Chapter on Virtues
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 50
Narrated Jabir [may Allah be pleased with him]: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed, every Prophet has a Hawari and, [indeed], my Hawari is Az-Zubair [bin Al-'Awwam]. And Abu Na'im added in it: On the Day of Al-Ahzab, he (ﷺ) said: 'Who will bring us news about their party?' Az-Zubair said: 'I will.' He said it three times. Az-Zubair said (each time): 'I will.'
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“ ۱؎، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» ( غزوہ احزاب ) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا؟“ تو زبیر رضی الله عنہ بولے: میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر رضی الله عنہ نے ہر بار کہا: میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Hisham bin 'Urwah: On the Day of (the battle of) Al-Jamal, Az-Zubair echorted his son 'Abdullah, saying: 'There is not a part of me except that it has been injured while with the Messenger of Allah (ﷺ),' until that ended with his private parts.
ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ
زبیر رضی الله عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ ( رضی الله عنہما ) کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا: میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin 'Awf: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Abu Bakr is in Paradise, 'Umar is in Paradise, 'Uthman is in Paradise, 'Ali is in Paradise, Talhah is in Paradise, Az-Zubair is in Paradise, 'Abdur-Rahman bin 'Awf is in Paradise, Sa'd bin Abi Waqqas is in Paradise, and Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah is in Paradise.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید ( سعید بن زید ) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ۱؎ ( رضی اللہ علیہم اجمعین ) “ ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق: «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے، ( اور اسی طرح آئی ہے ) ، اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Humaid: from his father, that Sa'eed bin Zaid reported to him, while in a group of people, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Ten are in Paradise: Abu Bakr is in Paradise, 'Umar is in Paradise, 'Uthman is in Paradise, Az-Zubair and Talhah, 'Abdur-Rahman, Abu 'Ubaidah and Sa'd bin Abi Waqqas - He said: So he counted these nine and was silent concerning the tenth - so the people said: 'We implore you by Allah, O Abu Al-A'war, who is the tenth?' He said: 'You have implored me by Allah. Abu Al-A'war is in Paradise.'
حمید سے روایت ہے کہ
سعید بن زید رضی الله عنہ نے ان سے کئی اشخاص کی موجودگی میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمی جنتی ہیں، ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبدالرحمٰن، ابوعبیدہ اور سعد بن ابی وقاص ( جنتی ہیں ) “ وہ کہتے ہیں: تو انہوں نے ان نو ( ۹ ) کو گن کر بتایا اور دسویں آدمی کے بارے میں خاموش رہے، تو لوگوں نے کہا: اے ابوالاعور ہم اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ دسواں کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: تم لوگوں نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے ( اس لیے میں بتا رہا ہوں ) ابوالاعور جنتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا ہے کہ یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوالاعور سے مراد خود سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔
Narrated Abu Salamah: from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: Indeed your [feminine plural: referring to the wives of the Prophet (ﷺ)] affair is from that which concerns me after me, and none shall be able to be patient concerning you except the patient ones. He said: Then 'Aishah said: 'So may Allah give your father drink from the Salsabil of Paradise intending 'Abdur-Rahman bin 'Awf (Abu Salamah is the son of 'Abdur-Rahman bin 'Awf). And he had maintained ties with the wives of the Prophet (ﷺ) with property that had been sold for forty-thousand.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں سے ) فرماتے تھے: تم لوگوں کا معاملہ مجھے پریشان کئے رہتا ہے کہ میرے بعد تمہارا کیا ہو گا؟ تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف صبر کرنے والے ہی صبر کر سکیں گے۔ پھر عائشہ رضی الله عنہا نے ( ابوسلمہ سے ) کہا: اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو چالیس ہزار ( دینار ) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Abu Salamah: that 'Abdur-Rahman bin 'Awf left a garden for the Mothers of the Believers that was sold for for-hundred thousand.
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے ایک باغ کی وصیت کی جسے چار لاکھ ( درہم ) میں بیچا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Sa'd: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah, respond to Sa'd when he supplicates to You.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے قیس بن حازم کے واسطہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ اور یہ زیادہ صحیح ہے ( یعنی: مرسل روایت زیادہ صحیح ہے ) ۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: Sa'd came, so the Prophet (ﷺ) said: This is my maternal uncle, so let a man show me his maternal uncle.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ میرے ماموں ہیں“۔
Narrated 'Ali: The Messenger of Allah (ﷺ) did not mention both (his) parents for anyone except Sa'd bin Abi Waqqas. On the Day of (the battle of) Uhud he said: 'Shoot, may my father and mother be ransomed for you.' And he said to him: 'Shoot O young man.'
علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ
ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ۱؎، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا: ”تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں، تم تیر مارو اے جوان پٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد لوگوں سے روایت کی گئی ہے ان سب نے اسے یحییٰ بن سعید سے، اور یحییٰ نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔
Narrated Sa'd bin Abi Waqqas: The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned both of his parents for me on the Day of Uhud.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن شداد بن ہاد سے بھی روایت کی گئی ہے اور انہوں نے علی بن ابی طالب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
Narrated 'Ali bin Abi Talib: I never heard the Prophet (ﷺ) mentioning both of his parents being ransomed for anyone except for Sa'd. On the Day of Uhud, I heard him saying: 'Shoot, Sa'd, may my father and mother be ransomed for you.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ اور ماں کو سعد کے علاوہ کسی اور پر فدا کرتے نہیں سنا، میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سعد تم تیر مارو، میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Narrated 'Aishah: The Messenger of Allah (ﷺ) did not sleep one night upon arriving in Al-Madinah. So he said: 'If only a righteous man would guard me tonight.' She said: So we were like that, when we heard the clanging of weapons. He said: 'Who is this?' So he said: 'Sa'd bin Abi Waqqas.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'What has brought you?' Sa'd said: 'Fear for the Messenger of Allah (ﷺ) came upon me, so I came to protect him.' So the Messenger of Allah (ﷺ) supplicated for him, then slept.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا: ”کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا“، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد رضی الله عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Zalim Al-Mazini: that Sa'eed bin Zaid bin 'Amr bin Nufail said: I bear witness for nine people, that they are in Paradise, and if I were to bear witness for a tenth, I would not be sinful. It was said: How is that? He said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at (mount) Hira when he said, 'Be firm, Hira! There is not upon you any but a Prophet, or a Siddiq, or a martyr. It was said: And who were they? He said: The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, 'Umar, 'Uthman, 'Ali, Talhah, Az-Zubair, Sa'd, and 'Abdur-Rahman bin 'Awf. It was said: And who is the tenth? He said: Me.
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا: یہ کیسے ہے؟ ( ذرا اس کی وضاحت کیجئے ) تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے حرا! تیرے اوپر ایک نبی، یا صدیق، یا شہید ۱؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں“، عرض کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے؟ ( انہوں نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں رضی الله عنہم، پوچھا گیا: دسویں شخص کون ہیں؟ تو سعید نے کہا: وہ میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
Narrated 'Abdul-Muttalib bin Rabi'ah bin Al-Harith bin 'Abdul-Muttalib: Al-'Abbas bin 'Abdul-Muttalib entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) in a state of anger while I was with him, so he said: 'What has angered you?' He said: 'O Messenger of Allah, what is it with us and the Quraish, whenever they meet one another it is with glad faces, and when they meet us they meet us with other than that?' He said: So the Messenger of Allah (ﷺ) became angry, until his face reddened, then he said: 'By the One in Whose Hand is my soul! Faith does not enter a man's heart until he loves you for the sake of Allah, and for the sake of His Messenger.' Then he said: 'O people! Whoever harms my uncle, he has harmed me, for indeed, a man's uncle is not but the Sinw (two or three palm trees will come from a single root, so each is called a Sinw. A man's uncle is like that to his father. That is, he is like his father) of his father.
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ
عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: ”تم غصہ کیوں ہو؟“ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا ( دشمنی ) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ۱؎ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Al-'Abbas is from me and I am from him.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
Narrated 'Ali: that concerning Al-'Abbas, the Prophet (ﷺ) said to 'Umar: Indeed, the uncle of a man is the Sinw of his father. And 'Umar had spoken to him concerning his charity.
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: ”بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“ عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Prophet (ﷺ) said: Al-'Abbas is the uncle of the Messenger of Allah (ﷺ), and indeed, the uncle of a man is the Sinw of his father or from the Sinw of his father.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) said to Al-'Abbas: 'On the night of Monday, come to me, you and your offspring, so that I may supplicate for them with a supplication that Allah will benefit you and your children by.' So he went, and we went with at night, so he (ﷺ) covered us in a Kisah (shawl), then said: 'O Allah, forgive Al-'Abbas and his offspring, for what is open and what is secret, with a forgiveness that does not leave any sins. O Allah! Take care of him concerning the affair of his offspring.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی الله عنہ سے فرمایا: ”دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے“، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی: ”اے اللہ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: I saw Ja'far flying in Paradise with the angels.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر: علی بن مدینی کے والد ہیں، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے۔
Narrated Abu Hurairah: None has put on sandals - nor worn them, nor ridden a mount, nor a Kur, after the Messenger of Allah (ﷺ) - better than Ja'far [bin Abi Talib].
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔