Chapter on Virtues
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 50
Narrated Jabir bin Samurah: The two shins of the Messenger of Allah (ﷺ) were thin, and he would not laugh except as a smile, and whenever I looked at him I would say: He put kohl on his eyes,' but he (ﷺ) did not use kohl.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ۱؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Narrated Jabir bin Samurah: The Messenger of Allah (ﷺ) had a wide mouth (Dali' Al-Fam), his eyes were Ashkal, and he had thin heals (Manhus Al-'Aqib).
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ تھے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Jabir bin Samurah: The Messenger of Allah (ﷺ) had a wide mouth (Dali' Al-Fam), his eyes were Ashkal, and he had thin heels (Manhus Al-'Aqib). Shu'bah (one of the narrators) said: I said to Simak: 'What is Dali' Al-Fam? ' He said: 'A wide mouth.' I said: 'What is Ashkal Al-'Ainain? ' He said: 'Having long eyes.' [He said:] I said: 'What is Manhus Al-'Aqib? ' He said: 'Little flesh.'
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کم گوشت کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: I have not seen anything more beautiful than the Messenger of Allah (ﷺ). It was as if the sun flowed upon his face. And I have not seen anyone quicker in his walking than the Messenger of Allah (ﷺ). It was as if the earth was made easy for him. We would be exerting ourselves while he would not be struggling.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Narrated Jabir: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Prophets were presented to me, and Musa was a thin man, it was as if he was from the men of Shanu'ah. And I saw 'Eisa bin Mariam, and the closest of the people in resemblance to him. from those I have seen, is 'Urwah bin Mas'ud. And I saw Ibrahim, and the closest of the people in resemblance to him, from those I have seen, is your companion - meaning himself - And I saw Jibril, and the closest of the people in resemblance to him, from those I have seen, is Dihyah. [And he is Ibn Khalifah Al-Kalbi.]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-five years old.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-five years old.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet (ﷺ) stayed in Makkah for thirteen years - meaning while he was receiving Revelation - and he died when he was sixty-three years old.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ ( ۱۳ ) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کی عمر میں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور دغفل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔
Narrated Jabir [bin 'Abdullah]: that he heard Mu'awiyah bin Abi Sufyan giving a Khutbah, saying: The Messenger of Allah (ﷺ) died when he was sixty-three years old, and so did Abu Bakr and 'Umar, and I am sixty-three years old.
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]: The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-three years old.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے زہری کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ بن مسلم ) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
Narrated 'Abdullah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: I free myself of the friendship of every Khalil, and if I were to take a Khalil then I would have taken Ibn Abi Quhafah as a Khalil. And indeed your companion is Allah's Khalil.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر خلیل کی «خلت» ( دوستی ) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل ( دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Umar bin Al-Khattab: Abu Bakr is our chief, and the best of us, and the most beloved of us to the Messenger of Allah (ﷺ).
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں اور وہ ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Shaqiq: I said to 'Aishah: 'Which of the Companions of the Prophet (ﷺ) were the most beloved to the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'Abu Bakr.' I said: 'Then who?' She said: 'Then Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah.' He said: I said: 'Then who?'' He said: Then she was silent.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ
میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا: پھر کون؟ تو وہ خاموش رہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Sa'eed: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed the people of the higher levels, will be seen by those who are beneath them like the stars which appear far off in the sky. And indeed Abu Bakr and 'Umar are among them, and they have done well.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند درجات والوں کو ( جنت میں ) جو ان کے نیچے ہوں گے، ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عطیہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری سے آئی ہے۔
Narrated Ibn Abi Mu'alla: from his father: The Messenger of Allah (ﷺ) gave a Khutbah one day and said: 'Indeed there is a man whose Lord has given him the choice between living in this life as long as he wishes to live, and eating from this life as much as he wishes to eat, and between meeting his Lord.' He said: So Abu Bakr cried. The Companions of the Prophet (ﷺ) said: 'Are you not amazed at this old man, when the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned a righteous man whose Lord gave him the choice between this life or meeting his Lord, and he chose meeting his Lord.' He said: But Abu Bakr was the most knowledgeable one of them regarding what the Messenger of Allah (ﷺ) had said. So Abu Bakr said: 'Rather we will ransom our fathers and wealth for you.; So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There is no one among people more beneficial to us (Amanna Ilaina) in his companionship, or generous with his wealth than Ibn Abi Quhafah. And, if I were to take a Khalil, I would have taken Ibn Abi Quhafah as a Khalil. But rather love and the brotherhood of faith' - saying that two or three times - 'Indeed your companion is the Khalil of Allah.'
ابومعلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا تو فرمایا: ”ایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دینا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھا لے یا اپنے رب سے ملنے کو ( ترجیح دے ) تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیا، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر رضی الله عنہ رو پڑے، تو صحابہ نے کہا: کیا تمہیں اس بوڑھے کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا۔ ابوبکر رضی الله عنہ ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر ) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: بلکہ ہم اپنے باپ دادا، اپنے مال سب کو آپ پر قربان کر دیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتا، لیکن ( ہمارے اور ان کے درمیان ) ایمان کی دوستی موجود ہے“۔ یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا، پھر فرمایا: ”تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ( دوست ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابو عوانہ کے واسطہ سے عبدالملک بن عمیر سے ایک دوسری سند سے بھی آئی ہے، اور «أمن إلينا» میں «إلى»، «على» کے معنی میں ہے، یعنی مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا۔
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) sat upon the Minbar and said: 'Indeed a worshiper has been given a choice by Allah, between Him giving him from the bounty of this life as much as he wishes, and between what is with Him. So he chose what is with Him.' So Abu Bakr said: 'We will ransom our fathers and mothers for you O Messenger of Allah!' He said: So we were amazed. Then the people said: 'Look at this old man. The Messenger of Allah (ﷺ) informs about a worshiper whom Allah gave the choice, between Him giving him from the bounty of this life as much as he wishes, and between that which is with Allah, and he says: 'We will ransom our fathers and mothers for you?' But the Messenger of Allah (ﷺ) was the one given the choice, and Abu Bakr was the most knowledgeable of it among them. So the Prophet (ﷺ) said: 'From those who were most beneficial to me among the people in their companionship and their wealth was Abu Bakr. And if I were to take a Khalil, I would would have taken Abu Bakr as a Khalil. But rather, the brotherhood of Islam. Let there not remain a door in the Masjid except the door of Abu Bakr.'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی رنگینی کو پسند کرے یا ان چیزوں کو جو اللہ کے پاس ہیں“، تو اس نے ان چیزوں کو اختیار کیا جو اللہ کے پاس ہیں، اسے سنا تو ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کو آپ پر قربان کیا ۱؎ ہمیں تعجب ہوا، لوگوں نے کہا: اس بوڑھے کو دیکھو! اللہ کے رسول ایک ایسے بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی رنگینی کو اپنا لے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اپنا لے، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد اور ماؤں کو آپ پر قربان کیا، جس بندے کو اللہ نے اختیار دیا وہ خود اللہ کے رسول تھے، اور ابوبکر رضی الله عنہ اسے ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، ابوبکر رضی الله عنہ کی بات سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والے اور سب سے زیادہ میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا، تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت ہی کافی ہے اور مسجد میں ( یعنی مسجد کی طرف ) کوئی کھڑکی باقی نہ رہے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no favor due upon us from anyone, except that we have repaid him, with the exception of Abu Bakr. Verily upon us, there is a favor due to him, which Allah will repay him on the Day of Judgement. No one's wealth has benefited as Abu Bakr's wealth has benefited me. And if I were to take a Khalil, then I would have taken Abu Bakr as a Khalil, and indeed your companion is Allah's Khalil.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ ہی دے گا، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Narrated Hudhaifah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Stick to the two after me, Abu Bakr and 'Umar.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اقتداء کرو ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر و عمر کی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے، ۳- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
Narrated Hudhaifah [may Allah be pleased with him]: We were sitting with the Prophet (ﷺ) and he said: 'I do not know how long I will be with you, so stick to the two after me,' and he signaled towards Abu Bakr and 'Umar.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی جانب اشارہ کیا“۔
Narrated Anas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said about Abu Bakr and 'Umar: These two are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise. From the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. But do not inform them O 'Ali.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سلسلہ میں فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے، ( آپ نے فرمایا: ) ”علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔