three times so that it could be understood.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بسا اوقات ) ایک کلمہ تین بار دہراتے تھے تاکہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن مثنیٰ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated Ibn Jaz: I have not seen anyone who smiled more than the Messenger of Allah (ﷺ).
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مسکرانے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Ibn Jaz: The laughter of the Messenger of Allah (ﷺ) was not but smiling.
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated As-Sa'ib bin Yazid: My maternal aunt took me to the Prophet (ﷺ), and said: 'O Messenger of Allah! Indeed my nephew is in pain.' So he wiped over my head and supplicated for blessings for me. And he performed Wudu and I drank from the water of his Wudu. Then I stood behind his back, and I looked at the seal between his two shoulder blades, and it resembled the egg of a partridge.
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میری خالہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا بھانجہ بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، اور میں نے آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ چھپر کھٹ ( کے پردے ) کی گھنڈی کی طرح تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کبوتر کے انڈے کو «زر» کہا جاتا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سلمان، قرہ بن ایاس مزنی، جابر بن سمرہ، ابورمثہ، بریدہ اسلمی، عبداللہ بن سرجس، عمرو بن اخطب اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
Narrated Jabir bin Samurah: The seal of the Messenger of Allah (ﷺ) - meaning the one which was between his two shoulder blades - was fleshy and red, resembling the egg of a pigeon.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت یعنی جو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی کبوتر کے انڈے کے مانند سرخ رنگ کی ایک گلٹی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔